نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ان سے بھی عید ملیے۔۔۔


تھانے میں جب اندر داخل ہوا تو میں نے کہا جناب اجازت ہے؟
کہنے لگے! فرمائیے جناب عالی ۔۔۔۔۔
میں نے کہا نہیں، میں تو آپ سے ملنے آیا ہوں ۔
کہنے لگا جی حکم ۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے پاؤں اتار دیے میز سے اور بیٹھ گئے۔
تھانے والے جناب عالی یا جنابِ اعلیٰ کہہ کر پکارتے ہیں ۔
ان کا ایک انداز ہے تو کہنے لگے جنابِ عالی کیا کام ہے ؟
میں نے کہا کوئی کام نہیں ، میں تو ایسے ہی آیا ہوں آپ سے ملنے ۔
کہنے لگا ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی تھانے میں آئے اور اس کا کوئی کام نہ ہو ۔۔۔۔۔
میں نے کہا نہیں ، میں اس غرض سے نہیں آیا ۔ آپ ایس ایچ او ہیں ؟
کہنے لگا ! جی ، میں ایس ایچ ہوں ۔۔۔۔
میں نے کہا ، میں آپ سے عید ملنے کے لیے آیا ہوں تو وہ بڑے حیران سے ہوئے اور کہنے لگے ۔۔۔
بڑی مہربانی وعلیکم عید مبارک ۔
میں نے کہا دیکھیے تھانیدار صاحب وعلیکم عید مبارک ایسے تو نہیں ہو جاتی ۔
آپ کو اٹھ کر کھڑا ہونا پڑے گا اور پھر میرے ساتھ عید ملنے پڑے گی یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا عید ملنے کا ۔ میں اتنی دور سے آیا ہوں ۔
ان کو میری بات سمجھ نہیں آئی تو میں نے گستاخی کرتے ہوئے ان کے کندھوں سے پکڑ کر جہاں اسٹارز لگے ہوئے تھے ان کو اوپر اٹھایا تو کھڑے ہوگئے ۔ کھڑے ہو کے میں ان کو " جپھی " ڈالی تو وہ ذرا سا گھبرائے ۔
جب میں نے دوسری طرف سر کر کے معانقہ کیا جو انداز ہوتا ہے، تو انہوں نے اتنی زور سے رونا شروع کیا ۔ آں اوں آں کر کے کہ میں ڈر گیا ۔ یا اللہ یہ کیا ہوگیا ۔
بہت اونچی آواز میں ۔ اتنا بڑا تھانیدار ، بھاری بھرکم جسم کا آدمی اونچی آواز میں رونے لگا ۔
تو میں بالکل لرزہ بر اندام ہو گیا تو وہ جو تیسرا معانقہ ہوتا ہے ، وہ میں نہیں کرسکا ، کیونکہ میں گھبرایا ہوا تھا ۔
روتے ہوئے انہوں نے کہا جنابِ عالی، اگر آپ سچے آدمی ہیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انیس برس کی سروس میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی شخص مجھ سے عید ملنے آیا ہے کسے نے آ کر مجھے جپھی ڈالی ہے ۔ ورنہ میں اور میری ساری قوم جو ہے تھانے کی، اچھوت ہے، ہم چنڈال ہیں، اور ہم چور ہیں، اور ہم کو انسان نہیں سمجھا جاتا ۔انیس برس کی سروس میں آج پہلی بار مجھے انسان سمجھا ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم