نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

علم اور عمل

اگر میرے سامنے دو راستے ہوں کہ، اصول کی پاسداری کر یا بھگت لوگوں کی سنگت میں رہو تو میں نیک لوگوں اور انعام یافتہ لوگوں کی معیت میں رہنا پسند کروں گا۔
عمل، علم کے لیے ایندھن کا کام دیتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ علم کا الاو روشن رہے تو اس میں عمل کا تیل ڈالتے رہیں۔ ایسا نہ ہوا تو اس کی روشنی ماند پڑ جائے گی۔
بیکار اور فضول چیزوں کا علم حاصل کرتے رہنا، اپنے آپ کو پریشان کرنا اور ارفع درجات کے حصول سے محروم رکھنا ہے۔
سائنس نے غضب کے حساس آلے ایجاد کیے ہیں جو دور دراز کے ستاروں کی حرارت تک ناپ لیتے ہیں لیکن افسوس سائنس کے پاس ایسا کوئی آلہ ہیں جو روح کے اندر کی سرگوشی سے روشناس ہو سکے۔
 زاویہ اول سے اقتباس