نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رات بیت رہی ہے


رات بیت رہی ہے۔۔۔ اور میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ خط لکھوں تو کسے لکھوں؟ آج دن بھر دھند چھائی رہی، ہم اپنے اپنے کیبنوں میں گھسے اخبار اور تصویروں والے رسالے دیکھتے رہے۔ چائے آج معمول سے ایک بار زیادہ تقسیم ہوئی۔ بعض اوقات ایسی بے قاعدگی بڑی اچھی لگتی ہے۔ میں اپنے کمرہ سے خراماں خراماں دو دفعہ کنٹرول گیا، لیکن وہاں کچھ ایسی مصروفیت تھی کہ وہ لوگ ٹھیک سے میری باتوں کا جواب نہیں دے سکے۔ موسم خراب تھا اور لاسلکی پیام اچھی طرح سمجھ میں نہ آتے تھے۔ اتنا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سارے لڑاکا طیارے سلامت ہیں۔ میں نے ایک دفعہ پیٹر کی آواز پہچاننے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہا۔ پھر میں اسی طرح راستہ کی ہرا بھری ہوئی کیل اور بڑھی ہوئی لکڑی کو ٹھوکریں مارتا ہوا واپس آ گیا۔ جیب سے چیونگم کی ایک ٹکیہ نکلی! پتہ نہیں کب سے وہاں پڑی تھی۔ کپڑے کی مسلسل رگڑ سے اس کی کھانڈ اتر چکی تھی۔ میں نے اسے منہ میں ڈالا تو تم یاد آ گئیں۔ اب اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ سمندر بالکل ساکن ہے۔ جہاز میں اب وہ ہلکورے نہیں۔ عرشہ گھرکا صحن لگتا ہے جہاں ہم سب اینٹیں کھڑی کر کے ہاکی سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور تم نے مجھے خاص طور پر ہدایت کر رکھی تھی کہ گیند اینٹوں کی سیدھ میں نہ پھینکا کروں لیکن میری چھ گیندوں کے بعد جیدی تمھیں پہلی بار ہی آوَٹ کر دیا کرتا تھا۔ یہ تو بتاوَ، میں نے کبھی ایسی جرات کی؟
میرا جی چاہتا تھا تمھیں کبھی آوَٹ نہ ہونے دوں اور تم نے کہا تھا کہ میرا جی بھی یہی چاہتا ہے کہ تم مجھے کھلاتے ہی رہو، لیکن اب خود ہی تم نے مجھے اتنی دور بھیج دیا ہے۔ یہاں نہ تو کوئی تمہارے جیسا ہے نہ تمہارے دیس کا! انگریزی کھانے کھا کھا کر میں تنگ آ گیا ہوں۔ اردو میں بات کیے تقریباً ڈیڑھ مہینہ بیت چکا ہے اور طرب انگیز لمحہ تو شاید ایک بھی نہیں آیا۔ پانی میں زندگی بسر کرتے آج پچیسواں دن ہے اورپتہ نہیں کتنے دن اسی طرح آسمان کے نیچے اور ساگر کی چھاتی پر گزر جائیں گے۔ کل رات پیٹر کیبن میں آیا اور دیر تک بیٹھا رہا ۔وہ مارگریٹ کو خط لکھتا آیا تھا۔ فضائی حملہ کرنے سے پیشتر ہر امریکی ہوا باز اپنی جان تمنا کو ایک لمبا چوڑا خط لکھا کرتا ہے۔ پیٹر کی شکل اب تک میری آنکھوں میں گھوم رہی ہے۔ وہ میز کے ایک کونے پر بالکل غیر فوجی انداز میں پھسکڑا مار کر بیٹھ گیا اور مارگریٹ کی باتیں کرنے لگا۔ اس سے متعلق ہر بات شروع کرنے سے پیشتر وہ مسکرا کر یہ ضرور کہتا، 'بھلا تم کسی دوسرے کی داستان الفت میں کیا دلچسپی لو گے۔۔۔ لیکن تم اتنے اچھے ہو کہ اگر دنیا میں مارگریٹ نہ ہوتی تو میں صرف تمہاری دوستی کے سہارے زندگی بسر کر لیتا۔' پھر پرنسٹن یونیورسٹی کی ہلکی سی تمہید کے بعد وہ تیرنے کے اس تالاب کا ذکر ضرور کرتا جہاں پہلے پہل ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ مجھے کئی ہزار مرتبہ یہ بتانے کے بعد بھی وہ ہر دفعہ اس بات کا تذکرہ ضرور کرتا کہ اس دن مارگریٹ نے سرخ رنگ کی سکرٹ پہنی ہوئی تھی اور وہ لالے کا پھول دکھائی دیتی تھی جو آسمان سے شبنم کے ساتھ اترا ہو۔



پیٹر کا باپ کسی یونیورسٹی میں جغرافیے کا پروفیسر ہے۔ وہ رومن کیتھولک خیالات کا حامی ہے اور انجیل کو چوم کر کھولتا ہے۔ اس کی جغرافیہ دانی نے پیٹر کو دیس دیس کی سیر کرنے پر مجبور کر دیا اور وہ امریکن ہوائی فوج میں بھرتی ہو گیا۔۔۔ ہم پہلی مرتبہ یہاں ملے ہیں اور ہماری ملاقات کا آج پچیسواں دن ہے۔ امریکی بڑے جذباتی لوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری دوستی سالوں کی منزلیں دنوں میں طے کر گئی ہے۔ جب میں واپس آوَں گا تو تمہیں پیٹر کی بہت سی تصویریں دکھاوَں گا جو اس نے مارگریٹ کے ساتھ کھچوائی ہیں۔ ان میں ایک تصویر تو اتنی پیاری ہے کہ رہ رہ کر پیار آتا ہے، جہاں مارگریٹ ایک سفید دریچے میں سے باہر کے درختوں کو دیکھ رہی ہے اور پیٹر اس کو دیکھ رہا ہے۔ پتہ نہیں یہ کھڑکی میں سے آتی ہوئی روشنی کا اثر ہے یا پیٹر کی آنکھوں کے شراروں کی چمک ہے کہ انتہائی سوچ کے باوجود مارگریٹ کا چہرہ جگمگا رہا ہے۔ ایسے ہی خوشی سے ایک بار تمہارا چہرہ بھی دمک اٹھا تھا۔ جب میں۔۔۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ میں تمہیں پیٹر کی بہت سی تصویریں دکھاوَں گا۔ اس نے اپنا البم مجھے دے دیا ہے۔
اس وقت آدھی رات سے زیادہ بیت چکی ہے۔ کہر اب بھی چھائی ہوئی ہے بلکہ اس کی تہہ پہلے سے دبیز ہو چکی ہے۔ سارے سمندر پر اندھیرا چھاوَنی ڈالے ہوئے ہے لیکن اب یہ ہولناک نہیں لگتا۔ گیلری میں کھلنے والے چھوٹے سے روزن سے کچن کی روشنی آ رہی ہے۔ برتن کھٹک رہے ہیں اور کنٹرول کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ کب تک بجتی رہیں گی۔ میں تو ہر روز جلد ہی سو جاتا ہوں۔ ننھا بلب جس کی روشنی میز کے ایک مربع فٹ سطح پر مرکوز ہے، وقت مقررہ پر خود ہی بجھ جاتا ہے۔ پھر صبح چائے کی گھنٹی بیدار کر دیتی ہے۔ یاد ہے، ایک مرتبہ جیدی اور بلو نے ایک ٹیلی فون بنایا تھا۔ سگریٹ کے دو ڈبوں کے درمیان ایک لمبی ڈور باندھ کر ایک ڈبے میں بولتا تھا اور دوسرا کان سے لگا کر سنتا تھا۔ جب وہ تمھاری امی کو یہ انوکھی ایجاد دکھانے لائے تو میں ان کے پاس تخت پر بیٹھا پان پر چونا لگا رہا تھا۔ امی چھالیہ کتر رہی تھیں۔ تم بھی اسی کمرے میں تھیں۔ تمھاری امی نے سر ہلا کر کہا، 'ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ بھیا کو دکھاوَ' جیدی نے ایک ڈبہ مجھے دے دیا اور دوسرا تم نے خود بلو سے لے لیا۔ ہمارے ہم کلام ہونے سے پیشتر ان دونوں سائنسدانوں نے ایک زبان ہو کر کہا، 'یہ کمرہ چھوٹا ہے۔ برآمدے میں چل کر سنیے اور ڈوری کو کھینچ کر رکھیے، نہیں تو بات سنائی نہیں دے گی' پھر جب میں نے ڈبے میں منہ ڈال کر کہا، 'رینا! تم مجھ سے۔۔۔' تو تم نے ڈوری ڈھیلی کر دی اور میری بات منہ سے نکلی تو پوری، پر راستے میں پتنگ کی طرح کٹ گئی۔ پھر شاید تم نے میرے چہرے کے اتار چڑھاوَ سے اندازہ لگا کر بات ٹالنے کی کوشش کی تھی کہ بھئی جیدی ٹیلی فون تو اچھا ہے مگر اس میں گھنٹی نہیں بجتی۔ اس نے جواب دیا تھا کہ گھنٹی تو سوتے ہوئے کو جگانے کے لیے ہوتی ہے اور یہ ٹیلی فون جاگتے لوگوں کا ہے۔۔۔ مجھے جیدی کی بات اب سمجھ میں آنے لگی ہے کہ گھنٹیاں کیونکر جگایا کرتی ہیں۔
ابھی چند منٹوں کی بات ہے۔ میں سگریٹ سلگا کر جلتی ہوئی دیا سلائی کا شعلہ دیکھ رہا تھا کہ ہارلو آ گیا اور میری کرسی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ۔ یہ میرے طیارے کا توپچی ہے۔ پہلے نیویارک میں ایک فٹر تھا۔ پھر ائیر مین بھرتی ہو گی اور دو ہی سالوں میں ایک اچھا نشانچی بن گیا۔ مخالف طیاروں پر اس کی ماری ہوئی باڑھیں آج تک اکارت نہیں گئیں اور جو جہاز ایک مرتبہ اس کے نشانے میں آ گیا، پھر نہیں ابھرا۔ ابھی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ، 'میں جہاز کے نچلے عرشہ سے ہو کر آیا ہوں جہاں ہمارا طیارہ پڑا ہے۔ اس کی آب و تاب ہی نرالی ہے اور وہ دوسرے طیاروں میں سب سے الگ دکھائی دیتا ہے۔ میں اس کے پروں پر صلیب کا نشان بنا کر آیا ہوں۔ خداوند یسوع مسیح نے آج تک میرے طیارے کو سبک سار نہیں کیا۔ اب بھی اس سے یہی دعا ہے'۔۔۔ پھر وہ ذرا جھک کر بولا، 'آپ نے کسی کو خط نہیں لکھا؟ میں تو تین لفافے لکھ کر ڈاک کے ڈبے میں چھوڑ آیا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ ڈالی کو بھی خط لکھوں یا نہیں؟ وہ میری سب سے پہلی آشنا ہے۔'
وہ تو چلا گیا لیکن مجھے ایک گہری سوچ میں چھوڑ گیا۔ اچانک مجھے تم یاد آ گئیں اور میں سوچنے لگا کہ کس کو خط لکھوں اور میں ابھی تک کچھ فیصلہ نہیں کر سکا۔
جن دنوں میں ایف اے پاس کر کے اچھا خاصا آوارہ گرد ہو گیا تھا تو میری والدہ نے تمہاری امی کی موجودگی میں میری خود سری کی ساری داستان کہہ دی تھی اور تمہاری امی صرف اتنا کہہ کر چپ ہو گئی تھیں کہ آج کل کے سارے لڑکے باغی ہو گئے ہیں اور تم نے مجھے اسی دن ڈیوڑھی میں روک کر کہا تھا، 'بی اے کا داخلہ ابھی بند نہیں ہوا۔ کسی کالج میں داخل کیوں نہیں ہو جاتے؟' تو میں نے کہا تھا، 'ہو جائیں گے۔ ایسی کونسی جلدی ہے۔ میرا دل پڑھنے کو نہیں چاہتا۔'
'لیکن میرا تو چاہتا ہے'
'تم تو پڑھ ہی رہی ہو'
'اپنے لیے نہیں، تمہارے لیے کہہ رہی ہوں۔۔۔ کم از کم بی اے تو کر لو!'
'بی اے' میں نے کہا، 'تم کہتی ہو تو سوچیں گے'
'لیکن اے، بی کورس لے کر کرنا ہو گا'
'اے، بی کورس، یعنی حساب؟'
'ہاں'
'لیکن رینا یہ تو بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔ آگے ایف اے ہی بڑی مشکل سے پاس کیا ہے۔'
'اچھا تو اے کورس اور فلاسفی ہی سہی۔۔۔'
'مگر۔۔۔'
'اگر مگر کچھ نہیں۔' تم نے کہا، 'پہلے ہی تم کو بڑی رعایت دے دی ہے'
دوسرے دن میں کالج میں داخل ہو گیا۔ پھر تم میری بڑی عزت کرنے لگیں اور مجھ سے ضدی بچوں کی طرح چمکار چمکار کر کام لینے لگیں۔
ابا کی موٹر لے کر آیا تو تم نے کار میں بیٹھتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا، 'ارشد تم مت چلانا' اس دن مجھے تمہاری نظروں میں اپنی برتری کا احساس ہوا اور تم مجھے اچھی لگنے لگیں۔ بہت اچھی، سب سے اچھی!
ایسے ہی ایک دن جب میں ایک لفافہ جس کے فلیپ کی گوند تقریباً اتر چکی تھی، پانی لگا لگا کر بند کر رہا تھا تو تم ہنس پڑی تھیں اور لفافہ میرے ہاتھ سے جھپٹ کر کہا تھا، 'یہ ایسے بند نہیں ہو گا۔ جکڑنے والی چیز اکھڑ چکی ہے۔ یہاں تو یہی پرانا طریقہ استعمال کرنا پڑے گا' اور پھر لب لگا کر لفافہ بند کر کے آکسفورڈ ڈکشنری کے اندر رکھ دیاتھا لیکن میں نے فوراً وہاں سے یہ کہہ کر کھینچ لیا تھا کہ 'ٹھہرو مجحے بھی تو یہ طریقہ سیکھ لینے دو۔ خدا معلوم پھر کتنے ہی ایسے لفافوں پالا پڑے' لفافہ پھر کھلا، زبان دوبارہ پھری اور پھر اسی طرح آکسفورڈ ڈکشنری کے نیچے دبا دیا گیا لیکن پھر تم نے بھرپور نگاہوں سے مجھے نہیں دیکھا۔ ایسے ہی جگنو جھبکاتی رہیں اور اٹھ کر چلی گئیں۔ بعض اوقات تمہاری رہبری بھی چوکڑیاں بھول جاتی تھی۔
اکثر ایسے بھی ہوا کہ تم نے اپنی پسند پر میری مرضی کو قربان کر دیا اور میں نے پتہ نہیں کیوں، قربان ہونے دیا۔ میں بالوں میں ٹیڑھی مانگ نکالتا تھا لیکن تم نے کہا، 'مجھے درمیان میں پسند ہے' میں نے کنگھی تمہارے آگے بڑھا دی تو تم نے کہا، 'میں خود نہیں نکالوں گی' پھر میری مانگ خود بخود سیدھی نکلنے لگی۔ پر ان بالوں کو حسرت ہی رہی کہ کبھی تمھارے ہاتھوں سے منت پذیر شانہ ہوتے۔



ایک بار جب میں کرائے کی نئی سائیکل لے کر سارا دن ادھر ادھر گھومتا رہا اور شام کو دکان بند ہو گئی تھی اور میں سائیکل لے کر گھر آ گیا تھا تو رات کو کھلی ہوئی چاندنی دیکھ کر تمہارا جی چرایا۔ تم سائیکل برآمدے سے باہر گلی میں نکال لے گئیں لیکن چلاتا کون؟ اس وقت اگر میں نہ ہوتا تو پتہ نہیں تم کتنی دیر ایسے ہی کھڑی رہتیں۔ پھر میں نے ہی تمہیں آگے بٹھا کر گلی کے اس سرے تک سیر کروائی لیکن اونچے نیچے گڑھوں والی زمین پر اچھلتی رہی اور میری ٹھوڑی تمھارے سر سے ٹکراتی رہی اور واپسی پر جب میں نے یہ رائے دی کہ دکانوں کی قطار کا چکر کاٹ کر اپنے گھر کے پچھواڑے جا اتریں گے کیونکہ وہ راستہ ہموار تھا تو تم نے خود ہی میری تجویز رد کر دی تھی۔ اگر اس طرح ایک بار پھر میری ٹھوڑی تمہاری مانگ کو چھوتی رہی تو میرا قصور؟
ہمارے گھر کے عین سامنے ایک چھوٹی سی کھائی تھی جسے تم ہمیشہ پھلانگ کر گذارا کرتی تھیں۔ تمہارے ساتح اور دو تین لڑکیاں بھی ہوتیں مگر وہ کبھی اس طرح نہ گزری تھیں یا تو اس سے کترا جاتیں یا ایک پاوَں اس میں اتار کر دوسرا اگلے کنارے پر رکھ دیتیں۔ میں یہی نظارہ کرنے کے لیے کھڑکی کے پٹ کھولے رکھتا تھا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ کھائی پر ہو گئی لیکن تم نے اپنا انداز نہ بدلا۔ تم اس تازہ دھلی ہوئی مٹی پر سے اسی طرح گذرتی رہیں جیسے کھائی سے گذرتی تھیں اور وہ نشیب پر ہونے کے باوجود میری کھڑکی بند نہ ہوئی۔ جب میں نے خدا کو ماننا چھوڑ دیا تو اوروں کے ساتھ تمہیں بھی رنج ہوا۔ بھائی جان سے میری لمبی لمبی بحثیں سن کر تم نے مجھ سے پوچھا تھا، 'آخر آپ خدا کو مانتے کیوں نہیں؟'
تو میں نے کہا تھا کہ، 'اس کے ماننے یا نہ ماننے سے انسانی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔'
تو تم نے جواب دیا تھا کہ، 'میں تو سمجھتی تھی فلسفہ سے تمہارا دماغ روشن ہو جائے گا۔ پر۔۔۔'
'روشن ہی تو ہوا ہے' میں نے کہا تھا، 'جب وقت۔۔۔'
'وقت اور فاصلہ میں کچھ نہیں سمجھتی' تم نے بات کاٹ کر کہا، 'آج سے خدا کو مانا کرو!'
'لیکن۔۔۔'
'لیکن کچھ نہیں۔ میں جو کہتی ہوں کہ خدا ہے'
'پر۔۔۔'
'اچھا تو جا کر اپنی کھڑکی بند کر لو۔ سمجھ لو کہ آج سے وہ کھائی پر ہو چکی'
میں تم سے تو شاید نہ ڈرتا لیکن تمہاری دھمکی سے ڈر گیا اور اس دن سے مجھے ہر شے میں خدا کا ظہور نظر آنے لگا۔
کل رات پیٹر میرے پاس آیا تھا اور دیر تک بیٹھا رہا تھا مگر آج نہیں آیا۔ میں نے کہا نا کہ وہ بڑا جذباتی ہے۔ البم دے گیا ہے جسے میں اب تک کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ اب بھی وہ میرے سامنے کھلا پڑا ہے۔ تین بجے شب طیاروں نے ٹیک آف کیا۔ ہم اس وقت مزے سے سو رہے تھے۔ صبح صبح میں کنٹرول گیا لیکن وہاں حد درجہ مصروفیت تھی۔ چند منٹ تک پیٹر کے پیغام کا انتظار کرنے کے بعد میں اپنے کیبن میں واپس آ گیا۔ دوپہر کو ہمیں ونگ کمانڈر نے بلایا۔ دیر تک نقشہ پھیلائے ہم ادھر ادھر نگاہیں دوڑاتے رہے۔ پھر ایک خاکہ مرتب ہوا اور ہمیں پوزیشن سمجھا دی گئی۔ میں پھر آ کر پیٹر کا البم دیکھنے لگا جس کے اخیر میں مارگریٹ کی ایک تصویر ہے جہاں وہ پیٹر کی پی کیپ پہنے ہنس رہی ہے۔ آٹھ طیارے واپس آ گئے مگر پیٹر نہیں آیا۔ کنٹرول نے پیام دیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ ہم سب عرشہ جہاز پر نکل آئے اور آسمان کی طرف نگاہیں اٹھائے انتظار کرنے لگے۔ تشویش بڑھتی گئی۔ ونگ کمانڈر مایوس ہو گیا لیکن ہم لوٹ کر اپنے کیبنوں میں نہیں گئے۔ سمندر متلاطم ہو گیا تھا۔ دور تک نیلا پانی بالکل سیاہ ہو گیا اور جہاز ڈولنے لگا۔ بڑی بڑی لہریں اٹھیں اور جہاز سے سر مارنے لگیں۔ بہت ہی اونچی اونچی لہریں عرشہ جہاز پر آ کر پھیلنے لگیں۔ ہمارے بوٹ پانی میں ڈوب ڈوب جاتے اور پتلونوں کے پائنچے ٹخنوں سے لپٹ جاتے لیکن سب کی نگاہیں آسمان میں گڑی ہوئی تھیں۔ پھر اچانک سیاہ بادل امڈا اور تیزی سے ہماری طرف پھیلنے لگا۔ ہمارا طیارہ آ رہا تھا۔ اپنے پیچھے دھوئیں کا ایک دبیز بگولا چھوڑے اس کا ایک پر جل رہا تھا اور اس میں سے لمبے لمبے شعلے نکل رہے تھے۔ سب ایک طرف ہو گئے اور طیارہ گویا عرشہ جہاز پر آ کر گر پڑا۔ ہم نے ربڑ کے نلوں سے اس پر پانی کی بوچھاڑ کر دی اور پھر اس ادھ جلی چتا پر پل پڑے۔ میں نے کاک پٹ کھول کر جب پیٹر کو باہر نکالا تو اس نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن اس کی آنکھیں دھندلا گئیں۔ سٹریچر منگوایا اور اسے لے گئے۔ توپچی کا پتہ نہ تھا۔ پیٹر نے اپنے ناتواں ہاتھوں میں میرا ہاتھ لے کر کہا، 'ذرا البم تو لاوَ'۔ ہارلو میرے پاس کھڑا تھا۔ میں نے اسے کہا اور جب وہ لے آیا تو پیٹر نے کہا، 'آخری تصویر نکالو۔' میں نے مارگریٹ کی وہی تصویر نکالی۔ پیٹر نے اسے اپنی دھندلی نگاہوں سے دیکھا اور بولا، 'اسے میرے قریب تو کرو۔' اور جب میں نے اسے قریب کیا تو بولا، 'ذرا اور نزدیک۔۔۔' اس کے بعد اس نے کہا، 'مارگریٹ نے مجھے کہا تھا کہ مرد فوج میں بھرتی ہونے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ دیکھو میری ٹوپی پہن کر یہ کس قدر خوش نظر آتی ہے۔ اسے ہوائی فوج سے بہت انس تھا۔ اس کی تمنا تھی کہ میں ایک اچھا پائلٹ بن سکوں۔ میں پائلٹ تو بن گیا مگر شاید اچھا نہیں! یہ اکثر کہا کرتی تھی کہ جب تم وردی پہن کر میرے ساتھ پرنسٹن کی گلیوں میں چلا کرو گے تو ہر بری اور بحری فوجی ہمیں سلام کیا کرے گا۔ کاش اس کی یہ آرزو پوری ہو سکتی'۔



شام کو ہم نے پیٹر کو اس کے جلے ہوئے جہاز میں ڈال دیا اور ٹوپیاں اتار کر اس کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔ امریکیوں نے نہایت دردناک مگر اونچے سروں میں وہی مشہور گیت گانا شروع کر دیا، 'آج تمام روئے زمین امریکہ کے پروں کے نیچے ہے'۔
پھر اس کے جہاز کو آہستہ آہستہ دھکیل کر ہم نے سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بڑا سا بھنورپیدا ہوا اور پھر طیارے کی جلی ہوئی دم اس میں غرق ہو گئی۔ ونگ کمانڈر نے کہا، 'ایک اچھے ہوا باز کو کتنا اچھا تابوت ملا'۔۔۔ آج صبح میرا ٹیک آف ہے اور ہم اسی عرشہ سے اڑیں گے جہاں سے کل رات ایک اچھا ہوا باز اڑا تھا لیکن اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہارلو بہت اچھا توپچی ہے۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں گیا!
میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ میں تو ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکا کہ خط لکھوں بھی تو کسے لکھوں؟

اشفاق احمد کے دوسرے افسانے





اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعلق کیا شے ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضح نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔


غلط فہمی

ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے ۔ انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اسے ہم بار بار سن رہے تھے ۔ وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی ۔ اس شعر و سخن کے بعد " سیلف " کی باتیں ہونے لگیں ۔ یعنی " انا " کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام حاضرین نے بار بار اقرار و اظہاراورتبادلہ خیال کیا ۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں ۔ کیونکہ جب صبح میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فیض صاحب کو بڑی " سینس آف ہیومر " دی تھی ۔ کہنے لگے بیبی ! یہ تکبر اور انا ہر گز نہیں ، یہ غلط فہمی ہے ۔ ( انہوں نے یہ بات بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بیچاری قہقہے لگا کے ہنسی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ 104


قدرتی طرز زندگی۔۔۔

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہےئ۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے ا…

خوبی سے تباہی

بڑی دیر سہیل مجھے امریکہ کے متعلق بتاتا رہا۔ "وہ ملک بھی کھوکھلا ہو گیا ہے۔۔۔ انسانوں کی طرح ملک اور قومیں بھی ہمیشہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی خوبیوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہیں۔۔۔" ہمیشہ کی طرح وہ بہت چمکدار اور ذہین تھا اس کے چہرے پر تمام تر امریکی چھاپ تھی۔ "کیسے؟۔۔۔ سر۔" "خوبی وہ چیز ہے جس پر انسان خود اعتماد کرتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ر فتہ رفتہ یہ خوبی اس کی اصلی اچھائیوں کو کھانے لگتی ہے اسی خوبی کی وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسی خوبی کے باعث وہ انسانیت سے گرنے لگتا ہے۔ فرد۔۔۔ قومیں۔۔۔ سب اپنی خوبیوں کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں۔"


خواہشات اور تمنائیں

میں یہ سمجھتا ہوں اور میرے بابوں نے یہ بتایا ہے کہ اگر آپ اپنی خواہشوں کو، اپنی تمناؤں کو، اپنی آرزؤں کو زرا سا روک سکیں جس طرح آپ اپنے پیارے "ڈوگی" کو کہتے ہیں، "تم زرا باہر دہلیز پر ٹھہرو، میں اپنا کام کرتا ہوں پھر میں تمھیں لے کر چلوں گا" تو خواہشات کو بھی سنگلی ڈال کر چلیں اور خواہشات کو جب تک آپ پیار نہیں کریں گے، اسے نچائیں گے نہیں، اس کو گلستان کی سیر نہیں کروائیں گے وہ چمٹ جائیں گی آپ سے۔ لاتعلقی، آپ اور آپ کی تمناؤں کے درمیان سنگلی ہوتی ہے اور ایک عجیب طرح کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح خواہش کے اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ ہونا چاہیے اس کو کھلائیں، ساتھ رکھیں، لیکن اس کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔