نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خدا کا گیت

میں چونکہ بہت ہی پڑھا لکھا آدمی تھا اور ولایت سے آیا تھا، میں کہتا۔۔ کہاں ہوتا ہے خدا؟ اس نے کہا، خدا ہوتا نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے، نہ جانا جاتا ہے، نہ جانا جا سکتا ہے اور خدا کے بارے میں تمہارا ہر خیال وہ حقیقت نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی۔۔۔ اس کو جانا جانا چاہیے۔ میں کہتا کیوں جانا جانا چاہیے اور آپ اس کا کیوں بار بار ذکر کرتے ہیں؟ آپ ہر بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نہ جانا جاتا ہے اور نہ جانا جا سکتا ہے۔ کہنے لگے کہ پرندہ کیوں گاتا ہے اور کیوں چہچہاتا ہے، اس لیے نہیں کہ پرندے کے پاس کوئی خبر ہوتی ہے، کوئی اعلان ہوتا ہےم یا پرندے نے کوئی ضمیمہ چھاپا ہوا ہوتا ہے کہ "آ گئی آج کی تازہ خبر"۔ پرندہ کبھی بھی ضمیمے کی آواز نہیں لگاتا، پرندہ اس لیے گاتا ہے کہ اس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے اور ہم خدا کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ پرندے کی طرح ہمارے پاس بھی اس کے نام کا گیت ہے۔ جب تک آپ اس میں اتنے گہرے، اتنے Deep اور اتنے عمیق نہیں جائیں گے اس وقت تک تمہارا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

 زاویہ دوم، باب دوم سے اقتباس 

بشکریہ: قیصر صدیق