نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

September, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حضرت شیخ مجدد الف ثانی

مجھے یاد آگیا ، حضرت شیخ مجدد الف ثانی - وہ بہت سخت اصولی بزرگ تھے ، لیکن یہ بات میں ان کی کبھی نہین بھولتا - انہوں نے فرمایا ، جو شخص تجھ سے مانگتا ہے اس کو دے ، کیا یہ تیری انا کے لیے کم ہے کہ کسی نے اپنا دست سوال تیرے آگے دراز کیا - بڑے آدمی کی کیا بات ہے - اس سلسلے میں ایک حدیث بھی ہے ، اور وہی سرچشمہ ہے ، پھر فرماتے ہیں ، اور عجیب و غریب انہوں نے یہ بات کی ہے کہ جو حق دار ہے اس کو بھی دے اور جو نا حق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے - تا کہ تجھے جو نا حق کا مل رہا ہے وہ ملنا بند نہ ہو جائے - دیکھیں ناں ، ہم کو کیا ناحق کا مل رہا ہے - اس کی ساری مہربانیاں ہیں کرم ہے ، اور ہمیں اس کا شعور نہیں ہے کہ ہمیں کہاں کہاں نا حق مل رہا ہے 
اشفاق احمد زاویہ 1  دیے سے دیا  صفحہ 51

عیب

جب تم کسی میں کوئی عیب  دیکھو تو اسے اپنے اندر تلاش کرو -  اگر اسے اپنے اندر پاؤ تو اسے نکال دو - یہ حقیقی تبلیغ ہے - اسے بزرگان دین تلاوت الوجود کہتے ہیں 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 630

پاکیزگی

جس کا ہاتھ پاک ہو جائے گا ، اس کی نیت درست ہو جائیگی - جس کی نیت درست ہو جائیگی  ، اس کا عقیدہ درست ہو جائےگا-   جس کا عقیدہ درست ہو جائےگا ، اس کے اعمال درست ہو جائیں گے 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 628

دین

-ہمارے دین کی تین مضبوط بنیادیں  ہیں - ایک اعتقاد -  دوسرا ایمان - اور تیسرا معاملات اللہ کے فضل سے اعتقاد کے تو ہم بڑے پکے ہیں -عبادات بھی خوب کرتے ہیں - مساجد بھری ہوئی ہوتی ہیں - لیکن معاملات  کے میدان میں ہم صفر ہیں - ہم معاملے کو جان ہی نہیں سکے - ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ ہمارا  ہمارے پڑوسی کے ساتھ کیا رشتہ ہے  - ابا ، اماں ، بیوی کے ساتھ کیا رشتہ ہے - یہ رشتے ٹوٹے پڑے ہیں
جب تک ہم  معاملات کو ویسی مضبوطی سے نہیں پکڑیں گے  ، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ہے اس وقت تک ہماری بیل منڈھے نہیں چڑھے گی ، جب تک منبر پر جمعے کے خطبوں میں اس بات پر توجہ نہیں دلائی جائی گی  ، ہم تھوڑے سے پھنسے رہیں گے - خواتین کو تو بطور خاص اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے 
اشفاق احمد زاویہ 3 ٹین کا خالی ڈبہ اور ہمارے معاملات  صفحہ 192

ایمان

میرے ایک استاد اونگارتی تھے - مین نے ان سے پوچھا کہ سر  " ایمان کیا ہوتا ہے " ؟ انہوں نے جواب دیا کہ  ایمان خدا کے کہے پر عمل کرتے جانے اور کوئی سوال نہ کرنے کا نام ہے - یہ ایمان کی ایک ایسی تعریف تھی جو دل کو لگتی تھی -اٹلی میں ایک بار ہمارے ہوٹل میں آگ لگ گئی اور ایک بچہ تیسری منزل پر رہ گیا  شعلے بڑے خوفناک قسم کے تھے - اس بچے کا باپ  نیچے زمین پر کھڑا بڑا بیقرار اور پریشان تھا - اس لڑکے کو کھڑکی    میں دیکھ کر اس کے باپ نے کہا  چھلانگ مار بیٹا -"اس لڑکے نے کہا کہ  " بابا کیسے چھلانگ ماروں مجھے تو تم نظر ہی نہیں آ رہے  (اب وہاں روشنی اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی تھی ) اس کے باپ نے کہا  کہ تو چاہے جہاں بھی چھلانگ مار ، تیرا باپ تیرے نیچے ہے ، تو مجھے نہیں دیکھ رہا میں تو تمہیں دیکھ رہا ہوں ناں -"اسی طرح اللہ تعالیٰ  فرماتے ہیں کہ " تم مجھے نہیں دیکھ رہے - میں تو تمہیں دیکھ رہا ہوں نا اعتماد کی دنیا میں اترنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شہ رگ کی بیٹھک اور شہ رگ کی ڈرائنگ روم کا کسی نہ کسی طرح آہستگی سے دروازہ کھولیں - اس کی چٹخنی اتاریں اور اس شہ رگ کی بیٹ…

داتا اور منگتا

انسان کے وجود میں دو مقام ہوتے ہیں  داتا اور منگتا - جو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو جاتا ہے وہ صورت کے اعتبار سے بھی داتا ہو جاتا ہے اور معنوں کے اعتبار سے بھی داتا ہو جاتا ہے  - اس لیے  بزرگان دین فرماتے ہیں ، صاحبو ! سوال مت بنو ، جواب  بنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بندگی

بندگی کی شرط یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا ہو جائے - پھر اللہ تعالیٰ بندے کا ہو جاتا ہے  - جس کی بندگی کرنا چاہتا ہے اس کا  بندہ ہو جائے تو بندگی ہے ورنہ نیک عادت ہے  - نیک عادت کو خطرہ ہر مقام پر موجود رہتا ہے - جس طرح بکرہ حلال ہے-  تکبیر ہو جائے تو طیب ہوجاتا ہے - جھٹکا ہو جائے تو ناپاک ہو جاتا ہے -  ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 633

معاشرہ

عزیزو ! میری بات ذرا دھیان سے سننا اور اس پر غور کرنا کہ معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ افراد کی حاصل ضرب کا نام ہے - یہ ہمارے ذاتی تعلقات کے پھیلاؤ کا نام ہے - جو کچھ ایک فرد واحد پر وارد ہوتا ہے وہ ہماری ساری سوسائٹی میں پھیل جاتا ہے - جنگوں کے اسباب اور معاشروں کے انحطاط کی وجہ افراد کے ذھنوں میں مقید ہوتی ہے - اگر ہمیں معاشرے کو تبدیل کرنا ہے تو ہمیں فرد کو تبدیل کرنا ہوگا - اگر ہمیں معاشرے کو بہتر بنانا مقصود ہے تو پھر فرد کو ایک نئی زندگی عطا کرنی ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 حقیقت اور ملا سائنسدان صفحہ 250

علم اور دانش

میں نے تائے سے کہا تایا سن میں تمہیں ایک بڑے کام کی بات بتاتا ہوں - وہ بڑے تجسس سے میری طرف دیکھنے لگا - میں نے اسے بتایا کہ یہ جو مکھی ہوتی ہے اور جسے معمولی اور بہت حقیر خیال کیا جاتا ہے یہ دیکھنے اور بینائی کے معاملے مین تمام کیڑوں سے تیز ہوتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں میں تین ہزار محدب شیشے یا لینز لگے ہوتے ہیں اور یہ ہر زاویے سے دیکھ سکتی ہے - اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بھی اور جس طریقے سے بھی اس پر حملہ آور ہوں ، یہ اڑ جاتی ہے - اور اللہ نے اسے یہ بہت بڑی اور نمایاں خصوصیت دی ہے - اب مین سمجھ رہا تھا کہ اس بات کا تائے پر بہت رعب پڑے گا    !کیونکہ میرے خیال میں یہ بڑے کمال کی بات تھی لیکن تایا کہنے لگا
" لکھ لعنت ایسی مکھی تے جندیان تن ہزار اکھاں ہوون او جدوں وی بہندی ائے گندگی تے بہندی ائے " -ایسی مکھی پر لعنت بیشمار ہو جس کی تین ہزار آنکھین ہوں اور وہ جب بھی بیٹھے گندگی پر ہی بیٹھے -خواتین و حضرات  ! یہ بات  ہے دانش کی - ایسی باتیں علم کے زمرے میں نہیں آتی ہیں 
از اشفاق احمد  زاویہ 3 فوک وزڈم  صفحہ 94

بابا کون ؟

خواتین و حضرات ! بابے آسانیاں فراہم کرتے ہیں لوگوں کو آسرا اور سہارا فراہم کرتے ہیں - تشفی دیتے ہیں - ایسے وقت میں محبت کے دو بول عطا کرتے ہیں جب انسان کو ان کی ضرورت ہوتی ہے - میرے نزدیک وہ الیکٹریشن بابا ہے جو کسی گھر میں بغیر پیسے مانگے بجلی کا شو ٹھیک کر کے گرمی میں پنکھا چلا دیتا ہے - میرے نزدیک وہ بابا ہے جو کسی محتاج بوڑھے کو اپنا کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتا ہے اور میرے خیال میں وہ سائیکل پر برف کے گولے بیچنے والا ایک بابا ہے جو کسی راہی کو بغیر معاوضہ محبت سے ، پانی کا ایک گلاس پیش کر سکتا ہے  
از اشفاق احمد زاویہ 3 بلیک اینڈ وائٹ  صفحہ83

دھوکہ

ایک بات زندگی بھر یاد رکھنا اور وہ یہ کہ کسی کو دھوکہ دینا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے  دھوکے میں بڑی جان ہوتی ہے وہ مرتا نہین ہے - گھوم پھر کر ایک روز واپس آپ کے پاس پہنچ جاہے  کیونکہ اس کو اپنے ٹھکانے سے بڑی محبت ہے اور وہ اپنی جائے پیدائش کو چھوڑ کر اور کہین نہیں رہ  سکتا


از اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 292

علم نافع ، مرشد اور استاد

ڈیروں پر ایک مدت گزارنے کے بعد مین اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھ میں کسی کو اپنا مرشد سمجھ لینی کی ہمت نہیں ہے -  - مغربی تعلیم  نے مجھے خود سر ، خود اعتماد اور خود کار بنا دیا تھا
میرے لیے دوسرے کا مشورہ رائے اور سمجھاؤ نہ صرف دخل اندازی تھی بلکہ مکمل آزادی گنوانے کے مترادف تھی ، میں   دنیاوی علوم میں تو استاد کی دستگیری برداشت کر سکتا تھا لیکن اقلیم قلب میں کسی رہنما ہادی یا کسی گائیڈ کا متکلف نہ ہو سکتا تھا- میں نے اللہ کے لیے اپنی ہاٹ لائین ایجاد کر رکھی تھیاعلیٰ تعلیم نے مجھ سے ماننے کی صلاحیت چھین لی تھی کچھ سال صوفی ازم کی کتابین اور سائنسی دنیا کی تلہٹ کرنے میں گذر گئے دو راستوں کا مسافر ہو گیا اور اپنی انا کو سمت -نما بنا کر علم نافع کی تلاش میں لگا رہا لیکن علم حاصل کرنے کا طریقہ غالباً یہ نہ تھا

از اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 386

اندر باہر

جو شخص اپنے اندر ہی اندر گہرا چلا جاتا ہے، وہی اوپر کو اٹھتا ہے اور وہی رفعت حاصل کرتا ہے۔ یہی قدرت کا اصول ہے۔ جو درخت جس قدر گہرا زمین کے اندر جائیگا، اسی قدر اوپر و جا سکے گا، اور اسی قدر تناور ہو گا۔
 ہم اپنی ساری زندگی اوپر ہی اوپر، اپنے خول کو، اور اپنے باہر کو جاننے پر لگا دیتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل  انسان ہمارے اندر رہتا ہے۔ 
 جب میں اپنے اندر نگاہ مارتا ہوں تو اس کے اندر کچھ الفاظ، کچھ تصورات، کچھ خیال، کچھ یادیں، کچھ شکلیں اور کچھ خواب پاتا ہوں۔
 زاویہ: 3، باب "علم فہم اور ہوش"، صفحہ 295 سے اقتباس

گلاب اور کانٹا

یہ ٹھیک ہے کہ تم ایک گلاب نہیں بن سکتے، مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم ایک کانٹا بن جاؤ۔  یہاں ایک راز کی بات ہے، اور وہ میں تمھیں بتا ہی دیتا ہوں کہ جو شخص کانٹا نہیں بنتا، وہ بالآخر گلاب بن جاتا ہے۔

 زاویہ: 3، "علم فہم اور ہوش"، صفحہ 295 سے اقتباس