نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

August, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خمیر

دیکھو فیصلے ہم پر شروع میں ڈال دیے جاتے ہیں چوری چوری ہماری مرضی پوچھے بنا۔ہر انسان کے اندر ایک خمیر ہوتا ہے، جیسے سرسوں کے بیج میں یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کا رنگ زرد ہو گا، تربوز کاٹو تو اس کے ہر بیج کا یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ اس سے جنم لینے والا تربوز اندر سے سرخ ہو گا۔۔۔ دیکھو قیوم نہ تربوز اپنی خوشی سے سرخ ہوتا ہے، نہ چنبیلی اپنی مرضی سے خوشبودار۔۔۔ سب کے بیج کا خمیر ہے جو آدمی کو چور بناتا ہے، اس کے وجود کو غارت گری کا خمیر لگا ہوتا ہے کہیں۔ نیک سازگار ماحول میں شاید ساری عمر اس کی یہ خوبی نہ کھلے، لیکن جس کے اندر غارت گری کا خمیر نہیں ہو گا۔۔۔ وہ ناسازگار ماحول میں کچھ نہیں کر پائے گا۔۔۔ کبھی چور نہیں بن سکے گا۔۔۔ یار میرے، سیدھی سی بات ہے سیب کو تم بھی گرتا دیکھتے ہو، نیوٹن نے بھی دیکھا، تم کشش ثقل ایجاد نہیں کرتے، وہ ایجاد کر جاتا ہے۔۔۔ کیونکہ تمھارے بیج میں وہ راستہ نہیں تھا، جو ایک سائنسدان کا ہوتا ہے۔
بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس
بشکریہ: کائنات سبحانی

محبت ایک چھلاوہ

محبت چھلاوہ ہے قیوم۔۔۔ اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ہے۔ کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ہیں اتصال جسم کے خواہاں ہوتے ہیں۔ کچھ آپ کی روح کے لیے تڑپتے ہیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ہو جانا چاہتے ہیں۔ کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ہوتا ہے۔۔۔ محبت چھلاوہ ہے لاکھ روپ بدلتی ہے۔۔۔ اسی لیے، لاکھ چاہو ایک آدمی آپ کی تمام ضروریات کو پورا کردے، یہ ممکن نہیں۔۔۔ اور بالفرض کوئی آپ کی ہر سمت ہر جہت کے خلاء کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ بھی اس کی ہر ضرورت کو ہر جگہ ہر موسم میں اور ہر عہد میں پورا کر سکیں گے؟ انسان جامد نہیں ہے، بڑھنے والا ہے اوپر، دائیں، بائیں۔۔۔ اس کی ضروریات کو تم پابند نہیں کر سکتے۔۔۔ لیکن سیمی بڑی ضدی ہے، بہت زیادہ۔۔۔ وہ محبت کو کسی جامد لمحے میں بند کرنا چاہتی ہے۔
بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ میں کردار آفتاب کا ایک مکالمہ
بشکریہ: کائنات صبحانی

حرام و حلال

مغرب کے پاس حلال اور حرام کا تصور نہیں ہے اور میری تھیوری ہے کہ جس وقت حرام رزق جسم میں داخل ہوتا ہے وہ انسانی genes کو متاثر کرتا ہے۔ رزق حرام سے ایک خاص قسم کی mutation ہوتی ہے جو خطرناک ادویات، شراب اور radiation سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ رزق حرام سے جو genes تغیر پذیر ہوتے ہیں وہ لولے لنگڑے اور اندھے ہی نہیں ہوتے بلکہ ناامید بھی ہوتے ہیں۔ نسل انسانی سے یہ جب نسل در نسل ہم میں سفر کرتے ہیں تو ان genes کے اندر ایسی ذہنی پراگندگی پیدا ہوتی ہے جس کو ہم پاگل پن کہتے ہیں۔ یقین کرلو رزق حرام سے ہی ہماری آنے والی نسلوں کو پاگل پن وراثت میں ملتا ہے۔ اور جن قوموں میں من حیث القوم رزق حرام کھانے کا لپکا پڑ جاتا ہے، وہ من حیث القوم دیوانی ہونے لگتی ہیں۔
بانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس
بشکریہ: پارس صدیقی
---
Maghrib Kay Paas Halal aur Haraam Ka Tasawar Nahi Hai aur meri theory hay kay jis waqt haram rizq jisam mein dakhil hota hai wo insani genes ko mutasir karta hai. Rizq Haram say aik Khaas Qisam ki mutation hoti hai jo Khatarnak adwii'aat, shara'b, aur radiation say bhi ziaada moh&#…

تہیہ کیجیے، راستہ پائیے

جب ایک آدمی کا تہیہ ہو جائے کہ میں نے اس راستے سے اس راستے پہ جانا ہے تو اللہ پھر اس کو برکت دیتا ہے اور پھر وہ آدمی جس کی تلاش میں ہوتا ہے وہ ایک دن خود صبح پانچ بجے آ کے اس کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ڈھونڈنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔
تہیہ ہو تو پھر ہوتا ہے نہ ہو تو مشکل ہے، پھر آدمی ڈھونڈتا رہتا ہے، بتائیے اشفاق صاحب کوئی اچھا سا بابا!!!۔
یہ ایسے ہے کہ، کیوں کہ ابھی اس کا کوئی ارادہ نہیں اس کا صرف پروگرام یہی پوچھنا ہے کہ نارووال گاڑی کب جاتی ہے؟
کہیں جانا ہے؟
تو کہے گا، نہیں میں تو صرف ایسے ہی پوچھ رہا تھا!!!۔ باب، اندر کی تبدیلی سے اقتباس
بشکریہ : زین خان

اماں سردار بیگم

اس زمانے میں بچے نوکر نہیں پالتے تھے، مائیں پالتی تھیں۔ غریب مائیں، امیر مائیں، بھونڈی مائیں، پھوہڑ مائیں، اور اپاہج مائیں، پاکباز اور طوائف مائیں سبھی اپنے بچے خود پالتی تھیں۔ ان کے پاس بچے پالنے کا سستا اور آسان نسخہ تھا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ بچے اپنی ماں سے چالیس پینتالیس گز کے ریڈیس میں کہیں بھی جاتے، کہیں بھی ہوتے، کہیں کھیلتے ان کو اچھی طرح سے معلوم ہوتا تھا کہ مشکل وقت میں ان کی پکار پر اماں بجلی کی طرح جھپٹ کر مدد کے لیے آموجود ہوگی اور وہ اپنی مشکل اپنی ماں کے گلے میں ڈال کر گھر کے اندر کسی محفوظ کونے میں پہنچ جائیں گے۔ اس زمانے کی مائیں بچوں کو اپنی عقل و دانش سے یا نفسیاتی ذرائع سے یا ڈاکٹر سپوک کی کتابیں پڑھ کر نہیں پالتی تھیں بلکہ دوسرے جانوروں کی طرح صرف ممتا کے زور پر پالتی تھیں۔ بچے بھی کھلونوں، تصویروں، ماؤں کی گودیوں اور لمبی لمبی کمیونی کیشنوں کے بغیر پروان چڑھتے تھے اور ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر بڑے ہی سرسبز ہوتے تھے۔ ان کے پاس یقین کی ایک ہی دولت ہوتی تھی کہ ماں گھر پر موجود ہے وہ ہر جگہ سے ہماری آواز سن سکتی تھی۔ جس طرح پکے پکے خدا پرست کو پورا …

دھرتی کے رشتے

میں بڑی درد مندی سے اور بڑے دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اپنے رشتوں کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ بات ہمیں بڑی ہی خوفناک جہنم کی طرف لیے چلی جا رہی ہے۔ میرے گھر کے باہر لگا ہوا شہتوت کا درخت میرا دوست، میرا عزیز اور رشتہ دار ہے اور وہ فاختائیں جو ہماری منڈیر پر آتی ہیں، میں انہیں جانتا ہوں۔ وہ مجھے جانتی ہیں لیکن میں انسانوں کو نہیں پہچانتا۔ میں ان سے دور ہو گیا ہوں۔ میں ان کے ساتھ ایک عجیب طرح کی نفرت میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ بہار کے موسم میں جب بہار اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہوتی ہے اور گرمیوں کا شروع ہوتا ہے اس وقت ایک سہارا ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ وہ برکھا رُت کا سہارا ہوتا ہے۔ ساون کا سہارا ہوتا ہے کہ بارشیں آئیں گی، مینہ برسیں گے اور پھر ہم جسمانی طور پر نہ سہی ذہنی طور پر پورے کے پورے برہنہ ہو کر برستی ہوئی بارشوں میں نہائیں گے اور پھر سے اپنے پیارے بچپن میں پہنچ جائیں گے۔ پچھلے دنوں تمام عالم میں “ Water Day “ منایا گیا۔ سنا ہے کہ دنیا سے پانی کم ہو رہا ہے۔ یہ بڑی خوفناک سی بات ہے۔ باوصف اس کے کہ انسان کی خدمت کے لیے سارے پہاڑ، بڑی بڑی کروڑو…

میرا اللہ - My Allah

مجھ میں کمی یہ ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا، ایسی دھوپ نہیں ملتی، ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار، اور کچھ نہ کچھ اس سے بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ، بلکل ٹھیک ہے لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو پھر میرا ذکر کرو، لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے یا پہلو کے بل۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے مگر میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں؟ تو پھر آپکو ایک حرکت، ایک وائبریشن محسوس ہوتی ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اس طرف جا ہی نہیں سکتے۔ اشفاق احمد، زاویہ کے باب حقوق العباد سے انتخاب بشکریہ: زین خان