نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Salute to non-degree technologists

آپ سب کو اہلِ زاویہ کی طرف سے سلام پہنچے۔ ہم اس پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے تعلیم اور علم کی بات کر رہے تھے۔ علم ایک ایسا موضوع ہے جس پر آپ صدیاں بھی لگا دیں تو ختم نہ ہو کیونکہ یہ موضوع بڑی دیر سے چلتا آ رہا ہے کہ علم کیا ہے ؟ اور اسے کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اب جو موضوع دنیا کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ کیا علم کے ساتھ Ethics and Morality یا اخلاقیات کو بھی لیا جانا چاہیۓ یا کہ خالی ٹیکنالوجی اور سائنس پڑھا دینی چاہیۓ۔ ابھی تک دنیا نے اس حوالے سے کوئی خاص اور حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم مشرق والوں نے ایک زمانے میں یہ فیصلہ کیا تھا اور دوسرے علم کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم رومی رحمۃ اللہ اور سعدی رحمۃ اللہ پڑھاتے رہے ہیں اور اخلاقیات پر مبنی کتابیں کورس میں ہوتی تھیں لیکن اب کہا جاتا ہے کہ اب اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آدمی کو ایک Given Specific Discipline of Knowledge میں ایک دیۓ گۓ موضوع پر اپنی Specialization کرنی چاہیۓ اور اس کے بعد اسے چھوڑ دینا چاہیۓ۔ اکثر آپ بڑے پیشہ ور لوگوں کی شکایت کرتے ہیں جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، بیوروکریٹس شامل ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم فلاں افسر یا ڈاکٹر کے پاس گۓ تھے لیکن انہوں نے ہم پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ بس وہ اپنی بات کرتے رہے جبکہ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ویسا سلوک کریں جیسا انسان انسانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس یہ جواز ہے کہ ہم اس علم کو جانتے ہیں جس کی آپ کے بدن کو ضرورت ہے۔ جس علم کی آپ کی روح اور جذبات و احساسات کو ضرورت ہے۔ وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ وہ آپ کسی اور جگہ سے جا کر لیں پھر آپ جگہ جگہ مارے مارے پھرتے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب علم اتنا عام نہیں تھا تو جس بابے کے پاس علم ہوتا تھا اس کے پاس شفقت بھی ہوتی تھی، محبت بھی ہوتی تھی، آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی ہوتے تھے اور اگر جواب نہیں آتا تھا تو اس کے پاس وہ تھپکی ہوتی تھی جس سے سارے دکھ اور درد دور ہو جاتے تھے لیکن اب اس طرح سے نہیں ہوتا۔ میں بھی دیکھتا ہوں اور آپ بھی دیکھتے ہوں گے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی بڑی توقیر کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ وہ ممالک جو اس میدان میں پیچھے ہیں مشکل میں مبتلا ہیں اور اس مشکل سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور اسے قریب سے دیکھا ہے کہ ہم Technologist یا پیشہ ور لوگوں کو اس محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جس محبت کے انداز سے ہم ان کے بارے میں انگریزی اور اردو کے اخبارات میں مضمون لکھتے ہیں۔ میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ گوجرانوالہ کے پاس ایک قصبہ کامونکی ہے۔ اس کے پہلو میں جاتے ہوۓ میں نے دیکھا کہ پانی سے بھرے ہوۓ کھیتوں کے اندر گھٹنے گھٹنے پانی میں لڑکیاں دھان کی پنیری لگا رہی تھیں جسے “ لابیں “ لگانا کہتے ہیں۔ وہ آٹھ دس لڑکیاں ایک سیدھی قطار میں پنیری کا پودا لگا رہی تھیں حالانکہ ان کے پاس کوئی فٹا یا ڈوری باندھی ہوئی نہیں تھی لیکن وہ نہایت خوبصورت انداز میں بالکل سیدھی قطار میں پنیری لگاتیں اور پھر ڈیڑھ فٹ پیچھے ہٹ جاتیں اور تقریباً ڈیڑھ فٹ پیچھے ہٹ کے ویسی ہی ایک اور قطار میں وہ پنیری یا دھان کا پودا لگاتیں۔ یہ میرے لۓ ایک نئی چیز تھی اور میں وہاں کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔

ایک لڑکی نے کہا بابا جی آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟

میں نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک سیدھی لائن میں ایک دی ہوئی یا باریک Given Space کو کس طرح سے Follow کرتی ہو؟ اس نے کہا کہ یہ تو ہمارا صدیوں کا کھیل ہے۔ ہماری نانی، دادی اور ماں یہ کام ہی کرتی آئی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ آپ کے وجود کے کمپیوٹر میں چِپ لگا ہوا ہے کہ کس طرح سے کام کرنا ہے لیکن‌ میں تخیل کا آدمی ہوں۔ مجھے دل کے اندر اس تخیل کو آگے بڑھا کر داد تو دینے دو۔ اس نے کہا کہ بابا جی آپ کی بڑی ہی مہربانی۔ میں ان کا کام دیکھتا رہا اور ان سے پوچھتا رہا کہ تم کو اس کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں۔ انہوں نے وہ بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ پانی میں مسلسل کھڑے رہنے سے ان کے پاؤں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے اور شلواروں کے پائینچے پھٹ جاتے ہیں۔ جب میں بچوں سے کہتا ہوں کہ ان لڑکیوں کا کام بھی ایک علم ہے تو یہ ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو ان پڑھ لڑکیاں ہیں وہ علم پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ علم تو صرف ان لڑکیوں اور خواتین کے پاس ہے جو کالج یا یونیورسٹی سے حاصل کرتی ہیں۔

چرخہ کاتنے والی مائی کا کام تو علم نہیں ہے حالانکہ وہ تند بھی نکالتی ہے، کپڑا بھی بنا کے دے دیتی ہے اور ہم کھیس اور رضائی بھی اس کے ہاتھ کے کاتے ہوۓ سوت کی لیتے ہیں لیکن ہم اسے Technologist ماننے کے لۓ تیار نہیں ہوتے۔ ان لڑکیوں کو کام کرتے دیکھ کر اور واپس آ کر میں نے اپنے شہر کے لوگوں کا جائزہ لینا شروع کیا تو محسوس کیا کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب ملک ہے اور یہ ملک Technologists سے بھرا ہوا ہے۔ سڑک کنارے ایسے ایسے کمال کے ذہین موٹر مکینک بیٹھے ہیں جو آپ کو ایک اعلٰی درجے کی امپورٹڈ موٹر کو خراب ہونے کی صورت میں آسانی سے ٹھیک کر کے دے دیتے ہیں۔ میں نے اپنی ایک کمیٹی اور پڑھے لکھے لوگوں کے آگے ایک درخواست پیش کی کہ ان Technologist کو بڑے خوبصورت سرٹیفکیٹس چھاپ کر دیتے ہیں اور ان پر ہم سب دستخط کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم سڑک کنارے بیٹھے ہوۓ لوگوں کو بھی سندیں دیں۔

لیکن اس کمیٹی نے میری اس بات کو اچھا نہ سمجھا اور ان پر ناگوار گزرا اور کہنے لگے آپ بھی کیا فضول بات کرتے ہیں۔ وہاں ایک بڑے صاحب تھے جو جج بھی رہ چکے ہیں اور آپ سارے انہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا اشفاق صاحب اگر انہیں کچھ دینا بھی ہوا تو کیا آپ ان کا ٹیسٹ لیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی بیالیس لاکھ کی گاڑی بغیر ٹیسٹ لۓ ان کو دے آتے ہیں اور کہتے ہیں “ بھا صدیق اسے ٹھیک کر دینا “ اور وہ کہتا ہے کہ جی اسے ٹھیک کرنے میں تین دن سے کم نہیں لگیں گے۔ اس کی خرابی بڑی پیچیدہ ہے (میں بھا صدیق کی وہ بات سن رہا تھا) اس نے مزید کہا کہ جی اگر جاپان والے آئیں تو انہیں ہم سے ضرور ملوانا۔ انہوں نے اس گاڑی میں ایک بنیادی غلطی کی ہے اور اگر وہ فلاں جگہ پر آدھے انچ کی جھری دے دیں اور ایک قابلہ ادھر لگا دیں تو یہ خرابی اس میں پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ میں نے کمیٹی والے صاحبان سے کہا کہ آپ ان ہنر مندوں کو مجھے سلام کر لینے دیں۔ پھر میں نے ان بڑے لوگوں سے ڈرتے ڈرتے کہا کہ بہت لائق لڑکیاں ہیں جنہوں نے ایگریکلچر میں “لابیں“ لگانے میں ایم ایس سی کر رکھی ہے کیا انہیں سرٹیفیکیٹ دے دیں تو جواب ملا۔

“ دفع کریں جی۔“

اب ان کے خیال میں ان کے پاس کوئی علم سرے سے ہے ہی نہیں۔ علم تو ان کے خیال میں وہ ہے جس پر وہ ٹھپہ لگا دیں اور یونیورسٹی اس ٹھپے کی تصدیق کر دے۔ ہماری اس کیمٹی میں ایک ہارٹ سرجن بھی تھے۔ وہ کہنے لگے کہ اشفاق صاحب آپ نے جو سرٹیفکیٹ چھپوایا ہے ایسا تو میرے پاس بھی نہیں اور یہ تو اس سے خوبصورت ہے جو میں نے ایف آر سی ایس کرنے پر ایڈنبرا سے لیا تھا۔ کیا آپ یہ سرٹیفکیٹ ایسے ہی دے دیں گے اور یہ کس کو دیں گے۔ ؟

میں نے کہا میں یہ سرٹیفکیٹ اس ویلڈر کو دوں گا جو آپ کے ہسپتال کے باہر بیٹھا ویلڈنگ کرتا تھا۔ وہ کہنے لگے آپ اسے کیوں دیں گے؟

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں آپ کو اس کی ویلڈنگ گن لے دیتا ہوں اور آپ سے کہتا ہوں کہ پیتل اور تانبے کا ٹانکا لگا دیں لیکن اپ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ جس طرح وہ آپ کا کام نہیں کر سکتا اس طرح آپ اس کا ہنر نہیں جانتے۔ آپ ڈاکٹر صاحب مجھے ان بے ڈگریوں کے پیارے ہنر مندوں کو اتنی تو عزت دینے دیجیۓ جتنی آپ کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اس خیال کو چھوڑ دیں۔ ویسے ہم ان لوگوں کی عزت کرنے کے لیۓ لکھتے اور چھاپتے رہیں گے۔ اس سے خواتین و حضرات میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم ان لوگوں کو ان کی عزتِ نفس لوٹانا ہی نہیں چاہتے۔ آرٹسٹ، موچی، نائی ہر ایک انسان کی عزت ہوتی ہے اور دوسری اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور مجھے اس کو اتنی عزت تو دینی چاہیۓ جتنی میں باہر سے آۓ ہوۓ گورے کو دیتا ہوں۔ ہمارے مزاج اتنے کیوں بگڑے؟ ہمارے معاشرے میں عزت نہ دینے کا رحجان کیسے آیا، ہمارے سکول اور درس گاہیں اخلاقیات کی تعلیم کیوں نہیں دیتی ہیں۔ یہ بات میں سمجھ نہیں سکا ہوں۔ میں ایک چھوٹے اور عاجز لکھاری کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ میرے ملک کے چودہ کروڑ آدمی روٹی کپڑے اور مکان کی تلاش میں اتنے پریشان نہیں جتنے وہ عزت کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ وہ سارے کے سارے کسی ایسے کندھے کی تلاش میں ہیں جہاں وہ سر رکھ کر رو سکیں اور اپنا دکھ بیان کر سکیں لیکن انہیں اس بھرے پرے اور طاقتور ملک میں کندھا نہیں ملتا اور بدقسمتی سے ہم انہیں وہ مقام نہیں دے سکتے ہیں جو ہم بیرونِ ملک جاتے ہی وہاں کے ڈرائیوروں اور قلیوں کو سر سر کہہ کر دیتے ہیں۔ جب میں ان خیالات کی مصیبت میں مبتلا تھا تو میرے پاس ایک بابا ابراہیم آیا وہ ضلع شیخوپورہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے مجھے آ کے کہا “ میں نے تمہارا بڑا نام سنا ہے اور تم بڑے اچھے حلیم طبیعت کے انسان ہو۔ میں ریڈیو اور ٹی وی سے تلاش کرتا ہوا تمہارے پاس پہنچا ہوں۔ تم مجھے پڑھنا سکھا دو۔“ میں نے کہا “ بابا تم اس عمر میں پڑھ کر کیا کرو گے؟“ اس نے کہا کہ میری اس وقت عمر 78 سال ہے۔ میں بارہ سال کا تھا جب میرا باپ مجھے چاول کی پنیری لگانے کھیت میں لے آیا۔ میں اس وقت سے لے کر اب تک دھان اُگاتا رہا ہوں۔ اب اللہ نے مجھے بارہ سال بعد خوشیاں دی ہیں اور میرے بیٹے کے ہاں بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ وہ دونوں بچے اب سکول جاتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر جب چولہے پر میں گڑ کی چاۓ بنا رہا ہوتا ہوں تو وہ دونوں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اندر سے ان دونوں کی جو آواز آ رہی ہوتی ہے وہ مجھے بڑی اچھی لگتی ہے۔ وہ پڑھتے ہوۓ جب یہ کہتے ہیں کہ “میں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنوں گا۔ ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔ ان پڑھ آدمی ڈھور ڈنگر (جانوروں) سے بدتر ہوتا ہے اس لۓ علم حاصل کرنا چاہیۓ۔“

تو میں یہ سن کر باہر بیٹھ کر روتا ہوں کہ میں ڈھور ڈنگر ہوں اور میں ملک کی خدمت نہیں کر سکوں گا، میں اس لۓ پڑھنا چاہتا ہوں کہ میں ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اور میں مرنے سے پہلے پہلے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا بابا، تُو تو ساٹھ برس ہم کو چاول کھلاتا رہا ہے، تیرے سے زیادہ خدمت تو کسی اور نے نہیں کی۔ وہ کہنے لگا کہ کتاب میں یہ لکھا ہے کہ “ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کروں گا۔“ لیکن میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ اب مجھے کسی نے بتایا ہے کہ تو لاہور میں اشفاق احمد کے پاس چلا جا، وہ تمہیں پڑھا دے گا اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ لاہور شہر میں بوڑھوں کو پڑھانے کا بھی انتظام ہے اور اگر مجھے الف ب والا کچا قاعدہ آ گیا تو میرا بیڑا پار ہے۔ اللہ مجھے شاباش کہے گا اور کہے گا کہ تو ملک و قوم کی خدمت کر آیا ہے۔ اب میں شرمندہ بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یااللہ ہم جو ان لوگوں کے بارے اُوٹ پٹانگ بول جاتے ہیں اس کا تو بابے کو علم ہی نہیں۔ جب میں نے اس بابے سے چاول کھلانے والی خدمت کا کہا تو وہ کہنے لگا نہیں اس کے تو میں پیسے لیتا رہا ہوں۔ میں نے کہا بابا جو کام ہم کرتے ہیں ہم بھی اس کے پیسے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ ہم پڑھے لکھے لوگ مفت میں ہی بغیر تنخواہ، پنشن کے قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

اب وہ میری جان کے پیچھے پڑ گیا اور اٹھے نا۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کے لۓ کہا کہ بابا تو کوئی ایسا کام جانتا ہے جو گاؤں میں لوگ کیا کرتے ہیں۔

کہنے لگا مثلاً کیا کام؟

میں نے کہا کہ گاؤں میں جب کسی لڑکی کی بارات آتی ہے تو لوگ بارات کی خدمت کرنے کے لۓ بھاگے پھرتے ہیں اور مفت میں کام کرتے ہیں کیا تو ایسا کر سکتا ہے؟ کہنے لگا نہیں۔

میں نے کہا کہ جب گاؤں میں کوئی ڈھگی وچھی (بیل گائے) بیمار ہو جاتی ہے تو اس کا تمہیں کوئی علاج آتا ہے جیسا کہ اپھارے میں کاڑھا دیا جاتا ہے۔ کہنے لگا نہیں میں کوئی نسخہ نہیں جانتا۔ اب میں اس سے جان چھڑانے کے لۓ اسے گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کہنے لگا کہ مجھے دوسرے گاؤں والے گھوڑی پر بٹھا کے لے جاتے ہیں اور اپنی فصل دکھاتے ہیں تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ جو بارہ پودے سر پھینک کے کھڑے ہیں یہ بچ جائیں گے اور وہ جو سینہ تانے کھڑے ہوۓ ہیں مر جائیں گے اور انہیں فصل کی اچھائی اور کمزوری بابت بتاتا ہوں۔

میں نے اس سے کہا بابا تو تو ایگریکلچر کا پی ایچ ڈی ہے“ اوہ ظالما تو نے اب اور پڑھ کے کیا لینا ہے۔“

کہنے لگا نہیں مجھے داخل کرا دیں کیونکہ کتاب میں یہ ہی لکھا ہے کہ ان پڑھ ڈھور ڈنگر ہیں۔

اب دیکھیۓ وہ بابا پاکستان اور جاپان دونوں کو چاول کھلا رہا ہے اور بہت بڑا Technologist ہے لیکن ہمارے ہاں کیا اور کہاں خرابی ہے کہ ہم اپنے ٹیکنالوجسٹ کو ٹیکنالوجسٹ نہیں سمجھتے۔ صرف انہی کو ٹیکنالوجسٹ گردانتے ہیں جن کے اوپر ایک ڈگری لگا دی گئی ہے۔ اگر یہ خلیج اسی طرح سے رہی تو پھر ہماری طاقت ایسے ہی کم ہوتی رہے گی جتنی کی ایک چھوٹے سے دس بارہ لاکھ کے نفوس والے مقروض ملک کی ہوتی ہے جسے علم ہی نہیں ہوتا کہ ملک کدھر جا رہا ہے۔ جو ملک سارے گروہ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں۔ امیری غریبی سارے ملکوں میں ہے اور یہ رہے گی لیکن گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے والے ملک کی ضلح کچہری میں ایک غریب آدمی کی اتنی ہی عزت ہے جتنی امیر آدمی کی ہے۔ جب ہم نے پاکستان بنایا تھا اور میں اس وقت بی۔ اے کر چکا تھا تو آزادی کے تحریک میں جب ہم مختلف دیہاتوں میں تقریریں کرنے جاتے تھے تو یہ ہی کہتے تھے کہ جب پاکستان بنے گا تو تم دیکھو گے کہ تمہیں عزت دی جائے گی۔ وہ دودھ کی نہریں نہیں ہوں گی لیکن تمہیں عزت میسر آۓ گی۔ وہ لوگ ہم سے ہاتھ اٹھا کے پوچھتے تھے کہ کیسے عزت ہو گی۔ میں انہیں کہتا کہ یہ غلامی کی جگہ ہے اور انگریز تمہارا حاکم ہے لیکن جب پاکستان بنے گا تو ضلع کچہری میں تم سے کوئی بے ادبی یا بدتمیزی سے پیش نہیں آۓ گا اور تمہیں وہاں “ پھجا ولد لبھا حاضر ہو“ کی آواز نہیں لگے گی بلکہ وہاں کرسیاں لگی ہوئی ہوں گی۔ آپ کو نائب کورٹ آکے سلام کرے گا اور کہے گا “ تشریف لایۓ آپ کی باری ہے۔“ وہ بے چارے اس دھوکے میں آ گۓ اور عزت کی خاطر چل پڑتے اور نعرے مارتے اور وہاں سکھ ہندو “جھگ“ کی طرح بیٹھ جاتے تھے کہ یہ وعدہ جو ان سے کیا جا رہا ہے یہ پورا ہی ہو گا اس لۓ لوگ ان کے نعرے لگا رہے ہیں۔ خواتین و حضرات میں ان کو عزتِ نفس دیۓ جانے کے خواب دکھا کر ایسے ہی گناہ کرتا رہا ہوں۔ اب میں عمر کے آخری حصے میں ہوں اور وہ لوگ جن سے ہم وعدہ کرتے تھے وہ عارف والا اور خانیوال میں آباد ہیں اور میری طرح عمر رسیدہ ہو گۓ ہیں لیکن میں انہیں ان کی عزتِ نفس لوٹا یا دلوا نہیں سکا اور اب کچھ ہونا بہت مشکل ہے۔

میں اپنے چھوٹوں اور ساتھیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا انہیں کچھ نہ دیں، انہیں دولت نہیں چاہیۓ انہیں صرف ان کی عزتِ نفس لوٹا دیں پھر دیکھیں یہ کیسے شیروں کی طرح کام کرتے ہیں اور جس کی ہمیں اور آپ کو آرزو ہے؛ یہ آپ کو بدلے میں دیں گے لیکن ابھی تک یہ کام رکا ہوا ہے اور مجھے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ “اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اگر مجھے کہیں سے اس بات کی تھوڑی سی بھی بھنک پڑتی رہے کہ انہیں عزتِ نفس لوٹا دی جاۓ گی تو مجھے حوصلہ ہو گا اور شاید اس بھنک کی وجہ سے صبر کا دامن میرے ہاتھ میں ہی رہے۔ یہ عزتِ نفس لوٹانے سے ہمارے پلے سے تو کچھ نہیں جائے گا۔ کسی کو کوئی پیسہ دھیلا نہیں دینا بس عزت دینی ہے، احترام اور تکریم دینی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ سے آج یہ جو بات ڈائریکٹ ہوئی ہے اس کا کچھ نہ کچھ مثبت اثر ضرور ہو گا۔ کیونکہ آپ کے چہرے بتا رہے ہیں کہ آپ اس دلیل کو تسلیم کرتے ہیں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…