نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

March, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خوشی کی لہر

یہ میرا ایک ذاتی خیال ہے، جس کے ساتھ میں وابستہ رہتا ہوں- مایوسی کی بڑی گھٹائیں ہیں، بڑی بے چینیاں ہیں، بڑی پریشانیاں ہیں-اکنامکس کا آپ کے یوٹیلیٹی بلز کا ہی مسئلہ اتنا ہو گیا ہے کہ انسان اس سے باہرہی نہیں نکلتا- آدمی روتا رہتا ہے، لیکن ہما...رے اس لاہور میں، ہمارے اس مُلک میں اور ہمارے اس مُلک سے ماورا دوسری اسلامی دنیا میں کچھ نہ کچھ تو لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اکنامکس کی تنگی کے باوصف یہ کہتے ہوں گے جو میں نہیں کہہ سکتا- میں کسی نہ کسی طرح سے خوش ہو سکتا ہوں، کیونکہ خوشی کا مال ودولت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں- ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ اگر مال ودولت کے ساتھ جائیداد کے ساتھ خوشی کاتعلق ہوتا تو آپ اتنی ساری چیزیں چھوڑ کرکبھی سوتے ناں! ان ساری چیزوں کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے چھوڑ کر سو جاتے ہیں اور سونا اتنی بڑی نعمت ہے جو آپ کو راحت عطا کرتی ہےاور اگر آپ کو کوئی جگائے تو آپ کہتے ہیں کہ مجھے تنگ نہ کرو- اگر اس سے کہیں کہ تیری وہ کار، جائیداد اور بینک بیلنس پڑا ہے تو اس سونے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی- اس سے طے یہ پایا کہ یہ دولت یہ مال ومتاع یہ سب کچھ آپ کو خوشی عطا نہیں کرتے، خ…

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگرہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا اور تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے۔" تو اس صورت میں ہمیں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے، اس لیے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں اور ہمارے بابا جی ہمیں اکثر و بیشتر یہ کہا…

شک

میں ایک بہت ضروری اور اہم بات لے کر گھر سے چلا تھا لیکن سٹوڈیو پہنچنے سے پہلے ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا جس سے میرا سارا ذہن اور آپ سے بات کرنے کا سوچا ہوا انداز ہی تبدیل ہوکر رہ گیا اور جو بات میرے ذہن میں تھی، وہ بھی پھسل کر ایک اور جگہ مقیَّد ہو گئی ہے۔ میں جب گھر گیا تو میں نے دیکھا کہ میرے بیوی نے ہمارا ایک نیا ملازم جو گاؤں سے آیا ہے، اس کم سن کے ہاتھ کے ساتھ ایک چھوٹی سی رسی باندھ کر اسے چارپائی کے پائے کے ساتھ باندھ کے بندر کی طرح‌بٹھایا ہوا ہے۔ میں نے کہا، یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی اس نے میرے پرس میں سے ایک پانچ سو کا، دو سو سو اور تین نوٹ دس دس روپے کے چرا لئے ہیں اور اس نے یہ سات سو تیس روپے کی چوری کی ہے۔ یہ ابھی نیا نیا آیا ہے اور اس کی آنکھوں میں‌دیکھو صاف بے ایمانی جھلکتی ہے۔ میں نے کہا، مجھے تو ایسی کوئی چیز نظرنہیں آتی۔ کہنے لگی، نہیں آپ کو اندازہ نہیں ہے، جب یہ آیا تھا تب اس کے کان ایسے نہیں تھے اور اب جب اس نے چوری کر لی ہے تو اس کے کانوں‌میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا، دیکھئے یہ آپ شک وشبہ کی بات کرتی ہیں۔ اس حوالے سے آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ خدا…

تقدیر اور تدبیر

انسان دو پاؤں کا جانور ہے۔ اس کا ایک پاؤں تدبیر سے اٹھتا ہے اور دوسرے قدم کو اس کی قسمت اٹھاتی ہے۔ تمہارے ڈی این اے نے یہ بات طے کر دی تھی کہ تمہاری آنکھوں کا اور بالوں کا رنگ کیا ہو گا۔۔۔ یہ بات بھی طے ہے کہ تمہارا قد اتنا ہی ہو گا۔۔۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔ اور ان بالوں کو، اس رنگ کو اور قد کو جو چار چاند میک اپ اور ہیل والی جوتیاں لگاتی ہیں، وہ تدبیر ہے۔ قسمت گندھی ہوئی مٹی ہے، کوئی اس سے اینٹیں بناتا ہے۔۔ کوئی کوزہ تیار کرتا ہے۔۔ کوئی اس مٹی میں پھول اگاتا ہے، ٹیوب روز کے۔۔۔  من چلے کا سودا صفحہ بائیس سے اقتباس
بشکریہ: فہمینہ حسین

سیدھا راستہ

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا- میرے "بابا“ نے کہا یہ بڑی غور طلب بات ہے- جو شخص بھی گول چکروں میں گھومتا ہے اور اپنے ایک ہی خیال کے اندر”وسِ گھولتا“ہے اور جو گول گول چکر لگاتا رہتا ہے، وہ کُفر کرتا ہے، شِرک کرتا ہے کیونکہ وہ اِھدِناالصّراطَ المُستَقیم (دکھا ہم کو سیدھا راس…

خدا کا گیت

میں چونکہ بہت ہی پڑھا لکھا آدمی تھا اور ولایت سے آیا تھا، میں کہتا۔۔ کہاں ہوتا ہے خدا؟ اس نے کہا، خدا ہوتا نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے، نہ جانا جاتا ہے، نہ جانا جا سکتا ہے اور خدا کے بارے میں تمہارا ہر خیال وہ حقیقت نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی۔۔۔ اس کو جانا جانا چاہیے۔ میں کہتا کیوں جانا جانا چاہیے اور آپ اس کا کیوں بار بار ذکر کرتے ہیں؟ آپ ہر بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نہ جانا جاتا ہے اور نہ جانا جا سکتا ہے۔ کہنے لگے کہ پرندہ کیوں گاتا ہے اور کیوں چہچہاتا ہے، اس لیے نہیں کہ پرندے کے پاس کوئی خبر ہوتی ہے، کوئی اعلان ہوتا ہےم یا پرندے نے کوئی ضمیمہ چھاپا ہوا ہوتا ہے کہ "آ گئی آج کی تازہ خبر"۔ پرندہ کبھی بھی ضمیمے کی آواز نہیں لگاتا، پرندہ اس لیے گاتا ہے کہ اس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے اور ہم خدا کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ پرندے کی طرح ہمارے پاس بھی اس کے نام کا گیت ہے۔ جب تک آپ اس میں اتنے گہرے، اتنے Deep اور اتنے عمیق نہیں جائیں گے اس وقت تک تمہارا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
زاویہ دوم، باب دوم سے اقتباس
بشکریہ: قیصر صدیق

ہماری خواہشات

ہمارے اور خواہش کے درمیان ایک عجیب طرح کا رشتہ ہے جسے بابا بدھا یہ کہتا ہے کہ جب تک خواہش اندر سے نہیں نکلے گی (چاہے اچھی کیوں نہ ہو) اس وقت تک دل بے چین رہے گا۔ جب انسان اس خواہش کو ڈھیلا چھوڑ دے گا او رکہے گا کہ جو بھی راستہ ہے، جو بھی طے کیا گیا ہے میں اس کی طرف چلا جاؤں گا، چاہے ایسی خواہش ہی کیوں نہ ہو کہ میں ایک اچھا رائٹر یا پینٹر بن جاؤں یا میں ایک اچھا "اچھا" بن جاؤں۔ جب انسان خواہش کی شدت کو ڈھیلا چھوڑ کر بغیر کوئی اعلان کیے بغیر خط کشیدہ کیے یا لائن کھینچے چلتا جائے تو پھر آسانی ملے گی۔
 زاویہ دوم، باب دوم سے اقتباس

ترقی اور جمہوریت کا بڑھاپا

ایک انگریز مصنف ہے جس کا میں نام بھولنے لگا ہوں۔ اس کی معافی چاہتا ہوں لیکن شاید گفتگو کے دوران نام یاد آجائے ، وہ مصنف کہتا ہے کہ تکبر ، رعونت اور گھمنڈ اور مطلق العنانیت جب قوموں اور حکومتوں میں پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک طرح کی ڈویلپمنٹ بلکہ بڑی گہری ڈویلپمنٹ ہوتی ہے اور اس کے بعد جب کوئی حکومت ، کوئی مملکت یا کوئی بھی طرزِ معاشرت یا زندگی وہ Democratic یا شعورائی انداز سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہو تو پھر یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب جمہوریت بوڑھی ہوگئی، کمزور ، بیمار ہوگئی ہے اور اس کے آخری ایام ہیں۔ کسی بھی قوم میں تکبر یا گھمنڈ آجائے تو وہ اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ جمہوریت جس کو لے کر یہ کئی صدیوں سے چل رہے تھے، اب کمزور اور ماؤف ہوگئے ہیں۔ تکبر اور فرعونیت کے بڑے روپ ہیں ، اونچے بھی اور نیچے بھی اور ان کو سنبھالا دینا اور ان کے ساتھ اس شرافت کے ساتھ چلنا جس کا معاملہ نبیوں نے انسانوں کے ساتھ کیا ہے، بڑا ہی مشکل کام ہے۔ کسی قسم کی تعلیم ، کسی قسم کی دنیاوی تربیت ہمارا ساتھ نہیں دیتی اور تکبر سے انسان بس اوپر سے اوپر ہی نکل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے بہت کوششیں ہوتی ہیں۔ 2…

Hotline - ہاٹ لائن

ایک مرتبہ پروگرام "زاویہ" میں گفتگو کے دوران "دعا" کے بارے میں بات ہوئی تھی اور پھر بہت سے لوگ "دعا" کے حوالے سے بحث و تمحیث اور غور و خوض کرتے رہے اور اس بابت مجھ سے بھی بار بار پوچھا گیا۔ میں اس کا کوئی ایسا ماہر تو نہیں ہوں لیکن میں نے ایک تجویز پیش کی تھی جسے بہت سے لوگوں نے پسند کیا اور وہ یہ تھی "دعا" کو بجائے کہنے یا بولنے کے ایک عرضی کی صورت میں لکھ لیا جائے۔ عرض کرنے اور میرے اس طرح سوچنے کی وجہ یہ تھی کہ پوری نماز میں یا عبادت میں جب ہم دعا کے مقام پر پہنچتے ہیں تو ہم بہت تیزی میں ہوتے ہیں اور بہت (اتاولی) کے ساتھ دعا مانگتے ہیں۔ ایک پاؤں میں جوتا ہوتا ہے، دوسرا پہن چکے ہوتے ہیں، اُٹھتے اٹھتے،کھڑے کھڑے جلدی سے دعا مانگتے چلے جاتے ہیں یعنی وہ رشتہ اور وہ تعلق جو انسان کا خدا کی ذات سے ہے، وہ اس طرح جلد بازی کی کیفیت میں پورا نہیں ہو پاتا۔ ہمارے بابا نے ایک ترکیب یہ سوچی تھی کہ دعا مانگتے وقت انسان پورے خضوع کے ساتھ اور پوری توجّہ کے ساتھ Full Attention رکھتے ہوئے دعا کی طرف توجّہ دے اور جو اس کا نفسِ مضمون ہو، اُس کو ذہن میں اُتار کر، ت…

Psycho Analysis

کبھی کبھی زندگی میں یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت زیادہ خوشیوں اور بڑی راحتوں کے ساتھ ان کے پیچھے چھپی ہوئی مشکلات بھی آ جاتی ہیں اور پھر ان مشکلات سے جان چھڑانی یوں مشکل ہوتی ہے۔ کہ انسان گھبرایا ہوا سا لگتا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں بہت بارشیں ہوئیں۔ بارشیں جہاں خوشیوں کا پیغام لے کر آئیں، وہاں کچھ مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔ ہمارے گھر میں ایک راستہ، جو چھوٹے دروازے سے ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے اور پھر اس سے ہم اپنے گھر کے صحن میں داخل ہوتے ہیں، بارشوں کی وجہ سے وہ چھوٹا دروازہ کھول دیا گیا، تاکہ آنے جانے میں آسانی رہے۔ آسانی تو ہوئی، لیکن اس میں پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ کہ باہر سے جو جوتے آتے تھے، وہ کیچڑ سے لتھڑے ہوئے ہوتے تھے اور باوجود کوشش کے اور انہیں صاف کرنے کے، کیچڑ تو اندر آ ہی جاتا تھا اور اس سے سارا قالین خراب ہو جاتا تھا۔
میں چونکہ اب تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہوں اور بوڑھے آدمی میں کنٹرول کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ تو میں چیختا چلاتا تھا اور ہر اندر آنے والے سے کہتا کہ جوتا اتار کر آؤ اور اسے پہننے کے بجائے ہاتھ میں پکڑ کر آؤ۔ اس سے میرے پوتے اور پوتیاں بہت حیران ہوتے تھے کہ اس جوتے ک…

احترام آدمیت

احترامِ آدمیت کا جو اللہ نے پہلا حکم دیا تھا، اس پرکار بند نہیں رہ سکے۔ جب یہ ہی نہیں ہو گا، تو پھر آپ اگر روحانیت کی دنیا میں داخل ہونا چاہیں گے، کسی بابے کو ملنا چاہیں گے، کسی اعلٰی ارفع سطح پر ابھرنا چاہیں گے، تو ایسا نہیں ہو گا، کیونکہ درجات کو پانے کے لئے بڑے بڑے فضول، نالائق بندوں کی جوتیاں سیدھی کرنا پڑتی ہیں اور یہ اللہ کو بتانا پڑتا ہے کہ جیسا جیسا بھی انسان ہے، میں اس کا احترام کرنے کے لئے تیار ہوں، کیونکہ تو نے اسے شکل دی ہے۔ دیکھئے ناں! جو شکل و صورت ہوتی ہے، میں نے تو اسے نہیں بنایا، یا آپ نے اسے نہیں بنایا، بلکہ اسے اللہ تعالٰی نے بنایا ہے۔ میری بیٹیاں بہوئیں جب بھی کوئی رشتہ دیکھنے جاتی ہیں، تو میں ہمیشہ ایک بات سنتا ہوں کہ بابا جی! لڑکی بڑی اچھی ہے، لیکن اس کی “چھب“ پیاری نہیں ہے۔ پتہ نہیں یہ “چھب“ کیا بلا ہوتی ہے۔ وہ ان کو پسند نہیں آتی اور انسان سے کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتی ہیں۔ میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کرو۔ شکل و صورت سب کچھ اللہ تعالٰی نے بنائی ہے۔ یہ کسی جوتا کمپنی نے نہیں بنائی ہے۔ انسان کو تم ایسا مت کہا کرو، ورنہ تمھارے نمبر کٹ جائیں گے اور ساری نم…

Mao Zedong - ماؤزے تنگ

جب فوٹو کھنچ چکا تو ماؤ ہمارے سامنے کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگا۔ اب ہم لوگ باری باری اس سے ہاتھ ملانے لگے، جب میری باری آئی تو میں نے اس کے کلچے سے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگا، پھر میں نے قریبی انٹرپریٹر سے کہا،”ان سے کہو کہ مجھے کوئی نصیحت کریں!۔“ ”نصیحت!“ ماؤ نے حیران ہو کر پوچھا ”کیسی نصیحت؟“ اس کے چہرے پر ناخوشی کے تاثرات تھے۔میں نے کہا کہ ”نصیحت جو ایک بڑ ا بزرگ، ایک تجربہ کار صاحب فراست اپنے چھوٹوں کو کیا کرتا ہے۔“ چیئرمین ماؤ ذرا سا مسکرایا پھر اپنی آدھی بند آنکھوں کو اور بند کر لیا۔ ذرا توقف کیا جیسے آٹو گراف دینے والے لمحہ بھر کے لئے سوچا کرتے ہیں۔پھر بڑی صاف اور کھنک دار آواز میں بولا۔ ”اس کو کہو کہ اپنی بقا اور سالمیت کے لئے اپنے ملک کی سرحدیں غیرملکی اور سامراجی ثقافت پر سربمہر کر دیں۔ یہی میری نصیحت ہے۔“ مجھے اتنے بڑے عظیم اور عالمی رہنما کی یہ چھوٹی سی بات پسند نہ آئی۔ اتنے بڑے ماؤ نے اتنی ہلکی سی بات کہی تھی کہ مجھے حوصلہ ہو گیا۔میں نے کہا،”سر ثقافتیں تو ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ان کو تازہ پانیوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے اور پھر یہ دوس…