نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

February, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Download "Aik Muhabbat Sau Afsanay" by Ashfaq Ahmed

One of the finest story teller, Ashfaq Ahmed has written quite a few plays for Pakistan Television. The subjects of his dramas are close to life and the characters very believable. ‘Aik Muhabbat Sau Afsaney’ is once again a highly acclaimed compilation of short novels by Ashfaq Ahmed that encompasses real life situations centered on real life characters. These one are one of his early days but classic work.
حالیہ ادبی تاریخ کے مشہور افسانہ نگار، اشفاق احمد نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے کئی ڈرامے تحریر کیے۔ ان کے ڈراموں کے موضوعات زندگی سے متعلق عام انسان کی زندگی کے عین قریب ہے۔ "ایک محبت سو افسانے" اشفاق احمد کی اسی سوچ سے لبریز افسانوں کا مجموعہ ہے جو کہ زندگی کے حقیقی کرداروں کے حقیقی حالات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کتاب، اشفاق احمد صاحب نے اپنے فنی دور زندگی کے ابتدائی برسوں میں تحریر کی، مگر یہ کلاسیکی کا درجہ رکھتی ہے۔
Download the book: Aik Muhabbat Sau Afsanay - ایک محبت سو افسانے by Ashfaq Ahmed Download Link 1 Download Link 2

Download Ashfaq Ahmed Book, Phulkari

Phulkaari is a tremendous collection of short stories written by the pen of Ishfaq Ahmad. In this book some of the very awesome stories like,
DaoRishwatApni ZaatSalam'tay Ki Maanare included. Dao, a short story written by Ishfaq Ahmad was included in the syllabus of Urdu Text Book of Punjab. A must read... Download the book: Phulkari - پھلکاری by Ashfaq Ahmed

محبت کا چھلاوہ

محبت ایک چھلاوہ ھے۔۔۔ قیوم!
اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ھے۔ کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ھیں، وہ اتصال جسم کے خواہاں ھیں ۔ کچھ آپ کی روح کے لیئے تڑپتے ھیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ھو جانا چاھتے ھیں ۔ کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ھوتا ھے۔ محبت چھلاوہ ھے، لاکھ روپ بدلتی ھے ۔ ۔ ۔ اسی لیئے لاکھ چاھو ایک آدمی آپ کی تمام ضرورتیں پوری کر دے یہ ممکن نہیں۔۔۔ اور بالفرض کوئی آپ کی ھر سمت ھر جہت کے خلا کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ھے کہ آپ اس کی ھر ضرورت کو ھر جگہ ھر موسم اور ھر عہد میں پورا کرسکیں گے۔۔۔۔ انسان جامد نہیں ھے بڑھنے والا ھے اوپر اور دائیں بائیں۔۔۔۔  اس کی ضروریات کو تم پابند نہیں کر سکتے۔


ًبانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس بشکریہ: قیصر صدیق

خدا سے محبت

ہمیں خدا سے ایسی محبّت ھونی چاہیے جیسے بہن اور بھائی کی محبّت ہوتی ہے یا ماں اور بچے کی محبّت ہوتی ہے. ایسی محبّت نہیں ھونی چاہیے جو عاشق و معشوق یا میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے. پہلی قسم کی لوگ اپنی محبّت کا اظہار برملا کرسکتے ہیں ، جلوت میں، خلوت میں، گھر میں، سراہے میں ، محفل میں, تنہائی میں لیکن دوسری قسم کی محبّت کرنے والے صرف خلوت میں اور تنہائی میں اپنی محبّت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ہمیں ان لوگوں کی پیروی نہیں کرنی چاہے جو کہتے ہیں ہم خدا سے محبّت کا اظہار صرف مسجد یا مراقبے میں یا درگاہ کی اندر کرسکتے ہیں, ہمیں تو اپنی محبّت کا اظہار ہر جگہ کرنا ہے اور ہر مقام پہ کرنا ہے... ہر شخص سے کرنا ہے اور ہر موسم میں کرنا ہے اس میں چھپنا یا چھپانا نہیں ہے۔
بابا صاحبا سے اقتباس
بشکریہ: کنول نصیر خان