نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

October, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" انانیت"

جس شخص کا یہ ایمان ہے کہ دوسرے لوگ اس کی ذاتی اور شخصی خواہشوں کا احترام کریں اور ان کو اسی طرح سے پسند کریں جیسے وہ خود کو کرتا ہے ۔ تو اس شخص کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سوائے اس کے تصور کے اور سوائے اس کی پسند کے اور کسی کو ٹھہرے کا حق نہیں ۔ یہ ایک سیدھی سی اور موٹی سی انانیت ہے جو کسی اندھے کو بھی نظر آتی ہے ۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس خود پسندی اور خود خواہی کی وجہ سے خود اذیتی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور وہ شخص اپنے آپ کو سزائیں دینے لگتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 556

"سنت "

لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ۔ اور آپ کی ضرورتیں بھی رک جائیں گی ۔ صرف منہ سے بات کر کے خدمت نہیں ہوتی اس پر عمل بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے عملی زندگی بسر کرتےتھے ۔ امام غزالیؒ پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے لوگوں سے ملے جلے ۔ شیخِ اکبر ابنِ عربی فریدالدین عطار، رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی حضرت بختیار کاکی یہ سب لوگ کام کرتے تھے ۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی ۔ اور یہ سب لوگ اس سنت پر عمل کر کے ہی آگے بڑھ سکتے تھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 401

"حضرت بلال"

صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے  ہیں ۔ کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے جا  رہے میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا ۔ ان کی ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدارمجھ  پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ہوتا ۔ وہ حضور ﷺ سے مل کر آتے اور میں ان کو دیکھ لیا کرتا اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463

"ماننے والے "

اب باباابراہیم ؑ وہ ماننے والے تھے اور ان کی کمال کی شخصیت تھی ۔ وہ جدالانبیاء تھے ۔اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان پر اتنا پیار آ جائے گا کہ آپ آبدیدہ ہو جائیں گے ۔ ایک وہ تھے اور ایک ان کے فرمانبردار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ ابا خدا کے گھر کی تعمیر کے لیے گارالگا رہے ہیں اور بیٹا اینٹیں پکڑا رہا ہے ۔ لق و دق صحرا ہے ، نہ بندہ ہے نہ بندے کی ذات ،نہ سایہ ہے نہ گھاس ، وہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ اب سخت رونے کا مقام تو وہ ہے نا جی ۔ کہ حکم مل گیا ہے تعمیر کا اور کوئی سہولت بھی نہیں ۔  لیکن آپ ماننے والوں کو دیکھیے کہ وہ کس قدر طاقتور ہیں انہوں نے حکم ملتے ہی کہا " بسم اللہ " ۔  اور جب اللہ کا گھر اتنی مشکل کے بعد بن گیا جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ گھر بن چکنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم اب یہاں اذان دے ۔ لوگوں کو حج کے لیے بلا " ۔  اب ابراہیم ؑ حیران ہوئے ہوں گے کہ ہم یہاں دو کھڑے ہیں ۔ یہاں حج کے لیے کون آئے گا ۔  اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم تو لوگوں کو بلا ، لوگ چاروں طرف سے چلتے آئیں گے ۔وہ لاغر اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئی…