نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Ashfaq Ahmed Talks about Bano Qudsia



 ویڈیو کے مندرجات 


ان کی آپا آئی تھیں، کنیہر سے۔ تو انھوں نے بی اے جو کیا تھا، میتھیمیٹکس میں کیا تھا، اے بی میں۔ تو پتہ ہے، اردو ان کو بالکل نہیں آتی تھی، تو ان کے دل میں پتہ نہیں کیا جلن پیدا ہوئی کہ میں نے اردو میں ایم اے کرنا ہے۔ بخاری صاحب، اس زمانے میں ہمارے پرنسپل تھے۔۔۔ اے ایس بخاری۔ تو صوفی صاحب نے، انھوں نے مل کے اور ایک خواجہ صاحب آ گئے تھے۔۔۔ خواجہ منظور حسین صاحب۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ادھر ایک کلاس چلانی ہے اردو کی تو میں یہ کر چکا تھا، بہت لائق فائق آدمی، گھومتا تھا۔ ایک میری کتاب بھی چھپ رہی تھی ان دنوں۔ تو انھوں نے کہا کہ کلاس کھولتے ہیں تو یہ بھی (بانو قدسیہ کی جانب اشارہ) آ گئیں۔ تین اور خواتین تھیں اور تین ہم لڑکے تھے۔ تو اس کو خوف تھا کہ میں اردو میں کیسے کروں گی؟ لیکن ان کی والدہ نے کہا کہ آپ کریں کہ صوفی صاحب نے کہا تھا کہ یہ ذہین لڑکی ہے اس کو کروا لیں، ہمارے پہلے پہلے ایم اے جو ہیں اس میں آ جائے گی۔ تو میں نے یہ دیکھا کہ ایک لڑکی جس کو ، جو ہمدری کو ہمددری لکھتی ہے (قہقہہ) اور خواہشمند کی "م"، "ہ" سے پہلے آ جاتی ہے تو یہ کس طرح سے پاس ہو گی؟ لیکن خیر پڑھنا شروع کیا، ہم تو سب کچھ جانتے ہی تھے، ہم تو پڑھے لکھے آدمی تھے (بلند قہقہہ)۔۔۔ ہم نے کوئی توجہ نہیں دی پڑھنے کو۔ تو جب پہلا ہمار کوارٹرلی ایگزامنیشن ہوا تو اس میں بانو قدسیہ فرسٹ اور ہم پیچھے تھے۔ (قہقہہ)۔ اچھا اس بات نے، جہاں مجھ میں غیرت پیدا کی وہاں شرمندگی کا بھی احساس ہوا اور کہا کہ آدمی محنت کے ساتھ، کوشش اور لگن کے ساتھ یہ بھی کر سکتا ہے، پھر ہم نے بھی اس کے ساتھ محنت شروع کر دی لیکن یہ اس معاملے میں کافی آگے تھیں۔
میں نے محسوس کیا کہ جو چیزیں مجھ میں بہت کم ہیں، وہ ان میں بہت زیادہ ہیں اور یہ ایک قابل تعریف بات ہے۔ تو اس زمانے میں ہمارے، جیلسی کم ہوتی تھی ۔۔۔ کم کیا ہوتی ہی نہیں تھی، لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا لاہور کا، میں سن اڑتالیس کا ذکر کر رہا ہوں جب بہت سے لوگ مال روڈ پر کھڑے ہو کر لوگوں کی کاروں کو دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے کہ کتنی خوبصورت ہیں۔ ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ میں جلن کے ساتھ کہوں کہ میرے پاس کیوں نہیں ہے؟ اور میں مکا ماروں میز کے اوپر!۔
تو ہم نے ان کو دیکھا، تو ان میں جب ساری خوبیوں کو نمایاں پایا تو پھر میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی خوبیاں پیدا نہیں ہو سکتیں، تو کیوں نہ ان خوبیوں کو اٹھا کر گھر لے چلیں۔ (قہقہہ)۔ تو پھر ان سے درخواست کی کہ میں نہیں بن سکتا ایسا کمال کا آدمی اور آپ ہمارے ساتھ چلیں۔۔۔

 بشکریہ: افتی ناصر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

میرا اللہ کہاں ہے؟

مجھ میں یہ کمی ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا۔ ایسی دھوپ نہیں ملتی۔ ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار ہو اور کچھ نہ کچھ اس سے بھی بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر میرا ذکر شروع کرو۔ لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے، پہلو کے بل۔ یعنی یہ بھی اجازت دی کہ جس طرح سے چاہو مرضی کرو۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے ہی، لیکن میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں تو پھر آپ کو ایک آواز سے، ایک وائبریشن سے، جسے بدن کا ارتعاش کہتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں، لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس طرف جا ہی نہیں سکتے اور اللہ نے چاہا تو جوں جوں وقت آگے بڑھتا جائے گا، ہمارے اندر شعور کی لہریں اور بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ ہم پہنچیں گے ضرور، جس طرح سے "کے ٹو" کی برفوں سے بہنے والا ایک چھوٹا سا نالہ دھکے کھاتا ہوا، جغرافیہ جانے بغیر، نقشہ لیے بغیر سمندر کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ایک دن سمندر میں …

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15