نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مقناطیس

آپ تو در اصل مقناطیس ہیں اور مشکلات وہ لوہے کے ذرے ہیں جو آپ سے چمٹے ہیں۔ شہر بدلنے سے، لباس تبدیل کرنے سے، مزاج بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ تو ایک خاص طرح کی رحمت ہوتی ہے۔ جو بندہ اللہ سے درخواست کرے کہ مجھ پر خصوصی فضل فرمایا جائے تا کہ میں اس عذاب سے نکلوں۔ تب نجات ملتی ہے لیکن چیزیں تبدیل کرنے سے یا چھوڑنے سے، یا نئی چیزیں اختیار کرنے سے ایسا ہوتا نہیں


اشفاق احمد زاویہ چیزوں کی کشش صفحہ 308
حالیہ پوسٹس

وظیفہ

کسی شخص نے رزق میں اضافہ کا وظیفہ پوچھا لیکن اگر وظائف پر روزی موقوف ہوتی تو دنیا میں ملاؤں سے زیادہ کوئی امیر نہ ہوتا ۔ لیکن وظیفہ تو اس معاملے میں الٹا اثر کرتا ہے ۔ کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور نامِ خدا ایک صابن ۔ بھلا صابن سے میل کیونکر بڑہ سکتا ہے ۔ تم نے کسی وظیفہ خواں کے گھر پر ہاتھی گھوڑے موٹر گاڑی دیکھی ہے ۔ خدا کا نام تو صرف اس لیے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے۔ نہ اس لیے کہ دنیا میں اور زیادہ آلودہ ہو ۔ پھر اس کو ایک وظیفہ بتلا کر کہا گھر پر پڑھا کرنا خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام ۔ مسجد میں نہ پڑھنا ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 410

ہمارا اور ابلیس کا دکھ

ایک دفعہ کسی بزرگ نے دیکھا کہ بغداد کی دانہ منڈی کے باہر ایک پتھر کے اوپر شیطان بیٹھا رو رہا تھا۔ بزرگ بڑے حیران ہوئے، وہ اس کے قریب گئے اور کہنے لگے کے ابلیس کیا ہے۔۔ تو رو رہا ہے؟ اس نے کہا، جی میرا بہت برا حال ہے ۔ تو انھوں نے کہا نہ بھائی، تو نہ رو، تمھیں تو اتنے کام بگاڑنے ہیں لوگوں کے، اگر تو ہی رونے لگ گیا تو کیا ہو گا؟ اس نے کہا کہ، جی میرا کچھ دکھ ہے۔ بابا جی نے کہا کہ کیا دکھ ہے؟ کہنے لگا، جی میرا دکھ یہ ہے کہ میں اچھا ہونا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے ہوا نہیں جاتا۔ تو یہ دکھ تو ہم سب کا ہے، ہم زور تو لگاتے ہیں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ ہم کس لیے اچھے ہونا چاہتے ہیں، ہوا نہیں جاتا؟ چاہیے یہ کہ ہم ہونے کی کوشش تو کریں، خواہش تو کریں کہ ہم اچھے ہو جائیں تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ ہماری بات تو ہوتی رہتی ہے، گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم روئے کبھی بھی نہیں۔ ابلیس ہم سے بہتر تھا کہ سچ مچ رو دیا، وہ بازی لے گیا۔


زاویہ سے اقتباس

دل اور جسم

محبت پانے والا بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوتا کہ اسے ایک دن کے لیے مکمل محبت حاصل ہوئی تھی ۔ محبت تو ہر دن کے ساتھ اعادہ چاہتی ہے ۔ روز سورج نہ چڑھے تو دن نہیں ہوتا ۔ جس روز محبت کا سورج طلوع نہ ہو رات رہتی ہے ۔ یہ دل اور جسم بڑے بیری ہیں ایک دوسرے کے ۔ جسم روندا جائے تو یہ دل کو بسنے نہیں دیتا اور دل مٹھی بند رہے تو تو یہ جسم کی نگری کو تباہ کر دیتا ہے ۔
بانو قدسیہ راجا گدھ سے اقتباس


خوشی کا سفر

خوشی ایسے میسر نہیں آتی کہ کسی فقیر کو دو چار آنے دے دیے ۔ خوشی تب ملتی ہے جب آپ اپنی خوشیوں کے وقت سے وقت نکال کر انہیں دیتے ہیں جو دکھی ہوتے ہیں ۔ اور آپ کو ان دکھی لوگوں سے کوئی دنیاوی مطلب بھی نہیں ہوتا ۔ آپ اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ کر جب پریشان حالوں کی مدد کرتے ہیں تو خوشی خودبخود آپ کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے ۔ کوئی چیز آپ کو اتنی خوشی نہیں دے سکتی جو خوشی آپ کوکسی روتے ہوئے کی مسکراہٹ دے سکتی ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 رویوں کی تبدیلی صفحہ 25

محبت

میں سوشیالوجی کے طالبعلم کی طرح سوچنے لگا کہ جب انسان نے سوسائٹی کو تشکیل دیا ہو گا تو یہ ضرورت محسوس کی ہو گی کہ فرد علیحدہ علیحدہ مطمئن زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ باہمی ہمدردی میل جول اور ضروریات نے معاشرہ کو جنم دیا ہو گا۔ لیکن رفتہ رفتہ سوسائٹی اتنی پیچ در پیچ ہو گئی کہ باہمی میل جول، ہمدردی اور ضرورت نے تہذیب کے جذباتی انتشار کا بنیادی پتھر رکھا ۔ جس محبت کے تصور کے بغیر معاشرے کی تشکیل ممکن نہ تھی، شاید اسی محبت کو مبالغہ پسند انسان نے خدا ہی سمجھ لیا اور انسان دوستی کو انسانیت کی معراج ٹھہرایا۔ پھر یہی محبت جگہ جگہ نفرت، حقارت اور غصے سے زیادہ لوگوں کی زندگیاں سلب کرنے لگی۔ محبت کی خاطر قتل ہونے لگے۔۔۔۔۔۔۔خود کشی وجود میں آئی۔۔۔۔۔۔سوسائٹی اغوا سے، شبخون سے متعارف ہوئی۔


رفتہ رفتہ محبت ہی سوسائٹی کا ایک بڑا روگ بن گئی، اس جن کو ناپ کی بوتل میں بند رکھنا معاشرے کے لیے ممکن نہ رہا۔ اب محبت کے وجود یا عدم وجود پر ادب پیدا ہونے لگا۔۔۔۔۔۔بچوں کی سائیکالوجی جنم لینے لگی۔ محبت کے حصول پر مقدمے ہونے لگے۔ ساس بن کر ماں ڈائن کا روپ دھارنے لگی۔ معاشرے میں محبت کے خمیر کی وجہ سے کئی قسم کا نا…

انسانوں کا قرض

میری زندگی میں عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے کچھ کچھ میں آپ کی خدمت میں بھی پیش کرتا رہتا ہوں۔ اکثر لوگ مجھے راستہ روک کر پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسے واقعات کیوں پیش نہیں آتے جس طرح کے آپ کے ساتھ پیش آتے ہیں تو میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ میں تھوڑا وصول کنندہ یا (Receptive) ہوں اور جو Vibration آپ اپنے بدن یا وجود میں رکھتے ہیں وہ باہر کی وائبریشن (ارتعاش) سے مل جاتا ہے اور پھر وہی کچھ ہونے لگتا ہے جس کی آپ کے اندر کو توقع تھی یا جس کا انتظار تھا۔ میں ہر روز صبح سویرے اپنے بستر سے ہمیشہ ایک دستک پر بیدار ہوتا ہوں اور میں دروازہ کھولتا ہوں اور جب میں دروازہ کھولتا ہوں تو میرے گھر کے دروازے پر ایک سر ٹوپ لگائے ہوئے، چیک کا سوٹ پہنے ہوئے اور ہاتھ میں رولر پکڑے ہوئے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ وہ میرے گھر کے دروازے کو زور سے بجاتا ہے اور جب میں باہر نکل کر اس سے ملتا ہوں تو وہ مجھے ہمیشہ ایک ہی بات کہتا ہے کہ “آپ کے ذمہ میرا قرض واجب ہے، وہ قرض لوٹایئے۔ “ اور میں بہت حیران ہو کر اس کی شکل دیکھتا ہوں اور اس سے کہتا ہوں کہ میں نے تو آپ سے کبھی کوئی قرض نہیں لیا لیکن وہ بہت…