نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیبت

ہم جب بھی کسی بندے سے ملتے ہیں، ہمیں اس میں سے ٹیڑھ نظر آتی ہے۔ جب ٹیڑھ ہمیں نظر آتی ہے تو پھر ہماری زندگی میں، ہماری ذات اور ہمارے وجود میں بھی ایک ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ٹیڑھ نکلتی نہیں ہے اس لۓ اللہ نے ہم پر خاص مہربانی فرما کر ہمیں غیبت سے منع فرمایا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ کافی عرصے کی بات ہے کہ ہم کسی بابے کی ذکر کی محفل میں داخل ہوئے تاکہ اپنی ٹریننگ کی جاۓ۔
انہوں نے کہا کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے وجود کے اندر ایک ایسا عضو ہے جو اگر خراب ہو جاۓ تو سارے کا سارا بندہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ عضو دل ہے۔ اس طرح سے ہم اور آپ لوگوں کے دل خراب ہو گۓ ہیں اور ان کے اوپر “ راکھ “ جم گئی ہے جیسے پرانی دیگچی جس میں چاۓ پکاتے ہیں وہ اندر اور باہر سے ہو جاتی ہے بالکل اس طرح سے ہمارے دل ہو گۓ ہیں اور ہم اللہ کے ذکر سے اس کو صاف کرتے ہیں اور اس کو “ مانجا “ لگاتے ہیں اور اللہ ہُو کے ذکر سے اس زنگ اور کائی لگے دل کو صاف کرتے ہیں اور یہ خرابی بے شمار گناہ کرنے کہ وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ یقین کیجیے گا کہ جب میں اس محفل میں تھا اور میں اس میں شامل ہونے والا تھا تو میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ میں تو ایک اچھا نیک سا نوجوان ہوں اور میں نے کوئی خاص گناہ نہیں کیا تو میرا دل کیسے کالا ہو گیا اور میں اس کو “ مانجا “ لگاؤں۔ یہ ایک خیال سا میرے ذہن میں آ گیا اور کافی دیر تک میں سوچتا رہا۔ محفلِ ذکر سے قبل وہ بابا جی کہنے لگے کہ بیشتر اس کے کہ ہم محفل شروع کریں شاید بہت سارے اصحاب یہ سوچتے ہیں کہ وہ تو اچھے ہیں۔ انہوں نے تو کوئی گناہ نہیں کیا۔ تو پھر کیسے ہمارا دل کالا ہو گیا۔ کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔ کوئی چوری چاری نہیں کی۔ کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا۔
بابا جی کہنے لگے کہ ایسا سوچنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت بڑے گناہوں میں سے ایک بہت بڑا گناہ غیبت ہے۔
خواتین و حضرات ! اب غیبت تو ہم سارے ہی کرتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم کھانا نہیں کھاتے۔ ہمارے گھر میں ہماری بہوئیں کہتی ہیں کہ ماموں اب ہمارا غیبت کا ٹائم ہو گیا ہے۔ دس بجے ان کی “چغلی میٹنگ“ ہوتی ہے۔ وہ ہر بار ایک دوسرے کے گھر میں جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس بار ہم نے چغلی میٹنگ رضیہ کے گھر میں رکھی ہے اور دس بجے سے لے کر بارہ بجے تک وہ چغلی کرتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تم اتنی زیادہ چغلی کیوں کرتی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ساری دنیا میں اور پورہ کرہ ارض پر چغلی ہوتی ہے۔ جتنے بھی اخبارات چھپتے ہیں وہ سارا چغلیوں سے ہی بھرا ہوتا ہے۔ جو بھی کالم چھپتے ہیں ان میں لوگوں کی خرابیاں ہی بیان کی ہوئی ہوتی ہیں۔ کیس کی اچھائیاں تو نہیں ہوتیں ان میں اور فلاں برا فلاں برا کی گردان بھی ہوتی ہے اور اس سے ہم نے سبق لے کر یہ کام سیکھا ہے۔ ہم نے بابا جی کے ہاں ذکر کی محفل میں شرمندگی سے ذکر شروع کیا کہ واقعی ہم چغلی تو بہت زیادہ کرتے ہیں اور روز کرتے ہیں۔ چغلی اس لۓ کرنی پڑتی ہے کہ اپنی ذات میں چونکہ کوئی صفت یا خوبی نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے اور ہم دوسرے کو نیچے دھکیل کے اور ڈبو کے اپنے آپ کو اوپر اچھالتے ہیں۔ ہم نے بابا جی سے کہا کہ جی آپ کیسے خوبی تلاش کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی شخص کے اندر داخل ہوں اور اس کے متعلق صاحبِ حال ہوں تو پھر آپ کو آسانی ہو گی اور آپ بھی اس بات یا خوبی کو پکڑ لیں گے جس کو ہم پکڑ لیتے ہیں۔ مائیکل اینجلو ایک بہت بڑا مجسمہ ساز تھا۔ اس نے بہت خوبصورت مجسمے بناۓ۔ اس نے حضرت عیسٰی اور حضرت مریم کے بہت سے مجسمے بناۓ۔ اس کا بنایا ہوا ڈیوڈ کا اٹھارہ فٹ اونچا مجسمہ فلورنس میں بھی ہے جسے ساری دنیا دیکھنے جاتی ہے۔ اسے ہم نے بھی دیکھا۔
کسی نے اس سے پوچھا کہ مائیکل یہ بتاؤ کہ تم کس طرح سے یہ مجسمہ بناتے ہو۔ ایسا خوبصورت مجسمہ کیسے بنا لیتے ہو ؟ یہ تو انسانی کمال کا ایک آخری حصہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو مجسمہ نہیں بناتا اور نہ ہی مجھے بنانا آتا ہے۔ میں سنگِ مرمر کا ایک بڑا ٹکڑا کہیں پڑا ہوا دیکھتا ہوں اور مجھے اس میں “ ڈیوڈ “ نظر آنے لگتا ہے اور میں چھینی، ہتھوڑی لے کر اس پتھر میں سے ڈیوڈ کے ساتھ پتھر کا فضول حصہ اتار دیتا ہوں اور اندر سے ڈیوڈ (حضرت داؤد) نکل آتے ہیں۔ میں کچھ نہیں کرتا۔ مجھے تو ڈیوڈ صاف نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ میں بس ان کے ساتھ غیر ضروری پتھر اتار دیتا ہوں۔ اس طرح سے یہ بابے جو ہیں یہ انسان کی غیر ضروری چیزیں اتار دیتے ہیں اور نیچے سے بڑا پاکیزہ، اچھا اور خوبصورت سا انسان نکال کے اپنے سامنے بٹھا لیتے ہیں اور پھر اس کو اپنی توجہ کے ساتھ وہ سب کچھ عطا کر دیتے ہیں بشرطیکہ وہ شخص اس کا آرزومند ہو اور صبر والا ہو۔ لیکن جو آرزومند ہو وہ صابر بھی ہونا چاہیے۔
زاویہ دوم، باب پینتیس سے اقتباس

بشکریہ: قیصر صدیق

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

چھوٹا اور بڑا کام۔۔۔

رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طرح اللہ تعالٰی کرتا ہے، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طرح اللہ تعالٰی کرتا ہے، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست نہیں کرتا- میں چاہتا ہوں کہ میری پسند کے رزق کا انتظام ہونا چاہئے- ہم اللہ کے لاڈلے تو ہیں۔ لیکن اتنے بھی نہیں جتنے خود کو سمجھتے ہیں۔ ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی آپ سے سردیوں میں رضائی مانگے تو اُس کے لیے رضائی کا بندوبست ضرور کریں، کیونکہ اُسے ضرورت ہو گی- لیکن اگر وہ یہ شرط عائد کرے کہ مجھے فلاں قسم کی رضائی دو تو پھر اُس کو باہر نکال دو، کیونکہ اس طرح اس کی ضرورت مختلف طرح کی ہو جائے گی۔ وقت کا دباؤ بڑا شدید ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ برداشت کے ساتھہ حالات ضرور بدل جائیں گے، بس ذرا سا اندر ہی اندر مُسکرانے کی ضرورت ہے- یہ ایک راز ہے جو سکولوں، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں میں نہیں سکھایا جاتا- ایسی باتیں تو بس بابوں کے ڈیروں سے ملتی ہیں- مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اشفاق صاحب کوئی بابا بتائیں- میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آپ کیا کریں گے؟ کہنے لگے، اُن سے کوئی کام لیں گے- نمبر پوچھیں گے انعامی بانڈز کا-…