نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فہیم



باہر بڑے زور کی بارش ہو رہی تھی۔ برساتی نالوں کا شور بڑھ گیا تھا اور سیٹیاں بجاتی ہوئی ہوا چنگھاڑنے لگی تھی۔ بادل شدت سے دھاڑا۔ بجلی کا ایک کوندا تیزی سے لپکا اور پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر چیل کے ایک جھنڈ سے ایسے پٹاخے چھوٹے گویا مشین گن چل گئی ہو۔ پروین نے لحاف اپنے منہ پر کھینچ لیا۔ سلیم اور نعیم جو ایک ہی بستر میں لیٹے ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے، ایک دم خاموش ہو گئے اور شڑاپ شڑاپ کرتی دھاروں کے درمیان عجیب ان ہونی سی چیخیں سننے لگے۔ پھر ایک زور کا دھماکا ہوا اور برستی بوندوں میں بہت سے درخت دھڑام سے گرے۔
'کیا ہوا باجی؟' فہیم ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔
'کچھ نہیں، بجلی گری ہے' پروین نے اپنے خوف کو دباتے ہوئے کہا۔
'بجلی؟ کہاں گری باجی؟' فہیم نے پھر پوچھا۔
'قریب ہی گری ہے۔۔۔ مگر تم سو رہو یار!' اس دفعہ باجی کے بجائے سلیم نے جواب دیا۔ وہ چپکا ہو کر لیٹ گیا مگر اس کے دل میں خوف ابھی کروٹیں لے رہا تھا۔ بجلی کیوں گرتی ہے؟ کہاں گرتی ہے؟ کیسے گرتی ہے؟ گھروں پر تو نہیں گرتی؟ بہت سے ایسے سوال تھے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ شاید کوئی بتا دے۔ اس کے ننھے سے دل میں امید کی چھوٹی سی کرن راستہ بھولے ہوئے جگنو کی طرح ٹمٹمائی اور پھر ایسے ہی جلتی بجھتی خاموش ہو گئی۔ نسرین زانوؤں کو پیٹ میں دئیے گھوک سو رہی تھی اور اس کے الجھے ہوئے بدبودار بال ناک کے نتھنوں پر سانس کی آمد و رفت کے ساتھ ساتھ دیو کی طرح کھلتے چمٹتے اور پھر الگ ہو جاتے۔ فہیم نے اس کا گرم گرم سانس اپنی ٹھنڈی ناک پر محسوس کیا اور پرے ہٹ گیا۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ نسرین کے بال جڑ سے اکھاڑ کر تکیہ کے نیچے دے دے مگر سوئے ہوئے پر حملہ کرنے کو اس کا دل نہ مانا۔



بارش ذرا تھمی تو ژوں ژوں کرتی ہوا کی تیزی میں اضافہ ہو گیا۔ پروین نے لحاف سرکا کر نانی اماں کی طرف دیکھا جو چوکی پر بیٹھی ہونٹوں کو جلدی جلدی جنبش دیئے جا رہی تھیں۔ ان کی یخ بست اور مڑی ہوئی انگلیاں تسبیح کے دانوں سے کھیل رہی تھیں۔ ایک دانے پر دوسرا دانہ ایسے گرتا جیسے آنسو کے بعد آنسو۔ آتش دان میں دہکتے ہوئے کوئلوں پر سفیدی کی ایک تہہ چڑح چکی تھی اور وہ بوڑھے مینڈکوں کی طرح ہانپ رہے تھے۔ بلب کے گرد چکر لگانے والا ایک بڑا سا پتنگا بار بار شیڈ سے ٹکراتا اور ہلکا سا ارتعاش پیدا کر دیتا۔ کبھی ہوا اپنا رخ بدلتی تو بارش کی نوجوان اور سڈول بوندیں باغ میں کھلنے والے دریچوں کے شیشوں پر چھن چھن ٹن ٹن جھٹیاں بجانا شروع کر دیتیں۔
'ہٹاؤ یار اپنی ٹانگ۔۔۔' سلیم نے جھلا کر کہا، 'پھر میرے اوپر ڈال دی!'
'کہاں لے جاؤں اسے؟' نعیم نے تنک کر پوچھا، 'جگہ بھی تو ہو!'
'جگہ تو کافی ہے ادھر۔۔۔' سلیم اٹھ کر بیٹھ گیا اور چارپائی کے اس طرف ہاتھ پھیرنے لگا۔
'ادھر جگہ ہے تو تم ادھر آ جاؤ' نعیم نے غصے اور نفرت کے ملے جلے جذبات سے کہا۔
'اچھا' سلیم مان گیا اور انہوں نے جگہ بدل لی۔ پروین کا لحاف اب کھسک کر کندھوں تک آ گیا اور اس نے اپنے پپوٹوں کو تیزی سے جھپکنا شروع کر دیا تا کہ سارا خوف کڑوی کسیلی دوا کی طرح بہہ جائے۔ سلیم، نعیم کی چارپائی اور اس کی پلنگڑی کے درمیان نانی اماں کی کھاٹ حائل تھی، جس کے سرہانے لوہے کے سپرنگ دار پلنگ پر فہیم اور نسرین لیٹے ہوئے تھے۔ تسبیح کی گردش رکی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھے اور چہرے پر پھر گئے۔ نانی اماں بستر پر بیٹھیں اور پھر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ طاق سے دیا سلائی اٹھا کر انہوں نے دروازہ کھولا۔ ہوا کا سرد جھونکا اندر لپکا اور حجامت بنانے والے بلیڈ کی طرح سب کے کانوں پر پھر گیا۔
'اوئی اللہ۔۔۔ نانی اماں بھی کمال کرتی ہیں' پروین نے پھر اپنا لحاف سر پر کھینچ لیا۔ فہیم نے یہ دیکھنے کے لیے کہ نانی اماں نے کیا کمال کیا ہے، جھٹ اپنا لحاف اٹھا دیا مگر وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ نانی اماں اور نہ ہی کمال! سب کو رضائی میں منہ چھپائے دیکھ کر اسے بہت حیرت ہوئی۔ سامنے باورچی خانہ میں نانی اماں دیا سلائی جلائے ادھر ادھر کچھ دیکھ رہی تھیں۔ صحن میں برستی ہوئی بوندوں میں سے دیا سلائی ڈبڈبائی آنکھ کی طرح جھلملاتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ فہیم کو ایسے لگا جیسے کوئی نیک دل پری بوڑھی ملکہ کا بھیس بدل کر ان کے گھر اسفنج کیک رکھنے آئی ہو۔ جب وہ آ کر دوبارہ اپنے بستر پر لیٹ گئیں تو سب نے سوائے فہیم کے اپنے چہرے رضائی سے نکال لیے۔



'یار تیری ٹانگ پھر ادھر آ گئی۔۔۔' سلیم نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا،
'میں کیا کروں پھر؟' نعیم غصے سے بولا،
'کرنا کرانا کیا ہے۔۔۔ اسے اپنے پاس ہی رکھو!'
'اپنے پاس ہی تو ہے۔'
'اپنے پاس تو نہیں ہے۔'
'نہیں تو نہ سہی۔'
'نہ سہی کا کیا مطلب؟'
'مطلب کیا ہونا تھا، وہی جو ہوتا ہے۔'
'جنگی!' آغا صاحب دوسرے کمرے سے فوجی انداز میں دھاڑے، 'کیا بات ہے؟'
'سلیم بھائی خواہ مخواہ تنگ کر رہے ہیں' نعیم نے منہ بسور کر کہا،
'یہ جھوٹ کہتا ہے ابا جی!' سلیم کی نسوانی آواز بڑی مشکل سے آغا صاحب تک پہنچی، 'بار بار اپنی ٹانگ میرے اوپر ڈال دیتا ہے'
'مگر ابا جی۔۔۔'
'شٹ اپ مگر ابا جی کا بچہ۔۔۔' کمرہ گونجا اور مگر ابا جی کا بچہ خاموش ہو گیا۔
'نا بیٹا، لڑا نہیں کرتے' نانی اماں نے کہا، 'بھائی بھائی تو محبت پیار سے رہتے ہیں'
'سلیم بھائی ہمیشہ اسی طرح کرتے ہیں' نعیم نے رو کر کہا۔
'تم تو خواہ مخواہ رونے لگتے ہو یار جنگی۔ ذرا اپنی اس ٹانگ کو اپنے پیٹ کر تو لٹا کر دیکھو، موگری ہے موگری!'
اس تشبیہ پر نعیم ایک دم ہنس دیا اور غیر ارادی طور پر اس کی ٹانگ سلیم کے پیٹ پر جا ٹکی۔
'بھائی جان تم میرے ساتھ سو جاؤ' پروین نے سلیم کو مشورہ دیا۔
'نا تیرے ساتھ کیوں سو جائے؟' نانی اماں چمک کر بولیں، 'بھائی بھائی جھگڑا ہی کیوں کرتے ہیں۔۔۔ تمھارا نانا اور اس کا بھائی عمر بھر ایک دوسرے سے جھگڑتے ہی تو رہے'
'کیوں نانی اماں؟' پروین نے حیران ہو کر پوچھا۔
'بس ایسے ہی، بھائی جو ہوئے۔۔۔ دراصل جھگڑا تو میری وجہ سے چلتا تھا۔ بابو بھائی، خدا اسے جنت نصیب کرے۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اس کی روح کو ثواب پہنچے، ہمیشہ میری طرف داری کرتا تھا۔ تمھارا نانا خدا اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، فقیر تھا۔۔۔'
'فقیر؟' فہیم بھونچکا ہو کر اٹھ بیٹھا۔
'ہاں بیٹا۔۔۔ مگر یہ فقیر نہیں جو گلیوں میں مارا مارا پھرا کرتے ہیں' نانی اماں نے فقیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، 'مگر تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟'
'ہوں' کہہ کر فہیم پھر لیٹ گیا اور رضائی کے درزے سے چینی ناک والا چہرہ نکال کر غور سے نانی اماں کی باتیں سننے لگا۔
'۔۔۔طبیعت کے بادشاہ تھے تمھارے نانا۔ دل میں کسی چیز کی ٹھان لی تو پھر اسے پورا کر کے ہی دم لیا۔ ہم لاکھ سر ماریں، منتیں خوشامدیں کریں، طعنے الہنے دیں مگر وہ وہی کچھ کرتے جو انہیں پسند ہوتا۔ گڑھ شنکر میں نائب تحصیلدار تھے۔ اتنی بڑی حویلی۔ دو بھینسیں، ایک گھوڑی، چار کتے۔ کسی نے آ کر شگوفہ چھوڑ دیا کہ کانگڑہ میں ایک درویش آئے ہیں جو کہتے ہیں پورا کر دکھاتے ہیں۔ کسی سے ملتے نہیں۔ کسی کو مرید نہیں بناتے۔ وہ تو ایسی باتوں کے دل سے خواہاں تھے۔ جھٹ استعفیٰ لکھ بھیجا۔ صاحب بہادر نے بہت روکا مگر نہ مانے۔ تار بھیج کر اکبر کو بلایا اور مجھے اس کے ساتھ گاؤں بھیج دیا۔ میں نے لاکھ منتیں کیں، ہاتھ جوڑے۔ اللہ رسول کا واسطہ دیا مگر ان کا دل ہمارے تمھارے ایسا ہوتا تو مانتے۔ میں نے کہا، 'اس موئے بتانے والے سے کوئی پوچھے۔ تجھے علی کی سنوار' جب وہ کسی سے ملتا نہیں تو اس کی کرامتوں کا پتہ کیسے چلا؟' مگر تمھارے نانا بھی ایک ہی ضدی تھا۔ کہنے لگا، 'کاملوں کی کرامتیں کبھی چھپ سکتی ہیں؟ تم تو پگلی ہو۔۔۔ بجائے خوش ہونے کے خفا ہوتی ہو۔ وہاں جا کر آخرت کا توشہ مہیا کروں گا۔ درویش کی خدمت گزاری اس ملازمت سے بدرجہا اچھی ہے۔ سرکار کی نوکری کاجل کی کوٹھڑی ہے اور اس میں دھبہ لگنے کا ڈر لگا ہی رہتا ہے'۔۔۔میں اس خبر لانے والے، استعفیٰ منظور کرنے والے اور تمھارے نانا کو کوستی وہاں سے چل دی کہ پاک پروردگار ان سب پر میرا صبر پڑے۔۔۔'
'نانا جی پر کیوں؟' فہیم نے پوچھا تو سب ہنس پڑے۔
'یار تم سو رہو۔۔۔' سلیم نے اسے مشورہ دیا، 'خواہ مخواہ نیند حرام کرتے ہو'
'پھر وہ کامل ہو کر آئے نانی اماں؟' پروین نے پوچھا،
'خاک! کامل کہاں سے ہوتے، جو کچھ پاس تھا، وہ کانا درویش لے گیا۔۔۔ ان موئے کانوں کی ایک رگ سوا ہوتی ہے نا۔ کھا پی سب کچھ ہضم کر کے راتوں رات نو دو گیارہ ہو گیا۔ تمھارا نانا شامت کا مارا پیدل چلتا گھر پہنچا۔ اس کی حالت دیکھ کر میرا دل دھک سے رہ گیا۔ بڑھی ہوئی مونچھیں، کھلیان ایسی داڑھی۔ مسلسل فاقے کاٹنے سے سیپی جیسا منہ نکل آیا تھا۔ پھٹی ہوئی قمیص سے کھوئے باہر جھانک رہے تھے۔۔۔' فہیم نے اپنے کندھوں سے پھٹٰ ہوئی قمیض کو ٹھوڑی سے دبا لیا۔



'میاں جی، اللہ ان کی قبر نور سے بھری رہے، تمھارے نانا پر بہت برسے۔۔۔' فہیم نے گردن پھر کر باہر برستی ہوئی بوندوں کو سنا اور پھر متوجہ ہو گیا۔ 'کہتے تھے تمھیں اپنی جائیداد سے عاق کر دوں گا۔ جب تک زندہ ہوں، اس گھر میں تو کیا اس گاؤں میں بھی قدم نہ رکھ پاؤ گے۔ یاد رکھو تم نے میری بہو اور معصوم بچی کو تنگ کیا ہے۔۔۔'
'معصوم بچی کون، نانی اماں؟' پروین نے پوچھا،
'اے تمھاری بڑی خالہ بیٹی!' نانی اماں نے جواب دیا، 'وہ چھوٹی سی تو تھی۔ ابھی پاؤں چلنا سیکھا تھا کہ آنکھیں دکھنے لگیں اور جب وہ ذرا۔۔۔'
'کیا کتھا چھیڑ رکھی ہے تائی جی؟' دوسرے کمرے سے آغا صاحب کی آواز رند کی طرح کڑکی، 'بچوں کو سونے دیجیے، آدھی آدھی رات کو جگائے رکھتی ہیں آپ اور پھر صبح۔۔۔'
'نا! نا! آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ماں کا دل میلا ہو جائے گا' آغا صاحب کی بیوی نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ پھر وہ آپس میں جھگڑنے لگے۔ فہیم نے اپنا چہرہ رضائی کے اندر کھینچ لیا۔ 'اللہ کرے۔۔۔ اللہ کرے ابا جی!'۔۔۔ اسے کوئی مناسب بددعا سوجھ نہ سکی کیونکہ آغا صاحب اسی شام بارش ہونے سے چند گھنٹے پہلے اس کے لیے کل کا ایک فوجی سپاہی لائے تھے جو کوک بھرنے سے اپنی سیاہ بندوق ادھر ادھر گھماتا تھا۔
'پھر کیا ہوا نانی اماں؟' نعیم نے آہستہ سے پوچھا،
'نا بابا، تمھارا ابا ناراض ہوتا ہے۔۔۔ اب سو جاؤ' نانی اماں نے دکھے دل سے کہا۔
'ابا جی تو ہمیشہ ایسے کیا کرتے ہیں۔۔۔ ابا جی کے بچے!' پروین نے نفرت سے کہا اور نانی اماں کا کندھا ہلا کر کہنے لگی، 'سنائیے! سنائیے! نانی اماں۔۔۔ ہولے ہولے، چپکے چپکے!'
'یار نعیم، ذرا پرے رہو!' سلیم نے درخواست کی، 'تجھ سے تو بھینس کے کٹڑے کی سی بو آتی ہے'
'اور گلاب کا عطر تو میرے خیال میں تیرے پسینے کو شیشی میں بند کرنے سے بن جاتا ہے نا۔۔۔' نعیم پھنا کر بولا،
'بے شک!'
اور جب نعیم کو کوئی جواب نہ سوجھا تو وہ اور نزدیک ہو گیا، 'لے میں تو ایسے ہی سوؤں گا۔ کر لے جو کچھ کرنا ہے!'
'دیکھو، نانی اماں!' سلیم منمنایا،
'نا بیٹا جھگڑو نہیں، تمھارا باپ تو کمرہ سر پر اٹھا لے گا'
فہیم نے یہ سنا تو لحاف کھسکا کر کمرے کی چھت دیکھنے لگا۔
'میرے اتنے بچے ہوئے۔۔۔' نانی اماں نے پھر کہنا شروع کیا، 'مگر تمھارے نانا نے کبھی ان کو پھول کی چھڑی تک نہ ماری۔ کہا کرتے تھے، بچے تو فرشتے ہوتے ہیں۔ ان کو مارنا گناہ ہے۔ تمھاری کراچی والی خالہ دن بھر محلے کی تیلنوں اور جولاہی سہیلیوں سے کھیلتی رہتی اور جب شام کو گھر واپس آتی تو کپڑے میلے، چیکٹ اور جھونٹوں میں من من خاک۔ میں دست پناہ لے کر مارنے لگتی تو گود میں اٹھا کر باہر نکل جاتے۔ میں کہتی تم اسے خراب کر دو گے تو الٹا مسکرانے لگتے کہ فرشتے کبھی خراب نہیں ہوتے۔۔۔ ان کے پاؤں میں چکر تھا۔ تین مہینہ سے زیادہ گھر پر نہیں ٹھہرے۔ باہر دیوان خانے میں بیٹھے بیٹھے دل میں جانے کیا آتا، منہ اٹھا کر چل دیتے۔ یہ نہیں پتہ کہاں جا رہے ہیں۔ کب آئیں گے، کچھ پاس ہے کہ نہیں۔ بیوی بچوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ کر جا رہے ہیں یا نہیں۔ میں نے بیسیوں مرتبہ کہا کہ لڑکیوں کے لیے کیا سوچ رکھا ہے۔ آخر پرایا دھن ہے۔ کچھ دے کر ہی جان چھوٹے گی مگر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ مسکرا کر یہی کہتے، 'تم جانو اور تمھارا بیٹا۔ جب آنکھ بند کر لی، پیچھے کچھ ہی ہو' میں رونے لگتی تو مجھے دلاسا دے کر کہتے، 'خواہ مخواہ پریشان ہوتی ہو۔ اللہ مالک ہے۔ جس نے چونچ دی وہ چونگا بھی دے گا'۔۔۔ خدا بخشے میری ساس ذرا سخت طبیعت کی تھی۔ گھر کا سارا کام کاج مجھے ہی کرنا پڑتا۔ باقی سب بہوؤں کے گھر والے تو ساتھ رہتے تھے۔ ذرا بھی تنگی ترشی ہوتی، ٹسوے بہاتیں۔ ان سا لگاتیں۔ مجھ بیچاری کا کون تھا جس پر بھول بیٹھتی۔ عمر بھر نوکر بن کر ان کی خدمت کی۔ دن بھر مکئی کا آٹا گوندھتے گوندھتے میری کلائی ٹیڑھی ہو گئی۔' نانی اماں نے لحاف سے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو فہیم اٹھ کر بیٹھ گیا۔



پروین نے کہا 'ہائے اللہ! واقعی نانی اماں کا ہاتھ ٹیڑھا ہے۔'
'دکھانا! دکھانا!' سلیم اور نعیم ایک دم بول اٹھے اور نانی اماں نے اپنا ہاتھ ادھر بڑھا دیا۔ جب وہ دیکھ چکے تو فہیم نے آہستہ سے کہا،
'میں بھی دیکھوں، نانی اماں؟' مگر نانی اماں نے اسے بستر میں چھپا لیا تھا۔
'او تو ابھی تک جاگ رہا ہے؟' نعیم نے پوچھا، 'سو جا، کیا کرے گا دیکھ کر؟'
'سو جا، میرے لال۔' نانی اماں نے چمکار کر کہا، 'مجھے ٹھنڈ لگتی ہے'
'یہ کیا گڑبڑ ہے۔۔۔ ہیں؟' آغا صاحب کا بادل پھر گرجا، 'حرام زادو! ساری رات جاگتے ہو اور صبح مردوں کی طرح، اٹھنے کا نام نہیں لیتے' پھر ان کی اور ان کی بیوی کی تکرار شروع ہو گئی۔
'بیٹا، یہ بتی گل کر دو' نانی اماں نے سلیم سے کہا اور خود منہ ہی منہ میں کوئی آیت پڑھنے لگیں۔ سلیم نے بستر پر کھڑے ہو کر بتی بجھائی تو باہر سے ٹھٹھرتا ہوا اندھیرا اندر سمٹ آیا۔ دروازوں اور کھڑکیوں کے شیشے دھندلے دھندلے ہو گئے۔ گو ان میں سے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا تا ہم ایسا لگتا تھا کہ ابھی کچھ دکھائی دینے لگے گا۔ سب نے یوں محسوس کیا کہ جیسے بتی بجھانے سے سردی بڑھ گئی ہے اور ہر ایک نے اپنا لحاف اپنے گرد اچھی طرح سے لپیٹ لیا۔ فہیم اور نسرین کا لحاف بہت پتلا تھا۔ اس وجہ سے ان پر ایک کمبل ڈالا ہوا تھا جو آہستہ آہستہ کھسکتا جا رہا تھا۔
جاری ہے / ذیلی لنک پر کلک کریں
دوسرا/آخری حصہ

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم