نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

July, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" سیلف "

جو اپنا تجزیہ کرتے ہیں ان کو پتہ چلتا رہتا ہے  اپنے اس  " سیلف " کا جو لے کر انسان پیدا ہوا تھا  وہ محفوظ رکھا ہوا ہے یا نہیں ۔ گو ہم نے تو اپنے  " سیلف " کے اوپر بڑے بڑے سائن بورڈ لگا لیے ہیں ، اپنے نام تبدیل کر لئے ہیں ، اپنی ذات کے اوپر ہم نے پینٹ کر لیا ہے ۔ ہم جب کسی سے ملتے ہیں مثلاًمیں آپ سے اشفاق کی طرح نہیں ملتا میں تو ایک رائٹر، ایک دانشور، ایک سیاستدان، ایک مکار، ایک ٹیچر بن کر ملتا ہوں ۔  اس طرح جب آپ مجھ سے ملتے ہیں آپ اپنے سائن بورڈ مجھے دکھاتے ہیں ۔ اصل " سیلف " کہاں ہے وہ نہیں ملتی ۔ اصل " سیلف " جو اللہ نے دے کر پیدا کیا ہے ، وہ تب ہی ملتا ہے ، جب آدمی اپنے نفس کو پہچانتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اکیلا بیٹھ کر غور کرتا ہے ۔  کوئی اس کو بتا نہیں سکتا اپنے نفس سے تعارف اس وقت ممکن ہے جب آپ اس کے تعارف کی پوزیشن میں ہوں اور اکیلے ہوں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا " ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 صفحہ 45