نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

خوشی کی لہر

یہ میرا ایک ذاتی خیال ہے، جس کے ساتھ میں وابستہ رہتا ہوں- مایوسی کی بڑی گھٹائیں ہیں، بڑی بے چینیاں ہیں، بڑی پریشانیاں ہیں-اکنامکس کا آپ کے یوٹیلیٹی بلز کا ہی مسئلہ اتنا ہو گیا ہے کہ انسان اس سے باہرہی نہیں نکلتا- آدمی روتا رہتا ہے، لیکن ہمارے اس لاہور میں، ہمارے اس مُلک میں اور ہمارے اس مُلک سے ماورا دوسری اسلامی دنیا میں کچھ نہ کچھ تو لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اکنامکس کی تنگی کے باوصف یہ کہتے ہوں گے جو میں نہیں کہہ سکتا- میں کسی نہ کسی طرح سے خوش ہو سکتا ہوں، کیونکہ خوشی کا مال ودولت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں- ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ اگر مال ودولت کے ساتھ جائیداد کے ساتھ خوشی کاتعلق ہوتا تو آپ اتنی ساری چیزیں چھوڑ کرکبھی سوتے ناں! ان ساری چیزوں کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے چھوڑ کر سو جاتے ہیں اور سونا اتنی بڑی نعمت ہے جو آپ کو راحت عطا کرتی ہےاور اگر آپ کو کوئی جگائے تو آپ کہتے ہیں کہ مجھے تنگ نہ کرو- اگر اس سے کہیں کہ تیری وہ کار، جائیداد اور بینک بیلنس پڑا ہے تو اس سونے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی- اس سے طے یہ پایا کہ یہ دولت یہ مال ومتاع یہ سب کچھ آپ کو خوشی عطا نہیں کرتے، خوش…
حالیہ پوسٹس

نظر بد

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں محبت بھرا سلام پہنچے۔ میں ایک تھوڑے سے دکھی دل کے ساتھ، طبیعت پر بوجھ لے کر آپ سے بات کر رہا ہوں ور امید ہے کہ آپ بھی میرے اس دکھ میں شرکت فرمائیں گے۔ ایک زمانے میں جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری بڑی آپا جو نظرِ بد پر بڑا اعتقار رکھتی تھیں، میں اس وقت باوصف کہ بہت چھوٹا تھا اور میں بھی نظر وظر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن چونکہ میرے بڑے بھائی مجھے سیر کے لۓ اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں نیلی نیکر پہن کر اپنے سنہرے بالوں کے ساتھ “ باوا “ سا بنا ہوا ساتھ چلتا تھا تو میری بڑی آپا کہتی تھیں کہ ٹھہرو میں اس کے ماتھے پر تھوڑی کالک لگا دوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ لیکن میں ان کے اس عمل سے بڑا گھبراتا تھا۔ کئی گھرانوں میں نظر کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ میں کالک لگانے سے گھبراتا کہ میرے ماتھے پر کالک کیوں لگائی جاتی ہے؟ میری چھوٹی آپا اس پر کوئی یقین نہیں رکھتی تھیں اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ ماتھے پر کالک نہیں لگاتے بلکہ اس طریقے سے نظر اتاری جاتی ہے۔ میری ماں سرخ مرچیں لے کر انہیں جلتے ہوئے کوئلوں پہ رکھ کر کہا کرتیں کہ …

آٹو گراف

میں اب جب کبھی اپنے بالا خانے کی کھڑکی کھول کے دیکھتا ہوں تو میرے سامنے ایک لمبی گلی ہوتی ہے جو بالکل سنسان اور ویران ہوتی ہے۔ جب میں اسے دور تک دیکھتا ہوں تو لے دے کے ایک ہی خیال میرے ذہن میں رہتا ہے کہ یہاں وہ شخص رہتا ہے جس نے 1982ء میں میرے ساتھ یہ زیادتی کی تھی کہ اس کے سامنے وہ شخص رہائش پذیر ہے جو 1971ء میں میرے ساتھ قطعِ تعلق کر کے اپنے گھر بیٹھ گیا اور اس کے بعد سے ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی۔ سارے محلے میں سارے رشتے کچھ اسی طرح کے ہو چکے ہیں اور باوصف اس کے کہ کہیں کہیں ہم ایک دوسرے سے سلام و دعا بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے احوال بھی دریافت کرتے ہیں لیکن اندر سے ہم بالکل کٹ چکے ہیں اور ہمارے اندر جو انسانی رشتے تھے وہ بہت دور چلے گۓ ہیں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کچھ لوگوں کو فیل ہونے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ ساری زندگی Failure میں گزار دیتے ہیں۔ ان کا تعلق ہی ناکامی سے ہوتا ہے۔ انہیں اندر ہی اندر یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں میں کامیاب نہ ہو جاؤں۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ میں کامیاب زندگی بسر کرنے لگوں اور ایک اچھا Relaxed اور پرسکون شخص بن کر اس معاشرے کو کچھ…

خمیر

دیکھو فیصلے ہم پر شروع میں ڈال دیے جاتے ہیں چوری چوری ہماری مرضی پوچھے بنا۔ہر انسان کے اندر ایک خمیر ہوتا ہے، جیسے سرسوں کے بیج میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کا رنگ زرد ہو گا، تربوز کاٹو تو اس کے ہر بیج کا یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس سے جنم لینے والا تربوز اندر سے سرخ ہو گا۔۔۔ دیکھو قیوم نہ تربوز اپنی خوشی سے سرخ ہوتا ہے، نہ چنبیلی اپنی مرضی سے خوشبودار۔۔۔ سب کے بیج کا خمیر ہے جو آدمی کو چور بناتا ہے، اس کے وجود کو غارت گری کا خمیر لگا ہوتا ہے کہیں۔ نیک سازگار ماحول میں شاید ساری عمر اس کی یہ خوبی نہ کھلے، لیکن جس کے اندر غارت گری کا خمیر نہیں ہو گا۔۔۔ وہ ناسازگار ماحول میں کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔ کبھی چور نہیں بن سکے گا۔۔۔ یار میرے، سیدھی سی بات ہے سیب کو تم بھی گرتا دیکھتے ہو، نیوٹن نے بھی دیکھا، تم کشش ثقل ایجاد نہیں کرتے، وہ ایجاد کر جاتا ہے۔۔۔ کیونکہ تمھارے بیج میں وہ راستہ نہیں تھا، جو ایک سائنسدان کا ہوتا ہے۔


بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس

Well Wishing - ویل وشنگ

میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ جب وقت ملے اور گھر میں کوئی دیوار ہو تو اُس میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ جب وقت ملے اور گھر میں کوئی دیوار ہو تو اُس کے ساتھ ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھ کر اپنا تجزیہ ضرور کیا جانا چاہئے- یہ ہے تو ذرا سا مشکل کام اور اس پر انسان اس قدر شدّت سے عمل پیرا نہیں ہو سکتا، جو درکار ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے بہت سی اپنی باتیں کُھل کر سامنے آتی ہیں- آپ نے سُنا ہوگا کہ یہ جو رفو گر ہیں، کشمیر میں برف باری کے دنوں میں اپنا سوئی دھاگہ لے کر چلے جاتے ہیں اور وہاں کپڑے کے اندر ہو جانے والے بڑے بڑے شگافوں کی رفو گری کا کام کرتے ہیں، جن میں خاص طور پر گرم کپڑوں کے شگاف اور”لگار“ اور چٹاخ جو ہوتے ہیں اُن کی رفو گری کرتے ہیں، وہ کہاں سے دھاگہ لیتے ہیں اور کس طرح سے اس کو اس دھاگے کے ساتھ مہارت سے ملاتے ہیں کہ ہم”ٹریس“ نہیں کر سکتے کہ یہاں پر اتنا بڑا (Gape) سُوراخ ہو گیا تھا، کیونکہ وہ بالکل ایسا کر دیتے ہیں، جیسے کپڑا کارخانے سے بن کر آتا ہے- یہ رفو گروں کا کمال ہے- وہ غریب لوگ اپنی چادر لے کر اور اپنی کانگڑی (مٹّی کی بھٹّی) سُلگا کر اُس میں کوئلے ڈال کر، دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھے ہوتے…

من کی آلودگی

آج سے چند روز بیشتر ہم Pollution کی بات کر رہے تھے اور ہمارا کہنا تھا کہ ساری دنیا آلودگی میں مستغرق ہے اور یہ آلودگی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ شجر و حجر اور حیوانات کو بھی کھاۓ چلی جا رہی ہے۔ اس کے دور رس نقصانات ہیں اور اس کے خاتمے کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ جب ہم اس گفتگو میں بحثیت ایک قاری یا ناظر کے شریک تھے تو مجھے خیال آیا کہ انسانی زندگی میں دو متوازی لہریں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ ایک تو ہماری اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اور ایک زندگی کا نامعلوم حصہ ہوتا ہے۔ اس حصے کو ہم گو جانتے نہیں ہیں لیکن محسوس ضرور کرتے ہیں۔ یہ حصہ ہماری زندگی کی اس لہر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس وقت مجھے اپنے بابوں کا خیال آیا جن کا میں اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں کہ وہ بابے Pollution کے بارے میں خاصے محتاط ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی بڑی فکر رہتی ہے کہ کسی بھی صورت میں آلودگی نہ ہونے پاۓ اور وہ اس حوالے سے خاص اہتمام کرتے۔ یہ International Pollution Campaign سے پہلے کی بات ہے جب ڈیروں پر ایک ایسا وقت بھی آتا تھا کہ ڈیرے کا بابا اور اس کے خلیفے آلودگی کے خلاف اپنے آپ کو باقاع…

سلطان سنگھاڑے والا

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب اُس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ وہ اب بڑے پُرسکون انداز میں زندگی بسر کرے اور وہ ایسے جھمیلوں میں نہ رہے، جس طرح کے جھمیلوں میں اُس نے اپنی گزشتہ زندگی بسر کی ہوئی ہوتی ہے اور یہ آرزو بڑی شدت سے ہوتی ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں، وہ بڑے مزے میں رہتے ہیں اور وہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔ ہم کو اُنہوں نے بتایا ہوتا ہے کہ ہم ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی رکھیں اور وہ خود بیچ میں سے نکل کر اللہ کو دوست بنا لیتے ہیں۔ اُن کے اوپر کوئی تکلیف، کوئی بوجھ اور کوئی پہاڑ نہیں گرتا۔ سارے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے اور آپ کے ہیں، لیکن ان لوگوں کو ایک ایسا سہارا ہوتا ہے، ایک ایسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ اُنہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔ میں نے یہ بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمارے گھر میں دھوپ سینکتے ہوئے میں ایک چڑیا کو دیکھا کرتا ہوں، جو بڑی دیر سے ہمارے گھر میں رہتی ہے اور غالباً یہ اُس چڑیا کی یا تو بیٹی ہے، یا نواسی ہے جو بہت ہی دیر سے ہمارے مکان کی چھت کے ایک کونے میں رہتی ہے۔ ہمارا مکان ویسے تو بڑا اچھا ہے، اس کی "آروی&quo…