نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" غلطی "

اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی پکڑنا اور غلطی کی نشاندہی کرنا انسانی فطرت میں شامل ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ہر حال میں یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان غلطی بھی کرتا ہےاورناکام بھی ہوتا ہے ۔ اور اپنی ترقی کے راستے پہ رک بھی جاتا ہے ۔ لیکن اس ساری کائنات میں صرف خدا کی ذات وہ ہستی ہے جو نہ تو کبھی غلطی کرتی ہے اور نہ ہی کبھی ناکام ہوتی ہے ۔ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی غلطیاں پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں یا جو ہر وقت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر افسوس کرتے رہتے ہیں وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ اور جب ان سے خدا نہیں بنا جاتا کہ ایسا ممکن ہی نہیں تو پھر وہ شیطان بننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور اس میں اپنا اور دوسروں کا نقصان کر نا شروع کر دیتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 417

" پنجاب کا دوپٹہ "

جب وہ لوٹ کر آئی تو تو بہت پریشان تھی ۔ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ۔میں نے کہا خیر ہے ! کہنے لگی آپ اٹھیں میرے ساتھ چلیں ۔  میں آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتی ہوں ۔ میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا ۔ وہاں رات کو دربار کا دروازہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور زائرین باہر بیٹھے رہتے ہیں ۔ صبح جب دروازہ کھلتا ہے تو پھر لوگ دعائیں وغیرہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔  جب ہم وہاں گئے تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی آپ ادھر آئیں ۔ شاہؒ کے دروازے کے عین سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی ۔  اس کے سر پر جیسا ہمارا دستر خوان ہوتا ہے اس سائز کی چادر کا ٹکڑا تھا ، اور اس کا اپنا جو دوپٹہ تھا وہ اس نے شاہ ؒ کے دروازے کے کنڈے کے ساتھ گانٹھ دے کر باندھا ہوا تھا ۔ اور اپنے دوپٹے کا آخری کونہ ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی ۔ اور بلکل خاموش تھی اسے آپ بہت ہی خوبصورت لڑکی کہہ سکتے ہیں ۔  اس کی عمر کوئی سولہ ، سترہ ، یا اٹھارہ برس ہوگی وہ کھڑی تھی لیکن لوگ ایک ہلکا سا حلقہ بنا کر اسے تھوڑی سی آسائش عطا کر رہے تھے تا کہ اس کے گرد جمگھٹا نہ ہو ۔ کچھ لوگ جن میں عورتیں بھی تھیں ایک حلقہ سا بنائے کھڑے تھے ۔  میں نے کہ…

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

"قصور"

جس شخص نے آپ کا کوئی قصور کیا ہو ، اس کو فوراً معاف کر کے آزاد کر دیں ۔جب تک آپ اسے معاف نہیں کریں گے ، وہ قصور میں جکڑا رہے گا اور آزادی سے دور رہے گا ۔یاد رکھیے جکڑے ہوئے شخص پر شیطان فوری حملہ کرتا ہے ۔زندگی کے فیصلے کرنے کے لئے دماغ سے ضرور کام لیں جو خدا نے آپ کو دیا ہے ۔اسی طرح دل کے فیصلوں پر بھی عمل کریں وہ بھی آپ کو خدانےہی دیا ہے  ۔معرفت کی معنیٰ ہیں کہ دنیا کی قدر دل کے اندر نہ ہو دنیا سے دل کو خالی رکھے ، اور بے ضرورت سامان جمع نہ کرے ۔اگر ساری زمین گناہوں سے بھر جائےتو توبہ سب کو مٹا دیتی ہے ۔ڈائنا مائیٹ  ذرا سی ہوتی ہے لیکن بڑے پہاڑوں کو پھاڑ دیتی ہے۔
اشفاق احمد بابا صاحبا سے اقتباس 


"جھولی"

کئی دفعہ اللہٰ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اجاگر ہو جاتی ہے اور اللہٰ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنا نصیب بنا نے کی لیے ،میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاہیے جب تک ہمارے پاس جھولی نہیں ہو گی تب تک وہ نعمت جو اترے والی ہے وہ نہیں اترے گی۔رحمت ہمیشہ وہیں اترتی ہے جہاں جھولی ہو اور جتنی بڑی جھولی ہو گی اتنی ہی بڑی  نعمت کا نزول ہو گا۔
اشفاق احمد زاویہ سوم باب بش ور بلئیر مت بنیے صفحہ ١٨٧