نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Hotline - ہاٹ لائن

ایک مرتبہ پروگرام "زاویہ" میں گفتگو کے دوران "دعا" کے بارے میں بات ہوئی تھی اور پھر بہت سے لوگ "دعا" کے حوالے سے بحث و تمحیث اور غور و خوض کرتے رہے اور اس بابت مجھ سے بھی بار بار پوچھا گیا۔ میں اس کا کوئی ایسا ماہر تو نہیں ہوں لیکن میں نے ایک تجویز پیش کی تھی جسے بہت سے لوگوں نے پسند کیا اور وہ یہ تھی "دعا" کو بجائے کہنے یا بولنے کے ایک عرضی کی صورت میں لکھ لیا جائے۔ عرض کرنے اور میرے اس طرح سوچنے کی وجہ یہ تھی کہ پوری نماز میں یا عبادت میں جب ہم دعا کے مقام پر پہنچتے ہیں تو ہم بہت تیزی میں ہوتے ہیں اور بہت (اتاولی) کے ساتھ دعا مانگتے ہیں۔ ایک پاؤں میں جوتا ہوتا ہے، دوسرا پہن چکے ہوتے ہیں، اُٹھتے اٹھتے،کھڑے کھڑے جلدی سے دعا مانگتے چلے جاتے ہیں یعنی وہ رشتہ اور وہ تعلق جو انسان کا خدا کی ذات سے ہے، وہ اس طرح جلد بازی کی کیفیت میں پورا نہیں ہو پاتا۔ ہمارے بابا نے ایک ترکیب یہ سوچی تھی کہ دعا مانگتے وقت انسان پورے خضوع کے ساتھ اور پوری توجّہ کے ساتھ Full Attention رکھتے ہوئے دعا کی طرف توجّہ دے اور جو اس کا نفسِ مضمون ہو، اُس کو ذہن میں اُتار کر، تکلّم میں ڈھال کر اور پھر اس کو Communicate کرنے کے انداز میں آگے چلا جائے تاکہ اُس ذات تک پہنچے جس کے سامنے دعا مانگی جا رہی ہے یا پیش کی جا رہی ہے۔ ہمارے ایک دوست تھے، اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے دعا کاغذ پر لکھنے کی بجائے ایک اور کام کیا ہے جو آپ کی سوچ سے آگے ہے۔ میرے دوست افضل صاحب نے کہا کہ میں نے ایک رجسٹر بنا لیا ہے اور میں اس پر اپنی دعا بڑی توجّہ کے ساتھ لکھتا ہوں اور اس پر باقاعدہ ڈیٹ بھی لکھتا ہوں اور اس کے بعد میں پیچھے پلٹ کر اس کیفیت کا جائزہ بھی لیتا ہوں جو دعا مانگنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ میرے دوست کے رجسٹر بنانے کا بڑا فائدہ ہے اور ان کا تعلق اپنی ذات، اپنے اللہ اور اُس ہستی کے ساتھ جس کے آگے وہ سر جھکا کر دعا مانگتے ہیں، بہت قریب ہو جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر اور میں بھی اس میں شامل ہوں، جو یہ شکایت کرتے ہیں کہ" جی بڑی دعا مانگی لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ پر کوئی توجّہ نہیں دی جاتی اور ہماری دعائیں قبول نہں ہوتیں۔"

خواتین و حضرات! دعا کا سلسلہ ہی ایسا ہے جیسا نلکا " گیڑ" کے پانی نکالنے کا ہوتا ہے۔ جس طرح ہینڈ پمپ سے پانی نکالتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا جو ہینڈ پمپ بار بار یا مسلسل چلتا رہے یا "گڑتا " رہے، اُس میں سے بڑی جلدی پانی نکل آتا ہے اور جو ہینڈ پمپ سُوکھا ہوا ہو اور استعمال نہ کیا جاتا رہا ہو، اُس پر " گڑنے" والی کیفیت کبھی نہ گزری ہو۔ اُس پر آپ کتنا بھی زور لگاتے چلے جائیں، اُس میں سے پانی نہیں نکلتا۔ اس لئے دعا کے سلسلے میں آپ کو ہر وقت اس کی حد کے اندر داخل رہنے کی ضرورت ہے کہ دعا مانگتے ہی چلے جائیں اور مانگیں توجّہ کے ساتھ، چلتے ہوئے، کھڑے ہوئے، بے خیالی میں کہ یا اللہ ایسے کردے۔ عام طور پر جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں" دعاؤں میں یاد رکھنا " اور وہ بھی کہتے ہیں ہم آپ کو دعاؤں میں یاد رکھیں گے اور بہت ممکن ہے کہ وہ دعاؤں میں یاد رکھتے بھی ہوں لیکن آپ کو خود کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

خدا کے واسطے دعا کے دائرے سے ہرگز ہرگز نہیں نکلئے گا اور یہ مت کہیئے گا کہ جناب دعا مانگی تھی اور اُس کا کوئی جواب نہیں آیا، دیکھئے دعا خط وکتابت نہیں، دعا Correspondent نہیں ہے کہ آپ نے چٹھی لکھی اور اُس خط کا جواب آئے۔ یہ تو ایک یکطرفہ عمل ہے کہ آپ نے عرضی ڈال دی اور اللہ کے حضور گزار دی اور پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کہ یہ عرضی جا چکی ہےاور اب اس کے اوپر عمل ہو گا۔اُس کی (اللہ) مرضی کے مطابق کیونکہ وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کس دعا یا عرضی کو پورا کیا جانا ہے اور کس دعا نے آگے چل کر اُس شخص کے لئے نقصان دہ بن جانا ہے اور کس دعا نے آگے پہنچ کر اُس کو وہ کچھ عطا کرنا ہے جو اُس کے فائدے میں ہے۔ دعا مانگنے کے لئے صبر کی بڑی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں خط کے جواب آنے کے انتظار کا چکر نہیں ہونا چاہیئے۔ میں نے شائد پہلے بھی عرض کیا تھا کہ کچھ دعائیں تو مانگنے کے ساتھ ہی پوری ہو جاتی ہیں، کچھ دعاؤں میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور کچھ دعائیں آپ کی مرضی کے مطابق پوری نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر آپ اللہ سے ایک پھول مانگ رہے ہیں کہ " اے اللہ مجھے زندگی میں ایک ایسا پھول عطا فرما جو مجھے پہلے کبھی نہ ملا ہو۔" لیکن اللہ کی خواہش ہو کہ اسے ایک پھول کی بجائے زیادہ پھول، پورا گلدستہ یا پھولوں کا ایک ٹوکرا دے دیا جائے لیکن آپ ایک پھول پر ہی Insist کرتے رہیں اور ایک پھول کی ہی دعا بار بار کرتے جائیں اور اپنی عقل اور دانش کے مطابق اپنی تجویز کو شامل کرتے ہیں کہ مجھے ایک ہی پھول چاہیئے تو پھر اللہ کہتا ہے کہ اگراس کی خواہش ایک پھول ہی ہے تو اسے پھولوں سے بھرا ٹوکرا رہنے دیا جائے۔ آپ کی دانش اور عقل بالکل آپ کی دستگیری نہیں کرسکتی۔ مانگنے کا یہ طریقہ ہو کہ " اے اللہ میرے لئے جو بہتر ہے، مجھے وہ عطا فرما۔ میں انسان ہوں اور میری آررزوئیں اورخواہش بھی بہت زیادہ ہیں، میری کمزوریاں بھی میرے ساتھ ہیں اور تُو پروردگارِ مطلق ہے، میں بہت دست بستہ انداز میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے کچھ ایسی چیز عطا فرما جو مجھے بھی پسند آئے اور میرے ارد گرد رہنے والوں کو، میرے عزیز واقارب کو پسند ہو اور اس میں تیری رحمت بھی شامل ہو۔ اگر کہیں کہ اللہ جو چاہے عطا کرے وہ ٹھیک ہے۔اللہ آپ کو فقیری عطا کردے جبکہ آپ کی خواہش سی ایس ایس افسر بننے یا ضلع ناظم بننے کی ہو۔ دعا ایسی مانگنی چاہیئے کہ اے اللہ مجھے ضلع ناظم بھی بنا دے اور پھر ایسا نیک بھی رکھ کہ رہتی دنیا تک لوگ اس طرح یاد کریں کہ باوصف اس کے کہ اس کو ایک بڑی مشکل درپیش تھی اور انسانوں کے ساتھ اس کے بہت کڑے روابط تھے لیکن پھر بھی وہ اس میں پورا اترا اور کامیاب ٹھہرا۔ دعا کے حوالے سے یہ باریک بات توجہ طلب اور نوٹ کرنے والی ہے۔ پھر بعض اوقات آپ دعا مانگتے مانگتے بہت لمبی عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور دعا پوری نہیں ہوتی۔ اللہ بعض اوقات آپ کی دعا کو Defer بھی کر دیتا ہے۔ جیسے آپ ڈیفنس سیونگ بانڈز لیتے ہیں، وہ دس سال کے بعد میچور ہوتے ہیں۔ جس طرح کہتے ہیں کہ یہ بچّہ ہو گیا ہے۔ اب اس کے نام کا ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکٹ لے لیں، اسے آگے چل کر انعام مل جائے گا۔ اس طرح اللہ بھی کہتا ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ اب اس شخص کے لئے یہ چیز عطا کرنا غیر مفید یا بے سود ثابت ہو گا، ہم اس کو آگے چل کر اس سے بھی بہت بڑا انعام دیں گے بشرطیکہ یہ صبر اختیار کرے اور ہماری مرضی سمجھنے کی کوشش کرے۔ دعا کو خدا کے واسطےایک معمولی چیز نہ سمجھا کریں۔ پہلی بات تو یہ ہے جو مشاہدے میں آئی ہے کہ دعا ایک اہم چیز ہے۔ جس کے بارے میں خداوند تعالٰی خود فرماتے ہیں کہ "جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر پہلو کے بل لیٹ کر، یا بیٹھ کر میرا ذکر کرو" یعنی میرے ساتھ ایک رابطہ قائم کرو۔ جب تک یہ تعلق پیدا نہیں ہوگا، جب تک یہ Hot Line نہیں لگے گی۔ اُس وقت تک تم بہت ساری چیزیں نہیں سمجھ سکو گے۔ ہم نے بھی بابا جی کے کہنے پر جو بات دل میں ہوتی اُس کو بڑے خوشخط انداز میں لمبے کاغذ پر٠لکھ کر، لپیٹ کر رکھتے تھے اور اس کے اوپر یوں حاوی ہوتے تھے کہ وہ تحریر اور وہ دعا ہمارے ذہن کے نہاں خانوں میں ہر وقت موجود رہتی تھی۔ ایک صاحب مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ جب وہ دعا پوری ہوجائے تو پھر کیا کریں؟ میں نے کہا کہ پھر اس کاغذ کو پھاڑ کر ( ظاہر ہے اس میں آپ نے بہت باتیں بھی لکھی ہوں گی کیونکہ آدمی کی آرزو خالص Materialistic یا مادّہ پرستی کی دعاؤں کی ہی نہیں ہوتی کچھ اور دعائیں بھی انسان مانگتا ہے ) پُرزہ پُرزہ کر کے کسی پھل دار درخت کی جڑ میں دبا دیں، یہ احترام کے لئے کہا ہے ۔ ویسے تو آپ خود بھی جانتے ہیں کہ ایسی تحریروں والے مقدّس کاغذوں کے ڈسپوزل کا کیا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیئے۔ ہمارے دوست جو افضل صاحب ہیں ، انہوں نے دعاؤں کا باقاعدہ ایک رجسٹر بنایا ہوا ہے جو قابل غور بات ہے اور اس میں وہ دیکھتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو فلاں سن میں میں نے یہ دعا مانگی تھی ، کچھ دعائیں چھوٹی ہوتی ہیں، معمولی معمولی سی ۔ وہ ان کو بھی رجسٹر میں سے دیکھتے کہ یہ اس سن میں مانگی دعا، اس وقت آکر پوری ہوئی اور فلاں دعا کب اور جب جا کر پوری ہوئی۔ دعا پوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ چلتے چلتے جلدی جلدی میں دعا مانگنے کا کوئی ایسا فائدہ نہیں ہوتا۔ کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو بہت “ٹھاہ “ کرکے لگتی ہیں۔ بغداد میں ایک نانبائی تھا، وہ بہت اچھے نان کلچی لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لئے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات اسے معاوضے کے طور پر کھوٹہ سکہ دے کے چلے جاتے جیسے ہمارے یہاں بھی ہوتے ہیں۔ وہ نانبائی کھوٹہ سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اپنے “گلے“ (پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹہ سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا۔ جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر اللہ سے کہا (دیکھئے یہ بھی دعا کا ایک انداز ہے ) “ اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلٰی درجے کے خوشبودار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں جیسا تو چاہتا ہے۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کردے۔ میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔ بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے اس کو خواب میں دیکھا تو وہ اونچے مقام پر فائز تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا وہ متمنی تھا۔ “ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دعا مانگی گئی ہے لیکن قبولیت نہیں ہوئی اور جواب ملنا چاہیے لیکن جو محسوس کرنے والے دل ہوتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ نہیں جواب ملتا ہے ۔ ایک چھوٹی سی بچی تھی۔ اس کی گڑیا کھیلتے ہوئے ٹوٹ گئی تو وہ بیچاری رونے لگی اور جیسے بچوں کی عادت ہوتی ہے تو اس نے کہا کہ اللہ میاں جی میری گڑیا جوڑ دو ، یہ ٹوٹ گئی ہے ۔ اس کا بھائی ہنسنے لگا کہ بھئی ٹوٹ گئی ہے اور اب یہ جڑ نہیں سکتی۔ اس نے کہا کہ مجھے اس گڑیا کے جڑنے سے کوئی تعلق نہیں ہے ، میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ میاں جواب نہیں دیا کرتے ۔ اللہ میاں کو تو بڑے بڑے کام ہوتے ہیں۔ لڑکی نے کہا کہ ان میں اللہ میاں کو ضرور پکاروں گی اور وہ میری بات کا ضرور جواب دے گا۔ اس نے کہا ، اچھا اور چلا گیا۔ جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو دیکھا کہ بہن ویسے ہی ٹوٹی گڑیا لئے بیٹھی ہوئی ہے اور بہن سے کہنے لگا ، بتاؤ کہ اللہ میاں کا کوئی جواب آیا۔ وہ کہنے لگی ، ہاں آیا ہے ۔ اس لڑکے نے کہا تو پھر کیا کہا ؟ اس کی بہن کہنے لگی ، اللہ میاں نے کہا ہے یہ نہیں جڑ سکتی ۔ یہ اس لڑکی کا ایک یقین اور ایقان تھا۔ بہت سی دعاؤں کے جواب میں ایسا بھی حکم آجاتا ہے۔ ایسی بھی Indication آجاتی ہے کہ یہ کام نہیں ہوگا۔ اس کو دل کی نہایت خوشی کے ساتھ برداشت کرنا چاہیئے۔ ہم برداشت نہیں کرتے ہیں لیکن کوئی بات نہیں۔ پھر بھی ہمیں معافی ہے کہ ہم تقاضۂ بشری کے تحت ، انسان ہونے کے ناطے بہت ساری چیزوں کو اس طرح چھوڑ دیتے ہیں اور ہم پورے کے پورے اس پر حاوی نہیں ہوتے۔ کئی مرتبہ دعا مانگنے کے سلسلے میں کچھ لوگ بڑی ذہانت استعمال کرتے ہیں۔ آخر انسان ہیں نا! آدمی سوچتا بھی بڑے ٹیڑھے انداز میں ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک لڑکی تھی ، جوان تھی لیکن شادی نہیں ہورہی تھی۔ ہم اسے کہتے کہ توبھی دعا مانگ اور ہم بھی دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تیرا رشتہ کہیں کرا دے۔ اس نے کہا ، میں اپنی ذات کے لئے کبھی دعا نہیں مانگوں گی۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا۔ ہم نے کہا کہ بھئی تُو تو پھر بڑی ولی ہے جو صرف دوسروں کے لئے ہی دعا مانگتی ہے۔ اس نے کہا ولی نہیں ہوں لیکن دعا صرف مخلوقِ خدا کے لئے مانگتی ہوں۔ وہ اللہ زیادہ پوری کرتا ہے۔ ہم اس کی اس بات پر بڑے حیران ہوئے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی کہ “ اے اللہ میں اپنے لئے کچھ نہں مانگتی ، میں اپنی ماں کے لئے دعا مانگتی ہوں کہ اے خدا میری ماں کو ایک اچھا ، خوبصورت سا داماد دے دے ، تیری بڑی مہربانی ہوگی۔ اس سے میری ماں خوش ہوگی ، میں اپنے لئے کچھ نہیں چاہتی۔ وہ ذہین بھی ہو ، اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو۔ اس کی جائیداد بھی ہو۔ اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے۔“ انسان ایسی بھی دعائیں مانگتا ہے ۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ اس قسم کی اور اس طرح سے دعا مانگنا بھی بڑی اچھی بات ہے۔ اس سے بھی اللہ سے ایک تعلق ظاہر ہوتاہے ۔ اللہ ہر زبان سمجھتا ہے۔ اپنی دعا کو نکھار نکھار کے نتھار نتھار کے چوکھٹا لگا کے اللہ کی خدمت میں پیش کیا جائے کہ جی یہ چاہیئے، ان چیزوں کی آرزو ہے۔ یہ بیماری ہے ، یہ مشکل ہے ، حل کردیں۔ آپ کی بری مہربانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو دعا مانگنے والے کے لئے مشکل پیدا کردیتی ہیں کہ وہ صبر کا دامن چھوڑ کر بہت زیادہ تجویز کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ جتنی جلدی میں دکھاؤں گا ، جتنی تیزی میں کروں گا اتنی تیزی کے ساتھ میری دعا قبول ہوگی۔ وہ ہر جگہ ، ہر مقام پر ہر ایک سے یہی کہتا پھرتا ہے۔ اگر کبھی وہ یہ تجربہ کرے کہ میں نے عرضی ڈال دی ہے اور لکھ کر ڈال دی ہے اور اب مجھے آرام کے ساتھ بیٹھ جانا چاہیئے کیونکہ وہ عرضی ایک بڑے اعلٰی دربار میں گئی ہے اور اس کا کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور ہوگا۔ کئی دفعہ دعا کے راستے میں یہ چیز حائل ہو جاتی ہے کہ اب جب آپ کوئی کوشش کر ہی رہے ہیں تو پھر انشاء اللہ تعالی آپ کی کوشش کے صدقے کام ہوجائےگا۔ ہم یہ بھی سوچتے ہیں لیکن یہ بھی میرا ایک ذاتی خیال ہے کہ دعا کی طرف پہلے توجہ دینی چاہیئے اور کوشش بعد میں ہونی چاہیے ۔ دعا کی بڑی اہمیت ہے۔ دعا کے ساتھ گہری اور یقین کے ساتھ وابستگی ہونی چاہیئے، اور جب گہری وابستگی ہو تو اس یقین کے ساتھ کوشش کرکے سوچنا چاہیئے کہ اب عرضی چلی گئی ہے ، اب اس کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ دعا ہر زبان میں پوری ہوتی ہے جس زبان میں بھی کی جائے۔ 1857 ء میں جب انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ آزادی جا ری تھی اور مولوی حضرات اس جنگ کی رہنمائی کر رہے تھے اور توپیں بھر بھر کے چلا رہے تھے تو اس جنگ کے خاتمے پر ایک مولوی نے ایک انگریز سے کہا کہ حیرانی کی بات ہے کہ ہم جو بھی تدبیر یا تجویز کرتے ہیں وہ پوری نہیں ہوتی اور آپ جو بھی کام کرتے ہیں ہر جگہ پر آپ کو کامیابی ملتی رہی ہے ، اس کی کیا وجہ ہے؟ انگریز نے ہنس کے کہا “ ہم ہر کام کے لئے دعا مانگتے ہیں۔“ مولوی صاحب نے کہا ، دعا تو ہم بھی مانگتے ہیں ۔ انگریز نے کہا ، ہم انگریزی میں دعا مانگتے ہیں ۔ اب مولوی بیچارہ خاموش ہو گیا۔ اس وقت بھی انگریزی کا ایک خاص رعب اور دبدبہ ہوتا تھا تو مولوی صاحب نے بھی کہا کہ شاید انگریزی میں مانگی ہوئی دعا کامیاب ہوتی ہوگی۔ دعا کے لئے کسی زبان کی قید نہیں ہے۔ بس دلّی وابستگی اہم ہے۔

اب میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین ۔ اللہ حافظ۔

بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: محب علوی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود
5C3WJHJTSZN5

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…