نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

January, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

About Ashfaq Ahmed - اشفاق احمد کے بارے میں

Ashfaq Ahmed, PP, SI (Urdu: اشفاق احمد) (August 22, 1925 – September 7, 2004) was a distinguished writer, playwright, broadcaster, intellectual and spiritualist from Pakistan. His prime qualities of heart and hand earned appreciations across the borders. He was regarded by many as the best Urdu Afsana (short-story) writer after Saadat Hasan Manto, Ismat Chughtai and Krishan Chander following the publication of his famous short-story "Gaddarya" - The Shepherd in 1955.

Life and career

Ahmed was born on 22 August 1925 in Garhmukteshwar village, Ghaziabad, British India. He obtained his early education in his native district. Shortly before independence in 1947, he migrated to Pakistan and made the Punjab metropolis, Lahore as his abode. He completed his Masters in Urdu literature from Government College Lahore. Bano Qudsia, his wife and companion in Urdu literary circles who is also one of the best novelists of Urdu, was his classmate at Government College.

After P…

پنجاب کا دوپٹہ

جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہےتو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے- کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے- مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ٹکڑیوں میں ملتے ہیں- میں چاہتا ہوں کہ اب وہ آپ کے حوالے کر دوں- حالانکہ اس میں تاریخی نوعیت کا کوئی بڑا واقعہ آپ کو نہیں ملے گا لیکن معاشرتی زندگی کو بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو اس میں ہماری سیاسی زندگی کے بہت سے پہلو نمایاں نظر آئیں گے۔ آج سے کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے میں کسی سرکاری کام سے حیدرآباد گیا تھا۔ سندھ میں مجھے تقریباً ایک ہفتے کے لئے رہنا پڑا، اس لئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے، چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ تھی- دو دن وہاں گزارنے کے بعد میری طبیعت جیسے بے چین ہو گئی-میں اکثراس حوالے سے آپ کی خدمت میں ُ ُ بابوں“ کا ذکر کرتا ہوں- میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بھٹ شاہ (شاہ عبدالطیف بھٹائی ) کا مزار یہاں قریب ہی ہے اور آج جمعرات بھی ہے، اس لئے آج ہم وہاں چلتے ہیں- وہ میری بات مان گئی- میزبانوں نے بھی ہمیں گاڑی اور ڈرائی…