نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

پریم جل

مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کر سکتا ۔ وقفے وقفے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی دہاڑی کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے ۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے ۔


اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 166
حالیہ پوسٹس

یقین

ہمیں اس بات کا تو یقین ہے کہ دو گولی ڈسپرین سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا ۔ فلاں ہارٹ سرجن اگر آپریشن کرے گا تو مریض مر نہیں سکتا چاہے وہ کچھ دیر کے لیے مریض کے سینے سے دل ہی باہر نکال کر کیوں نہ رکھ دے ۔ لیکن ہمیں اس بات پر یقین نہیں ہوتا کہ فلاں آیتِ مبارکہ پڑھنے سے سر درد کو فوری آرام مل جائے گا یا رزق میں برکت آئے گی ۔ اس بات پر یقین نہیں کہ صدقہ دینے سے اس کا دس فیصد اضافہ دنیا میں اور ستر فیصد اضافہ آخرت میں ملے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 دو گولی ڈسپرین 266

عزت نفس

انسان میں اپنی کمزوریاں اور اپنے اندر جو خامیاں ہوتی ہیں ، ان کو تسلیم نہیں کرتا ۔ دوسروں میں جو خوبی ہے وہ مجھ میں کیوں نہیں ، اسے یا تو حسد کہ سکتے ہیں یا انسان کی شخصی کمزوری کہ سکتے ہیں ۔
کچھ قدرتی کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خوبصورت پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ مارجن لے کر آتے ہیں ۔اور جس کے پاس مارجن نہیں ، وہ کیا کرے ؟ صورت کو ایک معیار بنا دیا گیا ہے ۔
آدمی جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے اتنا بڑا اس کا ظرف ہو جاتا ہے ۔ وہ چیزں کو برداشت بھی کر لیتا ہے ۔ سن بھی لیتا ہے۔ کنڈم بھی نہیں کرتا ۔ اگر ایسی صورتِ حال پیدا کی جائے کہ ہر آدمی کو عزتِ نفس ملے اس کو بڑا ہونے کا احساس دیا جائے تو پھر وہ اپنے خامیوں پہ قابو پا لے گا اور دوسروں کو کنڈم نہیں کرے گا ۔


اشفاق احمد زاویہ بہروپ صفحہ 13

دوزخ کا خوف

ایک بار جمعہ کی نماز سے قبل میں ایک بابا جی کے پاس بیٹھا تھا اور اسپیکر پر ایک مولانا تقریر فرما رہے تھے۔ وہ بابا جی کافی دیر خاموشی سے مولانا کی تقریر کو توجہ سے سنتے رہے اور پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے سوال کیا، 'یہ مولانا جو لوگوں کو خدا سے ڈرا رہے ہیں (وہ مولانا دوزخ کی سزاوَں کے بارے میں بتا رہے تھے) اور بڑے بڑے سانپوں اور دہکتی آگ کا ذکر کر رہے ہیں۔۔۔ کیا یہ مسجد میں آئے ہوئے ان لوگوں کو یہاں سے بھگانا چاہتے ہیں؟"
میں نے کہا، بابا جی اس میں بھگانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ لوگوں کو شاید اس لیے خوف دلا رہے ہیں تا کہ وہ برے کاموں سے اجتناب کریں۔
بابا جی کہنے لگے، 'کیا مسجد میں لوگ خدا کے ڈر سے نہیں آتے؟ اور کیا وہ برے کاموں سے اجتناب خدا کی محبت میں نہیں کر سکتے؟' اب میں انہیں کیا جواب دیتا۔
وہ کہنے لگے، 'کاکا، ایک خدا جو انسان سے ستر ماوَں سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔۔۔ جس مٹی کے پتلے کو اس نے بہترین ساخت پر بنایا ہے۔۔۔ کیا وہ ستر ماوَں کا پیار ایک طرف رکھ کر انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینکے گا؟'


اشفاق احمد زاویہ 3 کارڈیک اریسٹ

تہیہ کیجیے، راستہ پائیے

جب ایک آدمی کا تہیہ ہو جائے کہ میں نے اس راستے سے اس راستے پہ جانا ہے تو اللہ پھر اس کو برکت دیتا ہے اور پھر وہ آدمی جس کی تلاش میں ہوتا ہے وہ ایک دن خود صبح پانچ بجے آ کے اس کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ڈھونڈنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ تہیہ ہو تو پھر ہوتا ہے نہ ہو تو مشکل ہے، پھر آدمی ڈھونڈتا رہتا ہے، بتائیے اشفاق صاحب کوئی اچھا سا بابا!!!۔ یہ ایسے ہے کہ، کیوں کہ ابھی اس کا کوئی ارادہ نہیں اس کا صرف پروگرام یہی پوچھنا ہے کہ نارووال گاڑی کب جاتی ہے؟ کہیں جانا ہے؟ تو کہے گا، نہیں میں تو صرف ایسے ہی پوچھ رہا تھا!!!۔


باب، اندر کی تبدیلی سے اقتباس

حقیقی خیر اور اصل دھوکہ

بابے کہتے ہیں کہ جو شخص کسی کو دھوکہ دیتا ہے حقیقت میں خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ خیال کرتا ہے کہ کسی اور کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ اور جو کسی کی خیر اور بھلائی مانگ رہا ہوتا ہے وہ حقیقت میں اپنی بھلائی چاہ رہا ہوتا ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 سب دا بھلا سب دی خیر

بلونگڑے

آپ نوجوان ہیں آپ نے گاؤں میں بڈھوں بابوں کو دیکھا ہوگا وہ صبح سویرے کھیس کی بکل (موٹی چادر اوڑھ کر) باہر دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور جب ان کا کوئی پوتا پوتی پاس سے گذرتے ہیں تو جھپٹ کر پکڑ لیتے ہیں ، اور گود میں بٹھا لیتے ہیں ، اوaر کہتے ہیں کہ تیری ماں کو تو کچھ عقل ہی نہیں ہے ۔ شکل دیکھی ہی اپنی ، منہ بھی نہیں دھویا ۔ اور وہ اپنے اس کھیس کو تھوک لگا لگا کر پوتے یا پوتی کا چہرہ صاف کرتے رہتے ہیں جس طرح بلی اپنی بلونگڑے کو چاٹ کر خوبصورت بنا دیتی ہے ۔ وہ دادا بھی اپنے پوتے یا پوتی کو خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ ایسے ہی جب آپ خدا کی حضوری میں یا اس کی جھولی میں چلے جاتے ہیں اور پکار کر کہتے ہیں " مجھے آپ ہی عطا کرو ، میں تو اس قابل نہیں ہوں ۔ میں اپنی خود صفائی نہیں کر سکتا " ۔ تو پھر یقیناًخدا کی خاص توجہ ملتی ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 ڈبو اور کالو صفحہ 139