نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

علم کی ہیکڑی

اس دنیا میں سب سے بڑی ہیکڑی علم کی ہیکڑی ہے۔ صاحبِ علم فرد اور صاحبِ علم گروہ بے علم لوگوں کو صرف حیوان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت انہیں اپنے علم کے ”بھؤو “ سے ڈراتا بھی رہتا ہے۔ وہ اپنے علم کے تکبّر کا باز اپنی مضبوط کلائی پربٹھا کے دن بھر بھرے بازار میں گھومتا ہے اور ہر ایک کو دھڑکا کے اور ڈرا کے رکھتا ہے۔ اس ظالم سفّاک اور بے درد کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اس کے پھل دار علمی احاطے سے ایک بیر بھی توڑنا چاہے تو یہ اس پر اپنی نخوت کے کتّے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اپنے بردوں کو اچھّا غلام بننے کا علم تو عطا کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں باعزّت زندگی گزارنے کے رموز سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے اور اپنے اپنے دور کا ہر ذی علم برہمن، اپنے دور کے شودر کے کان پگھلتے ہوئے سیسے سے بھرتا چلا جارہا ہے۔ =========================


علم کی ہیکڑی بڑی ظالم ہیکڑی ہے۔ یہ علم کے پردے میں بے علم اور معصوم روحوں پر بڑےخوفناک حملے کرتی ہے۔ علم اور جان کاری کا حصول اپنے قریبی لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے شبے میں اضافہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک جان کار ایک ان جان سے صرف اس لیے ارفع، اعلا اور …
حالیہ پوسٹس

مادہ پرستی - Materialism

آج سے چند روز پہلے کی بات ہے، میں ایک الیکٹرونکس کی شاپ پر بیٹھا تھا تو وہاں ایک نوجوان لڑکی آئی۔ وہ کسی ٹیپ ریکارڈر کی تلاش میں تھی۔ دُکاندار نے اسے بہت اعلٰی درجے کے نئے نویلے ٹیپ ریکارڈر دکھائے لیکن وہ کہنے لگی مجھے وہ مخصوص قسم کا مخصوص Made کا مخصوص نمبر والا ٹیپ ریکارڈر چاہئے۔ دکاندار نے کہا، بی بی یہ تو اب تیسری Generation ہے، اس ٹیپ ریکارڈر کی اور جو اب نئے آئے ہیں، وہ اس کی نسبت کارکردگی میں زیادہ بہتر ہیں۔ لڑکی کہنے لگی کہ یہ نیا ضرور ہے لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ اس سے بہتر نہیں۔ میں بیٹھا غور سے اس لڑکی کی باتیں سننے لگا کیونکہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ تھیں اور وہ الیکٹرونکس کے استعمال کی ماہر معلوم ہوتی تھی۔ انجینئر تو نہیں تھی لیکن اس کا تجربہ اور مشاہدہ خاصا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ آپ مجھے مطلوبہ ٹیپ ریکارڈر تلاش کر دیں۔ میں آپ کی بڑی شکر گزار ہوں گی۔ میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔ بی بی آپ اس کو ہی کیوں تلاش کر رہی ہیں؟ اس نے کہا کہ ایک تو اس کی مشین بہتر تھی اور اس کو میری خالہ مجھ سے مانگ کر دبئی لے گئی ہیں اور میں ان سے واپس لینا بھی نہیں چاہتی لیکن اب جتنے بھی نئے بننے والے…

ایم اے پاس بلی

آج صبح کی نماز بھی ویسے ہی گزر گئی اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے- میرے ساتھ اکثر وبیشتر ایسے ہو جاتا ہے کہ آنکھ تو کھل جاتی ہے لیکن اُٹھنے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور پھر وہ وقت بڑا بوجھل بن کر وجود پر گزرتا ہے- میں لیٹا ہوا تھا- میں نے کہا اور کوئی کام نہیں چلو کل کا اخبار ہی دیکھ لیں- میں نے ہیڈ لیمپ آن کیا، بتّی جلائی اور اخبار دیکھنے لگ پڑا اور آپ جانتے ہیں اخبار میں کتنی خوفناک خبریں ہوتی ہیں، وہ برداشت نہیں ہوتیں- مثلاً یہ کہ سرحد کے پار سے تیس گاڑیاں مزید چوری ہوگئی ہیں-دو بیٹوں نے کاغذات پر انگوٹھے لگوا کر باپ کو قتل کر کے اُس کی لاش گندے نالے میں پھینک دی- تاوان کے لئے بچّہ اغوا کرنے والے نے بچّے کو کسی ایسی جگہ پر رکھا کہ وہ والدین کی یاد میں تین دن تک روتا ہوا انتقال کر گیا وغیرہ- ایسی خبریں پڑھتے ہوئے دل پر بوجھ پڑتا ہے- ظاہر ہے سب کے دل پر پڑتا ہو گا- میں یہ سب کچھ پڑھ کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا اور میں سوچنے لگا کہ ٹھیک ہے خود کشی حرام ہے، لیکن ایسے موقعے پر اس کی اجازت ہونی چاہئے یا مجھ سے پہلے جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے ہیں، وہ کتنے اچھے تھے- خوش قسمت تھے کہ اُنہوں نے یہ سا…

غیبت

ہم جب بھی کسی بندے سے ملتے ہیں، ہمیں اس میں سے ٹیڑھ نظر آتی ہے۔ جب ٹیڑھ ہمیں نظر آتی ہے تو پھر ہماری زندگی میں، ہماری ذات اور ہمارے وجود میں بھی ایک ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ٹیڑھ نکلتی نہیں ہے اس لۓ اللہ نے ہم پر خاص مہربانی فرما کر ہمیں غیبت سے منع فرمایا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ کافی عرصے کی بات ہے کہ ہم کسی بابے کی ذکر کی محفل میں داخل ہوئے تاکہ اپنی ٹریننگ کی جاۓ۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے وجود کے اندر ایک ایسا عضو ہے جو اگر خراب ہو جاۓ تو سارے کا سارا بندہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ عضو دل ہے۔ اس طرح سے ہم اور آپ لوگوں کے دل خراب ہو گۓ ہیں اور ان کے اوپر “ راکھ “ جم گئی ہے جیسے پرانی دیگچی جس میں چاۓ پکاتے ہیں وہ اندر اور باہر سے ہو جاتی ہے بالکل اس طرح سے ہمارے دل ہو گۓ ہیں اور ہم اللہ کے ذکر سے اس کو صاف کرتے ہیں اور اس کو “ مانجا “ لگاتے ہیں اور اللہ ہُو کے ذکر سے اس زنگ اور کائی لگے دل کو صاف کرتے ہیں اور یہ خرابی بے شمار گناہ کرنے کہ وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ یقین کیجیے گا کہ جب میں اس محفل میں تھا اور میں اس…

تنقید اور تائی کا فلسفہ

(نوٹ- یہ پروگرام اشفاق احمد کے انتقال سے چند روز قبل نشر ہوا)
ان دنوں میرا پوتا، جو اب بڑا ہو گیا ہے،عجیب عجیب طرح کے سوال کرنے لگاہے- ظاہر ہے کہ بچّوں کو بڑا حق پہنچتا ہے سوال کرنے کا- اُس کی ماں نے کہا کہ تمہاری اردو بہت کمزور ہے، تم اپنے دادا سے اردو پڑھا کرو- وہ انگریزی سکول کے بچّے ہیں، اس لیے زیادہ اردو نہیں جانتے- خیر! وہ مجھ سے پڑھنے لگا- اردو سیکھنے کے دوران وہ مجھ سے کچھ اور طرح کے سوالات بھی کرتا ہے- پرسوں مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ دادا! یہ آمد و رفت جو ہے،اس میں عام طور پر کتنا فاصلہ ہوتا ہے؟ (اُس نے یہ لفظ نیا نیا پڑھا تھا) اب اُس نے ایسی کمال کی بات کی تھی کہ میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا- پھر اُس نےمجھ سے کہا کہ دادا! کیا نفسیات کی کوئی ایسی کتاب ہے، جس میں آدمی کو پرکھنے کے اچھے سے اور آسان سے طریقے ہوں؟ تو میں نے کہا کہ بھئی! تہمیں آدمی کو پرکھنے کی کیا ضرورت پیش آرہی ہے؟ اُس نے کہا کہ پتہ تو چلے کہ آخر مدِّ مُقابل کیسا ہے؟ کس طرز کا ہے؟ جس سے میں دوستی کرنے جا رہا ہوں، یا جس سے میری مُلاقات ہو رہی ہے- میں اُس کو کس کسوٹی پر لٹمس پیپر کے ساتھہ چیک کروں- میں نے کہ…

مومن کی شان

پھر اہمیت کس کو ہوئی۔۔۔ جسم کو، روح کو یا دماغ کو؟
ارشاد: کمال ہے بیگم صاحبہ! آپ سٹول کی تینوں ٹانگوں کے بارے میں پوچھ رہی ہیں، ان میں سے اہم ترین کون سی ہے کہ سٹول گرنے نہ پائے اور اپنا توازن قائم رکھے۔
عائشہ: تینوں ہی اہم ہیں مسز سلمان اور ایک جیسی اہم ہیں۔
عذرا: مجھے تو سمجھ نہیں آتی بالکل۔ میں تو قدم قدم پر غلطیاں کرتی ہوں اور قدم قدم پر گرتی ہوں۔
ارشاد: انسان غلطی بھی کرتا ہے، گرتا بھی ہے اور ناکام بھی ہوتا ہے۔ انسان جو ہوا۔ اس کائنات میں صرف ایک ذات ایسی ہے جو نہ غلطی کرتی ہے اور نہ ہی ناکام ہوتی ہے۔
عذرا: خدا کی ذات!
ارشاد: اب جو لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر کڑھتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں، وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔۔۔ اور جب ان سے خدا بنا نہیں جاتا کہ یہ ناممکن بات ہے تو پھر وہ شیطان بن جاتے ہیں اور بڑے نقصان کرتے ہیں۔
عائشہ: سارے معاشرے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
ارشاد: سارے معاشرے کو؛ اپنے آپ کو؛ پورے ماحول کو۔۔۔ (موڈ بدل کر) پاکپتن میں میں نے بابا صاحب کے مزار پر ایک فقیر کو دیکھا کہ ہاتھ میں روٹی رکھے کھا رہا تھا اور اس کے کچلوندے کبوتروں کو ڈال ر…

Live and Let to Live

پاکستان کا ہر شخص آجکل اس وقت بڑی شدت کے ساتھ اس محاورے پر عمل کر رہا ہے۔ میں اپنے بہت امیر دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ کہتے ہیں اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جس طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں اس پر خوش ہیں اور ہم لوگوں کی زندگیوں میں دخل نہیں دیتے۔ ہمارے اردگرد جھگی والے رہتے ہیں، دوسرے لوگ رہتے ہیں ہم نے کبھی جا کر ان سے نہیں پوچھا کہ تم کیسے ہو۔ ہمار اصول Live and Let to Live هے. ہمارے اب یہ اصول ہی چل رہا ہے کہ کوئی زندہ رہے، مرے کھپے، جئیے، ہم اس میں دخل نہیں کریں گے۔ پچھلے سے پچھلے سال مجھے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ریاست کیلیفورنیا میں ایک صاحب نے ہماری دعوت کی۔ میرے ساتھ بانو قدسیہ بھی تھیں۔ وہ دعوت بڑی ہی پر تکلف تھی۔ وہ ہمارے دوست ائیر فورس کے بھاگے ہوئے افسر تھے۔ وہ ماشاءاللہ پاکستان سے بڑی دولت لوٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔ وہ آجکل امریکہ میں انگور سکھا کر دنیا بھر میں سپلائی کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا، آپ تو یہاں ہمارا سارا پیسہ لے کر آئے ہیں۔ وہ کہنے لگے اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہ…

دروازہ کھلا رکھنا

آج سے چند ہفتے پہلے یا چند ماہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا کہ جب بھی آپ دروازہ کھول کے اندر کمرے میں داخل ہوں تو اسے ضرور بند کر دیا کریں اور میں نے یہ بات بیشتر مرتبہ ولایت میں قیام کے دوران سُنی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ Shut Behind The Door میں سوچتا تھا کہ وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اندر داخل ہوں تو دروازہ پیچھے سے بند کر دو، شاید وہاں برف باری کے باعث ٹھنڈی ہوا بہت ہوتی ہے اس وجہ سے وہ یہ جملہ کہتے ہیں۔ لیکن میرے پوچھنے پر میری لینڈ لیڈی نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ”آپ اندر داخل ہوگئے ہیں اور اب ماضی سے آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا، آپ صاحبِ حال ہیں،اسلئےماضی کو بند کر دو اور مستقبل کا دروازہ آگے جانے کے کیے کھول دو۔“ ہمارے بابے کہتے ہیں صاحبِ ایمان اور صاحبِ حال وہ ہوتا ہے،جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔ اب میں اس کے ذرا سا اُلٹ آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ پیچھے کی یادیں اور ماضی کی باتیں لوٹ لوٹ کے میرے پاس آتی رہتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں سے کچھ حصّہ بٹائیں۔


ابنِ انشاء نے کہا تھا کہ”دروازہ کُھلا رکھنا۔“ آپ دوسروں کےلئےضرور دروازہ کھول کے…

پائیداری کا قضیہ

انسان کو دنیا میں ایک سب سے بڑی پریشانی ھے۔۔۔ وہ پائیدار ھونا چاھتا ھے اور موت کے ھوتے ھوئے وہ کبھی مستقل نھیں ہو سکتا انسان کی ہر پریشانی کا تجزیہ کرو، اصل میں پریشانی موت سے پیدا ھوتی ھے۔۔۔ آرزو کی موت، راحت و خوشی کی مرگ۔ دیکھو تو آدمی ھر وقت مرتا رھتا ھے، بدن کی موت تو آخری فل سٹاپ ھے، موت کی جھلکیاں، چھوٹی موٹی ملاقات تو روز ھوتی ھے موت سے۔۔۔۔
راجا گدھ ۔۔۔بانو قدسیہ

مراقبہ

مراقبہ کیوں کیا جاتا ہے، اس کی کیا ضرورت ہے، کس لئے وہ بیٹھ کر مراقبہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟ مراقبے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ایسی مشین یا آلہ ایجاد نہیں ہوا، جو کسی بندے کو لگا کر یہ بتایا جا سکے کہ میں کیا ہوں؟ یا یہ کہ میں کون ہوں؟ اس کے لئے انسان کو خود ہی مشین بننا پڑتا ہے، خود ہی سبجیکٹ بننا پڑتا ہے اور خود ہی جانچنے والا۔ اس میں آپ ہی ڈاکٹر ہے، آپ ہی مریض ہے۔ یعنی میں‌ اپنا سراغ رساں خود ہوں اور اس سراغ رسانی کے طریقے مجھے خود ہی سوچنے پڑتے ہیں کہ مجھے اپنے بارے میں کیسے پتا کرنا ہے۔ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں، بڑے ہی پیارے، لیکن ان سے کچھ ایسی باتیں سرزد ہوتی رہی ہیں کہ وہ حیران ہوتے ہیں کہ میں عبادت گزار بھی ہوں، میں بھلا، اچھا آدمی بھی ہوں، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں ہوں کون؟ اور پتا اسے یوں نہیں چل پاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالٰی نے انسان کے اندر اپنی پھونک ماری ہوئی ہے اور وہ چلی آ رہی ہے۔ اس کو آپ حذف نہیں کر سکتے۔ اس کو آپ پردہ کھول کر دیکھ نہیں سکتے، آپ ایک لفظ یاد رکھیئے گا "سیلف" یعنی “ذات“ کا۔ اقبال جسے خودی کہتا ہ…