نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

May, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تسلیم و رضا کے بندے

انسان عجیب عجیب قسم کی مشکلات میں مبتلا رہتا ہے اور اسے اس مشکلات کا کوئی مناسب حل سوجھتا نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے قد اور سوچ سے بڑی بات کرنے لگ جاۓ تو وہ پھر بری طرح سے پھنس جاتا ہے۔ مجھ سے لوگ آ کر پوچھتے ہیں کہ آخر ” خوش کیسے رہا جاۓ” اور سکونِ قلب کے لیے کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ میرے پاس کوئی طب یا ہومیو پیتھک کی دوا تو نہیں ہے جو میں انہیں دے کر کہوں کہ اس کی چند خوراکیں کھاؤ تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میرے پاس تو تجربات و مشاہدات ہی ہیں جن کی بنا پر میں ان سے کچھ کہہ سکتا ہوں گو تمام کے تمام واقعات مجھے پر گزرے نہیں ہیں۔ لیکن میں ان کا شاہد ضرور ہوں۔ خواتین و حضرات خوش رہنے کے لیے ایک مشکل سا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کیا جاۓ۔ اب یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن سائنس کے فارمولے کی طرح کہ پانی یا لیکوڈ اپنی سطح ہموار رکھتا ہے اس طرح کی کوئی بات خوشی کے حصول کے لیے دستیاب کرنا مشکل ہے بلکہ خوشی کے حصول کے لیے دوسروں کو شریک کرنا پڑتا ہے وگرنہ آپ خوش نہیں رہ سکتے۔ اگر خوش قسمتی کے ساتھ کوئی ایسی کیفیت اگر حاصل ہو جاۓ کہ آدمی کے پاس اتنا علم نہ ہو جتنا علم…

چلاس کی محبتیں

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے پچھلی باتیں بڑی شدت، صفائی اور جزویات کے ساتھ یاد آتی چلی جا رہی ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ ان میں کوئی ایسی ناخوشگوار بات نہیں ہے صرف اس بات کا ان یادوں میں ضرور احساس پایا جاتا ہے کہ وہ لوگ اور وہ زمانے جس میں شفقت و محبت اور انس زیادہ تھا وہ کہاں چلے گۓ اور ہم اس قدرکیوں مصروف ہو گۓ۔ اس میں ہماری کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ سارا چکر مصروفیات کا ہے اور ہماری مصروفیات کا عالم ایسا ہے کہ ہم ان شفقتوں سے کٹ گۓ جو محبتیں خدا نے ہمیں عطا کی تھیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ شقیق قلوب جو ہیں انہوں نے کتاب سے پڑھ کر شفقت حاصل نہیں کی تھی یا کسی سے سیکھ کر محبت کا علم نہیں پایا تھا بلکہ اللہ نے وہ دل ہی ایسے پیدا کیے تھے کہ ان کے اندر محبت و شفقت بھری ہوئی تھی اور وہ جو بھی کام کرتے تھے ان میں لوگوں کے لیے بے شمار آسانیاں ہوتی تھیں۔ بہت دیر کی بات ہے ہماری ایک سوسائٹی تھی جو کافی دیر تک چلتی رہی اس کا نام “چھڈ یار“ تھا۔ اس میں ہم سات ممبر تھے۔ پہلے میں شامل افراد صرف ریڈیو سے متعلق تھے پھر ٹیلی ویژن سے بھی آ کر شامل ہو گۓ۔ اس سوسائٹی کے چیئرمین ممتاز مفتی تھے جبکہ ہمارے لیڈر عم…

۔ "چائیے" کا روگ ۔

میں آپ کو اکثر ایسی باتیں بھی بتاتا رہتا ہوں جو آپ کے مطالعے، مشاہدے یا نظر سے کم ہی گزری ہوں گی۔ ایک زمانے میں تو ہمارے ہاں بہت سی درگاہیں اور “ زاویے “ ہوتے تھے جہاں بزرگ بیٹھ کر اپنے طرز کی تعلیم دیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہونے لگا۔ یہ کمی کس وجہ سے ہوئی میں اس حوالے سے آپ کی خدمت میں درست طور پر عرض نہیں کر سکتا۔ وہ درگاہیں، زاویے اور وہ بزرگ یوں مفید تھے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمیوں کے باوصف لوگوں کو ایسی تسلی اور تشَفّی عطا کرتے تھے جو آج کے دور کا مہنگے سے مہنگا Psychoanalyst یا Psychiatrist نہیں دے سکتا۔ خدا جانے ان کے پاس ایسا کون سا علم ہوتا تھا۔ ان کا کندھے پر ہاتھ رکھ دینا یا تشفی کے دو الفاظ کہہ دینے سے بڑے سے بڑا بوجھ آسانی سے ہٹ جاتا تھا۔ ہمارے بابا جی جن کے پاس ہم لاہور میں جایا کرتے تھے ان کی کئی عجیب باتیں ایسی ہوتی تھیں جو ہماری دانست سے ٹکرا جاتی تھیں اور وہ پورے طور پر ہماری گرفت میں نہیں آتی تھیں کیونکہ ہم ایک اور طرح کا علم پڑھے ہوۓ تھے۔ ہمارا علم سکولوں، کالجوں اور ولائیت کا تھا اور اس نصاب میں وہ بابوں کی باتیں ہوتی نہیں تھیں۔ ایک روز انہوں…

بونگیاں ماریں، خوش رہیں

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ سب کو سلام پہنچے۔ آج کے اس “ زاویے “ میں میرا کچھ سنجیدہ انداز اختیار کرنے کو جی نہیں چاہتا بلکہ آج کچھ ہلکی پھلکی سی باتیں ہونی چاہئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی ہلکی پھلکی باتوں سے ہی عبارت ہے۔ ہم اس پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے کچھ سنجیدہ اور گھمبیر قسم کی باتیں کر رہے تھے اور میرے ذہن میں یہ لہر بار بار اٹھ رہی تھی کہ پاکستان کے اندر ہماری بہت سے مشکل منازل موجود ہیں جن میں بہت بڑا ہاتھ ان اونچے پہاڑوں کا بھی ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنی کمالِ مہربانی سے ہم کو عطا کیے ہیں۔ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ کے۔ٹو پاکستان میں ہے۔ میں اسے سب سے اونچا یوں کہوں گا کہ بہت سے جغرافیہ دان اور ہیئت دان یہ کہتے ہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی اتنی اونچی نہیں ہے جتنی کہ کے۔ٹو کی ہے۔ یہ ہمالیہ سے دو فٹ یا دو فٹ کچھ انچ اونچا ہے۔ کے۔ٹو کی چوٹی ہمارے پاس ہے، ناگا پربت کی چوٹی ہمارے پاس ہے، راکا پوشی کی چوٹی کے ہم مالک ہیں۔ مجھے بھی آپ کی طرح ان چوٹیوں سے بڑی محبت ہے۔ اوپری منزل یا ان چوٹیوں پر پہنچنے کے لیے جب انسان رختِ سفر باندھتا ہے تو وہ صرف ایک ہی ذریعہ استعمال نہیں کرتا۔ پہلے انسان …

Mind over the Matter

یہ ذہن کا بازار بھی عجیب منڈی ہے جس میں کبھی کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ دن کو ذہن کام جاری رکھتا ہے اور رات کو سو جانے پر خوابوں کی صورت میں اپنے عمل میں مصروف رہتا ہے اور اس میں ایک دلچسپ اور نہایت عجیب بات یہ ہے کہ اس منڈی میں باہر کے تاجر بھی آتے رہتے ہیں۔ کچھ قافلے سمرقند و بخارا سے، کچھ گلف اور ولائیت سے آتے جاتے اور شامل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل رکنے اور ختم ہونے کو نہیں آتا اور اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی آ کر ذہنی و فکری عمل میں شامل ہو جاتے ہیں جن کی بہت سی چیزیں مستعار بھی لینی پڑتی ہیں اور انہیں اپنانا بھی پڑتا ہے اور کچھ ایسے سوالات ذہن میں گھر کر لیتے ہیں جن سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے اور کچھ کو تو زندگی میں باقاعدہ شامل کرنا پڑ جاتا ہے مثلاً خدا کے بارے میں بہت سوال کۓ جاتے ہیں اور پوچھا جاتا ہے کہ خدا کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ کس طرح سے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ہم اسے اپنے حواسِ خمسہ سے جان نہیں سکتے۔ ایسے اور کئی طرح کے سوال آپ کے خیال میں اترتے ہوں گے۔
لوگ تین چار قسم کے سوال بہت پوچھتے ہیں ایک یہ کہ ایک بچہ جو ایک خاص گھرانے میں اور خاص مذہبی خیالات رکھنے والے گھرانے میں پید…

تھری پیس میں ملبوس بابے اور چغلی میٹنگ

میں اکثر اس پروگرم میں اور کبھی کبھی اس پروگرام سے ماورا دوسرے موقعوں یا پروگراموں میں بابوں کا ذکر کرتا رہتا ہوں اور ڈیروں کی بابت عموماً باتیں کرتا ہوں جس کے باعث عموماً راہ چلتے ہوئے اور دیگر کئی جگہوں پر سب لوگ مجھے روک کر پوچھتے ہیں کہ آپ کے بابے کیا ہوتے ہیں اور ان میں ایسی کون سے صفت ہوتی ہے جو آپ ان سے اس قدر مرعوب ہیں اور ان ہی کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ آپ بڑے پڑھے لکھے آدمی ہیں اور یہاں کے ہی نہیں ولائت سے بھی پڑھ کر آۓ ہیں۔ وہاں پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ آپ ہمیں بھی بتایۓ کہ ان بابوں میں کون سی ایسی خوبی ہوتی ہے جو آپ کو متاثر کرتی ہے۔ میں ان سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کبھی ان سے ملیں یا ان سے Incontact آئیں تو پھر آپ کو پتہ چلے کہ یہ کس حد تک ہم عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ بابوں سے میری مراد یہ نہیں کہ ایک آدمی جس نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا ہو۔ اس کے سر کے لمبے بال یا اس نے لمبی “ لٹیں “ رکھی ہوئی ہوں، گلے میں تسبیحات اور منکوں کی مالائیں ڈالی ہوئی ہوں ضروری نہیں وہ بابا ہی ہو۔ بہرحال کچھ بابے ایسے روپ میں بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر بابے جو اب آپ کی زندگی میں آپ کے قریب سے …

Salute to non-degree technologists

آپ سب کو اہلِ زاویہ کی طرف سے سلام پہنچے۔ ہم اس پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے تعلیم اور علم کی بات کر رہے تھے۔ علم ایک ایسا موضوع ہے جس پر آپ صدیاں بھی لگا دیں تو ختم نہ ہو کیونکہ یہ موضوع بڑی دیر سے چلتا آ رہا ہے کہ علم کیا ہے ؟ اور اسے کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اب جو موضوع دنیا کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ کیا علم کے ساتھ Ethics and Morality یا اخلاقیات کو بھی لیا جانا چاہیۓ یا کہ خالی ٹیکنالوجی اور سائنس پڑھا دینی چاہیۓ۔ ابھی تک دنیا نے اس حوالے سے کوئی خاص اور حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم مشرق والوں نے ایک زمانے میں یہ فیصلہ کیا تھا اور دوسرے علم کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم رومی رحمۃ اللہ اور سعدی رحمۃ اللہ پڑھاتے رہے ہیں اور اخلاقیات پر مبنی کتابیں کورس میں ہوتی تھیں لیکن اب کہا جاتا ہے کہ اب اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آدمی کو ایک Given Specific Discipline of Knowledge میں ایک دیۓ گۓ موضوع پر اپنی Specialization کرنی چاہیۓ اور اس کے بعد اسے چھوڑ دینا چاہیۓ۔ اکثر آپ بڑے پیشہ ور لوگوں کی شکایت کرتے ہیں جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، بیوروکریٹس شامل ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم فلاں افسر یا ڈاکٹر کے پاس…

Who was Ashfaq Ahmed? (VIDEO)

Video Shared by: Qaiser Siddique