نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تسلیم و رضا کے بندے

انسان عجیب عجیب قسم کی مشکلات میں مبتلا رہتا ہے اور اسے اس مشکلات کا کوئی مناسب حل سوجھتا نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے قد اور سوچ سے بڑی بات کرنے لگ جاۓ تو وہ پھر بری طرح سے پھنس جاتا ہے۔ مجھ سے لوگ آ کر پوچھتے ہیں کہ آخر ” خوش کیسے رہا جاۓ” اور سکونِ قلب کے لیے کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اب ظاہر ہے کہ میرے پاس کوئی طب یا ہومیو پیتھک کی دوا تو نہیں ہے جو میں انہیں دے کر کہوں کہ اس کی چند خوراکیں کھاؤ تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میرے پاس تو تجربات و مشاہدات ہی ہیں جن کی بنا پر میں ان سے کچھ کہہ سکتا ہوں گو تمام کے تمام واقعات مجھے پر گزرے نہیں ہیں۔ لیکن میں ان کا شاہد ضرور ہوں۔ خواتین و حضرات خوش رہنے کے لیے ایک مشکل سا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کو اپنی خوشی میں شریک کیا جاۓ۔ اب یہ بڑا مشکل کام ہے لیکن سائنس کے فارمولے کی طرح کہ پانی یا لیکوڈ اپنی سطح ہموار رکھتا ہے اس طرح کی کوئی بات خوشی کے حصول کے لیے دستیاب کرنا مشکل ہے بلکہ خوشی کے حصول کے لیے دوسروں کو شریک کرنا پڑتا ہے وگرنہ آپ خوش نہیں رہ سکتے۔ اگر خوش قسمتی کے ساتھ کوئی ایسی کیفیت اگر حاصل ہو جاۓ کہ آدمی کے پاس اتنا علم نہ ہو جتنا علم وہ ساری زندگی اکٹھا کرتا رہتا ہے اور انسان میں معصومیت کی وہ لہر باقی ہو جو اسے اللہ نے عطا کر کے دنیا میں بھیجا ہے اس کیفیت یا صورت میں تو آسانی میسر آ سکتی ہے۔ اس طرح کا آدمی اپنے ارد گرد کو دیکھ کر بھی پریشان نہیں ہوتا بلکہ خوش رہتا ہے۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ درختوں کو قادر مطلق نے جس طرح کا پیدا کر دیا وہ وہاں ہی کھڑے ہیں۔ ایک درخت کبھی دوسرے درخت سے حاسد نہیں ہوتا۔ کبھی درخت یہ نہیں کہتا کہ ہمیں تو جی آم کا درخت بنا دیا اور لوگ ہمیں کھا کھا کر موجیں کر رہے ہیں اور ہمیں نوچ نوچ کر ٹوکریاں بھر کر لے جا رہے ہیں۔ کاش خدا نے ہمیں شہتوت کا درخت بنایا ہوتا اور مجھ پر رنگ برنگے شہتوت لگتے۔

خواتین و حضرات! انسان ہمیشہ اپنی قسمت پر شاکی رہتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ مجھے ایسا ہونا چاہیے تھا، کوئی کہتا ہے مجھے ویسا ہونا چاہیے تھا لیکن درخت ایسا شکوہ نہیں کرتا۔ کبھی درختوں نے یہ شکایت نہیں کی کہ جناب جب سے پیدا ہوۓ ہیں وہیں گڑھے ہوۓ ہیں۔ نہ کہیں سیر کی ہے نہ گھوم پھر کے دیکھا ہے۔ لیکن وہ ہمیشہ خوشی سے جھومتے رہتے ہیں اور آپ کو بھی خوشیاں عطا کرتے ہیں اور ہم باغوں کی سیریں کرتے ہیں۔ ایسے ہی پرندے اور جانور ہیں کبھی کسی شیر نے زیبرا بننے کی خواہش نہیں کی۔ یا کسی ہرن نے کبھی فاختہ بننے کا نہیں سوچا۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کو بنانے والا علیم مطلق بہتر سمجھتا ہے کہ ہمیں کیسا ہونا چاہیے۔ اگر میں اپنے آپ کو نہ بدلوں تو مجھے کہا جاۓ گا کہ اشفاق صاحب آپ اپنے Status کا خیال رکھیں۔ ہمارے ہاں اس قسم کی عجیب و غریب Terms بن چکی ہیں اور وہ انسان کو شرمندہ کرتی ہیں۔ ہمیں زندگی میں کبھی کبھی ایسا انسان ضرور مل جاتا ہے جس کو دیکھ کر حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ یہ کیسا بادشاہ آدمی ہے؟ یہ مالی طور پر بھی کمزور ہے۔ علمی و عقلی اور نفسیاتی طور پر کمزور ہے لیکن یہ خوش ہے۔ ہمارے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک ڈاکیا ہے جو بڑا اچھا ہے۔ اب تو شاید چلا گیا ہے۔ اس کا نام اللہ دتہ ہے۔ اس جیسا خوش آدمی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ اس کا عشق ڈاک اور ہر حال میں خط پہنچانا ہے۔ چاہے رات کے نو بج جائیں وہ خط پہنچا کر ہی جاتا ہے۔ وہاں علاقے میں کرنل صاحب کا ایک کتا تھا۔ اللہ دتہ کو پتہ نہ چلا اور ایک روز اچانک اس کتے نے اس کی ٹانگ پر کاٹ لیا اور اس کی ایک بوٹی نکال لی۔ خیر وہ ٹانگ پر رومال باندھ کر خون میں لت پت ڈاکخانے آ گیا۔ اسے دیکھ کر پوسٹ ماسٹر صاحب بڑے پریشان ہوۓ۔ اللہ دتہ نے انہیں ساری بات سے آگاہ کیا۔ پوسٹ ماسٹر صاحب کہنے لگے کہ کیا تم نے کچھ لگایا بھی کہ نہیں!

وہ کہنے لگا نہیں جی بس بے چارہ پھیکا ہی کھا گیا۔ میں نے وہاں کچھ لگایا تو نہیں تھا۔ اب وہ ناداں سمجھ رہا تھا کہ آیا پوسٹ ماسٹر صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے ٹانگ پر کتے کے کاٹنے سے پہلے کچھ لگایا ہوا تھا کہ نہیں۔ ہم اسے بعد میں ہسپتال لے کر گۓ اور اسے ٹیکے ویکے لگواۓ۔ وہ بڑی دیر کی بات ہے لیکن وہ مجھے جب بھی یاد آتا ہے تو خیال آتا ہے کہ وہ کتنا عجیب و غریب آدمی تھا جو گھبراتا ہی نہیں تھا اور ایسے آدمی پر کبھی خواہش گھیرا نہیں ڈال سکتی۔ انسان جب بھی خوش رہنے کے لیے سوچتا ہے تو وہ خوشی کے ساتھ دولت کو ضرور وابستہ کرتا ہے اور وہ امارت کو مسرت سمجھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امارت تو خوف ہوتا ہے اور آدمی امیر دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بننا چاہتا ہے۔ جب یہ باتیں ذہن کے پس منظر میں آتی ہیں تو پھر خوشی کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہم ایک بار ایک دفتر بنا رہے تھے اور مزدور کام میں لگے ہوۓ تھے۔ وہاں ایک شاید سلطان نام کا لڑکا تھا وہ بہت اچھا اور ذہین آدمی تھا اور میں متجسس آدمی ہوں اور میرا خیال تھا کہ کام ذرا زیادہ ٹھیک ٹھاک انداز میں ہو۔ میں اس مزدور لڑکے کا کچھ گرویدہ تھا۔ اس میں کچھ ایسی باتیں تھیں جو بیان نہیں کی جا سکتیں۔ ہم دوسرے مزدوروں کو تیس روپے دیہاڑی دیتے تھے لیکن اسے چالیس روپے دیتے تھے۔ وہ چپس کی اتنی اچھی رگڑائی کرتا تھا کہ چپس پر کہیں اونچ نیچ یا دھاری نظر نہیں آتی تھی۔ وہ ایک دن دفتر نہ آیا تو میں نے ٹھیکدار سے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آیا۔ میں بھی دیگر افسر لوگوں کی طرح جس طرح سے ہم گھٹیا درجے کے ہوتے ہیں میں نے اس کا پتہ کرنے کا کہا۔ وہ اچھرہ کی کچی آبادی میں رہتا تھا۔ میں اپنے سیکرٹری کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر اسے لینے چلا گیا۔ بڑی مشکل سے ہم اس کا گھر ڈھونڈ کر جب وہاں گۓ تو سیکرٹری نے سلطان کہہ کے آواز دی۔ اس نے کہا کہ کیا بات ہے؟

میرے سیکرٹری نے کہا کہ صاحب آۓ ہیں۔ اس نے جواب دیا کیہڑا صاحب! سیکرٹری نے کہا کہ ڈائریکٹر صاحب۔ وہ جب باہر آیا تو مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس نے انتہائی خوشی کے ساتھ اندر آنے کو کہا۔ لیکن میں نے اس سے کہا کہ میں سخت ناراض ہوں اور میں تمھاری سرزنش کے لیے آیا ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ سر میں بس آج آ نہیں سکا۔ ایک مشکل ہو گئی تھی۔

میں نے کہا کونسی مشکل۔ تم ہمیں بغیر بتاۓ گھر بیٹھے ہوۓ ہو اور اس طرح سے میری بڑی توہین ہوئی ہے کہ تم نے اپنی مرضی سے چھٹی کر لی۔ وہ کہنے لگا کہ سر آپ براۓ مہربانی اندر تو آئیں۔ وہ مجھے زبردستی اندر لے گیا۔ اس کی بیوی چاۓ بنانے لگ گئی۔ میں نے اس سے کہا میں چاۓ نہیں پیئوں گا۔ پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے چھٹی کیوں کی؟

وہ کہنے لگا کہ سر جب کل شام کو میں گھر آیا تو ٹین کے کنستر میں میں نے سورج مکھی کا ایک پودا لگایا ہوا تھا اور اس میں ڈوڈی کھل کے اتنا بڑا پھول بن گیا تھا کہ میں کھڑا کھڑا اسے دیکھتا رہا اور میری بیوی نے کہا کہ یہ پہلا پھول ہے جو ہمارے گھر میں کھلا ہے۔

وہ کہنے لگا کہ سر مجھے وہ پھول اتنا اچھا لگا کہ میں خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اور جب ہم کھانا کھا چکنے کے بعد سونے لگے تو میری بیوی نے مجھے کہا کہ ”سلطان کیا تمھیں معلوم ہے آج ہمارا کاکا چلنے لگا ہے اور اس نے آٹھ دس قدم اٹھاۓ ہیں۔” اس وقت کاکا سو چکا تھا لیکن جب میں صبح اٹھا تو میں نے اپنے بیٹے کو بھی جگایا اور ہم میاں بیوی دور بیٹھ گۓ۔ ایک طرف سے میری بیوی کاکے کو چھوڑ دیتی۔ اور وہ ڈگمگاتا ہوا میری طرف چلتا ہوا آتا اور جب وہ مجھ تک پہنچتا تو میں اس کی ماں کی طرف اس کا منہ کر دیتا تو وہ ڈگ مگ ڈگ مگ کرتا ماں تک پہنچتا اور ٹھاہ کر کے اس سے چمٹ جاتا۔ ہم بڑی دیر تک اپنے بیٹے کو دیکھتے رہے۔ وہ کہنے لگا ”سر اتنا اچھا پھول کھلا ہو اور بچے نے ایسا اچھا چلنا سیکھا ہو اور ایسا خوب صورت دن ہو تو اسے چالیس روپے میں تو نہیں بیچا جا سکتا نا! سر آج کا دن میرا ہے۔ اب میں شرمندہ سا ہو کر واپس آ گیا۔

خواتین و حضرات! اگر انسان میں اتنی طاقت ہو اور وہ ایسی صلاحیت رکھتا ہو تو پھر وہ خوشیوں کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کی زندگی کی خوشیاں ایسی ہوں جیسی ہماری ہیں اور جن کے ہم قریب بھی نہیں پھٹک سکتے اور ٹین کے کنستر میں لگا پھول ہمیں کبھی نظر ہی نہیں آ سکتا ہے۔ ہمیں خوشیاں بانٹنا آتا ہی نہیں۔ ہم نے یہ فن سیکھا ہی نہیں ہے۔

شیئر کرنا ایک ایسا مشکل کام ہے کہ ہمیں یہ کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی نے سکھایا نہیں ہے۔ ہمیں اپنی چیزیں سنبھال کر رکھنے کی ہی ہمیشہ تلقین کی گئی ہے۔ جب پاکستان نہیں بنا تھا اس وقت تو ہمارے ہندو دوست کھانا کھاتے ہوۓ اوپر پردہ ڈال لیتے تھے کہ کہیں کوئی اور کھانا نہ مانگ لے اور شریک نہ ہو جاۓ۔ اب ہمارے ہاں بھی ایسا رواج پروان چڑھ گیا ہے اور ہمیں بھی چھپانا آ گیا ہے اور ہم شیئر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اور ہماری گردنوں پر یہی بوجھ و بال بنا ہوا ہے۔ میں اکثر چھوٹے بچوں، اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسیوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا زیادہ قصور نہیں ہے۔ ہمارے سارے ہی علاقے پر تیزاب کی بارش ہو رہی ہے اور جب باہر نکلو گے تو اس کے چھینٹے پڑیں گے ہی اور آپ کو ڈپریشن کا شکار ہونا پڑے گا کیونکہ آپ اپنا آپ کھول نہیں سکتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے کہ جس طرح کا میں نے تمھیں بنایا ہے تم ویسے ہی ٹھیک ہو۔ آپ اس ناک، آنکھ ، کان اور بالوں کو دیکھ کر خدا کی تعریف کرو اور سبحان اللہ کہو پھر دیکھو کتنی نعمتیں آپ پر وارد ہوتی ہیں۔ جیسے جانوروں، درختوں اور پرندوں پر وارد ہوتی ہیں۔ آپ نے کبھی دیکھا کہ پرندہ کس قدر خوش نصیب ہے جو گاتے گاتے فوت ہو جاتا ہے۔ اس کی موت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ وہ ہم انسانوں کی طرح موت سے خوف زدہ ہو کر کئی دفعہ نہیں مرتا ہے۔ اسے فکرِ فردا نہیں ہوتی ہے۔ ہم فکرِ فردا کے عذاب میں مبتلا ہو کر مرتے جا رہے ہیں۔

بانو قدسیہ کی والدہ جو میری ساس تھیں وہ لمبے لمبے دوروں پر جایا کرتی تھیں۔ وہ اپنے ساتھ ”کروشیا” ضرور رکھتی تھیں۔ (شاید ہمارے ان بچوں کو کروشیۓ کا پتہ نہ ہو۔) وہ سفر میں اپنے ساتھ کروشیۓ کے ساتھ کھٹا کھٹ بنتی جاتی ہوتی تھیں اور جب دورے سے لوٹ کر آتی تھیں تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنا ہوا اور مکمل ہوا ہوتا تھا۔ جب کبھی ولائیت کی خواتین آتی تھیں تو انہیں دیکھ کر بہت حیران ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ ہم اسلام آباد جا رہے تھے تو انہوں نے اپنا کروشیا نکال لیا اور کچھ بُننے لگیں۔ ان کے ساتھ ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ وہ انہیں بڑے غور سے دیکھنے لگیں۔ (ان دنوں فوکر کا زمانہ تھا) وہ خاتون کہنے لگیں کہ آپ نے تو بڑے کمال کا ڈیزائن بنایا ہے۔ یہ بہت خوب صورت ہے۔ وہ گلاس کے نیچے رکھنے والی کوئی چیز تھی۔ میری ساس اس خاتون کو کہنے لگی کہ یہ اب مکمل ہو گیا اور یہ اب تمھارا ہوا۔ اس نے بڑی مہربانی اور شکریے سے وصول کیا۔ جب میری ساس صاحبہ اس طرح کی کوئی دوسری چیز بنانے لگیں تو اس خاتون نے کہا کہ یہ تو میں حیدر کو دے دوں گی اور میں چاہتی ہوں کہ اس جیسا ایک اور میرے پاس بھی ہو۔ میری ساس کہنے لگی کہ وقت تھوڑا ہے اور یہ بن نہیں پاۓ گا۔ آپ مجھے اپنا ایڈریس دے دیں میں پہنچا دوں گی۔ لیکن انہوں نے بنانا شروع کر دیا۔ جب ہم پنڈی پہنچے تو اناؤنسمنٹ ہوئی کہ بہت دھند ہے جس کی وجہ سے لینڈنگ ممکن نہیں ہے لہٰذا اس جہاز کو پشاور لے جایا جا رہا ہے۔ اس سے میری ساس بڑی خوش ہوئی کہ اسے مزید وقت مل گیا ہے۔ جب پشاور لینڈ کرنے لگے تو پائلٹ کی آواز آئی کہ ہم یہاں لینڈ کرنے آۓ تھے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اب یہاں کا موسم بھی پنڈی جیسا ہو گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں واپس پنڈی جانا ہو گا کیونکہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں کا موسم ٹھیک ہو گیا ہے۔ جب ہم پنڈی آۓ تو وہ چیز تھوڑی سی رہ گئی اور مکمل نہیں ہوئی تھی۔ پائلٹ کی آواز پھر گونجی کہ ہم لینڈنگ کرنے والے ہیں لیکن ایک دو چکر اور لگائیں گے تاکہ رن وے کا درست اندازہ ہو سکے۔ جب وہ چیز مکمل بن چکی اور دو چکر بھی مکمل ہو گۓ تو جہاز میں موجود ایک فوجی نے تالی بجائی اور میری ساس کو مخاطب کرتے ہوۓ بولا کہ ” بیگم صاحبہ اب لینڈ کرنے کی کیا اجازت ہے؟” میری ساس نے کہا کہ ہاں اب ہے کیونکہ یہ بن چکا ہے۔

ہم نے اور آپ نے کبھی شیئر کرنے والا کام نہیں کیا ہے۔ ہم نے کبھی خوشیوں کو شئیر نہیں کیا۔ آپ ہمارے ٹی وی اسٹیشن کے سٹوڈیو میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو ایک کوری ڈور کے درمیان میں ایک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشادِ گرامی لکھا ملے گا کہ ” مسکراہٹ بھی ایک صدقہ جاریہ ہے۔” لیکن ہم نے اپنی مسکراہٹ پر بھی کنٹرول رکھا ہوا ہے کہ خبردار مسکرانا نہیں۔ جب ہم کالج یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو ہمارا منہ ایسے سو جا ہوتا ہے جیسے پتہ نہیں کیا غضب ہو گیا اور ہم کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم مسکراتے پھریں۔ ہمارا تو دین ہی سلامتی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب ہم کسی کو السلام علیکم کہہ دیں تو پھر اس کا قتل نہیں کر سکتے۔ آپ کا اگر کسی کو قتل کرنے کا ارادہ ہو خدانخواستہ تو پھر السلام علیکم نہ کہنا (مسکراتے رہنا) کیونکہ آپ اس شخص پر پہلے سلامتی بھیج دیں گے تو اسے قتل کیسے کریں گے۔ جب تک آپ خوشیاں بانٹیں گے نہیں خوشیاں پا نہیں سکتے۔

(حاضرینِ محفل میں سے ایک صاحب بولتے ہیں) اشفاق صاحب اس حوالے سے حالی کا ایک شعر ہے۔

پر طلب ہو کر مزے سے زندگی کرتے رہے اس خامـوشی نے ہمارا بـوجھ ہلکـا کر دیا

اشفاق صاحب: واہ واہ کیا بات ہے۔ (ایک اور صاحب گویا ہوتے ہیں)۔

شیئر کرنے میں ہماری سوسائٹی میں ایک خوف بھی پایا جاتا ہے کہ کہیں ہم سے کوئی کچھ چھین نہ لے۔

اشفاق احمد: تھوڑا نہیں بہت زیادہ خوف پایا جاتا ہے لیکن اگر سٹارٹ مسکراہٹوں سے لیا جاۓ چاہے وہ کروشیۓ سے ہی کیوں نہ ہو تو وہ خوف ناک بات نہیں ہے۔ ہمارے بابا جی نور والے ایک دن کہنے لگے کہ اشفاق میاں تمھارے پاس جو لکھنے والا پین ہے وہ کتنے کا ہے۔ میں نے کہا جناب جو میرے پاس ہے وہ ایک سو نوے روپے کا ہے اور بہت اچھا ہے۔ وہ کہنے لگے جب بھی پین خریدیں سستا خریدیں۔

وہ پوچھنے لگے کہ سستا کتنے کا آتا ہے۔؟

میں نے کہا کہ وہ ایک روپے اسی پیسے کا آتا ہے۔ (اس زمانے میں آتا تھا)۔ فرمانے لگے بس وہی لے لیا کرو۔ میں نے کہا کہ اتنا سستا پین خریدنا تو میری بڑی بے عزتی ہے۔ وہ کہنے لگے پُت جب کبھی آپ ڈاکخانے جائیں اور کوئی آپ سے پین مانگ لے کہ مجھے پتہ لکھنا ہے اور وہ بھول کر اپنی جیب میں لگا کے چلا جاۓ تو آپ کو کوئی غم نہیں ہو گا اور آپ آرام سے سو جائیں گے لیکن اگر ایک سو نوے روپے والا ہو گا تو آپ کو بڑا دکھ ہو گا۔ خواتین و حضرات اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں، ماننے والوں میں شامل ہو جائیں اور جس طرح خداوند تعالٰی کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کس طرح داخل ہو جائیں تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح سے ہم بورڈنگ کارڈ لے کر ایئر پورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جاۓ گا اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ ہمارے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے۔ جو چاند کی سطح پر اترے تھے جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تھا تو اس نے کہا کہ ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا۔ جگہ پتھریلی ہے لیکن نیچے سے حکم اوپر گیا کہ نہیں تمھیں اسی جگہ ورما چلانا ہے۔ وہ ماننے والوں میں سے تھا اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوۓ اسی جگہ ورما چلایا اور اس کے بلآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آ گیا جس کی انہیں تلاش تھی۔

خواتین و حضرات ماننے والا شخص اس زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے جبکہ نا ماننے سے مشکل پڑتی ہے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: ماوراء
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…