نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

ذکر خدا

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ تم کو سوائے اللہ کے ذکر کے اطمینانِ قلب نصیب ہی نہیں ہو سکتا ۔ جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔ لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟ ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا ۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔ اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمق…
حالیہ پوسٹس

نکتہ چینی

خواتین و حضرات ! اگر خوش رہنا ہے تو نکتہ چینی چھوڑ دیں ۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ایک روز ہم کو اسی معیار سے جانچا جائے گا جو معیار ہمارے لیے طے کر دیا گیا ہے ۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ کیونکہ جب آپ کسی کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو آپ کی تین انگلیاں خود آپ کی جانب اٹھ جاتی ہیں ۔ پھر فائدہ ! ۔ ۔ ۔




اشفاق احمد زاویہ 3روح کی سرگوشی صفحہ 311

خالی زندگیاں

بہت سے لوگوں کے پاس دین کا اور نفسیات کا بڑا علم ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی زندگیاں بڑی خالی ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف باہرکا علم انسان کے اندر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتاہے پھر بھی ہر شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 532

اللہ کا فضل، بندے۔۔۔

اصل میں آج تک میرے سارے کام انسانوں نے ہی کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لطف بے پایاں اور خیرِ کثیر کے مجھ تک پہنچنے کا سامان ہمیشہ بندوں نے ہی کیا ہے ۔ بیماری میں میرا علاج کسی انسان نے کیا ۔ با عزت طور پر بری کسی انسان نے کیا ۔۔۔۔۔ نعمتیں ہمیشہ بندے ہی اٹھا کر ، دھو کر ، کاٹ کر ، سجا کر لائے ۔ جب اللہ نے مجھے خوش کرنا چاہا تو لوگوں سے ہی تالی بجوائی ۔ جب مجھے محبت عطا کرنی چاہی تو کسی شخص سے ہی مجھے جپھی ڈلوائی ۔ جب میں نے سفر کا ارادہ کیا تو ایک بندے کو ہی میرا پائلٹ بنایا ۔ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی تو پے کلرک نے ہی مجھے پیسے لا کر دیے ۔ لیمن جوس مجھے ہمیشہ ایئر ہوسٹس نے پلایا ۔ اور میاں محمد بخش صاحب کے شعر مجھے بندے نے ہی سنائے ۔ اس کا فضل اور اس کا کرم ہمیشہ مجھے کسی انسان کی معرفت ہی پہنچا ۔


اشفاق احمد از بانو قدسیہ مردِ ابریشم صفحہ 64

دلچسپ مخلوق

انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے۔ یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کر رستا ہوا خون چاٹتا ہے۔ انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے۔ انسان پتھروں سے، مشینوں سے اور جانوروں سے تو پیار کر سکتا ہے لیکن انسانوں سے نہیں۔۔۔۔


اشفاق احمد  شہرِ آرزو

پریم جل

مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کر سکتا ۔ وقفے وقفے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی دہاڑی کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے ۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے ۔


اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 166

یقین

ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ دو گولی ڈسپرین سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا ۔ فلاں ہارٹ سرجن اگر آپریشن کرے گا تو مریض مر نہیں سکتا چاہے وہ کچھ دیر کے لیے مریض کے سینے سے دل ہی باہر نکال کر کیوں نہ رکھ دے ۔ لیکن ہمیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ فلاں آیتِ مبارکہ پڑھنے سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا یا رزق میں برکت آئے گی ۔ اس بات پر یقین نہیں کہ صدقہ دینے سے اس کا دس فیصد اضافہ دنیا میں اور ستر فیصد اضافہ آخرت میں ملے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 دو گولی ڈسپرین 266
ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ دو گولی ڈسپرین سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا ۔ فلاں ہارٹ سرجن اگر آپریشن کرے گا تو مریض مر نہیں سکتا چاہے وہ کچھ دیر کے لیے مریض کے سینے سے دل ہی باہر نکال کر کیوں نہ رکھ دے ۔ لیکن ہمیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ فلاں آیتِ مبارکہ پڑھنے سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا یا رزق میں برکت آئے گی ۔ اس بات پر یقین نہیں کہ صدقہ دینے سے اس کا دس فیصد اضافہ دنیا میں اور ستر فیصد اضافہ آخرت میں ملے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 دو گولی ڈسپرین 266

عزت نفس

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ، ان کو تسلیم نہیں کرتا ۔ دوسروں میں جو خوبی ہے وہ مجھ میں کیوں نہیں ، اسے یا تو حسد کہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہ سکتے ہیں ۔
کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں ۔اور جس کے پاس مارجن نہیں ، وہ کیا کرے ؟ صورت کو ایک معیار بنا دیا گیا ہے ۔
آدمی جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے اتنا بڑا اس کا ظرف ہو جاتا ہے ۔ وہ چیزں کو برداشت بھی کر لیتا ہے ۔ سن بھی لیتا ہے۔ کنڈم بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ اپنے خامیوں پہ قابو پا لے گا اور دوسروں کو کنڈم نہیں کرے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ بہروپ صفحہ 13

دوزخ کا خوف

ایک بار جمعہ کی نماز سے قبل میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا تھا اور اسپیکر پر ایک مولانا تقریر فرما رہے تھے۔ وہ بابا جی کافی دیر خاموشی سے مولانا کی تقریر کو توجہ سے سنتے رہے اور پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا، 'یہ مولانا جو لوگوں کو خدا سے ڈرا رہے ہیں (وہ مولانا دوزخ کی سزاوَں کے بارے میں بتا رہے تھے) اور بڑے بڑے سانپوں اور دہکتی آگ کا ذکر کر رہے ہیں۔۔۔ کیا یہ مسجد میں آئے ہوئے ان لوگوں کو یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں؟"
میں نے کہا، بابا جی اس میں بھگانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ لوگوں کو شاید اس لیے خوف دلا رہے ہیں تا کہ وہ برے کاموں سے اجتناب کریں۔
بابا جی کہنے لگے، 'کیا مسجد میں لوگ خدا کے ڈر سے نہیں آتے؟ اور کیا وہ برے کاموں سے اجتناب خدا کی محبت میں نہیں کر سکتے؟' اب میں انہیں کیا جواب دیتا۔
وہ کہنے لگے، 'کاکا، ایک خدا جو انسان سے ستر ماوَں سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔۔۔ جس مٹی کے پتلے کو اس نے بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔۔ کیا وہ ستر ماوَں کا پیار ایک طرف رکھ کر انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینکے گا؟'


اشفاق احمد زاویہ 3 کارڈیک اریسٹ

تہیہ کیجیے، راستہ پائیے

جب ایک آدمی کا تہیہ ہو جائے کہ میں نے اس راستے سے اس راستے پہ جانا ہے تو اللہ پھر اس کو برکت دیتا ہے اور پھر وہ آدمی جس کی تلاش میں ہوتا ہے وہ ایک دن خود صبح پانچ بجے آ کے اس کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ڈھونڈنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ تہیہ ہو تو پھر ہوتا ہے نہ ہو تو مشکل ہے، پھر آدمی ڈھونڈتا رہتا ہے، بتائیے اشفاق صاحب کوئی اچھا سا بابا!!!۔ یہ ایسے ہے کہ، کیوں کہ ابھی اس کا کوئی ارادہ نہیں اس کا صرف پروگرام یہی پوچھنا ہے کہ نارووال گاڑی کب جاتی ہے؟ کہیں جانا ہے؟ تو کہے گا، نہیں میں تو صرف ایسے ہی پوچھ رہا تھا!!!۔


باب، اندر کی تبدیلی سے اقتباس