نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

October, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

"باسی کھانہ "

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ،اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں. دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں
میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں!۔ ۔ ۔
" اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں"
"یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے."
" اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے"
"یہ امرود ہم نے پھینک دئے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا."
" لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں"
" اس کٹورے میں نہ پیئیں ، یہ باہر بھجوایا تھا"
لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے ،عنوان اماں سردار بیگم ، صفحہ نمبر 15







"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

" انانیت"

جس شخص کا یہ ایمان ہے کہ دوسرے لوگ اس کی ذاتی اور شخصی خواہشوں کا احترام کریں اور ان کو اسی طرح سے پسند کریں جیسے وہ خود کو کرتا ہے ۔ تو اس شخص کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سوائے اس کے تصور کے اور سوائے اس کی پسند کے اور کسی کو ٹھہرے کا حق نہیں ۔ یہ ایک سیدھی سی اور موٹی سی انانیت ہے جو کسی اندھے کو بھی نظر آتی ہے ۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس خود پسندی اور خود خواہی کی وجہ سے خود اذیتی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور وہ شخص اپنے آپ کو سزائیں دینے لگتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 556

"اندھا پن "

اس وقت ہم عذاب میں ہیں ۔ ہم کیا ساری دنیا عذاب میں ہے ۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے ؟ کارن کیا ہے ؟ اس وجہ کو ڈھونڈنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ دماغ بالکل ٹھیک ہے اور اپنی جگہ چوکس ہے ۔ فقط دل گھاٹے میں آ گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے مقام سے ہل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آگہی اور جانکاری کسی علم سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ تجربے سے ملتی ہے ۔ وہ آنکھیں جو زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں وہ دماغ کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔ اگر دل اندھا ہے تو زندگی کی راہ تاریک ہی رہے گی اور ساری عمر اندھیرے میں گذر جائے گی ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 607

"سنت "

لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ۔ اور آپ کی ضرورتیں بھی رک جائیں گی ۔ صرف منہ سے بات کر کے خدمت نہیں ہوتی اس پر عمل بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے عملی زندگی بسر کرتےتھے ۔ امام غزالیؒ پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے لوگوں سے ملے جلے ۔ شیخِ اکبر ابنِ عربی فریدالدین عطار، رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی حضرت بختیار کاکی یہ سب لوگ کام کرتے تھے ۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی ۔ اور یہ سب لوگ اس سنت پر عمل کر کے ہی آگے بڑھ سکتے تھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 401

"حضرت بلال"

صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے  ہیں ۔ کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے جا  رہے میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا ۔ ان کی ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدارمجھ  پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ہوتا ۔ وہ حضور ﷺ سے مل کر آتے اور میں ان کو دیکھ لیا کرتا اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463

"ماننے والے "

اب باباابراہیم ؑ وہ ماننے والے تھے اور ان کی کمال کی شخصیت تھی ۔ وہ جدالانبیاء تھے ۔اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان پر اتنا پیار آ جائے گا کہ آپ آبدیدہ ہو جائیں گے ۔ ایک وہ تھے اور ایک ان کے فرمانبردار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ ابا خدا کے گھر کی تعمیر کے لیے گارالگا رہے ہیں اور بیٹا اینٹیں پکڑا رہا ہے ۔ لق و دق صحرا ہے ، نہ بندہ ہے نہ بندے کی ذات ،نہ سایہ ہے نہ گھاس ، وہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ اب سخت رونے کا مقام تو وہ ہے نا جی ۔ کہ حکم مل گیا ہے تعمیر کا اور کوئی سہولت بھی نہیں ۔  لیکن آپ ماننے والوں کو دیکھیے کہ وہ کس قدر طاقتور ہیں انہوں نے حکم ملتے ہی کہا " بسم اللہ " ۔  اور جب اللہ کا گھر اتنی مشکل کے بعد بن گیا جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ گھر بن چکنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم اب یہاں اذان دے ۔ لوگوں کو حج کے لیے بلا " ۔  اب ابراہیم ؑ حیران ہوئے ہوں گے کہ ہم یہاں دو کھڑے ہیں ۔ یہاں حج کے لیے کون آئے گا ۔  اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم تو لوگوں کو بلا ، لوگ چاروں طرف سے چلتے آئیں گے ۔وہ لاغر اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئی…