نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گڈریا - پانچواں حصہ


ایک دن جب چھت پر دھوپ پر بیٹھے ہوئے وہ ایسی ہی دنیا بسا چکے تھے تو ہولے سے مجھے کہنے لگے۔ "جس طرح خدا نے تجھے ایک نیک سیرت بیوی اور مجھے سعادت مند بہو عطا کی ہے ویسے ہی وہ اپنے فضل سے میرے امی چند کو بھی دے۔"
اس کے خیالات مجھے کچھ اچھے نہیں لگتے، یہ سوانگ یہ مسلم لیگ یہ بیلچہ پارٹیاں مجھے پسند نہیں اور امی چند لاٹھی چلانا گٹکا کھیلنا سیکھ رہا ہے میری تو وہ کب مانے گا، ہاں خدائے بزرگ و برتر اس کو ایک نیک مومن سی بیوی دلا دے تو وہ اسے راہِ راست پر لے آئے گی۔
اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور میں چپ سا ہو گیا۔ چپ محض اس لئے ہوا تھا کہ اگر میں نے منہ کھولا تو یقیناً ایسی بات نکلے گی جس سے داؤ جی کو بڑا دکھ ہو گامیری اور امی چند کی تو خیر باتیں ہی تھیں، لیکن بارہ جنوری کو بی بی کی برات سچ مچ آ گئی۔ جیجا جی رام پرتاب کے بارے میں داؤ جی مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اس شادی کے بارے میں انہوں نے جو استخارہ کیا تھا اس پر وہ پورا اترتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی داؤ جی کو اس بات کی تھی کہ ان کے سمدھی فارسی کے استاد تھے اور کبیر پنتھی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بارہ تاریخ کی شام کو بی بی وداع ہونے لگی تو گھر بھرمیں کہرام مچ گیا، بے بے زار و قطار رو رہی ہے امی چند آنسو بہا رہا ہے اور محلے کی عورتیں پھس پھس کر رہی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا ہوں اور داؤ جی میرے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں آج زمین کچھ میرے پاؤ ں نہیں پکڑتی۔ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ جیجا جی کے باپ بولے۔ "منشی جی اب ہمیں اجازت دیجئے" تو بی بی پچھاڑ کر گر پڑی۔ اسے چارپائی پر ڈالا، عورتیں ہوا کرنے لگیں اور داؤ جی میرا سہارا لے کر اس کی چارپائی کی طرف چلے۔ انہوں نے بی بی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا "یہ کیا ہوا بیٹا۔ اٹھو! یہ تو تمہاری نئی اور خود مختار زندگی کی پہلی گھڑی ہے۔ اسے یوں منحوس نہ بناؤ۔ بی بی اس طرح دھاڑیں مارتے ہوئے داؤ جی سے لپٹ گئی، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا "قرة العین میں تیرا گنہگار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا۔ تیرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہیز نہ دے سکا۔ تو مجھے معاف کر دے گی اور شاید برخوردار رام پرتاب بھی لیکن میں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا۔ میں خطا کار ہوں اور میرا خجل سر تیرے سامنے خم ہے۔" یہ سن کر بی بی اور بھی زور زور سے رونے لگی اور داؤ جی کی آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ٹوٹ کر زمین پر گرے۔ ان کے سمدھی نے آگے بڑھ کر کہا۔ "منشی جی آپ فکر نہ کریں میں بیٹی کو کریما پڑھا دوں گا" داؤ جی ادھر پلٹے اور ہاتھ جوڑ کر کہا۔ "کریما تو یہ پڑھ چکی ہے، گلستان بوستان بھی ختم کر چکا ہوں، لیکن میری حسرت پوری نہیں ہوئی۔" اس پر وہ ہنس کر بولے۔ "ساری گلستان تو میں نے بھی نہیں پڑھی، جہاں عربی آتی تھی، آگے گزر جاتا تھا’داؤ جی اسی طرح ہاتھ جوڑے کتنی دیر خاموش کھڑے رہے، بی بی نے گوٹہ لگی سرخ رنگ کی ریشمی چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امی چند اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سکھیوں کے بازوؤں میں ڈیوڑھی کی طرف چل دی۔ داؤ جی میرا سہارا لے کر چلے تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر کہا۔ "یہ لو یہ بھی رو رہا ہے۔ دیکھو ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے۔ او گولواو مردم دیدہ تجھے کیا ہو گیاجانِ پدر تو کیوں"



اس پر ان کا گلا رندھ گیا اور میرے آنسو بھی تیز ہو گئے۔ برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے۔ بی بی رتھ میں جا رہی تھی اور اس کے پیچھے امی چند اور میں اور ہمارے درمیان میں دا ؤ جی پیدل چل رہے تھے۔ اگر بی بی کی چیخ ذرا زور سے نکل جاتی تو داؤ جی آگے بڑھ کر رتھ کا پردہ اٹھا تے او ر کہتے۔ "لا حول پڑھو بیٹا، لاحول پڑھو۔"اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے ان کی پگڑی کا شملہ بھیگ گیا تھا۔
رانو ہمارے محلے کا کثیف سا انسان تھا، بدی اور کینہ پروری اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی۔ وہ باڑہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اسی کا تھا۔ اس میں بیس تیس بکریاں اور گائیں تھیں جن کا دودھ صبح و شام رانو گلی کے بغلی میدان میں بیٹھ کر بیچا کرتا تھا۔ تقریباً سارے محلے والے اسی سے دودھ لیتے تھے اور اس کی شرارتوں کی وجہ سے دبتے بھی تھے۔ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ یونہی شوقیہ لاٹھی زمین پر بجا کر داؤ جی کو "پنڈتا جے رام جی کی "کہہ کر سلام کیا کرتا۔
داؤ جی نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ پنڈت نہیں ہیں معمولی آدمی ہیں کیونکہ پنڈت ان کے نزدیک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمی کو کہا جا سکتا تھا لیکن رانو نہیں مانتا تھا وہ اپنی مونچھ کو چبا کر کہتا۔ "ارے بھئی جس کے سر پر بودی (چٹیا) ہو وہی پنڈت ہوتا ہے" چوروں یاروں سے اس کی آشنائی تھی شام کو اس کے باڑے میں جوا بھی ہوتا اور گندی اور فحش بولیوں کا مشاعرہ۔ بی بی کے جانے کے ایک دن بعد جب میں اس سے دودھ لینے گیا تو اس نے شرارت سے آنکھ میچ کر کہا۔ "مورنی تو چلی گئی بابو اب تو اس گھر میں رہ کر کیا لے گا۔" میں چپ رہا تو اس نے جھاگ والے دودھ میں ڈبہ پھیرتے ہوئے کہا۔ "گھر میں گنگا بہتی تھی سچ بتا کہ غوطہ لگایا کہ نہیں۔" مجھے اس بات پر غصہ آگیا اور میں نے تاملوٹ گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔ اس ضربِ شدید سے خون وغیرہ تو برآمد نہ ہوا لیکن وہ چکرا کر تخت پر گرپڑا اور میں بھاگ گیا۔ داؤ جی کو سارا واقعہ سنا کر میں دوڑا دوڑا اپنے گھر گیا اور ابا جی سے ساری حکایت بیان کی۔ ان کی بدولت رانو کی تھانہ میں طلبی ہوئی اور حوالدار صاحب نے ہلکی سی گو شمالی کے بعد اسے سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد رانو دا ؤ جی پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کسنے لگا۔ وہ سب سے زیادہ مذاق ان کی بودی کا اڑایا کرتا تھا اور واقعی داؤ جی کے فاضل سر پر وہ چپٹی سی بودی ذرا اچھی نہ لگتی تھی۔ مگر وہ کہتے تھے۔ "یہ میری مرحوم ماں کی نشانی ہے اور مجھے اپنی زندگی کی طرح عزیز ہے۔ وہ اپنی آغوش میں میرا سر رکھ کر اسے دہی سے دھوتی تھی اور کڑوا تیل لگا کر چمکاتی تھی۔ گو میں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھی بھی پگڑی اتارنے کی جسارت نہیں کی، لیکن وہ جانتے تھے اور جب میں دیال سنگھ میموریل ہائی سکول سے ایک سال کی ملازمت کے بعد چھٹیوں میں گاؤں آیا تو حضور نے پوچھا "شہر جا کر چوٹی تو نہیں کٹوا دی؟" تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم سا سعادت مند بیٹا کم ماؤں کو نصیب ہوتا ہے اور ہم سا خوش قسمت استاد بھی خال خال ہو گا جسے تم ایسے شاگردوں کو پڑھانے کا فخر حاصل ہوا ہو، میں نے ان کے پاؤں چھو کر کہا حضور آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے قدموں کی برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگے چنت رام ہمارے پاؤں نہ چھوا کرو بھلا ایسے لمس کا کیا فائدہ جس کا ہمیں احساس نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے کہا اگر کوئی مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھی آپ کے لئے دوائی نکال لاؤں۔ میں اپنی زندگی کی حرارت حضور کی ٹانگوں کے لئے نذر کر دوں لیکن میرا بس نہیں چلتاخاموش ہو گئے اور نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو یہی منظور ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر میں نے کوئی دس سال بعد سارا گاؤں دیکھ لیا ہے" داؤ جی گزرے ایام کی تہہ میں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔



"میں صبح سویرے حویلی کی ڈیوڑھی میں جا کر آواز دیتا "خادم آ گیا" مستورات ایک طرف ہو جاتیں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلاتے اور میں اپنی قسمت کو سراہتا ہاتھ جوڑے جوڑے ان کی طرف بڑھتا۔ پاؤں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا، وہ دعا دیتے میرے والدین کی خیریت پوچھتے، گاؤں کا حال دریافت فرماتے اور پھر کہتے "لو بھئی چنت رام ان گناہوں کی گٹھڑی کو اٹھا لو" میں سبدِ گل کی طرح انہیں اٹھاتا اور کمر پر لاد کر حویلی سے باہر آ جاتا۔ کبھی فرماتے، ہمیں باغ کا چکر دو کبھی حکم ہوتا سیدھے رہٹ کے پاس لے چلو اور کبھی کبھار بڑی نرمی سے کہتے چنت رام تھک نہ جاؤ تو ہمیں مسجد تک لے چلو۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ حضور ہر روز مسجد لے جایا کروں گا مگر نہیں مانے یہی فرماتے رہے کہ کبھی جی چاہتا ہے تو تم سے کہہ دیتا ہوں۔ میں وضو کرنے والے چبوترے پر بٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہیں جھولی میں رکھ کر دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کی جانب جاتے تھے۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس طرح جاتے دیکھا تھا اس کے بعد جرأت نہ ہوئی۔ ان کے جوتے اتارنے کے بعد دامن میں منہ چھپا لیتا اور پھر اسی وقت سر اٹھاتا جب وہ میرا نام لے کر یاد فرماتے۔ واپسی پر میں قصبے کی لمبی لمبی گلیوں کا چکر کاٹ کر حویلی کو لوٹتا۔ تو فرماتے ہم جانتے ہیں چنت رام تم ہماری خوشنودی کے لئے قصبہ کی سیر کراتے ہو لیکن ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہما ہے دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہوں۔ اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی میری زندگی کا نقطۂ عروج ہے اور یہ تکلیف ہی میری حیات کا مرکز ہے۔
اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی ایک ہما ہے جس نے اپنا سایہ محض میرے لئے وقف کر دیا ہےجس دن میں نے سکندر نامہ زبانی یاد کر کے انہیں سنایا۔ اس قدر خوش ہوئے گویا ہفت اقلیم کی بادشاہی نصیب ہو گئی۔ دین و دنیا کی ہر دعا سے مجھے مالا مال کیا۔ دستِ شفقت میرے سر پر پھیرا اور جیب سے ایک روپیہ نکال کر انعام دیا۔ میں نے اسے حجرِ اسود جان کر بوسہ دیا۔ آنکھوں سے لگایا اور سکندر کا افسر سمجھ کر پگڑی میں رکھ لیا۔ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے اور فرما رہے تھے جو کام ہم سے نہ ہو سکا وہ تو نے کر دکھایا۔ تو نیک ہے خدا نے تجھے یہ سعادت نصیب کی۔ چنت رام تیرا مویشی چرانا پیشہ ہے تُو شاہ بطحا کا پیرو ہے اس لئے خدائے عز و جل تجھے برکت دیتا ہے وہ تجھے اور بھی برکت دے گا۔ تجھے اور کشائش میسر آئے گی"
داؤ جی یہ باتیں کرتے کرتے گھٹنوں پر سر رکھ کر خاموش ہو گئے۔
-جاری ہے-
-چھٹا حصہ-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم