نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دوسروں پر نظر

ہم لوگوں کی، اوروں کے چھوٹے چھوٹےعیوب پر نظر ہے اور اپنے بڑے بڑے عیوب دکھائی نہیں دیتے۔ اپنے بدن پر سانپ بچھو لٹک رہے ہیں، ان کی پرواہ نہیں اور ہم دوسروں کی مکھیاں اڑانے کی فکر میں ہیں۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615
حالیہ پوسٹس

ذکر اذکار

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ تم کو سوائے اللہ کے ذکر کے اطمینانِ قلب نصیب ہی نہیں ہو سکتا ۔ جب تک خدا کا ذکر نہیں کرو گے( جلی یا خفی ) اس وقت تک اطمینانِ قلب کی دولت نصیب نہیں ہوگی ۔ لوگ کہتے ہیں اور عام کہتے ہیں کہ خالی ذکر کوئی معنی نہیں رکھتا ، اس کے ساتھ عمل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عمل کے بغیر کوئی راست قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ محض ہو حق سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے آپ کے مقصد کا حصول نہیں ہوتا ۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ اگر املی کا نام لینے سے منہ میں پانی آجاتا ہے تو خدا کا نام لینے سے وجود پر کوئی اثر بھی مرتب نہیں ہوگا ؟ ایک نامی گرامی بادشاہ کی چہیتی بیٹی بیمار پڑی ۔ اس عہد کے بڑے اطباء اور صادق حکیموں سے اس کا علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا گیا ۔ آخر میں وہاں کے سیانے کو کو بلا کر مریضہ کو دکھایا گیا اس نے مریضہ کے سرہانے بیٹھ کر لا اِلٰہ کا ورد شروع کر دیا ۔ طبیب اور حکیم اس کے اس فعل کو دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہا کہ محض الفاظ جسم پر کس طرح اثر انداز ہونگے ! تعجب !۔ اس صوفی نے چلا کر کہا "خاموش ! تم سب لوگ گدھے ہواور احمق…

نکتہ چینی

خواتین و حضرات ! اگر خوش رہنا ہے تو نکتہ چینی چھوڑ دیں ۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ایک روز ہم کو اسی معیار سے جانچا جائے گا جو معیار ہمارے لیے طے کر دیا گیا ہے ۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ کیونکہ جب آپ کسی کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو آپ کی تین انگلیاں خود آپ کی جانب اٹھ جاتی ہیں ۔ پھر فائدہ ! ۔ ۔ ۔




اشفاق احمد زاویہ 3روح کی سرگوشی صفحہ 311

خالی زندگیاں

بہت سے لوگوں کے پاس دین کا اور نفسیات کا بڑا علم ہوتا ہے ۔ لیکن ان کی زندگیاں بڑی خالی ہوتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف باہرکا علم انسان کے اندر کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ہر شخص جانتا ہے کہ ظلم سے ظلم پیدا ہوتاہے پھر بھی ہر شخص دوسرے پر ظلم کرتا ہے ۔


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 532

اللہ کا فضل۔۔۔ بندے

اصل میں آج تک میرے سارے کام انسانوں نے ہی کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لطف بے پایاں اور خیرِ کثیر کے مجھ تک پہنچنے کا سامان ہمیشہ بندوں نے ہی کیا ہے ۔ بیماری میں میرا علاج کسی انسان نے کیا ۔ با عزت طور پر بری کسی انسان نے کیا ۔۔۔۔۔ نعمتیں ہمیشہ بندے ہی اٹھا کر ، دھو کر ، کاٹ کر ، سجا کر لائے ۔ جب اللہ نے مجھے خوش کرنا چاہا تو لوگوں سے ہی تالی بجوائی ۔ جب مجھے محبت عطا کرنی چاہی تو کسی شخص سے ہی مجھے جپھی ڈلوائی ۔ جب میں نے سفر کا ارادہ کیا تو ایک بندے کو ہی میرا پائلٹ بنایا ۔ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑی تو پے کلرک نے ہی مجھے پیسے لا کر دیے ۔ لیمن جوس مجھے ہمیشہ ایئر ہوسٹس نے پلایا ۔ اور میاں محمد بخش صاحب کے شعر مجھے بندے نے ہی سنائے ۔ اس کا فضل اور اس کا کرم ہمیشہ مجھے کسی انسان کی معرفت ہی پہنچا ۔


اشفاق احمد از بانو قدسیہ مردِ ابریشم صفحہ 64

انسان، دلچسپ مخلوق

انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے۔ یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کر رستا ہوا خون چاٹتا ہے۔ انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے۔ انسان پتھروں سے، مشینوں سے اور جانوروں سے تو پیار کر سکتا ہے لیکن انسانوں سے نہیں۔۔۔۔


اشفاق احمد  شہرِ آرزو

پریم جل

مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کر سکتا ۔ وقفے وقفے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی دہاڑی کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے ۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے ۔


اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 166