نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

توبہ

رات چھائی اور شامیانے سے قرات بلند ہوئی۔ دودھ سی چاندنی، اس بے شمار بلب، پھولوں سے لدے، 'دونوں دولہا براتیوں کے درمیان گیندے کے ڈھیر دکھائی دیتے تھے۔ قاضی صاحب سورتوں پر سورتیں پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ میں ابھی اپنی جعفری میں رہا۔ چاند اور بلبوں کی ملی جلی روشنی جعفری میں منعکس تھی۔ نہ بہت اندھیرا تھا نہ چندھیانے والا اجالا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جسے چاند پر سرمئی چادر ڈال کر اس روشنی سے دیواروں پر سفیدی کر دی ہو۔ میں بوٹوں اور کوٹ سمیت چارپائی پر دراز تھا۔ رضائی عرضاً اوڑھ رکھی تھی۔ منہ اور پاؤں ننگے تھے۔





ابھی ایک سگریٹ پیا تھا اور ابھی ایک اور پینے کو جی چاہتا تھا کہ دروازے کے پاس ایک سایہ جھلملایا۔ لیکھا ہی تو تھی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ آہستہ سے اندر داخل ہوئی۔ مجھے لیٹا دیکھ کر گھبرا گئی۔ پھر آگے بڑھی، چارپائی کے قریب آ کر ذرا جھکی اور پھر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ 'دو بھائیوں کا نکاح ہو رہا ہے اور جناب یہاں بوٹ سوٹ پہنے سو رہے ہیں' ہولے سے کھانس کر اس نے منہ ہی منہ میں یہ کہا اور پھر تپائی کی طرف دیکھنے لگی۔ لٹکتے ہوئے دوپٹے کو کندھے پر پھینک کر اس نے سگریٹ کی ڈبیا اور ماچس اٹھائی، ایک سگریٹ نکالا اور دیا سلائی جلا کر سگریٹ سلگانے لگی۔ اس ننھی سی لو میں اس کا چہرہ میں نے آنکھ کی جھری میں سے دیکھا جیسے الحمرا کے کسی بڑے دالان میں ایک بجھتی ہوئی موم بتی کے آگے کوئی لیکھا الف لیلہ پڑھی رہی ہو۔ ایک چھوٹا سا کش کھینچ کر اس نے کلے پھلائے اور پھر فوراً سانس چھوڑ دیا۔ ذرا سی دیر مجھ کو دیکھا۔ پھر ایک اور کش لیا اور ذرا جھک کر سارا دھواں میرے منہ میں دھکیل دیا۔ شاید ایک دفعہ پھر ایسے ہی ہوتا مگر نکاح کے چھوہارے اوپر اچھل کر شامیانے کی چھت سے جا ٹکرائے۔ مبارکباد کی صدا بلند ہوئی۔ باجا زور سے بجا۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ سٹ پٹائی۔ جلتا ہوا سگریٹ تپائی پر پھینک پر برآمدے میں بھاگ گئی۔





میں اٹھ بیٹھا۔ اس دھندلی روشنی میں بجری کے کے غالیچے پر ننگے پاؤں کے تین نشان بے ترتیب بوسوں کی طرح پڑے تھے۔ میں نے تپائی پر سے سلگتا ہوا سگریٹ اٹھا کر اسے دیکھا۔ کارک والی جگہ گیلی تھی۔ میں نے اسے ہونٹوں میں دبایا۔ کش نہیں کھینچا اور پھر سگریٹ بجھا لیا اور رومال میں لپیٹ کر کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا۔ پھر پاسنگ شو کی باقی ماندہ سگریٹ معہ ڈبیا مروڑ تروڑ کر جعفری کے موکھے میں دور دور تک پھیلی ہوئی دودھیا چاندنی میں پھینک دیے۔
-ختم شد-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم