نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رہبانیت سے انسانوں کی بستی تک

ہم سب کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ہمیں دوسروں کے مقابلے میں ہدایات، احکامات، اشارات اور Instructions ذرا مختلف قسم کی دی گئی ہیں۔ دوسرے مذاہب، اُمتوں اور قوموں کے لۓ ذرا مختلف پروگرام ہے اور ہمارے لۓ ان سے کچھ علٰیحدہ حکم ہے۔ مثال کے طور پر ہندوؤں میں چار طریقوں سے زندگی کے مختلف حصوں کو الگ الگ کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے حصے کو “بال آشرم“ کہتے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جب آدمی چھوٹا یا بال (بچہ) ہوتا ہے۔ تب وہ کھیلتا ہے، کھاتا اور پڑھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ اس کے بعد اس کا “گرہست آشرم“ آتا ہے۔ گرہست میں وہ شادی کرتا ہے اور تب وہ پچیس برس کا ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ دنیا کے میدان میں پوری توانائی کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر آدمی کا “وان پرست آشرم“ شروع ہوتا ہے۔ اس آشرم میں ایک شخص دنیا داری کا کام کرتے ہوۓ بھی اس سے اجتناب برتتا ہے۔ دنیا کا کاروبار، دکان چھوڑ کر وہ گھر آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیاداری سے مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہوتا بلکہ تھوڑا سا تعلق رکھتا ہے۔ اپنے بچے کو دکان یا کاروبار پر بھیج دیتا ہے اور وہ بچہ اس کے نائب کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کا کام صرف اتنا ہی ہے کہ وہ گھر بیٹھے بیٹھے بچے کو Instruct کرتا رہتا ہے اور اشارے دیتا رہتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے، یہ نہیں کرنا اور خود دفتر یا کام پر نہیں جاتا۔ آخر کے چوتھے آشرم یعنی 75 سال کی عمر کو جب انسان پہنچ جاتا ہے تو اس درجے کو “سنیاس آشرم“ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دنیا چھوڑ کے اور اپنی رسی اور لوٹا لے کر وہ “بنداس“ پہ چلا جاتا ہے۔ گو وہ عملی طور پر باہر جائے نہ جائے لیکن اس کا دنیا سے کوئی دخل نہیں رہ جاتا۔ میں آپ کو تفصیل سے اس لۓ بتا رہا ہوں کہ آگے چل کر اس موضوع پر ہم بات کریں گے۔ ہندوؤں کی طرح سے جین مذہب ہے۔ یہ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔ آپ نے ایسے ہی ہمارے لاہور کے جین مندر کو پہنچائی حالانکہ اس کا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں (بابری مسجد کی شہادت کے سانحہ کے وقت مشتعل ہجوم نے لاہور کے جین مندر کی بھی توڑ پھوڑ کی تھی۔)

اسی طرح سے بدھ مذہب ہے وہ اپنے بھکشو تیار کرتا ہے۔ اسی طرح عیسائی کہتے ہیں کہ پادری بنو، دنیا سے ناتا چھوڑ دیں۔ عورتوں سے کہتے ہیں نن بن جائیں، شادی نہ کرو۔ ان مذاہب کا کہنا ہے کہ آپ ترکِ دنیا کر کے زندگی بسر کرو۔ ہمارے ہاں اس سے مختلف ہے کہ آپ کو دنیا بھی ساتھ لے کے چلنی ہے اور دین بھی ساتھ ہی لیکر آنا ہے۔ خاصا مشکل کام ہےکہ دین کو بھی پورے کا پورا سنبھالنا ہے اور دنیا کو بھی سہارا دینا ہے اور اس صورتِ حال سے بھاگ نہیں اور سنیاس اختیار نہیں کرنا ہے۔ تارکِ دنیا یا راہب نہیں بننا ہے۔ راہب وہ ہوتے تھے جو پہاڑوں کی گفاؤں اور ریت کے ٹیلوں یا پھر جنگلوں میں جا کر بیٹھتے تھے۔ کسی کو ملتے نہیں تھے اور اللہ اللہ کرتے رہتے تھے۔ ہم کو یہ حکم ہے کہ دنیا میں رہیں اور اللہ کے ساتھ رشتہ بھی مضبوط رکھیں اور اس کے لۓ کہیں چل کر جانے کی یا سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ اللہ تک پہنچنے کے لۓ کسی سفر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سفر کے لۓ باہر نکلنا پڑتا ہے لیکن یہ سفر ایسا ہے کہ اس کے لۓ کہیں جانا نہیں ہے بس اپنی شہ رگ تک پہنچنا ہے۔ جہاں پر اللہ تشریف فرما ہے اور سب کا اللہ اس مقام پر موجود ہے۔ ایک بار ہمارے بابا جی کے ڈیرے پر ایک آدمی آیا۔ وہ کچھ عجیب طرح کا ضدی یا لڑائی کرنے والا آدمی تھا اور سچی بات تو یہ ہے “ اللہ مجھے معاف کرے “ اس کی شکل بھی کچھ اتنی اچھی نہیں تھی۔ جیسا کہ آدمی اس شخص کے پہلے ہی بہت سارے نمبر کاٹ لیتا ہے جس کی شکل و صورت اچھی نہ ہو اور اس سے متعصب ہو جاتا ہے۔ اس لۓ میں اس کے ساتھ ذرا سختی کے ساتھ پیش آیا۔ اس نے کچھ خراب سے بات کی تھی تو میں اس سے کہنے لگا کہ تجھے یہ کس نے کہا فلاں فلاں۔۔۔ بابا جی نے کہا کہ آپ اس کو کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میں نے کہا کہ کیوں؟ وہ کہنے لگے اس طرح تو آپ اللہ کو جھڑکیاں دے رہے ہیں۔ میں نے کہا جی نعوذُ باللہ وہ کیسے؟

بابا جی کہنے لگے کہ اللہ تو اس کے شہ رگ کے پاس ہے۔ وہاں تو اللہ میاں کرسی ڈال کر بیٹھا ہے اور تم اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہو۔ تمہیں اس کا احترام کرنا پڑے گا۔ یعنی جس بندے کی بھی شہ رگ کے پاس اللہ موجود ہے اس کا احترام کرنا آپ کا فرض ہے۔

اب اس دن سے مجھے ایسی مصیبت پڑی ہے کہ ہمارے گھر میں جو مائی جھاڑو دینے آتی ہے، وہ بہت تنگ کرتی ہے۔ میری کتابیں اٹھا کر کبھی ادھر پھینک دیتی ہے کبھی اُدھر پھینک دیتی ہے۔ اب میں اس سے غصے بھی ہونا چاہتا ہوں لیکن کچھ کہتا نہیں ہوں۔ بانو قدسیہ کہتی ہے کہ آپ اسے جھڑک دیا کریں۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ نہیں اس کے پاس تو اللہ ہے میں اس کو کیسے کچھ کہوں۔ مجھے اس دنیا سے مصیبتِ جاں پڑی ہوتی ہے۔ تارکِ دنیا ہو کر اللہ کو یاد نہیں کرنا بلکہ اللہ کو ساتھ رکھ کے یاد کرنا ہے۔

پیارے بچو ! حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سامنے ہماری زندگیوں میں اور ہمارے ہی ملک میں تقریباً سارے کے سارے لوگ تارکِ دنیا ہو کر سنیاسی اور راہب ہو کر بیٹھے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے یہ بابا کیسی بات کر رہا ہے۔ ہمارے ابا جی، ماموں، تائے سارے گھر آتے ہیں اور فیکٹری چلاتے ہیں، کام کرتے ہیں، یہ کیسے راہب ہو گۓ۔ میں نے لوگوں کو غور سے دیکھا ہے اور ان پر غور کیا ہے کہ یہ راہب لوگ اور اب تو ہم سارے ہی تقریباً تقریباً راہب بن چکے ہیں۔ یہ بڑے بڑے شہروں میں بھی رہتے ہیں اور وہ کاروبارِ زندگی بھی کرتے ہیں اور اس کے باوصف کہ یہ اتنے سیانے اور سمجھدار ہیں سارے رہبانیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ راہب لوگ ہیں۔ راہب لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے لوگوں سے تعلق توڑ کر، بستی چھوڑ کر کسی اور جگہ پر جا بیٹھیں اور کسی سے تعلق نہ رکھیں۔ یہ اس کی چھوٹی تعریف ہے۔ اب آپ کبھی اسلام آباد تشریف لے جائیں، وہ بڑا اچھا خوبصورت اور پیارا شہر ہے۔ وہاں جتنے بھی لوگ ہیں وہ سارے کے سارے راہب ہیں۔ کسی بھی سیکرٹریٹ کے کسی بھی دفتر میں چلے جائیں آپ کسی کو آسانی سے نہیں مل سکتے، سب راہب بنے بیٹھے ہیں۔ راہب سے ملنا اس لۓ مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنی گفا میں بیٹھا ہوتا ہے۔ کسی سے ملتا ہی نہیں ہے۔ میں ایک ڈپٹی سیکرٹری کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ وہاں ایک آدمی آ گیا۔ وہ ڈپٹی سیکرٹری صاحب اسے دیکھ کر گھبرا گۓ۔ حیرت اور گھبراہٹ سے اس سے کہنے لگے ہاں جی آپ کیسے یہاں آئے؟

اس نے کہا کہ جی میں بڑے دروازے سے آیا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بڑے دروازے سے تو آئے ہو لیکن آپ کو آنے کس نے دیا؟

اس نے کہا کہ جی وہاں پر جو دربان ہے اس نے مجھ سے کہا کہ آپ آج نہیں کل چلے جانا۔ یہ سن کر میں گھر چلا گیا۔ میں آج آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔

وہ پوچھنے لگے کہ آپ اوپر کیسے آئے؟

وہ شخص کہنے لگا کہ جی میں سیڑھیاں چڑھ کر آیا ہوں۔ میں نے لفٹ والے سے کہا تھا کہ مجھے اوپر لے جا لیکن اس نے کہا کہ یہ افسروں کی لفٹ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ دوسری لفٹ ہے اس سے بھیج دو۔ تب اس نے کہا کہ یہ ڈپٹی سیکرٹری کی لفٹ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تیسری۔۔۔۔

اس نے کہا یہ سیکرٹری صاحب کے لۓ ہے اور اس لفٹ والے نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ نے اوپر جانا ہی ہے تو آپ سیڑھیاں چڑھ کر چلے جائیں اور میں سیڑھیاں چڑھتا چڑھتا آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔

ڈپٹی سیکرٹری صاحب نے کہا کہ آپ کو کیا کام ہے۔

اس نے جواب دیا کہ مجھے فلاں فلاں کام ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کام کے لۓ آپ کو خط لکھنا چاہیۓ تھا۔

اس شخص نے کہا کہ جی میں نے لکھا تھا۔

تب انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں ملا۔

اس بِچارے شخص نے کہا کہ نہیں جی وہ آپ کو پہنچ جانا چاہیۓ تھا کیونکہ میں نے اسے رجسٹری میں ارسال کیا تھا۔

اس پر ڈپٹی سیکرٹری صاحب نے کہا کہ اگر تم نے وہ بذریعہ رجسٹری بھیجا تھا تو تمہیں پہلے ڈاک خانے سے اس کی تصدیق کرنی چاہیۓ تھی کہ کیا وہ ٹھیک طرح سے ڈلیور ہو گئی ہے کہ نہیں ہوئی۔

اس نے کہا کہ میں جنابِ عالی ڈاک خانے سے تحقیق کر چکنے کے بعد ہی حاضر ہوا ہوں۔ وہ ٹھیک ڈلیور ہو گئی ہے اور چودہ تاریخ کو آپ کے دفتر میں پہنچ گئی ہے۔ صاحب نے کہا کہ پھر آپ کو فون کرنا چاہیۓ تھا۔ آپ یہاں کیوں آ گۓ۔ وہ افسر تارکِ دنیا تھا۔ راہب بن چکا تھا جو اس شخص سے اس انداز میں مخاطب ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں ایسے ہی لوگوں سے نہیں ملتا۔ ڈپٹی سیکرٹری صاحب کی یہ باتیں سن کر وہ شخص شرمندہ اور پریشان ہو کر واپس سیڑھیاں اتر گیا اور جانے سے پہلے کہنے لگا اچھا جی میں پھر کسی کو لاؤں گا یا کوئی زور ڈالوں گا کیونکہ اس گفا (غار) میں جو شخص بیٹھا ہے وہ میری بات نہیں سنتا۔ وہ تو اللہ سے لو لگا کے بیٹھا ہے۔ یہ تو ہمارے ملک کے بندے کی بات تھی۔ باہر کے ملکوں کے لوگ جو ہمارے ملک میں تجارت کرنا چاہتے ہیں، فیکٹریاں یا کارخانے لگانا چاہتے ہیں اور انہیں ون ونڈو سسٹم کا یقین دلایا گیا ہے۔ ون ونڈو سسٹم کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک ہی کھڑکی پر آئیں۔ اپنا مدعا بیان کریں، اپنی فزیبلٹی رپورٹ وہاں پیش کریں تو وہ ایک ہی ونڈو والا بابو، صاحب یا ڈپٹی سیکرٹری کہے گا کہ جی آپ کاہنہ کاچھا یا پتوکی جہاں آپ چاہتے ہیں فیکٹری لگا سکتے ہیں۔

اب باہر والے پریشان ہو کر کہتے ہیں کہ یہاں ون ونڈو تو کیا کوئی ونڈو ہے ہی نہیں۔ ہم آدمی تلاش کرتے پھرتے ہیں، ہمیں یہاں کوئی آدمی ہی نہیں ملتا۔ یہاں تو رہبانیت ہے۔ سارے راہب لوگ رہتے ہیں اور ان سے ملنا بہت مشکل ہے۔ اب اس سارے عمل میں آپ کا لوگوں سے تعلق کس طرح ٹوٹتا ہے۔ یہ ایک غور طلب بات ہے۔ گھروں میں بھی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے۔ ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ ہم میں سے کئی لوگوں کا گھروں میں بھی رویہ بالکل راہبوں جیسا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ہم بیٹھے تھے، میرا ایک کزن جو میرا ہم عمر ہی ہے، اس کا نام اکرام ہے۔ وہ اپنے پہلے بچے کی پیدائش کا ذکر کر رہا تھا۔ وہ پتوکی میں بڑے زمیندار ہیں۔ وہاں ان کی زمینیں ہیں۔ وہ بتانے لگے کہ جب ان کے بچے کی پیدائش کا وقت آیا تو تب شام یا رات کا وقت تھا اور وہ تھوڑے پریشان ہوۓ۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ گاڑی نکالیں ہمیں لاہور جانا چاہیۓ اور آدھی رات کو لاہور پہنچ گۓ۔ ہم سب گھر کے لوگ بیٹھے ہوۓ تھے۔ وہاں میری چھوٹی بہن بھی موجود تھی اس نے کہا کہ اکرام بھائی اگر خدانخواستہ رات کو سفر کے دوران کوئی پیچیدگی ہو جاتی تب آپ کیا کرتے تو وہ کہنے لگے اگر کوئی پیچیدگی پیدا ہو جاتی تو میں فوراً ریحانہ (بیوی) کو ڈرائیونگ سیٹ سے اٹھا کر پیھچے لٹا دیتا اور خود گاڑی چلانے لگ جاتا۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ اس نے ساری رات ڈرائیونگ بھی اپنی بیوی سے ہی کرائی ہے اور خود مزے سے لیٹے رہے ہیں۔ یہ گھروں کے راہب ہوتے ہیں جن کا آپ کو پتہ نہیں چلتا۔ آپ نے گھروں میں اپنے بھائی، بڑوں کو دیکھا ہو گا کہ وہ کسی کام میں دخل ہی نہیں دیتے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دخل نہ دینے سے کچھ فائدہ پہنچتا ہے حالانکہ اس سے ہرگز ہرگز کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں جتنے بھی تاجر اور دکاندار ہیں وہ بھی تمام کے تمام رہبانیت میں ڈوبے ہوۓ ہیں۔ ان کو سوائے اپنی ذات کے اور اپنی زندگی کے اور کسی چیز سے کوئی تعلق یا سروکار نہیں ہے۔ مزے سے تجارت کر رہے ہیں۔ ان کی چھوٹی سے دنیا ہے اور وہ اپنی اسی تجارت کے اندر گھومن گھیری انداز سے چکر کاٹ رہے ہیں۔ باہرلوگ کیسے آباد ہیں۔ ان کی کیسی مشکلات ہیں ان کو کیا کرنا چاہیۓ وہ اس بارے بالکل کچھ نہیں جانتے۔ وہ سارے کے سارے اپنی اپنی غاروں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔ وہ میرے حساب سے ٹک ٹک کر کے تسبیح پھرنے والے دنیا سے لاتعلق لوگ ہیں۔ ان کا اپنی ہی ذات سے واسطہ ہے۔ ہمارے کیا تقاضے ہیں۔ ہم ان سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ہم سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارے لاہور میں ایک بڑا برانڈرتھ روڈ ہے۔ وہاں ماشاء اللہ بڑے امیر لوگ رہتے ہیں۔ کراچی میں بڑے امیر ترین لوگ ہیں۔ فیصل آباد کی سوتر منڈی دنیا کا امیر ترین علاقہ ہے لیکن جتنے بھی لوگ وہاں بیٹھے ہیں، ہیں تو وہ ہمارے درمیان اور رہتے بھی اسی دنیا میں ہیں، گفتگو ہماری جیسی کرتے ہیں، کھانا بھی ہمارے جیسا کھاتے ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ جب ہم پلٹ کر اپنے اس دکھ کا اظہار اپنی ذات سے کرتے ہیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ ہم بھی ایسے ناقد ہیں کہ بس تنقید کرنے پر مجبور ہو گۓ ہیں اور ہم بھی ان دوسرے راہبوں ہی کی طرح سے ہیں۔ ہمیں بھی کچھ پتہ نہیں چلتا۔ ہم بھی راہب لوگ ہیں۔ کس کو ہماری ضرورت ہے، ہم کس کی کس طرح سے مدد کر سکتے ہیں، ہمارے ملک کے کسی باشندے کو کیا تکلیف ہے ہمیں معلوم نہیں۔ ہم بھی بھائی اکرام جیسے ہی ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر تکلیف ہو گی تو میں موٹر چلا لوں گا ورنہ بیوی گاڑی چلاتی رہے۔


ہمارا ضمیر بھی اسی طرح سے ہو گیا ہے۔ یہ کوئی ایسی خوشگوار بات نہیں ہے۔ لیکن وہ حکم جو ہمیں دیا گیا ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ ساتھ دین بھی رکھیں وہ شاید ہم نے اپنی کوشش کے باوجود سارے کا سارا اپنی دنیا کے اندر اس طریقے سے ڈال دیا ہے کہ ہم ان لوگوں سے بھی زیادہ لاتعلق ہو گۓ ہیں جو لوگ رہبانیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ لوگ آپ سے، ہم سے بار بار پوچھتے ہیں استحکامِ پاکستان کی بھی بات ہوتی ہے، ہمارے معاشرے کو مضبوطی عطا کرنے کی بھی بات ہوتی ہے اور ارادے باندھے جاتے ہیں۔ یہاں پر بسنے والے گروہِ انسانی کو بھی تگڑا کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن ہم سب کچھ کیسے کریں۔ ہم کس طرح سے ایسے ہو جائیں کہ ہمارا یہ علم عمل کی صورت اختیار کر جائے اور ہم رہبانیت سے نکل کر اس حکم میں داخل ہو جائیں جس کا ہمیں بڑی شدت اور زور سے آرڈر دیا گیا ہے۔ میں تو کسی نتیجہ پر پہنچ نہیں سکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ غرض مندی اور اپنی ذات کے بارے ہی میں سوچتے رہنا ہمارا وطیرہ ہو گیا ہے اور ضرورت سے زیادہ ہو گیا ہے۔ میں اس موقع پر باہر کے ملکوں کی مثال نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں وہ دیا نہیں کرتا لیکن جب آپ اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے گروہِ انسانی وہ اس اعتبار سے بہت بہتر زندگی بسر کر رہے ہیں جس اعتبار سے ہمیں کرنی چاہیۓ تھی اور ہمیں کرنی پڑے گی۔ آپ ماشاء اللہ ذہین اور پڑھنے لکھنے والے بچے ہیں، آپ اسے سوچ کر میرے کسی اگلے پروگرام میں اس بارے میرے رہنمائی ضرور کیجیۓ گا کہ ہم ذاتی غرض مندی سے کیسے نکلیں ؟

اور ہمیں کب اور کیسے محسوس ہونے لگے کہ ہمارے اردگرد بازاروں میں کچھ اور لوگ بھی بستے ہیں اور ان کا احترام کیا جانا چاہیۓ۔ جب ہم اپنے بچپن میں ولائتی استادوں سے پڑھتے تھے تو اس بات پر بڑا زور دیا کرتے تھے :

You have not to forget the words' thank you and I am sorry.

اب پتہ چلتا ہے کہ ان الفاظ کی ادائیگی سے ایک رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ہماری ٹریفک کی ہی مثال لے لیجیۓ لیکن کسی پر کیا الزام دیں اپنی ذات کے اندر ہی جھانک کر دیکھیں۔ اب مجھے بھی کئی ٹیلیفون آئیں گے کہ اب تو آپ بھی راہب نہ بنیں میرا یہ کام کروا دیں اور میں اس سے پلٹ کے یہ نہیں پوچھ سکوں گا کہ کیا آپ نے کسی اور کا کام کر دیا ہے۔ آپ کو یاد ہے میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ “ دتے وچوں دینا اے “ یہ بڑی دیر کی بات ہے تو مجھے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مجھے جی ہزار روپیہ دے دیں کوئی پانچ ہزار مانگنے لگ گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے بھی “ دتے وچوں دینا اے “ اس طرح کی پیاری سی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔

آج تھوڑا سا بوجھ میں نے آپ کی طبیعتوں پر ڈال دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور اس کا کوئی حل نکالیں گے اور میری رہنمائی ضرور کریں گے اور میں آپ کی شکر گزاری کے ساتھ اگلے پروگرام میں ایک ایک کا نام لے کر یہ بتاؤں گا کہ آپ نے کیا رائے دی۔

اللہ آپ سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری 
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15