نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مومن کی شان

پھر اہمیت کس کو ہوئی۔۔۔ جسم کو، روح کو یا دماغ کو؟

ارشاد: کمال ہے بیگم صاحبہ! آپ سٹول کی تینوں ٹانگوں کے بارے میں پوچھ رہی ہیں، ان میں سے اہم ترین کون سی ہے کہ سٹول گرنے نہ پائے اور اپنا توازن قائم رکھے۔
عائشہ: تینوں ہی اہم ہیں مسز سلمان اور ایک جیسی اہم ہیں۔
عذرا: مجھے تو سمجھ نہیں آتی بالکل۔ میں تو قدم قدم پر غلطیاں کرتی ہوں اور قدم قدم پر گرتی ہوں۔
ارشاد: انسان غلطی بھی کرتا ہے، گرتا بھی ہے اور ناکام بھی ہوتا ہے۔ انسان جو ہوا۔ اس کائنات میں صرف ایک ذات ایسی ہے جو نہ غلطی کرتی ہے اور نہ ہی ناکام ہوتی ہے۔
عذرا: خدا کی ذات!
ارشاد: اب جو لوگ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پر کڑھتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں، وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔۔۔ اور جب ان سے خدا بنا نہیں جاتا کہ یہ ناممکن بات ہے تو پھر وہ شیطان بن جاتے ہیں اور بڑے نقصان کرتے ہیں۔
عائشہ: سارے معاشرے کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
ارشاد: سارے معاشرے کو؛ اپنے آپ کو؛ پورے ماحول کو۔۔۔ (موڈ بدل کر) پاکپتن میں میں نے بابا صاحب کے مزار پر ایک فقیر کو دیکھا کہ ہاتھ میں روٹی رکھے کھا رہا تھا اور اس کے کچلوندے کبوتروں کو ڈال رہا تھا۔ میں نے کہا، "بابا! اس درگاہ میں تم کیا کام کرتے ہو؟" کہنے لگا، "صاحب! ہم گرتے ہیں اور پھر اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر گرتے ہیں اور پھر اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ہمارے بابوں نے مومن کی یہی شان بتلائی ہے کہ گرے تو پھر اٹھ کھڑا ہو جائے۔ پھسلے تو پھر سنبھل جائے۔ مومن وہ نہیں ہوتا کہ ٹھوکر ہی نہ کھائے، مومن تو وہ ہوتا ہے ٹھوکر کھائے تو ترنت اپنی جگہ پر قائم ہو جائے"۔

اشفاق احمد کے ناول، من چلے کا سودا سے اقتباس

بشکریہ: فہمینہ حسین

تبصرے