نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سنگ دل (پہلا حصہ)


خداداد چبوترے پر بیٹھا سٹین گن کے دستے سے کوئلے توڑ توڑ کر انگیٹھی میں ڈال رہا تھا۔ ایک کونے میں نون مرچ رگڑنے کا ڈھنڈا کھڑا تھا اور دوسرے میں آنے کا کنستر پڑا تھا جو انڈین پینل کوڈ کی جلد سے ڈھکا تھا۔ چھلنی میں سرخ سرخ مرچیں، نمک کی ڈلیاں اور ہلدی کی گرہیں پڑی تھیں۔ دسترخوان کا ایک کونہ ان پر تھا اور دوسرا گندھے ہوئے آٹے پر۔ سالن کا ایک حصہ پک چکا تھا اور پاقی دیگچیوں میں پڑا تھا۔ کوئلے توڑتے توڑتے خداداد نے سر اٹھا کر اندر بیٹھی ہوئی بازیافتہ لڑکیوں سے پوچھا، 'گوشت بھوننا جانتی ہو؟'
ایک نے مدھم آواز میں جواب دیا، 'اوں ہوں!'
دوسری نے نفی میں سر ہلا دیا۔
'ٹماٹر، پیاز اور پودینہ کا کچومر بنا لو گی؟'
اس دفعہ دونوں خاموش رہیں۔
'تو پھر حقہ ہی تازہ کر دو۔'
'اچھا!' وہ دونوں یک زبان ہو کر بولیں اور ایک ساتھ اٹھ کر اندر سے حقہ اور چلم اٹھا لائیں۔ ایک نے ڈرتے ڈرتے سٹین گن کا میگزین پانی کے لوٹے پر سے اٹھایا اور طاق میں رکھ دیا اور آہستہ آہستہ پانی چھوڑ کر حقہ تازہ کرنے لگی۔ دوسری نے طاق میں پڑے ہوئے میگزین کو دور ہی سے دیکھا اور چلم کا چغل سونگھتے ہوئے بولی، 'چچا ، تمباکو کہاں ہے؟'
'تمباکو!' خداداد نے حیرت سے پوچھا اور پھر ہاں! ہاں! کرتے ہوئے تہمد کے ڈب سے ایک پڑیا نکال کر بولا، 'ذرا کم ڈالنا تمباکو۔۔۔ یہاں تو گھڑی گھڑی بازار بھی نہیں جا سکتے۔۔۔ اور دیکھو اچھی طرح دبا دبا کر بھرنا۔۔۔ پانی کے دو قطرے ٹپکا لو گی تو چلم دیر تک چلے گی۔'



پھر وہ انگیٹھی میں کوئلے چننے لگا اور وہ لڑکی بیٹھ کر تمباکو مسلنے لگی۔ اتنے عرصے کے بعد آج ان کے چہروں پر ذرا بات پیدا ہوئی تھی۔ تمباکو کی مانوس خوشبو شاید انہیں اس وقت کی یاد دلانے لگی جب ان کا باپ انہیں نمبردار کے لڑکے کی آمد پر حقہ تازہ کرنے کو کہا کرتا ہو گا۔ حقے کی نے میں پھونکتے ہوئے اور چلم کی کوکھ میں تمباکو جماتے ہوئے یہ دن یاد کر کے ان کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔ دونوں بہنیں تھیں!
میں بیٹھک میں چارپائی پر نیم دراز سرکاری روزنامچہ لکھ رہا تھا۔ پمی کمرے میں داخل ہوئی۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھ کر باہر گلی میں نگاہ دوڑائی۔ حیوانات کے شفاخانے کے پاس میں نے جانی پہچانی صورت دیکھی۔
'پتا جی آ رہے ہیں؟' یہ کہہ کر پمی جیسے آئی تھی باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد پتا جی آئے۔ انہوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا،
'سب سامان پہنچ گیا؟'
'جی!' میں چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر خداداد کو دیکھنے لگا۔
انہوں نے کوٹھڑی کی کھڑکی میں جھانک کر پوچھا، 'محمد خان کہاں گیا ہے؟'
'ڈاک بنگلہ گیا ہے۔ میری مسہری اور چند ضروری کاغذات لینے۔۔۔'
'تو گویا تم سارے کاغذات اپنے ساتھ نہیں لائے؟'
میں نے جھینپ کر کہا، 'جی نہیں۔ مجھے ایک الماری کا خیال ہی نہ رہا تھا۔'
'بے پرواہ کہیں کے!' اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے وہ اندر چلے گئے۔ ابا جان کے بعد اگر مجھے کسی سے خوف آتا تھا تو وہ پتا جی تھے۔
جس دن ابا جان سب اسسٹنٹ سرجن لگ کر یہاں آئے تھے، اسی دن پتا جی سب انسپکٹر پولیس تعینات ہوئے۔ دونوں کی ملاقات ریل گاڑی میں ہوئی اور یہ واقفیت بڑھتے بڑھتے گہری دوستی میں تبدیل ہوئی۔ اس کی ایک وجہ تو تھانے اور ہسپتا ل کا قرب تھا۔ پھر دونوں کی سخت گیر طبیعت! دوپہر کو مریضوں سے فارغ ہو کر ابا جان تھانے جا بیٹھتے اور شام کو پتا جی ہمارے کوارٹر کے آگے کرسی ڈال کر انتظار کرنے لگتے کہ کب ان ڈور مریضوں کا معائنہ ختم ہو اور ابا جان گولڈ فلیک کا ڈبہ لے کر ان کے پاس آ بیٹھیں۔ جب امی نے پمی کی بی بی کو آہستہ آہستہ پان کھانے کا عادی کر لیا تو میں اور پمی چپکے چپکے گھر سے نکل کر تھانے کے پچھواڑے 'دلگن' میں چلے جاتے جہاں بیریوں، گوندنیوں اور سرس کے درختوں کے درمیان سبزی کے چوکور قطعے تھے۔ یہاں بیٹھ کر ہم جانے کتنی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے۔۔۔خوردسال شیشم کے گہرے سبز پتے توڑ کر میں اسے سیٹیاں بنا کر دیتا جو اس سے کبھی نہ بجتی تھیں۔ مینڈھ پر بیٹھے بیٹھے وہ سفید سفید تیزابی مولیاں اکھاڑ کر اپنی اوڑھنی سے پونچھتی اور چاکلیٹ کی طرح کھانے لگتی جنہیں میں آج تک اس اطمینان سے نہیں کھا سکا۔ ایک بار بڑی خوشامدوں کے بعد اس نے مجھے اپنی ادھ کھائی مولی کھانے کی اجازت دی تھی اور میں اسے آہستہ آہستہ چباتا رہا تھا، جیسے ننھے ننھے بوسوں کے نمکین قتلے ہوں۔
پورے آٹھ سال کے بعد پتا جی کی تبدیلی ہو گئی۔ اس دوران میں وہ کئی بار آس پاس کے تھانوں میں ریلیونگ ڈیوٹی پر تعینات ہوتے رہے، لیکن وہ کنبے کو اپنے ساتھ نہ لے جاتے تھے مگر آخری مرتبہ ان کے آرڈر لائل پور کے نکلے اور پمی چلی گئی۔
ابا جان اور پتا جی کی خط و کتابت باقاعدہ جاری رہی۔ میں بھی ادھر سے آیا ہوا ہر خط میز کی دراز سے نکال کر ضرور پڑھتا لیکن اس میں کوئی بات ایسی نہ ہوتی جس سے میری تسکین ہو سکتی۔ امی اور بی بی کے تحائفی پارسل آتے جاتے تھے لیکن میں چٹھیاں نہ ہوتی تھیں۔۔۔ تھوڑے عرصے کے بعد ابا جان بھی تبدیل ہو گئے اور ہم سب جالندھر چلے گئے۔ یہاں امی کو ایک اور بی بی مل گئیں جو پان کھانے میں اپنی نظیر آپ تھیں۔ ابا جان کو ایک اور سگریٹ نوش دوست مل گئے لیکن میرے لیے مولیاں بدستور تلخ رہیں بلکہ ان کی تلخی میں اضافہ ہو گیا۔ قیام جالندھر کے دوران میں ادفعہ پتا جی آ کر ہم سے ملے لیکن اکیلے، وہ انسپکٹر ہو گئے تھے اور پھلور جا رہے تھے۔



اس عرصے میں جنگ شروع ہو چکی تھی۔ جس دن مجھے کمشن ملا، ابا جی اسی دن پنشن لے کر گاؤں چلے گئے۔ لڑائی جاری رہی اور ہم دیس بدیس کی سیر کرتے اور ملک ملک کا پانی پیتے داد شجاعت دیتے رہے۔ پورے چار سال بعد جب اپنے وطن کا پھیرا ہوا تو جنگ عظیم کی چھوٹی بہن خانہ جنگی ہم سے پہلے یہاں پہنچ چکی تھی۔ ملک تقسیم ہوا اور پنجاب کا ہر علاقہ میدان کارزار بن گیا۔۔۔ ایک غیر معین عرصہ کے لیے مجھے مشرقی پنجاب سے مغویہ عورتیں برآمد کرانے کے لیے اسی جگہ ڈسٹرکٹ لیاژاں آفیسر بنا کر بھیجا گیا جہاں میں نے اور پمی نے آٹھ سال اکٹھے بتائے تھے۔ اس پیاری زمین سے کچھ اس درجہ انس ہو گیا تھا کہ میں نے پورے محافظ دستے کا ساتھ ضروری نہ سمجھا۔ صرف دو سپاہی خداداد اور محمد خان کو ساتھ لیے، موٹر میں خود چلاتا تھا۔
مکمل دو دن ڈاک بنگلے میں ضائع کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہاں کے انسپکٹر پولیس پتا جی ہیں۔ فوراً تھانے پہنچا۔ انہوں نے گزشتہ دو دن ڈاک بنگلہ میں گذارنے پر سخت سرزنش کی اور میں ان کے یہاں اٹھ آیا۔ مجھے پتا جی کی جابر طبیعت سے بہت ڈر لگتا تھا۔
رپورٹ کو مخصوص سرکاری لفافے میں بند کر کے میں نے خداداد سے کہا، 'پہلے اسے ڈاک گھر لے جاؤ، روٹی پھر پکا لینا۔'
اس نے پالک کاٹتے ہوئے سر اوپر اٹھایا اور رونی آواز میں بولا، 'لیکن ابھی ہنڈیا کہاں پکی ہے جناب؟'
میں نے جھلا کر لفافہ میز پر ڈال دیا اور سیٹی بجانے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ ایک ہنڈیا ہمیشہ چار حصوں میں پکایا کرتا ہے۔۔۔ خداداد نے ایک دیگچی میں آلو ابا ل رکھے تھے۔ دوسری میں پالک ابال رہا تھا۔ اس کے بعد وہ ان دونوں کو ایک بڑی دیگچی میں ڈال کر ہلانے والا تھا۔ مصالحہ بھون کر تیسری دیگچی کا مواد وہ اس میں انڈیلنے لگا۔ لیجیے صاحب سالن تیار ہے۔ اس دوران میں اگر سیٹی نہ بجے تو اور کیا ہو؟
محمد خان ڈاک بنگلے سے باقی ماندہ کاغذات لے کر گھر آیا تو اس نے بتایا کہ چیف لیاژاں آفیسر تین ٹرک لے کر برقندی گئے ہیں اور مجھے وہاں ملنے کو کہا ہے۔ ضروری کاغذات کی ھان بین میں مجھے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ جاتے ہوئے میں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے چلنے کی اطلاع اندر بھیجی۔ پتا جی سرخ کنارے والی دھوتی اور سفید ململ کا کلیوں والا کرتہ پہننے باہر آئے اور کہنے لگے، 'سوچ سمجھ کر چلا کرو بھائی۔ نہ زیادہ بے باکی اچھی ہے اور نہ سست روی!' میں ٹرک میں سوار ہونے لگا تو امر نے میری پتلون تھام کر کہا، 'بھا پاجی، میرے لیے ٹافیاں لانا۔' یہ پتا جی کا لڑکا تھا۔ پمی سے سات سال چھوٹا۔
چبوترے پر خداداد ہنڈیا کا چوتھا حصہ ابھی تک پکا رہا تھا۔
برقندی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ نہایت خوبصورت اور پرفضا۔ جوہڑ کے اردگرد نیم کے چھنتاروں میں چڑیوں کے غول دوپہر تک شور مچاتے رہتے ہیں اور دن بھر جگالی کرتے جانور درختوں کی چھاؤں میں پانی کے اندر بیٹھے رہتے ہیں اور لوگوں کے چہرے گو بیماری، موت اور تبادلے کی صعوبتوں سے اترے ہوئے تھے، تا ہم کبھی کبھی ان میں زندگی کی کوئی شوخی اپنی جھلک دکھا جاتی۔ ایسی جگہ مغویہ لڑکیاں برآمد کراتے پھرنا ایک بے کیف سی عبادت تھی۔
پورے تین دنوں بعد میں صبح دس بجے گھر لوٹا۔ بیٹھک کا دروازہ بند کرکے بوٹوں سمیت چارپائی پر دراز ہو گیا۔ دھول کی یورش اور صبح صبح پسینہ کی ہلکی ہلکی نمو نے کچھ بے جان سا کر دیا تھا۔ بڑی ہمت سے اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا تو احساس ہوا کہ ڈاڑھی مونڈے ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ ابھی سیفٹی ریزر میں بلیڈ لگایا ہی تھا کہ پمی کی آہٹ نے چونکا دیا،
'لائیے میں آپ کی شیو بناؤں۔'
'شیو؟ یہ تو بڑی مہارت کا کام ہے۔ تم سے۔۔۔'
'مہارت نہ مہارت۔ لائیے ریزر دیجیے۔'
اور وہ شیو بنانے لگی۔ کبھی اس کی لٹ سر سے پھسل کر ٹھوڑی کے نیچے جھولنے لگتی اور کبھی کندھوں پر پڑا ہوا سفید جارجٹ کا دوپٹہ سرک آتا۔ وہ گھڑی گھڑی ان دونوں کو اپنی جگہ پر درست کرتی لیکن وہ پھر ڈھلک آتے۔ آخر تنگ آ کر اس نے اپنا دوپٹہ اتار کر ساتھ والی تپائی پر ڈال دیا اور جھولتی ہوئی لٹ کا پروانہ کرتے جلدی جلدی شیو بنانے لگی لیکن ٹھوڑی کے خم کے بال ہر بار بے مونڈے رہ جاتے۔ اس نے برش اٹھا کر ایک دم بہت سا صابن لگا دیا۔ پھر دبا کر ریزر جو پھیرا تو ٹھوڑی کے گڑھے سے خون کے ایک قطرے نے سر نکالا اور احمریں قمقمے کی طرح لٹک گیا۔ اس نے گھبرا کر ریزر میز پر رکھا اور تپائی سے دوپٹہ اٹھا کر اور گولا سا بنا کر میری ٹھوڑی کے ساتھ دبا دیا۔ تھوڑی دیرکے بعد کپڑا ہٹا کر بولی، 'خود ہی لیجیے یہ خوں فشانیاں۔ ہم سے ایسا پاپ نہیں ہوتا۔'



جب وہ چلی گئی تو میں نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ ٹھوڑی سے ایک ننھا سا عنابی سوتا پھوٹا اور مقناطیس سے چمٹی ہوئی لوہ چون ایسی ڈاڑھی میں یاقوت کی ایک کرچی سی جگمگانے لگی۔۔۔ ٹپ! ٹپ! ٹپ! اور تین یاقوت میز پر پڑے تھے۔
شام کو پتا جی مجھے یہ آرڈر دے کر دورے پر چلے گئے کہ میں ان کی غیر موجودگی میں باہر ہر گز نہ سوؤں۔ کمرے کا پنکھا رات بھر چلتا رہے اور کھڑکیاں اور روشندان کھلے رہیں۔ سب ٹھیک ہونے پر بھی انہیں میری جان کا خطرہ تھا۔ وہ چلے گئے تو امر آ کر منہ بسورنے لگا، 'بھا پاجی آپ میرے لیے ٹافیاں کیوں نہیں لائے؟'
'ٹافیاں؟ یار ٹافیاں وہاں کہاں۔۔۔ برقندی تو ایک گاؤں ہے چھوٹا سا۔'
'تو پھر مجھے پیسے دیجیے، میں خود لے آؤں گا۔'
'میرے پاس اس وقت کھلے پیسے نہیں۔' میں نے بٹوا دیکھا، 'پمی سے لے لو!'
'وہ نہیں دے گی!'
'دے گی کیوں نہیں؟ تم میرا نام لے کر مانگنا۔۔۔'
'وہ جب بھی نہیں دے گی!'
'تو اسے یہاں بلا لاؤ۔'
'اچھا!'
پمی نے آ کر بتایا کہ جب سے بی بی کا انتقال ہو گیا ہے، امر بہت ضدی ہو گیا ہے۔ پتا جی اس سے بہت لاڈ کرنے لگے ہیں اور یہ بگڑتا جاتا ہے۔ سارا دن نانی کو تنگ کرتا ہے۔ نوکروں سے جھگڑتا ہے۔ گندے لڑکوں سے کھیلتا ہے اور حد درجے کا چٹورا بن گیا ہے۔ اگر مجھ سے خوف نہ کھاتا ہو تو سکول جانا بھی چھوڑ دے لیکن جب میری سفارش پر وہ پمی سے دو آنے لے کر بھاگ گیا تو میں نے کہا، 'اسے ابا جان کے پاس لے جاؤں؟'
'ابا جان اب بھی مارتے ہیں کیا۔۔۔ اسی طرح؟'
'ہاں ہاں، اسی طرح۔' میں مسکرایا، 'بلکہ اب تو ان کاغصہ اور بھی تیز ہو گیا ہے۔'
'سچ!' پمی ایک دم جذباتی ہو گئی، 'ہائے میرا دل ابا جان سے ملنے کو کتنا ترستا ہے۔'
'تو چلو پھر۔۔۔'
یہ سن کر وہ مسکرانے لگی اور سر ہلا کر بولی، 'اوں ہوں!!'
میں نے کہا، 'پمی یاد ہے نا، ابا جان نے ایک دفعہ تمھیں بھی پیٹا تھا؟'
'ہاں ہاں! ' اس نے آنکھیں میچ لیں، 'یہاں چھڑی گئی تھی ان کی۔ آدھی کمر اور آدھی بازو پر لیکن ساری شرارت تو تمہاری تھی۔ تمہیں نے تو مجھے کیچڑ کے گھروندے بنانے کی ترغیب دی تھی۔ تم بڑے شریر تھے جب؟'
'اور اب؟'
'اب تو خیر اچھے ہو۔ سرکاری ملازم ہو۔ بی اے پاس ہو۔۔۔ ہاں سچ تم نے بی اے کیسے پاس کر لیا؟'
'جیسے کیا کرتے ہیں!'
'نقل اڑا کر؟'
'نہیں تو!'
'میٹرک میں تو تم نے خوب نقل اڑائی تھی۔'
'میٹرک کی باتیں چھوڑو۔ بی اے میں ریاضی نہیں تھی نا!'
پمی ہنس پڑی۔ 'اگر میٹرک میں ہاؤس ہولڈ اکاؤنٹس نہ ہوتا تو میں کبھی اسے پاس نہ کر سکتی۔ بھلا گھر بیٹھے کوئی کیسے بتا سکتا ہے کہ ایک نالی جب حوض کو دو گھنٹے میں خالی کر دیتی ہے تو دوسری نالی اسی حوض کو کتنے عرصے میں خالی کر دے گی؟'
یہ کہہ کر وہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی اور آہستگی سے کہا، 'میں اب جاتی ہوں۔ نانی اماں ادھر آ جائیں گی تو بڑی گڑ بڑ ہو جائے گی۔ پرانے خیال کی عورت ہیں نا!'
'جیسے تمہاری مرضی لیکن شام کو ہم 'دلگن' ضرور چلیں گے۔ میں تمہیں وہاں ایک چیز دکھاؤں گا اور ہم اتنی ساری باتیں کریں گے۔' میں نے ہاتھ کھول کر کہا،
'اتنی ساری!'
جس اچانک پنے سے وہ اٹھی تھی، اسی اچانک پن سے بیٹھ کر بولی، 'تمہیں اس شعر کا مطلب آتا ہے؟
جو بات دل میں رہ گئی نشتر بنی حفیظ
جو لب پہ آ گئی رسن و دار ہو گئی!
میں نے کچھ دیر سوچ کر کہا، 'لیکن تم اس شعر کا مطلب سمجھ کر کیا لو گی؟ اسے ایسے ہی رہنے دو۔ شعر سمجھ میں آنے لگیں تو انسان کی روح بے چین ہو جایا کرتی ہے۔'
وہ بھی کچھ دیر سوچ کر بولی، 'میں نے پتا جی کی الماری سے اکثر شاعروں کی کتابیں نکال نکال کر پڑھی ہیں لیکن میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔ دل کہتا ہے، خوب ہے۔ دماغ کو شکوہ رہتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں چلا۔'
میں نے بے تکے پن سے کہا، 'مجھے ڈر ہے کسی دن تم خود شعر نہ کہنے لگو!'
اس کی آنکھیں جگمگا اٹھیں۔ ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی، 'تمہیں یاد ہے جب تم 'دلگن' کے کنوئیں میں اتر کر میرا دوپٹہ نکالنے گئے تھے اور مجھے بھی ساتھ آنے کو کہا تھاتو میں نے کیا جواب دیا تھا۔۔۔ میری بالکل وہی حالت ہے۔۔۔ مجھے زندگی جس قدر عزیز ہے، موت سے میں اتنی ہی خائف ہوں لیکن کبھی کبھی اپنے آپ میرے منہ سے یہ نکل جاتا ہے۔ اے خدا! مجھ سے ایک غزل لکھوا دے، چھوٹی بحر کی چھوٹی سی غزل۔ اس کے بعد چاہے تو مجھے موت ہی دے دے۔'
یہ کہہ کر وہ پھر اٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی، 'ایف اے میں تمہیں شاید معلوم نہ ہو، میں اردو میں اول آئی تھی۔ پتا جی نے مجھے جرمنی کا چھپا ہوا دیوان غالب انعام دیا۔ جب سوچتی ہوں تو اکثر روتی ہوں کہ ایف اے میں فرسٹ آ کر بھی دیوان غالب سمجھ نہیں سکتی'۔
میں نے پمی کو پہلے اس رنگ میں کبھی نہ دیکھا تھا۔ بچپن میں اسے اردو سے لگاؤ ضرور تھا لیکن صرف قصے کہانیوں اور چھوٹے چھوٹے رسالوں تک۔۔۔ وہ کیوں اس قدر رحزیں تھی؟ غالب کے شعروں کی طرح اداس لیکن میٹھی میٹھی!
شام کو ہم سیرکرنے 'دلگن' میں گئے تو امر نے بتایا کہ، 'اب یہ علاقہ مُسلوں سے پاک ہو چکا ہے۔ مُسلے بہت برے ہوتے ہیں۔' اس نے ہوا میں گھوڑا گھما کر کہا، 'سب کو مارتے ہیں!'
پمی نے اسے جھڑکا، 'یہ بڑا آوارہ ہو گیا ہے۔ اسے ابا جان کے پاس لے جاؤ!'
امر نے گھبرا کر کہا، 'ابا جان کون؟'
'ہیں ایک۔۔' پمی ہنسی، 'ہم سب ان سے پٹ چکے ہیں۔ ایک دفعہ تم بھی ان کی مار کھا لو تو ٹھیک ہو جاؤ گے اور ایسی بکواس نہیں کرو گے!'
امر سہم گیا، 'کیا وہ بھی مُسلے ہیں؟' ہم دونوں ہنس پڑے۔
میں پمی کو کونے والی بیری کے نیچے لے گیا اور اسے بتایا کہ جب ان کی تبدیلی لائل پور ہوئی تھی اور جس شام وہ یہاں سے چلے گئے تھے، اسی شام میں نے پمی کا نام میں نے اس بیری پر کھودا تھا۔



دیا سلائی جلا کر میں نے وہ تنا اسے دکھایا لیکن زخم بھر چکا تھا اور اب وہاں نشان بھی نہ تھا۔ پمی کھسیانی ہنسی ہنسی اور اس بیری کی جڑ کھودنے لگی۔
'کیا کر رہی ہو؟' میں نے جھک کر اس کی طرف دیکھا۔
وہ ہنسنے لگی، 'اسی دن میں نے تمہارے نام ایک خط لکھ کر یہاں دبایا تھا۔ اسے دیکھ رہی ہوں!'
میرے دل میں غالب کا دیوان پھڑپھڑانے لگا، 'لیکن چھ سال بعد اب اس کا کیا بچا ہو گا؟'
'بچا تو کچھ نہ ہو گا۔' اس نے اپنا منہ اوپر اٹھایا، 'پر اتنے عرصے کے بعد آج پھر ایک حماقت کرنے کو جی چاہتا ہے!'
امر ان باتوں کو بالکل نہ سمجھ سکا۔ اس کے ذہن پر شاید ابا جان کا بھوت مسلط تھا لیکن میرے دل و دماغ پر غالب کی وہ ساری غزل لکھی جا رہی تھی۔۔۔'مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے، جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے۔ دعوت مژگاں کیے ہوئے، چاک گریباں کیے ہوئے، تصور جاناں کیے ہوئے، تہیہ طوفاں کیے ہوئے۔۔۔' لیکن طوفان تو گذر چکا تھا اور میں تو گرے ہوئے پتوں کے انبار میں سے سے کچھ پتے نکالنے کے کام پر مامور تھا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم