نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حق اور ناحق

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، "جو شخص تجھ سے مانگتا ہے، اس کو دے۔ کیا یہ تیری انا کے لیے کم ہے کہ کسی نے اپنا دست سوال تیرے آگے دراز کیا؟
اور عجیب و غریب انھوں نے یہ بات بھی کی کہ جو حقدار ہے اس کو بھی دے اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے، تاکہ جو تجھ کو ناحق کا مل رہا ہے وہ ملنا نہ بند ہو جائے۔
لوگ ایسے ہی روتے ہیں کہ میرا حق اور میں اپنے کی خاطر لڑوں گا اور مروں گا، ایسا ہوتا نہیں آدمی گھبرا جاتا ہے کہ اگر میں دے دوں گا اور دیے میں سے دوں گا تو کمی ہو جائے گی۔۔ دراصل ہوتی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے جیسے پڑھے لکھے لوگ سیانے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

 زاویہ سے اقتباس، باب دیے میں سے دیا (حق)۔ 
بشکریہ: عابد علی وثیر عابد