نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

من کی آلودگی

آج سے چند روز بیشتر ہم Pollution کی بات کر رہے تھے اور ہمارا کہنا تھا کہ ساری دنیا آلودگی میں مستغرق ہے اور یہ آلودگی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ شجر و حجر اور حیوانات کو بھی کھاۓ چلی جا رہی ہے۔ اس کے دور رس نقصانات ہیں اور اس کے خاتمے کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ جب ہم اس گفتگو میں بحثیت ایک قاری یا ناظر کے شریک تھے تو مجھے خیال آیا کہ انسانی زندگی میں دو متوازی لہریں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ ایک تو ہماری اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اور ایک زندگی کا نامعلوم حصہ ہوتا ہے۔ اس حصے کو ہم گو جانتے نہیں ہیں لیکن محسوس ضرور کرتے ہیں۔ یہ حصہ ہماری زندگی کی اس لہر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس وقت مجھے اپنے بابوں کا خیال آیا جن کا میں اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں کہ وہ بابے Pollution کے بارے میں خاصے محتاط ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی بڑی فکر رہتی ہے کہ کسی بھی صورت میں آلودگی نہ ہونے پاۓ اور وہ اس حوالے سے خاص اہتمام کرتے۔ یہ International Pollution Campaign سے پہلے کی بات ہے جب ڈیروں پر ایک ایسا وقت بھی آتا تھا کہ ڈیرے کا بابا اور اس کے خلیفے آلودگی کے خلاف اپنے آپ کو باقاع…
حالیہ پوسٹس

سلطان سنگھاڑے والا

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب اُس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ وہ اب بڑے پُرسکون انداز میں زندگی بسر کرے اور وہ ایسے جھمیلوں میں نہ رہے، جس طرح کے جھمیلوں میں اُس نے اپنی گزشتہ زندگی بسر کی ہوئی ہوتی ہے اور یہ آرزو بڑی شدت سے ہوتی ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں، وہ بڑے مزے میں رہتے ہیں اور وہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔ ہم کو اُنہوں نے بتایا ہوتا ہے کہ ہم ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی رکھیں اور وہ خود بیچ میں سے نکل کر اللہ کو دوست بنا لیتے ہیں۔ اُن کے اوپر کوئی تکلیف، کوئی بوجھ اور کوئی پہاڑ نہیں گرتا۔ سارے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے اور آپ کے ہیں، لیکن ان لوگوں کو ایک ایسا سہارا ہوتا ہے، ایک ایسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ اُنہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ میں نے یہ بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمارے گھر میں دھوپ سینکتے ہوئے میں ایک چڑیا کو دیکھا کرتا ہوں، جو بڑی دیر سے ہمارے گھر میں رہتی ہے اور غالباً یہ اُس چڑیا کی یا تو بیٹی ہے، یا نواسی ہے جو بہت ہی دیر سے ہمارے مکان کی چھت کے ایک کونے میں رہتی ہے۔ ہمارا مکان ویسے تو بڑا اچھا ہے، اس کی "آروی&quo…

ستے ہی خیراں۔۔۔۔

سن بابو لوکا! تو اس کو ڈھونڈنے اور کا کھوج پانے کے لیے کہاں چلا گیا، کدھر کو نکل گیا؟ اس کو ڈھونڈنے اور اسے پانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔ راستے تو دور جانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ سفر تو کرنے اور منزلیں طے کرنے لیے ہوتے ہیں۔ یہاں سے تو کہیں جانا ہی نہیں۔۔۔ کہیں پہنچنا ہی نہیں، پھر راستہ کیسا؟ اسے پانے اور اسے کھوجنے کے لیے تو ہمیں اپنے اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے وجود میں ڈھونڈنا ہے۔ بابو لوکا! اپنی شہ رگ کے ساتھ تلاش کرنا ہے۔۔۔ اور جب اپنی شہ رگ کے پاس پہنچ گئے تو پھر وہاں موجاں ہی موجاں۔۔۔ میلے ہی میلے۔ بڑی دور چلا گیا ہے بابو لوکا! پر میری بات سن لے کہ اصل میں کوئی راستہ وہاں نہیں جاتا۔۔۔ اس تک نہیں لے جاتا۔ وجہ یہ ہے بابو لوکا کہ وہ وہاں نہیں (گلے کے نیچے ہاتھ لگا کر)، یہاں ہے!۔ اور یہاں کے لیے کوئی راستہ نہیں۔۔۔ کوئی پگڈنڈی نہیں۔ بس اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے اندر۔ اندر دیکھنا ہے۔۔۔ اندر جھات ڈالنی ہے کہ کوئی گند بلا تو نہیں۔۔۔ کوڑا کرکٹ تو نہیں؟ شہ رگ کے تخت طاؤس کے نیڑے نیڑے۔۔۔۔ شرک، منافقت تو نہیں اندر۔۔۔ بس پھر ستے ای خیراں۔


من چلے کا سودا سے اقتباس

دھوکہ

ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا اور وہ یہ کہ کسی کو دھوکہ دینا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔  دھوکے میں بڑی جان ہوتی ہے وہ مرتا نہین ہے - گھوم پھر کر ایک روز واپس آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے کیونکہ اس کو اپنے ٹھکانے سے بڑی محبت ہے اور وہ اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر اور کہین نہیں رہ سکتا۔ 


از اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 292

کلہاڑی اور رسی

سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔
ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!
سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے، اسی لمحے سے ۔۔۔ دکان چھوڑتا ہوں، گھر میں نے چھوڑا ہے۔ آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں، اپنا خلیفہ بنا لیں، یہاں ڈیرا چلائیں۔
ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔۔۔ فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔
سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھ…

بشیرا

ہمارے فیصل آباد گورنمنٹ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس ایک جیبی گھڑی تھی۔ اس اعلٰی درجے کی گھڑی کے ساتھ ایک سنہری زنجیر بندھی ہوئی تھی۔ یہ وہ گھڑی تھی جس کا ڈائل بڑا سفید اور اس کے ہندسے بڑے بڑے اور سیاہ رنگ کے تھے۔ اس گھڑی کے زور پر اور اس کی وجہ سے سارے سکول کا کام چلتا تھا اور اسی گھڑی کے حوالے سے ارد گرد کے لوگ اپنی گھڑیاں ٹھیک کیا کرتے تھے لیکن خدا جانے کیا ہوا کہ ہر روز گھنٹہ گھر کے قریب سے گزرتے ہوئے ہیڈ ماسٹر صاحب زنجیر کھینچ کر اپنی گھڑی کا وقت فیصل آباد کے گھنٹہ گھر سے ملاتے تھے اور دونوں‌میں مطابقت پیدا کرتے تھے۔ پھر ایک روز یہ ہوا کہ گھڑی کے دل میں‌خیال آیا کہ کیوں‌نہ میں‌بھی گھنٹہ گھر کے مقام پر پہنچوں اور لوگوں‌کی خدمت کروں۔ ان کو وقت بتاؤں اور ان کے لئے وہی کچھ اور اتنی ہی خوبیاں لا کر ان کی جھولی میں‌ڈالوں ‌جو فیصل آباد کا گھنٹہ گھر ان کو عطا کرتا ہے۔ سنتے ہیں کہ کسی طِلِسمی یا کسی روحانی زور سے وہ گھڑی کہ ان کی جیب سے اچھلی اور گھنٹہ گھر کے ماتھے پر جا کر چپک گئی اور جونہی وہ اس مقام پر پہنچی وہ اپنی ہستی باکل کھو بیٹھی اور معدوم ہو گئی اور وہ لوگوں کو وقت بتا کر…

علم کی ہیکڑی

اس دنیا میں سب سے بڑی ہیکڑی علم کی ہیکڑی ہے۔ صاحبِ علم فرد اور صاحبِ علم گروہ بے علم لوگوں کو صرف حیوان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت انہیں اپنے علم کے ”بھؤو “ سے ڈراتا بھی رہتا ہے۔ وہ اپنے علم کے تکبّر کا باز اپنی مضبوط کلائی پربٹھا کے دن بھر بھرے بازار میں گھومتا ہے اور ہر ایک کو دھڑکا کے اور ڈرا کے رکھتا ہے۔ اس ظالم سفّاک اور بے درد کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اس کے پھل دار علمی احاطے سے ایک بیر بھی توڑنا چاہے تو یہ اس پر اپنی نخوت کے کتّے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اپنے بردوں کو اچھّا غلام بننے کا علم تو عطا کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں باعزّت زندگی گزارنے کے رموز سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے اور اپنے اپنے دور کا ہر ذی علم برہمن، اپنے دور کے شودر کے کان پگھلتے ہوئے سیسے سے بھرتا چلا جارہا ہے۔ =========================


علم کی ہیکڑی بڑی ظالم ہیکڑی ہے۔ یہ علم کے پردے میں بے علم اور معصوم روحوں پر بڑےخوفناک حملے کرتی ہے۔ علم اور جان کاری کا حصول اپنے قریبی لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے شبے میں اضافہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک جان کار ایک ان جان سے صرف اس لیے ارفع، اعلا ا…