نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2014 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" پنجاب کا دوپٹہ "

جب وہ لوٹ کر آئی تو تو بہت پریشان تھی ۔ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔ اس کی
 سانس پھولی ہوئی تھی ۔میں نے کہا خیر ہے ! کہنے لگی آپ اٹھیں میرے ساتھ چلیں ۔  میں آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتی ہوں ۔ میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا ۔ وہاں رات کو دربار کا دروازہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور زائرین باہر بیٹھے رہتے ہیں ۔ صبح جب دروازہ کھلتا ہے تو پھر لوگ دعائیں وغیرہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔  جب ہم وہاں گئے تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی آپ ادھر آئیں ۔ شاہؒ کے دروازے کے عین سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی ۔  اس کے سر پر جیسا ہمارا دستر خوان ہوتا ہے اس سائز کی چادر کا ٹکڑا تھا ، اور اس کا اپنا جو دوپٹہ تھا وہ اس نے شاہ ؒ کے دروازے کے کنڈے کے ساتھ گانٹھ دے کر باندھا ہوا تھا ۔ اور اپنے دوپٹے کا آخری کونہ ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی ۔ اور بلکل خاموش تھی اسے آپ بہت ہی خوبصورت لڑکی کہہ سکتے ہیں ۔  اس کی عمر کوئی سولہ ، سترہ ، یا اٹھارہ برس ہوگی وہ کھڑی تھی لیکن لوگ ایک ہلکا سا حلقہ بنا کر اسے تھوڑی سی آسائش عطا کر رہے تھے تا کہ اس کے گرد جمگھٹا نہ ہو ۔ کچھ لوگ جن میں عورتیں بھی تھیں ایک حلقہ سا بنائے کھڑے تھے ۔  میں نے کہا …

"قصور"

جس شخص نے آپ کا کوئی قصور کیا ہو ، اس کو فوراً معاف کر کے آزاد کر دیں ۔جب تک آپ اسے معاف نہیں کریں گے ، وہ قصور میں جکڑا رہے گا اور آزادی سے دور رہے گا ۔یاد رکھیے جکڑے ہوئے شخص پر شیطان فوری حملہ کرتا ہے ۔زندگی کے فیصلے کرنے کے لئے دماغ سے ضرور کام لیں جو خدا نے آپ کو دیا ہے ۔اسی طرح دل کے فیصلوں پر بھی عمل کریں وہ بھی آپ کو خدانےہی دیا ہے  ۔معرفت کی معنیٰ ہیں کہ دنیا کی قدر دل کے اندر نہ ہو دنیا سے دل کو خالی رکھے ، اور بے ضرورت سامان جمع نہ کرے ۔اگر ساری زمین گناہوں سے بھر جائےتو توبہ سب کو مٹا دیتی ہے ۔ڈائنا مائیٹ  ذرا سی ہوتی ہے لیکن بڑے پہاڑوں کو پھاڑ دیتی ہے۔
اشفاق احمد بابا صاحبا سے اقتباس