نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گڈریا - چوتھا حصہ


مجھے یاد ہے، ایک صبح میں دودھ سے بھرا تاملوٹ ان کے یہاں لے کر آیا تھا اور بے بے گھر نہ تھی۔ وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہڑ میں اشنان کرنے گئی تھی اور گھر میں صرف داؤ جی اور بی بی تھے۔ دودھ دیکھ کر داؤ جی نے کہا "چلو آج تینو ں چائے پئیں گے۔ میں دکان سے گڑ لے کر آتا ہوں، تم پانی چولہے پر رکھو۔" بی بی نے جلدی سے چولہا سلگایا۔ میں پتیلی میں پانی ڈال کر لایا اور پھر ہم دونوں وہیں چوکے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ داؤ جی گڑ لے کر آ گئے تو انہوں نے کہا "تم دونوں اپنے اپنے کام پر بیٹھو چائے میں بناتا ہوں۔"چنانچہ بی بی مشین چلانے لگی اور میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کی مشقیں لکھنے لگا۔ داؤ جی چولہا بھی جھونکتے جاتے تھے اور عادت کے مطابق مجھے بھی اونچے اونچے بتاتے جاتے تھے۔
گلیلیو نے کہا "زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔" گلیلیو نے دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ نہ لکھ دینا کہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ پانی ابل رہا تھا داؤ جی خوش ہو رہے تھے۔ اسی خوشی میں جھوم جھوم کر وہ اپنا تازہ بنایا ہوا گیت گا رہے تھے۔ او گولو! او گولو! گلیلیو کی بات مت بھولنا، گلیلیو کی بات مت بھولنا۔ انہوں نے چائے کی پتی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دی۔ برتن ابھی تک چولہے پر ہی تھا اور داؤ جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پانی کی گلب گل بل کے ساتھ گولو گلیلیو! گولو گلیلیو کئے جا رہے تھے، میں ہنس رہا تھا اور اپنا کام کئے جا رہا تھا، بی بی مسکرا رہی تھی اور مشین چلائے جاتی تھی اور ہم تینوں اپنے چھوٹے سے گھر میں بڑے ہی خوش تھے گویا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کی خوشیاں بڑے بڑے رنگین پروں والی پریوں کی طرح ہمارے گھر میں اتر آئی ہوں۔



اتنے میں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئی۔ داؤ جی نے دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ان کا رنگ فق ہو گیا۔ چمکتی ہوئی پتیلی سے گرم گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس کے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھلاوے ایک دوسرے کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے اور ممنوعہ کھیل رچانے والا بڈھا موقع پر پگڑا گیا۔ بے بے نے آگے بڑھ کر چولہے کی طرف دیکھا اور داؤ جی نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرے لہجے میں کہا "چائے ہے!"
بے بے نے ایک دو ہتڑ داؤ جی کی کمر پر مارا اور کہا "بڈھے بروہا تجھے لاج نہیں آتی۔ تجھ پر بہار پھرے، تجھے یم سمیٹے، یہ تیرے چائے پینے کے دن ہیں۔ میں بیوہ گھر میں نہ تھی تو تجھے کسی کا ڈر نہ رہا۔ تیرے بھانویں میں کل کی مرتی آج مروں تیرا من راضی ہو۔ تیری آسیں پوری ہوں۔ کس مرن جوگی نے جنا اور کس لیکھ کی ریکھا نے میرے پلے باندھ دیاتجھے موت نہیں آتیاوں ہوں تجھے کیوں آئے گی" اس فقرے کی گردان کرتے ہوئے بے بے بھیڑنی کی طرح چوکے پر چڑھی کپڑے سے پتیلی پکڑ کر چولہے سے اٹھائی اور زمین پر دے ماری۔ گرم گرم چائے کے چھپاکے داؤ جی کی پنڈلیوں اور پاؤں پر گرے اور وہ "اوہ تیرا بھلا ہو جائے! او تیرا بھلا ہو جائے" کہتے وہاں سے ایک بچے کی طرح بھاگے اور بیٹھک میں گھس گئے۔ ان کے اس فرار بلکہ اندازِ فرار کو دیکھ کر میں اور بی بی ہنسے بنا نہ رہ سکے اور ہماری ہنسی کی آواز ایک ثانیہ کے لئے چاروں دیواروں سے ٹکرائی۔ میں تو خیر بچ گیا لیکن بے بے نے سیدھے جا کر بی بی کو بالوں سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولی "میری سوت بڈھے سے تیرا کیا ناطہ ہے، بتا نہیں تو اپنی پران لیتی ہوں۔ تو نے اس کو چائے کی کنجی کیوں دی؟" بی بی بیچاری پھس پھس رونے لگی تو میں بھی اندر بیٹھک میں کھسک آیا۔ داؤ جی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے اور اپنے پاؤں سہلا رہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پھر کیوں گدگدی ہوئی کہ میں الماری کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلایا اور بولے "شکرِ کردگار کنم کہ گرفتارم بہ مصیبتے نہ کہ معصیتے۔
تھوڑی دیر رک کر پھر کہا "میں اس کے کتوں کا بھی کتا ہوں جس کے سرِ مُطہّر پر مکے کی ایک کم نصیب بڑھیا غلاظت پھینکا کرتی تھی۔"
میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولے "آقائے نامدار کا ایک ادنیٰ حلقہ بگوش، گرم پانی کے چند چھینٹے پڑنے پر نالہ شیون کرے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔ وہ اپنے محبوب کے طفیل نارِ جہنم سے بچائے۔ خدائے ابراہیمؑ مجھے جرأت عطا کرے، مولائے ایوبؑ مجھے صبر کی نعمت دے۔"
میں نے کہا "داؤ جی آقائے نامدار کون؟"
تو داؤ جی کو یہ سن کر ذرا تکلیف ہوئی۔ انہوں نے شفقت سے کہا "جان پدر یوں نہ پوچھا کر۔ میرے استاد، میرے حضرت کی روح کو مجھ سے بیزار نہ کر، وہ میرے آقا بھی تھے، میرے باپ بھی اور میرے استاد بھی، وہ تیرے دادا استاد ہیںدادا استاد" اور انہوں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ آقائے نامدار کا لفظ اور کوتاہ و قسمتِ مجوزہ کی ترکیب میں نے پہلی بار داؤ جی سے سنی۔ یہ واقعہ سنانے میں انہوں نے کنتی ہی دیر لگا دی کیونکہ ایک ایک فقرے کے بعد فارسی کے بیشمار نعتیہ اشعار پڑھتے تھے اور بار بار اپنے استاد کی روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔"



جب وہ یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے بڑے ادب سے پوچھا "داؤ جی آپ کو اپنے استاد صاحب اس قدر اچھے کیوں لگتے تھے اور آپ ان کا نام لے کر ہاتھ کیوں جوڑتے ہیں اپنے آپ کو ان کا نوکر کیوں کہتے ہیں؟"
داؤ جی نے مسکرا کر کہا "جو طویلے کے ایک خر کو ایسا بنا دے کہ لوگ کہیں یہ منشی چنت رام جی ہیں۔ وہ مسیحا نہ ہو، آقا نہ ہو تو پھر کیا ہو؟"
میں چارپائی کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بستر میں پہنچ گیا اور چاروں طرف رضائی لپیٹ کر داؤ جی کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکا کر کبھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پنڈلیاں سہلاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہو جاتے۔
کہنے لگے "میں تمہارا کیا تھا اور کیا ہو گیاحضرت مولانا کی پہلی آواز کیا تھی! میری طرف سر مبارک اٹھا کر فرمایا، چوپال زادے ہمارے پاس آؤ، میں لاٹھی ٹیکتا ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چھتہ پٹھار اور دیگر دیہات کے لڑکے نیم دائرہ بنائے ان کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے تھے۔ ایک دربار لگا تھا اور کسی کو آنکھ اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھیمیں حضور کے قریب گیا تو فرمایا، بھئی ہم تم کو روز یہاں بکریاں چراتے دیکھتے ہیں۔ انہیں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جایا کرو اور کچھ پڑھ لیا کروپھر حضور نے میری عرض سنے بغیر پوچھا کہ کیا نام ہے تمہارا؟" میں نے گنواروں کی طرح کہا چنتومسکرائےتھوڑا سا ہنسے بھی فرمانے لگے پورا نام کیا ہے؟ پھر خود ہی بولے چنتو رام ہو گامیں نے سر ہلا دیاحضور کے شاگرد کتاب سے نظریں چرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرے گلے میں کھدر کا لمبا سا کرتہ تھا۔ پائجامہ کی بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا۔ پاؤں میں ادھوڑی کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بکریاں میری"
میں نے بات کاٹ کر پوچھا "آپ بکریاں چراتے تھے داؤ جی؟"
"ہاں ہاں " وہ فخر سے بولے "میں گڈریا تھا اور میرے باپ کی بارہ بکریاں تھیں۔"
حیرانی سے میرا منہ کھلا رہ گیا اور میں نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جلدی سے پوچھا۔ "اور آپ سکول کے پاس بکریاں چرایا کرتے تھے۔"داؤ جی نے کرسی چارپائی کے قریب کھینچ لی اور اپنے پاؤں پائے پر رکھ کر بولے "جان پدر اس زمانے میں تو شہروں میں بھی سکول نہیں ہوتے تھے، میں گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے چوہتر برس پہلے کوئی تمہارے ایم بی ہائی سکول کا نام بھی جانتا تھا؟ وہ تو میرے آقا کو پڑھانے کا شوق تھا۔ ارد گرد کے لوگ اپنے لڑکے چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھیج دیتےان کا سارا خاندان زیورِ تعلیم سے آراستہ اور دینی اور دنیوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ والد ان کے ضلع بھر کے ایک ہی حکیم اور چوٹی کے مبلغ تھے۔ جدِ امجد مہاراجہ کشمیر کے میر منشی۔ گھر میں علم کے دریا بہتے تھے، فارسی، عربی، جبر و مقابلہ، اقلیدس، حکمت اور علم ہیئت ان کے گھر کی لونڈیاں تھیں۔ حضور کے والد کو دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا لیکن آپ کی زبانی ان کے تبحرِ علمی کی سب داستانیں سنیں، شیفتہ اور حکیم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کی تعلیم دلی میں مفتی آزردہ مرحوم کی نگرانی میں ہوئی تھی"



مجھے داؤجی کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔ "پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔" "ہاں" داؤ جی اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے، "ان کی باتیں ہی ایسی تھیں۔ ان کی نگاہیں ہی ایسی تھیں جس کی طرف توجہ فرماتے تھے، بندے سے مولا کر دیتے تھے۔ مٹی کے ذرے کو اکسیر کی خاصیت دے دیتے تھےمیں تو ا پنی لاٹھی زمین پر ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرمایا، اپنے بھائیوں کے بوریے پر بیٹھو۔ میں نے کہا جی اٹھارہ برس دھرتی پر بیٹھے گزر گئے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر مسکرا دئے اپنے چوبی صندوقچے سے حروف ابجد کا ایک مقوا نکالا اور بولے الف۔ بے۔ بے۔ تےسبحان اللہ کیا آواز تھی۔ کس شفقت سے بو لے تھے، کس لہجہ میں فرما رہے تھے الف، بے، پے، ت " اور جی داؤ جی ان حرفوں کا ورد کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو گئے۔
تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ "ادھر رہٹ تھا اور اس کے ساتھ مچھلیوں کا حوض۔" پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا "اور اس طرف مزارعین کے کوٹھے، دونوں کے درمیان حضور کا باغیچہ تھا اور سامنے ان کی عظیم الشان حویلی۔ اسی باغیچے میں ان کا مکتب تھا۔ درِ فیض کھلا تھا جس کا جی چاہے آئے، نہ مذہب کی قید نہ ملک کی پابندی"
میں نے کافی دیر سوچنے کے بعد با ادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تیار کر کے پوچھا "حضرت مولانا کا اسم گرامی شریف کیا تھا؟" تو پہلے انہوں نے میرا فقرہ ٹھیک کیا اور پھر بولے۔ "حضرت اسماعیل چشتی فرماتے تھے کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں جانِ جاناں کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی جانِ جاناں کی رعایت سے مظہر جانِ جاناں بھی کہہ دیتے تھے۔
میں ایسی دلچسپ کہانی سننے کا ابھی اور خواہش مند تھا کہ داؤ جی اچانک رک گئے اور بولے۔ سب سڈی ایری سسٹم کیا تھا؟ ان انگریزوں کا برا ہو یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں آئے یا ملکہ وکٹوریہ کا فرمان لے، سارے معاملے میں کھنڈت ڈال دیتے ہیں۔ سوا کے پہاڑے کی طرح میں نے سب سڈی ایری سسٹم کا ڈھانچہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر انہوں نے میز سے گرائمر کی کتاب اٹھائی اور بولے "باہر جا کر دیکھ کے آ کہ تیری بے بے کا غصہ کم ہوا یا نہیں۔" میں دوات میں پانی ڈالنے کے بہانے باہر گیا تو بے بے کو مشین چلاتے اور بی بی کو چکوا صاف کرتے پایا۔"
داؤ جی کی زندگی میں بے بے والا پہلو بڑا ہی کمزور تھا۔ جب وہ دیکھتے کہ گھر میں مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئی شکن نہیں ہے، تو وہ پکار کر کہتے "سب ایک ایک شعر سناؤ" پہلے مجھی سے تقاضا ہوتا اور میں چھوٹتے ہی کہتا:
لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
اس پر وہ تالی بجاتے اور کہتے "اولین شعر نہ سنوں گا، اردو کا کم سنوں گا اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنوں گا۔"
بی بی بھی میر ی طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتی۔
شنیدم کہ شاپور دم در کشید
چو خسرو بر آتش قلم در کشید
اس پر داؤ جی ایک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے
بی بی قینچی رکھ کر کہتی:
شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشوریم
دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم
داؤ جی شاباش تو ضرور کہہ دیتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے "بیٹا یہ شعر تُو کئی مرتبہ سنا چکی ہے۔"
پھر وہ بے بے کی طرف دیکھ کر کہتے۔ "بھئی آج تمہاری بے بے بھی ایک سنائے گی" مگر بے بے روکھا سا جواب دیتی "مجھے نہیں آتے شیر، کبت۔"
اس پر داؤ جی کہتے۔ "گھوڑیاں ہی سنا دے۔ اپنے بیٹوں کے بیاہ کی گھوڑیاں ہی گا دے۔



اس پر بے بے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے لیکن وہ مسکرا نہ سکتی اور داؤ جی عین عورتوں کی طرح گھوڑیاں گانے لگتے۔ ان کے درمیان کبھی امی چند اور کبھی میرا نام ٹانک دیتے۔ پھر کہتے "میں اپنے اس گولو مولو کی شادی پر سرخ پگڑی باندھوں گا۔ برات میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ چلوں گا اور نکاح نامے میں شہادت کے دستخط کروں گا۔ میں دستور کے مطابق شرما کر نگاہیں نیچی کر لیتا تو وہ کہتے۔ "پتہ نہیں اس ملک کے کسی شہر میں میری چھوٹی بہو پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہو گی، ہفتہ میں ایک دن لڑکیوں کی خانہ داری ہوتی ہے۔ اس نے تو بہت سی چیزیں پکانی سیکھ لی ہو گی۔ پڑھنے میں بھی ہوشیار ہو گی۔ اس بدھو کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مادیاں گھوڑیاں ہوتی ہے یا مرغی۔ وہ تو فر فر سب کچھ سناتی ہو گی۔ میں تو اس کو فارسی پڑھاؤں گا پہلے اس کو خطاطی کی تعلیم دوں گا پھر خطِ شکستہ سکھاؤں گا۔ مستورات کو خطِ شکستہ نہیں آتا۔ میں اپنی بہو کو سکھا دوں گاسن گولو! پھر میں تیرے پاس ہی رہو گا۔ میں اور میری بہو فارسی میں باتیں کریں گے۔ وہ بات بات پر بفرمائید بفرمائید کہے گی اور تو احمقوں کی طرح منہ دیکھا کرے گا۔ پھر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے "خیلے خوب خیلے خوب" کہتے۔ جانِ پدر چرا ایں قدر زحمت می کشیخوبیاد دارماور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے۔ بچارے داؤ جی! چٹائی پر اپنی چھوٹی سی دنیا بسا کر اس میں فارسی کے فرمان جاری کئے جاتے۔
-جاری ہے-
--پانچواں حصہ--

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم