نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

April, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

Ashfaq Ahmed Talks about Bano Qudsia

ویڈیو کے مندرجات 

ان کی آپا آئی تھیں، کنیہر سے۔ تو انھوں نے بی اے جو کیا تھا، میتھیمیٹکس میں کیا تھا، اے بی میں۔ تو پتہ ہے، اردو ان کو بالکل نہیں آتی تھی، تو ان کے دل میں پتہ نہیں کیا جلن پیدا ہوئی کہ میں نے اردو میں ایم اے کرنا ہے۔ بخاری صاحب، اس زمانے میں ہمارے پرنسپل تھے۔۔۔ اے ایس بخاری۔ تو صوفی صاحب نے، انھوں نے مل کے اور ایک خواجہ صاحب آ گئے تھے۔۔۔ خواجہ منظور حسین صاحب۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ادھر ایک کلاس چلانی ہے اردو کی تو میں یہ کر چکا تھا، بہت لائق فائق آدمی، گھومتا تھا۔ ایک میری کتاب بھی چھپ رہی تھی ان دنوں۔ تو انھوں نے کہا کہ کلاس کھولتے ہیں تو یہ بھی (بانو قدسیہ کی جانب اشارہ) آ گئیں۔ تین اور خواتین تھیں اور تین ہم لڑکے تھے۔ تو اس کو خوف تھا کہ میں اردو میں کیسے کروں گی؟ لیکن ان کی والدہ نے کہا کہ آپ کریں کہ صوفی صاحب نے کہا تھا کہ یہ ذہین لڑکی ہے اس کو کروا لیں، ہمارے پہلے پہلے ایم اے جو ہیں اس میں آ جائے گی۔ تو میں نے یہ دیکھا کہ ایک لڑکی جس کو ، جو ہمدری کو ہمددری لکھتی ہے (قہقہہ) اور خواہشمند کی "م"، "ہ" سے پہلے آ جاتی ہے تو یہ کس طرح سے پ…

چیلسی کے باعزت ماجھے گامے

میں ایک بات پر بہت زور دیتا رہا ہوں اور اب بھی مجھے اسی بات پر زور دینے کی تمنا ہے لیکن الحمدللہ کچھ اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ میں جس شدت سے اس صیغے پر قائم تھا وہ اتنا اہم نہیں تھا۔ میرا اس پر کامل یقین ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں کو ایک سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ (روٹی، کپڑا اور مکان کی کہانی تو عام چلتی رہی ہے اور اس بارے بڑا پرچار ہوتا رہا ہے) لوگوں کو ان کی عزتِ نفس سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی توقیر ذات کے لۓ آپ سے، اپنے ملک سے تقاضا کرے، میری عزتِ نفس اور Self Respect مجھے دی جائے۔ دولت، شہرت، روپیہ پیسہ اور علم کی ہر شخص ڈیمانڈ نہیں کرتا بلکہ عزت کا تقاضا سب سے پہلے کرتا ہے۔ دنیا کے جتنے بھی مہذب ملک ہیں انہوں نے اپنے لوگوں کو جو ایک بڑا انعام عطا کیا ہے وہ سارے کے سارے لوگ عزتِ نفس میں ایک سطح پر ہیں۔ یہ ان ملکوں کی جمہوریت کا خاصا کہہ لیں یا ان کی سوچ و فکر کی خوبی کہہ لیں یا پھر کوئی اور نام دے لیں۔ میں غیر ملکوں کی مثال دیا تو نہیں کرتا لیکن مجبوری کے تحت دے رہا ہوں کہ آپ ولایت چلے جائیں یا پھر لندن چلے جائیں وہاں آکسفورڈ سٹریٹ یا بون…

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے

خطوط کی دنیا بھی ایک نرالی دنیا ہے اس کا انسانی زندگی پر اور انسانی تاریخ پر بڑا گہرا اثر ہے۔ خط کب سے لکھے جانے شروع ہوۓ اور کب آ کر ختم ہوۓ۔ میں اس کے بارے میں یہ تو عرض کر سکتا ہوں کہ کب آ کر ختم ہوۓ لیکن ان کے لکھے جانے کی تاریخ اس کے بارے میں یقین اور وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لکھے جانے تو اب ختم ہوۓ ہیں جب کوئی ای - میل کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جب Chatting کا نیا لفظ ایجاد ہوا۔ جب کمپیوٹر کے ذریعے طرح طرح کے طریقے انسان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے ہیں لیکن خطوں کا جو حسن تھا اور خطوں میں جو بات ہوتی تھی اور ان کے اندر جس طرح سے اپنا آپ، اپنی روح، زندگی اور نفسیات نکال کر پیش کر دی جاتی تھی وہ اب نہیں رہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید ہم اس یونیورسٹی کے آخری طالبِ علم تھے جو چوری چوری خط لکھا کرتے تھے اور بڑے اچھے خط لکھا کرتے تھے۔ اب میں اپنے سٹوڈنٹس، بیٹوں، پوتوں اور نواسیوں کو دیکھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں Stop it Dada because this way of Communication is very silly and we can not write.
ہمیں تو اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ خط لکھتے پھریں۔ خواتین و حضرات وقت خدا جانے کدھر چلا گیا ہے کہ آدمی آدم…

زندگی سے پیار کی اجازت درکار ہے

پچھلے دنوں کچھ ایسے بوجھ طبیعت پہ رہے، ان کچھ اور چند دنوں کو میں اگر پھیلاؤں تو وہ بہت سارے سالوں پر محیط ہو جاتے ہیں لیکن اللہ کا فضل ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں دو ماہ ایسے آۓ کہ بوجھ میں کچھ کمی کا احساس پیدا ہوا اور یوں جی چاہا کہ ہم بھی زندوں میں شامل ہو جائیں اور جس مصنوعی سنجیدگی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اس سنجیدگی میں کچھ کمی پیدا کریں۔ ہم سے بڑوں نے بھی خود کو خوش کرنے کے لۓ خوش بختی کا سامان بہم کیا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ سارے یہی سمجھتے رہے کہ اگر ہمارے پاس ڈھیر ساری دولت ہو گی تو ہم خوش ہوں گے۔ ان بڑوں نے یہی ورثہ اپنے بچوں میں منتقل کیا۔ ہمارے طالبعلموں کو بھی یہی بتایا گیا کہ بہت سارے پیسے اور اقتصادی طور پر مضبوط مستقبل ہی خوشی ہے۔ ان مادی خوشیوں کو سمیٹتے سمیٹتے اب حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صورتِ حال نہایت تکلیف دہ ہو گئی ہے۔ آپ آۓ روز اخباروں میں نیب کے نتائج پڑھتے ہوں گے کہ فلاں شخص سے 5 یا 8 کروڑ واپس لے لیا گیا۔ یہ ہمارے وہ پیسے تھے جو لوگ لے کر بھاگ گۓ تھے۔ یہ بڑی دردناک کہانی ہے۔ میری تمنا اور آرزو ہے کہ ہم کاش ایسا بھی سوچنے لگیں کہ بہت زیادہ سنجیدگی ک…

علم اور وجدان کی سوچ

سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے۔ دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے۔ ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے، اس میں چاقو، چھری، مقدمہ، بحث مباحثے، کس بل، حق حقوق، چھینا جھپٹی، کرودھ، کام، ہنکار سب ہوتا ہے۔ دوسرا رہنا سہناایک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے۔ اس میں وجدان، شانتی، امن، پرسچت، پریم کی وجہ سے ہمیشہ ہجرت کا سماں رہتا ہے۔ اسی وجدان کی وجہ سے ایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں۔  بانو قدسیہ کی تصنیف سے اقتباس بشکریہ حنا شیراز و صفحہ برائے بانو قدسیہ

حق اور ناحق

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، "جو شخص تجھ سے مانگتا ہے، اس کو دے۔ کیا یہ تیری انا کے لیے کم ہے کہ کسی نے اپنا دست سوال تیرے آگے دراز کیا؟ اور عجیب و غریب انھوں نے یہ بات بھی کی کہ جو حقدار ہے اس کو بھی دے اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے، تاکہ جو تجھ کو ناحق کا مل رہا ہے وہ ملنا نہ بند ہو جائے۔ لوگ ایسے ہی روتے ہیں کہ میرا حق اور میں اپنے کی خاطر لڑوں گا اور مروں گا، ایسا ہوتا نہیں آدمی گھبرا جاتا ہے کہ اگر میں دے دوں گا اور دیے میں سے دوں گا تو کمی ہو جائے گی۔۔ دراصل ہوتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے جیسے پڑھے لکھے لوگ سیانے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

 زاویہ سے اقتباس، باب دیے میں سے دیا (حق)۔ 
بشکریہ: عابد علی وثیر عابد

محبت سے حق

میں نے انسان کو شہر بساتے اور حق مانگتے دیکھا ہے۔۔۔ جان لو صاحبو! جب کبھی سڑک بنتی ہے اس کے دائیں بائیں کا حق ہوتا ہے، جو مکان شہروں میں بنتے ہیں باپ کے مرتے ہی وارثوں کا حق بن جاتے ہیں۔ میرے ساتھ چلو اور چل کر دیکھو جب سے انسان نے جنگل چھوڑا ہے اس نے کتنے حق ایجاد کر لیے ہیں۔ رعایا اپنا حق مانگتی ہے، حکومت کو اپنے حقوق پیارے ہیں، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے حق مانگتی ہے، استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد اپنا حق مانگتا ہے۔ اصلی حق کا تصور اب انسان کے پاس نہیں رہا، کچھ مانگنا ہے تو اصلی حق مانگو۔۔۔ جب محبت ملے گی تو پھر سب حق خوشی سے ادا ہونگے، محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔  بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس بشکریہ: عابد علی وثیر عابد و فیس بک صفحہ برائے بانو قدسیہ

محاورے

ایسے مقام پر پہنچ کر اور ایک ایسی پر فضا جگہ پر آجانے کے بعد مجھے اپنے لڑکپن کا زمانہ یاد آتا ہے جب ہم سکول میں پڑھتے تھے۔ اس وقت ہمارے ماسٹر صدیق صاحب ہمیں اکثر اپنے ساتھ کلاس سے اٹھا کر ایسے باغوں اور گلستانوں میں لے جاتے تھے جہاں قدرت کےنظارے کتابی و نصابی علوم سے بڑھ کر ہوتے تھے اور جو ہماری زندگی کے قریب تر ہوا کرتے تھے اور ماسٹر صدیق صاحب بات کو سمجھانے اور بتانے کا بہتر فن جانتے تھے اور اس قدرت پر ملکہ رکھتے تھے۔ وہ ایک ایک پتے سے لے کر ایک تنا آور درخت تک اور ایک اڑتی ہوئی چڑیا سے لے کر ایک بیٹھی ہوئی گدھ تک ہر ایک بات اور مفہوم پر سیّر حاصل (گفتگو) کرتے تھے۔ ہمیں ان کی کچھ باتیں سمجھ میں آتی تھیں اور کچھ نہیں آتی تھیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کی باتیں آہستہ آہستہ ہمارے اوپر کُھلتی گئیں پھر ایک وقت ایسا بھی آگیا جب ہم ساتویں جماعت پاس کر کے آٹھویں میں داخل ہو گئے تو انھوں نے خصوصی طور پر ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ انگریزی کے محاوروں کو اچھی طرح سے زبانی یاد کرو اور ان کو اپنے ذہن میں بٹھاؤ کیونکہ آگے چل کر جب آپ کو انگریزی لکھنے کا موقع ملے گا تو یہ یاد کۓ ہوئے محاورے آپ ک…

بابے کی تلاش

بڑے برسوں کے بعد کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں سینما دیکھنے گیا۔ کالج کے زمانے میں ہم “منڈوا“ (سینما) دیکھنے جایا کرتے تھے۔ تب بھی اس وقت ہی جاتے تھے جب Matinee Show ہوتا تھا اور اتنے سال کے بعد جب دوبارہ سینما جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بھی یہ میٹنی شو ہی تھا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی پروگراموں میں ذکر کر چکا ہوں کہ لوگ مجھ سے اس پروگرام کی مناسبت سے کسی بابے کا پتہ پوچھتے ہیں یا پوچھتے ہیں کہ ہم روحانیت کی منازل تلاش کر سکیں یا ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتا دیں کہ ہم باطن کا پتہ کر سکیں اور اس منزل پر پہنچیں جہاں تک پہنچنے کے لۓ ہمیں کہا گیا ہے اور میں ان سے اکثر یہی عرض کیا کرتا ہوں کہ بابوں کی دنیا وہ ایسے نہیں ہے کہ جس طرح وہ کسی ماہر ڈاکٹر کا پتہ ہو اور آپ آرام سے کسی ماہرِ طبیب یا سپیشلسٹ کا پتہ اور فون نمبر حاصل کر لیں یا آپ کا نامی گرامی وکیل جو کبھی ہارتا ہی نہ ہو اس کے چیمبر کا پتہ، فون یا فیکس نمبر لے لیں بلکہ یہ بابے تو آپ کے اندر سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جب آپ تہیہ کر لیتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں بالکل ایسا ہی فیصلہ جس طرح آپ اور آپ کے گھر والے کرتے ہیں کہ آپ نے بی۔اےکرنا ہے۔ جس …

عالم اصغر سے عالم اکبر تک

ہم سب کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ہمارے ہاں بڑی دیر سے عالمِ اکبر کا تصور چلا آ رہا ہے اور اس پر بڑا کام بھی ہوا ہے اور اِس کے بارے میں صاحبِ حال لوگ جانتے ہیں اور جو اس میں گزرے ہیں ان کی کیفیت ہم لوگوں سے ذرا مختلف رہی ہے۔
Macrocosm (عالمِ اکبر) کے ساتھ ساتھ Microcosm (عالمِ اصغر) کا بھی سلسلہ چلا، کہ جو کچھ ہے وہ اس خدا کی طرف سے ہے۔ مغرب کے لوگ خاص طور پر امریکہ اور روس نے اس موضوع پر بڑا کام کیا ہے۔ ہمارے ہاں مشرق میں مولانا روم نے اور ان کے بعد مولانا روم کے شاگرد حضرت علامہ محمد اقبال نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا اور بتایا ہے لیکن اس کے اسرار اہستہ اہستہ اس وقت کھلنے لگے جب مغرب میں Parapsychology کا علم بطورِ خاص پڑھایا جانے لگا اور اس کی تفاسیر باہر نکلنے لگیں۔ امریکہ کی انیس کے قریب یونیورسٹیوں جن میں نارتھ کیرولینا کی یونیورسٹی بہت معروف ہے وہ اس سلسلے میں بہت آگے ہے۔ بھارت کی گیارہ کے قریب یونیورسٹیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔ ہم اس پر کام نہیں کرتے کیونکہ اس کو وقت کا ضیاع خیال کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل دقیانوسی تصور ہے لیکن West نے جو تصور قائم کیا ہے وہ…

مشرق کا مجذوب انسان

مشرق کو جاہل کہہ لیجیے، کم علم، ناعاقبت اندیش سمجھ لیجیے۔۔۔۔۔ دلدل میں دھنسا ہوا مشرقی انسان مکمل طور پر روایت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ اپنی لوک ریت، رسم و رواج سے محبت کرتا ہے۔۔۔ شاید وہ دکھ سہتے سہتے اپنی خرابیوں میں راسخ بھی ہو جاتا ہے، لیکن فلاح کی منزل دھندلاتی نہیں۔ سائنس سے دور، ہر لحظہ کی تبدیلی سے ناآشنا، اسکے صبح شام ایک سے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ مذہب سے وابستہ رہ کر، صبر کی ڈھال آگے رکھ کر چلتا رہتا ہے۔ ہم انسان کو مذہب کی اصلیت سے چاہے آگاہی نہ ہو وہ قبر پرستی، تعویذ گنڈہ، پیر حضوری میں دن گزارتے ہوئے ہولے ہولے غلاظت کے ڈھیروں میں گزرتے ہوئے مست اور مجذوب کے مرحلوں سے واقف، جسم پر رنگ برنگے منکوں کی مالائیں سجائے فقیر کو سامنے پا کر مشرقی انسان کو اپنی تمام تر بدنصیبی کے باوجود یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالمن ہے۔ یہاں انسان کا امتحان مقصود ہےاور حاصل حیات مابعد سے شروع ہوتی ہے۔ کوئی تبدیلی سفر آسان نہیں کر سکتی، کسی قسم کی ترقی انسان کو مکمل طور پر سکون، قناعت پسند، مسرت آشنا نہیں بنا سکتی۔ جب تک اوپر والے کا فضل نہ ہو، کچھ بھی مثبت نہیں ہوتا۔۔۔  بانو قدسیہ کی تصنیف، &qu…