نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

توبہ


میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔
جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔
دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ سگریٹ پینا چھوڑ اس کے عوض جو انعام چاہتا ہے ہم سے لے مگر ہو ہماری بساط میں۔۔۔' امی کا چہرہ دم بھر کے لیے متغیر ہوا۔



پھر انہوں نے روئی کی ایک چھوٹی سی پھریری 'پین کلر' سے تر کر کے داڑھ میں رکھ لی اور کروشئیے سے دبانے لگیں۔ وہ نو آموز جواری تھیں۔ کل ہی انہوں نے بیس روپیہ کا داؤ ابا سے پوچھے بغیر لگایا تھا اور ہار گئی تھیں۔ 'سی سی' کرتے وہ اپنی ہار بھی پھریری کے ساتھ کروشئیےکی مدد سے دباتی رہیں۔
'مجھے منظور ہے' میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
انہوں نے سگریٹ سلگایا اور دیا سلائی کی بجھی ہوئی تیلی کان میں پھیر کر بولے،
'تو بتا پھر؟'
'سائیکل لے دیجیے' مجھے اس کی سخت ضرورت تھی۔
'مگر تیرے پاس ہے جو۔۔۔' وہ حیران رہ گئے، جیسے میں اسے گروی رکھ آیا ہوں۔
'وہ کوئی سائیکل ہے؟' میں نے اپنے چہرے پر طننز اور حقارت کی ساری علامات پیدا کر کے کہا، 'چلتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی پھٹتے ہوئے بموں کو لکڑی سے پیٹ رہا ہو'
'تو پھر؟' ابا جان مسکرائے،
'کہہ جو دیا نئی لے دیجیے۔ اب میں اس سائیکل پر جاتا ہوا اچھا لگتا ہوں کیا؟' بی-ایس-اے سب سے اچھا ماڈل ہے۔ خوبصورت کا خوبصورت اور مضبوط کا مضبوط۔ میں تو لوں گا۔۔۔ باقی سب بکواس ہے۔ ہے نا ابا جی؟' وہ خود بھی بی-ایس-اے کو پسند کرتے تھے۔ میں نے تیر چھوڑا، 'یا ڈیل کارتیجی؟'
'مگر آج کل؟ ان دونوں؟'۔۔۔' وہ سوچتے ہوئے بولے۔ میں درپے ہو گیا۔ گھنٹہ بھر کی بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اچھا مل جائے گی مگر اس شرط پر کہ پھر کبھی سگریٹ کو ہاتھ تک نہ لگاؤں۔ ابا جان کو اپنے سگریٹوں سے کتنا پیار تھا۔ ان کو میری دست برو سے بچانے کے لیے ایک عدد بی-ایس-اے سائیکل رشوتاً دی جا رہی تھی۔ ابا جان کو میری صحت سے زیادہ اپنے سگریٹوں کی فکر تھی جو آئے دن ان کے ڈبے سے اغوا کر لیے جاتے تھے۔ جب تک سائیکل گھر نہ پہنچ گئی ہم نے سگریٹوں کی طرف آںکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اسی ایک خیال میں مگن دل کو دیا کیے۔ نشہ کی طلب ہوتی تو ٹھنڈے پانی کے دو چار گلاس حلق میں انڈیل لیتے۔ اس سے تسکین بھی ہوتی اور تکلیف بھی اور جس دن بندوق مارکہ سائیکل ہمارے ہاتھ آئی تو سڑک پر چکر لگاتے اس کی 'ٹرائی' لیتے پانڈے بھیا کی دکان پر پہنچ کر چپکے سے کونڈر کی ایک ڈبیا کوٹ کی جیب میں ڈال لی۔ دل کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ مگر دل کا کیا ہے، وہ تو تو دھڑکتا ہی رہتا ہے۔ آہستہ نہ سہی، ذرا تیز سہی۔
نوحہ غم اور نغمہ شادی دونوں ہنگامہ پرور چیزیں ہیں اور اہم اس وقت نغمہ شادی والے ہنگامے کو اپنائے ہوئے تھے۔ دونوں بھائیوں کی شادی ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت ہو رہی تھی۔ گھمسان کارن تھا۔ خوب غل ہوا، چیخ مچا۔ ہر کوئی نفسا نفسی اور آپا دھابی کا شکار ہو گیا۔ سامنے کے میدان میں برات کے لیے شامیانہ نصب کیا گیا تھا۔ اینٹیں جوڑ کر غسل خانے اور موتریاں تیار کی گئیں۔ رونق بڑھانے کے لیے رنگ برنگی جھنڈیاں اور نیلے پیلے بلب لگا رکھے تھے۔ ہر دروازے پر سنہرے حرفوں والا 'ویل کم' کا بورڈ بادل ناخواستہ لٹک رہا تھا اور مرے پر سو درے یہ کہ اس میں شور میں ایک بگڑا ہوا لاؤڈ سپیکر بھی اسی طرح کھپا دیا گیا تھا جیسے دیوالی کے پٹاخوں میں کسی بہت بھونکنے والے کتے کو پٹہ ڈال کر باندھ دیا ہو۔



مجھے جس کمرے میں جگہ ملی وہ ایک جعفری تھی۔ گھر کے بیرونی برآمدے کے آخری کونے میں۔ وہاں دو چارپائیاں بچھی تھیں۔ ایک گنجائش تھی مگر یہ تیسری چارپائی بچھ نہ سکتی تھی، صرف گنجائش ہی گنجائش تھی کیونکہ اس خالی جگہ میں اس قسم کی متعدد چیزیں پڑی تھیں جو اٹھائی نہ جا سکتی تھیں یا جن کے سمیٹنے پر کوئی دھیان ہی نہ دیتا تھا۔ مثلاً پرانی چارپائیں کا بان، ٹوٹے ہوئے ڈمبل، اکھڑا ہوا چرخہ، بگڑا ہوا سٹیوو لیمپ، برف جمانے کی مشین کے چند حصے۔ ایسی چیزیں نہ تو گھر میں رکھی جا سکتی تھیں اور نہ ہی باہر پھینک سکتے ہیں۔ جعفری کے علاوہ ان کے لیے کوئی جگہ موزوں نہیں ہو سکتی۔ جعفری نہ گھر ہوتی ہے اور نہ باہر اور کچھ انہی چیزوں کا سا حال ہمارا تھا۔ میرے ساتھ ایک تھانیدار صاحب بھی تھے۔ یہ ہمارے ساتھ برات میں آئے تھے یا لڑکی والوں کے کوئی رشتہ دار تھے، مجھے اس کا علم نہیں۔ بہرحال ان کا بستر دوسری چارپائی پر لگا دیا گیا، مگر اس بستر کو ان کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ کھونٹی پر وردی لٹکا وہ ایسے غائب ہوئے کہ ان کی آمد کا یقین ہی نہ ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تتھا جیسے کھونٹی پر وردی کہیں سے آ کر چمگادڑ کی طرح خود بخود لٹک گئی ہو۔
-جاری ہے-

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم