نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

October, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عمر

میں نے سنگ مرمر کی سل کو دھیان سے دیکھا ۔ وہ صاحب زادہ صاحب کی قبر کا کتبہ تھا ۔  اوپر" کل نفساً ذائقہ الموت " لکھا  تھا ۔ نیچے جلی قلم سے صاحب زادہ نصیر الدین شاہ  کا نام کھدا تھا ۔  اس کے نیچے ایک ہی سطر میں تاریخ پیدائش  1893 ء اور تاریخ وفات 1952 ء لکھی تھی ۔  خطوط وحدانی میں عمر دو سال لکھی تھی ۔  اور نیچے شعر تھا  پھول  تو  دو دن  بہار جان  فزا  دکھلا  گئے حسرت ان غنچون پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
میں نے صاحب زادہ صاحب کی عمر کا حساب دی گئی تاریخوں سے لگایا تو ان کی عمر انسٹھ سال بنی ، لیکن خطوط وحدانی میں دو سال لکھی تھی ۔  میں اس بھل ( بھول ) سے بوکھلا گیا  اور تھوڑی دیر رک کر بولا  " حضور سنگ ساز مورکھ پنے سے  عمر غلط لکھ گیا ہے صاحب  زادہ صاحب کی عمر انسٹھ سال بنتی ہے  اور یہ شعر بھی اس نے بے جوڑ چلا دیا "۔
وہ تھوڑی دیر خموش رہ کر بولے، برخوردار نصیرالدین نے دو برس  کی عمر کے بعد پورے لفظ اور پورے فقرے بولنے  شروع کر کے سب کو حریان کر دیا ۔ سوہنا کلام تے سوہنی گفتار ۔  جو بھی اس کیاں باتاں  سن دا، دلوں بجانوں عاشق موہت ھو رہندا ۔ لاڈ لڈاندا۔ پیراں ھیٹھ ھت…

عطائے خداوندی

مومن اس لیے پاک ہے کہ وہ کوئی ذاتی غرض و غایت نہیں رکھتا  ۔  وہ عطائے خداوندی کو رضا ئے خداوندی پر لگاتا ہے۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 634

شک

جوانی میں مجھے پودوں اور درختوں سے بڑا شغف تھا ۔ اس وقت میرے پاس ایک چھوٹی  آری ہوا کرتی تھی جس سے میں درختوں کی شاخیں  کاٹتا تھا اور ان کی اپنی مرضی کی مطابق تراش خراش کیا کرتا تھا ۔   اور ہمارے ہمسایوں کا ایک بچہ  جو پانچویں ، چھٹی میں  میں پڑہتا ہوگا ، وہ اس ولایتی آری میں بہت  دلچسپی لیتا تھا ،  ۔ ایک دو مرتبہ مجھ سے دیکھ بھی چکا تھا ، اور اسے ہاتھ سے چھو بھی چکا تھا ۔  ایک روز میں نے اپنی وہ آری بہت تلاش کی لیکن مجھے نہ ملی ، میں نے اپنے کمرے اور ہر جگہ اسے تلاش کیا لیکن بے سود ۔  اب جب میں گھر سے باہر نکلا تو میں نے پڑوس کے اس لڑکے کو دیکھا  اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ میری آری اسے نے چرائی ہے  ، اس کی شکل صورت ، چلنے بات کرنے کا انداز سب بدل گیا تھا ۔   اب مجھے ایسا لگتا کہ جس طرح وہ پہلے مسکراتا تھا اب ویسے نہیں مسکراتا ، مجھے ایسا لگتا جیسے  مجھے وہ اپنے دانتوں کے ساتھ چڑا رہا ہو ۔ اس کے کان جو پہلے چپٹے تھے اب وہ مجھے کھڑے دکھائی دیتے تھے ۔  اوراس کی آنکھوں مجھے ایک ایسی چیز دکھائی دیتی جو آری چور کی آنکھوں میں نظر آ سکتی ہے ۔  لیکن مجھے اس بات سے بڑی تکلیف ہوئی جب م…

داماد

ہمارے گاؤن میں ایک لڑکی تھی ، جوان تھی مگر شادی نہیں ہو رہی تھی ۔  ہم اسے کہتے کہ تو بھی دعا مانگ اور ہم بھی  مانگتے ہیں کہ اللہ تیرا کہیں رشتہ کرا دے ۔  اس نے کہا نہیں ، میں اپنی ذات کے لیے کبھی دعا نہیں مانگوں گی ۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا ۔ ہم نے کہا کہ بھئی تو تو پھر بڑی ولی ہے  جو صرف دوسروں کے لیے ہی دعا مانگتی ہے ۔ اس نے کہا ولی نہیں ہوں  ، مگر دعا صرف مخلوق خدا کے لیے مانگتی ہوں ۔ وہ اللہ زیادہ پوری کرتا ہے ۔ ہم اس کی اس بات پر بڑے حیران ہوئے تھے ۔ وہ ہمیشہ یہی دعا مانگا کرتی تھی کہ " اے اللہ  میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی ، میں اپنی ماں کے لیے دعا مانگتی ہوں کہ اے خدا میری ماں کو ایک اچھا  خوبصورت سا داماد دے دے ۔  تیری بڑی مہربانی ہوگی ۔ اس سے میری ماں بڑی خوش ہوگی ، میں اپنے لیے کچھ نہیں چاہتی۔  وہ ذہین بھی ہو اس کی اچھی تنخواہ بھی ہو ۔ اس کی جائیداد بھی ہو ۔ اس طرح کا داماد میری ماں کو دے دے  "۔
 اشفاق احمد زاویہ 2 ہاٹ لائن  صفحہ 98

رزق

مولانا حافظ الدین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے  کہ آدمی کو چند خصلتیں چیتے سے سیکھنی چاہئیں  ان میں سے ایک خصلت یہ ہے کہ چیتا کتے کی طرح رزق کے پیچھے بھاگتا نہیں  اگر اس کے سامنے کوئی چیز میسر آجائے تو لے لیتا ہے ورنہ چھوڑ دیتا ہے ۔  دوسرے چیتا جب شکار کے لیے نکلتا ہے اگر شکار ہاتھ آجائے تو شکار کر لیتا ہے ،  لیکن اس کا پیچھا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے لیے بہت زیادہ دوڑتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی طرح آدمی کو بھی چاہیے کہ ضرورت کے مطابق رزق طلب کرے ۔  نہ تو بہت زیادہ طلب کرے اور نہ ہی اس کے پیچھے مارا مارا پڑے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 304

صبر اور شکر

انسان پر جو حالات آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں  ۔ ایسے حالات جو طبیعت کے مطابق ہوں اور خوش کن ہوں  ۔ دوسرے وہ حالات جو طبیعت کے منافی ہوں اور ناگوار ہوں تو ان حالات میں عبدیت یہ ہے کہ یوں سمجھے کہ حق تعالیٰ مجھے قرب عطا فرمانا چاہتے ہیں ۔ خوشگوار حالات پر تو شکر کرونگا اور ناگوار حالات پر صبر کرونگا۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 317

مرعوبیت

مجھ میں بڑے آدمیوں سے مرعوب ہونے کا بڑا ملکہ ہے  اور میں ہر بڑے آدمی سے فوراً متاثر ہو کو اس کے سامنے سر نگوں ہو جاتا ہوں ۔  میں پاکستان کے ان کروڑوں انسانوں میں سے ہوں  جو اپنی عاجزی ، فروتنی ، کمترینی،اور بیچارگی کے زور پر بڑے بڑے  متکبر ، گھمنڈی  ، خودپرست ، اور خود بین فرعونوں کو جنم دیتے ہیں اور ان کے جلوسوں کے آگے ناچتے گاتے " آوے ای آوے " کے  نعرے مارتے جاتے ہیں ۔ ہمیں صاحبان حیثیت سے کچھ مطلوب نہیں ہوتا  نہ ہی ہم ان سے کسی رعایت  کے طلبگار ہوتے ہیں ۔  ہم صرف ان کے گن گانے  کے لیے پیدا  ہوتے ہیں ، اور انہین جتلائے  بغیر ساری زندگی ان کے گن  گا کر ختم ہو جاتے ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 58

دل اور دماغ

اس کائنات میں دل بہت ہی خطرناک چیز ہے ۔  خطرناک اس لیے کہ یہ اکیلا رہتا ہے  ، اکیلے سوچتا ہے اور اکیلے ہی عمل کرتا ہے  اور اکلاپے میں بڑا خوف ، بڑا وہم ، مسلسل ڈر ہوتا ہے ۔  دماغ ہمیشہ عقلمندی کی اور  حفاظت کی باتیں سوچتا ہے ۔ اپنے آپ کو بچانے کی  اور محفوظ رہنے کی ترکیبیں وضع کرتا ہے۔  دماغ گروہ میں چلتا ہے اور اور اپنے ارد گرد آدمیوں کا ہجوم رکھتا ہے ۔ اسی جلوس سے اس کو تقویت ملتی ہے ، سہارا ملتا ہے ۔  سیاسی لیڈر زیادہ سے زیادہ  لوگوں کو اپنے گرد جمع کر کے رکھتا ہے ۔  لیکن فقیر ہمیشہ اکیلا رہتا ہے  دل کی فیصلوں کے مطابق خوفناک مقاموں میں ۔  دل اور دماغ دونوں ہی سوچنے والے اعضاء ہیں ۔ دونوں ہی پروگرام وضع کرتے ہیں ۔  دماغ جب بھی سوچتا ہے  اپنی لیڈری  اپنی نمود اپنی برتری کے بارے میں سوچتا ہے ۔ اپنی ذات کو مرکز بنا کر سوچتا ہے ۔  دل جب بھی سوچتا ہے محبوب کا گھر دکھاتا ہے ،  دل سے سوچنے والا ماریا تھریسا ہوتا ہے  یا منشی ہسپتال کا خالق یا ایدھی  َ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   جو کوئی دل کی طرف مائل ہوا وہ گرا ، گرفتار ہوا ، پکڑا گیا ۔  اسی لیے ہم کہتے ہیں فلاں ، فلاں کی محبت میں  گرفتار ہوگیا ۔  گ…

نسخہ

خود بیداری اور خود نگہداری کے لیے آج آپ کو ایک حکیم لقمان جیسا نسخہ عطا کرتے ہیں ، ضرور سننا اور پھر اس پر عمل کرنا۔ آج کے بعد سے لوگ آپ کے ساتھ جو بھی سلوک کریں  یا آپ کے ساتھ جو بھی رویہ اختیار کریں  یا آپ کے  بارے میں جو بھی کہیں ان کو ایسا کہنے دیں اور ان کی راہ میں حائل نہ ہوں ان کے رویے اور ان کی طبع میں نہ تو کوئی تبدیلی پیدا کریں  اور نہ ہی کسی طرح سے ان پر اثر انداز ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  نہ ہی ان کے کہنے اور کرنے پر نا خوشی کا اظہار کریں ، نہ ہی نفرین کریں ،اور نہ ہی اس کا تذکرہ اوروں سے کریں  اس موضوع پر زبان ہی نہ کھولیں ۔
یہ ان کے عمل نہیں جو ہم کو مضطرب کرتے ہیں  اور ہمیں وسوسوں میں گھیرتے ہیں  بلکہ یہ ہماری اپنی غیر محفوظیت کا خوف ہوتا ہے ۔ تو جناب ! ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ فرد  خود میں تبدیلی پیدا کرے نہ کہ اپنے عزیزوں رشتےداروں میں تبدیلیاں پیدا کرتا پھرے  اور ان کے دروازوں پر جا کر دبکے مارتا پھرے ۔   جب تم لوگون کو اپنی من مانی کرنے دو ( اور ایسا وہ ہر حال میں کریں گے ) اور ان کی راہ کی رکاوٹ نہ بنو  تو تمہارے اندر ایک حیرت انگیز تبدیلی  رونما ہوگی ۔ آپ پہلی مرتبہ دی…

محبت

ایک دن میں نے  پوچھا  جناب یہ محبت ہوتی کیا ہے  ۔ بابا جی نے فرمایا محبت  دوسرے کے اندر چھپی ہوئی خوبی کا نقاب اتارنے کا نام ہے ۔  جس شخص میں جو کوئی بھی خوبی ہو  اس پر ایک چھلکا چڑھا ہوتا ہے ۔ اس کی خوبی نظر نہیں آتی ، اس چھلکے کو اتارنے کا نام محبت ہے ۔  پردہ ہٹانے کا نام محبت ہے ۔ اسٹیج روشن کرنے کا نام محبت ہے ۔

اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ 403

کمی

کالج کے زمانے میں سینیما کی کھڑکی کے سامنے قطار میں کھڑے ہو کر  جب ہم تین چار دوست ٹکٹ خریدنے جاتے تھے  تو اکثر ہم میں سے کسی نہ کسی کے بوٹ کے تسمے ڈھیلے ہو جاتے تھے اور وہ قطار سے نکل کر ایک طرف ہو کر تسمے باندھنے لگ جاتا تھا ۔  دوسرے دوست اس کا ٹکٹ خرید لیتے تھے  اور یہ جتاتے نہیں تھے کہ تم کنجوس ہو ، بے زر ہو ،  یا غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہو ۔  بس ایسے ہی عزت رہ جاتی تھی ، یا رکھ لی جاتی تھی ۔  اسی طرح جب کوئی شخص  اچانک غصے  میں آ جائے تو آپ کو یہی سوچنا چاہیے  کہ اس شخص کے تسمے اچانک کھل گئے ہیں ۔ اور اسکے اندر ، اس کے کھیسے میں ، جیب میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے  ۔ وہ جھک کر اپنے پاؤں کی طرف دیکھنے لگا ہے ۔  اس کی ساری توجہ اپنے آپ پر مرکوز ہو گئی ہے ۔  محبت میں تونگری حاصل کرنے کے لیے اور انکساری  کے ملک التجار بننے کے لیے آپ کو دوسروں کے ساتھ  برداشت کے ساتھ رہنا چاہیے ۔

 اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 513 

ایمان

دیکھو مجھے نظر تو نہیں آتا مگر میرا ایمان ہے  کہ اس کمرے میں ریڈیو کی لہریں بھری پڑیں ہیں ۔ ٹی وی کی لہریں ناچ رہی ہیں اور میں ریڈیو پر یا ٹی وی پر اپنی پسند کا سگنل پکڑ سکتا ہوں  ۔ اسی طرح سے میرا ایمان ہے کہ یہاں خدا کی آواز اور خدا کے احکام  موجود ہیں  اور میں اپنی ذات کے ریڈیو پر ان سگنلوں کو پکڑ سکتا ہوں لیکن اس کے لیے مجھے اپنی ذات کو ٹیون کرنا پڑیگا ۔ 
اور ایمان کیا ہے ؟ خدا کی مرضی کو اپنی مرضی بنانا  ایک اختیار  ہے  ، پسند ہے ۔ کوئی مباحثہ یا مکالمہ نہیں ۔ یہ ایک فیصلہ ہے مباحثہ نہیں ہے ۔  یہ ایک کمٹمنٹ  ہے کوئی زبردستی نہیں ہے ۔  یہ تمہارے دل کے خزانوں کو بھرتا ہے اور تمہیں مالا مال کرتا  رہتا ہے ۔ 
اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ 540

خیر

اصل خیر یہ نہیں بیٹا کہ کسی بھوکے کو دیکھ کر  ایک روپے سے اس کی مدد کر دی ،  بلکہ اصل خیر  بھوکے کو اس وقت روپیہ دینا ہے  جب تم کو بھی ویسی ہی بھوک لگی ہو  اور تم کو بھی اس روپے کی ویسی ہی ضرورت ہو جیسی اس کو ہے ۔  اچھائی اور خیر ان اعمال کے تابع نہیں جو ہم کرتے ہیں  بلکہ اس کا تعلق اندر سے ہے کہ ہم ہیں کیسے ۔ ؟

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 516

ہر وقت موجود ہرجگہ موجود

ایک نرس نے مجھے بتایا کہ میری ساری زندگی میں  ایک ہی مریضہ ایسی آئی جو کہ موت سے بےحد خوفزدہ تھی ۔  اس نے اپنی بہن کے ساتھ کچھ ایسی زیادتی کی تھی کہ اب اس کا مداوا کچھ مشکل تھا ۔  جو لوگ عمرہ کے سفر پر جانے سے پہلے معافیاں مانگ لیتے ہیں ،  تو وہ خوش خوش روانہ ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح آخرت کے سفر پر جانے سے پہلے جنہوں نے  روانگی کے کاغذات پر معافی کا ویزا لگوا  لیا ہوتا ہے ان کی آنکھوں میں ایک عجب طرح کی لچک ہوتی ہے اور وہ عجیب خوشگوار اور خوبصورتی سے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں ۔ 
ہمارے بابے کہتے ہیں کہ بندے کا گناہ اللہ کے گناہ کے مقابلے میں بہت بڑا اور بہت سخت ہوتا ہے  ۔ اگر آپ کسی انسان کو تکلیف پہنچاتے ہیں ،  اور اس کی نا خوشی کا موجب بنتے ہیں پھر جب کبھی آپ کو ہوش آتا ہے اور آپ معافی مانگنے کے موڈ میں ہوتے ہیں تو اس آدمی کا کوئی سراغ ہی نہیں ملتا کہ کدہر سے آیا تھا اور کدہر گیا ۔ لیکن اگر آپ خدا کا کوئی قصور کرتے ہیں ، کوئی اللہ کا گناہ آپ سے سرزد ہو تا ہے تو اللہ سے بڑی آسانی سے معافی مانگ لیتے ہیں کہ  وہ ہر وقت موجو د ہے اور ہر جگہ  موجود ہے  ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 399

تاؤلہ پن

اصل میں لوگ اپنے آپ کو جلد سے جلد بڑا ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے محدب شیشے کی تلاش میں ہوتے ہین جو ان کی شخصیت پر رکھ کر انہیں بڑا ثابت کیا جا ئے ۔  یہ ضرورت ان کو اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ جلد سے جلد پاپولر ہونا چاہتے ہیں ۔ لیکن تیزی اور تاؤلی سے نہ بڑے آرٹسٹ پیدا ہوتے ہیں نہ بڑے بزرگ ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 396

صاحب اثمار

بابا جی کی آواز آئی  تو سیکرٹری صاحب جوتی پہنے بغیر ، ننگے پاؤں ان کی طرف بھاگے ۔  میاں مثنوی نے کہا ! " اس طرح سے بھاگنے والے لوگ انعام یافتہ ہوتے ہیں ۔ صاحب اثمار ۔ پھلوں سے لدے ہوئے اور یہ سب معیت کا اثر ہوتا ہے ۔ گھلے ملے ہونے کا ۔ ایک ساتھ ہونے کا " ۔ میں نے  کہا " میاں مجھے تیری بات سمجھ نہیں آئی ،  تو جب بھی بات کرتا ہے پہیلیوں میں کرتا ہے اور تیری پہیلیاں اصل کی نشاندہی  کرنے سےقاصر ہوتی ہیں  " ۔ میاں ہنس پڑا اور تالی بجا کر بولا  " رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع میں داخل ہونا ، مسکینوں اور لرزنے والوں کے ساتھ ہو کر رہنا ہے  "۔  کیا تو نے دیکھا نہیں !  " پھل نہ درخت کے ڈالے کو لگتا ہے نہ اس کے مضبوط تنے کو  ۔ پھل جب بھی لگتا ہے لرزنے والی شاخ کو لگتا ہے  ، اور جہاں بھی لگتا ہے کانپتی ہوئی ڈالی کو لگتا ہے ۔ جس قدر شاخ رکوع میں جانے والی ہوگی اسی قدر پھل کی زیادہ حامل ہوگی ۔  اور فائدہ درخت کو اس کا یہ کہ ، پھل کی وجہ سے ڈالا بھی کلہاڑے سے محفوظ رہتا ہے اور تنا بھی ۔  درخت کی بھی عزت ہوتی ہے  اور درخت کی وجہ سے سارا باغ بھی عزت دار بن جاتا ہے &q…

دعا

خواتین و حضرات ! دعا انسان اور اس کے پروردگار میں ایک خوبصورت رشتہ ہے ، جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ۔ دعا انرجی کی ایک بہت ہی طاقتور قسم ہے جو ایک عام شخص آسانی سے خود میں پیدا کر سکتا ہے ۔ دعا کا انسانی ذہن اور انسانی جسم پر ایسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے غدودوں کے عمل کا ہوتا ہے ۔  اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  مسلسل دعا کے بعد بدن میں ایک طرح کی لہر پیدا ہو جاتی ہے ۔  ذہنی قوت عود  کر آتی ہے ۔  سکون پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور انسانی رشتوں کے گہرے اور دور رس عوامل سمجھ میں آنے لگتے ہیں ۔ سچی عبادت ، دلی دعا ،  اصل مین زندگی کا چلنا ہے ۔  سچی اور صراط مستقیم والی زندگی دعا سے معرض وجود میں آتی ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  روح کی سرگوشی صفحہ 309

بد دعا

فرض کیجیے  راشدہ کو روحی سے کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس کا دل دکھ سے بھر گیا تو اس نے روحی سے بدلہ لینے کے لیے اسے بددعائیں دیں  اور اس  کا برا چاہا تا کہ اس کے ذہن کو کچھ تو سکون پہنچے - اب جب راشدہ نے روحی کا برا چاہا اسے بد دعائیں دیں تو پتہ چلا کہ راشدہ بد دعا کے اور برائی کے اسٹور میں رہائش پذیر ہے  ، جہاں سے اس کو بد دعا کی کھلی سپلائی  مل رہی ہے اور مفت مل رہی ہے ۔ اب جب بھی راشدہ بددعا کے پیکٹ تیار کرتی ہے تو اس کے گھر میں بھی ایک فیکٹری کھل جاتی ہے  ، جہاں سپلائی کے لیے مال تیار ہو رہا ہے ۔ اب راشدہ اپنی ہی  خواہش سے اپنی ہی سزا ہے ۔
اشفاق احمد  بابا صاحبا  صفحہ 506

موتو قبل انتموتو

جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے اس کو ایک کسوٹی پر گھس کر ضرور دیکھا کرو  - ایک پرکھ ضرور قائم رکھو کہ  یہ سب کچھ اور آئندہ کے حصول کا سب کچھ کیا موت آپ کو ان سے جدا نہیں کر دے گی - یہ دولت یہ جائیداد یہ بینک بیلنس جو اب آپ کی ملکیت میں ہیں ، کیا ذرا سی موت ان کے درمیان حائل ہونے سے یہ ساری چیزیں آپ سے جدا نہیں ہو جائیں گی - یہ عزت یہ شہرت ، یہ ناموری ، یہ سیاسی اقتدار  ، یہ طاقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ساری چیزیں  ایک موت کی ہلکی سی آمد سے آپ سے الگ نہیں ہو جائیں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لیے صوفی کہا کرتے ہیں کہ ان سب چیزوں کے سامنے پہلے ہی مر جاؤ - خود موت کو اختیار کر لو - یہ سب چلی جانے والی چیزیں ہیں - اور پیشتر اس کے کہ یہ آپ سے بیوفائی کریں ، آپ خود ان سے منہ موڑ کر ان کو ٹھوٹھ دکھا دو ، اور اس چیز کو اختیار  کر لو جو لافانی ہے ، جو امر ہے ، جو سمادہی ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 485

خوف

جو شے آپ کو خوفزدہ کر رہی ہے اگر آپ بہت دیر تک اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو جائیں  تو تھوڑی دیر بعد وہ خوفزدہ ہو کر بھاگ جائیگی ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ  503

گناہ

یہ سچ نہیں ہے کہ مولوی نے ڈرا ڈرا کر  لوگوں کو خوفزدہ کر کے  گناہ کی طرف دھکیل دیا -  اور ان کے اندر جرم کا اور قصور کا تصور پیدا کر دیا - اور اس تصور سے خود فائدہ اٹھا کر ان کا لیڈر بن کر بیٹھ گیا ۔ یہ بات نہیں گناہ کا تصور انساں کے اندر میں ہے - انسان کے اندرونی توازن میں جب بے وزنی پیدا ہو جاتی ہے - جب اس کے اندر عزت نفس کی کمی واقع ہو جاتی ہے - خدا سے بیگانگی پیدا ہوتی ہے ، علیحدگی پیدا ہوتی ہے تو وہ گناہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مولوی کے خوف دلائے بغیر ، اس کے جھڑکے سہے بغیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  یہ ( گناہ ) انسانی ضمیر کے تانے بانے اور اسی کی تار و پود کا ایک حصہ ہے - گناہ مذہب  نے ایجاد نہیں کیا یہ اس نے دریافت کیا ہے - اور اس کے اثرات کا انسان کے وجود پر جس جس طرح کا بوجھ پڑتا ہے ، اس کا مطالعہ کیا ہے ، اور ساتھ ہی ساتھ جس کے خلاف گناہ کیا ہے اس کا مشاہدہ کیا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 501

عذاب

دنیا میں اس سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں   ، کہ انسان وہ بننے کی کوشش میں مبتلا رہے جو کہ وہ نہیں ہے  - گو اس خواہش اور اس آرزو کی کوئی حد نہیں ہے، ہم لوگ کوشش کر کے اور زور لگا کے اپنے مقصد کو پہنچ ہی جاتے ہیں اور بالآخر وہ نظر آنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو کہ نہیں ہوتے -  اپنے آپ کو پہچانو اور خود کو جانو اور دیکھو کہ تم اصل میں کیا ہو - اپنی فطرت اور اپنی اصل کے مطابق رہنا ہی  اس دنیا میں جنت ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ 292

لذت

لذتیں وقتی اور ہنگامی ہوتی ہیں  لیکن مسرتیں ،  شادمانیاں مستقل ہوتی ہیں -  لذتوں کا جسم سے تعلق ہوتا ہے  اور خوشیوں کا روح سے ۔ شادمانی نفس اور وجود سے ہٹ کر ہوتی ہے - یہ نفس سے جنگ کا دوسرا نام  ہوتا ہے - نفس سے جنگ روح کو خوشی عطا کرتی ہے جبکہ خواہشات کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے جسمانی لذتیں میسر آتی ہیں ، روح کو بالیدگی نہیں ملتی - ۔
اشفاق احمد زاویہ 3  صاحب السیف  صفحہ 272

دنیا

ایک روز ہم ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے  - میں نے اپنے بابا جی سے پوچھا کہ  "جناب دنیا  اتنی خراب کیوں ہو گئی ہے - اس  قدر مادہ پرست کیوں کر ہو گئی ہے " ؟ بابا جی نے جواب دیا   " دنیا بہت اچھی ہے  - جب ہم اس پر تنگ نظری سے نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہمیں تنگ نطر دکھائی دیتی ہے  - جب ہم اس پر کمینگی سے نظر دوڑاتے ہیں  تو یہ ہمیں کمینی نظر آتی ہے - جب اسے خود غرضی سے دیکھتے ہیں تو خود غرض ہو جاتی ہے -  لیکن جب اس پر کھلے دل روشن آنکھ اور محبت بھری نگاہ  سے نظر دوڑاتے ہیں تو پھر اسی دنیا میں کیسے پیارے پیارے لوگ نظر آنے لگتے ہیں  "۔
اشفاق احمد  زاویہ 3 خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف صفحہ 227

غلامی

مائیکل اینجلو ویٹی کن گرجے کی چھت پینٹ کر رہا تھا - تو ایک سایہ بار بار اس کو تنگ کرتا تھا اور اس کے نقوش کی راہ میں حائل ہوتا تھا - مائیکل اینجلو جھلا اٹھا اور بڑ بڑانے لگا  - لیکن جب اس نے غور کیا تو وہ سایہ اسی کے وجود کا سایہ تھا  جو اس کے اورتصویر  کے درمیان حائل تھا - اس نے بتی کو ایک کٹورے میں اس انداز سے رکھا کہ اس کی روشنی سیدھی تصویر پر پڑے -  پھر اس نے تصویر کشی کا عمل سکون سے شروع کر دیا - کیونکہ اس کا اپنا سایہ راہ میں حائل نہیں ہو رہا تھا
ایک بات ہمیشہ یاد رکھو اور اس کو سونے کے حروف میں لکھ کر اپنے سامنے لٹکا لو کہ تم ان لوگوں کے غلام ہو جن کی تم تصدیق کے اور موافقت کے تعریف کے خواہاں ہو -  تم جلد ہی محسوس کر لو گے کہ تمہاری جنگ لوگوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ اپنے ذہن کی کج روی کی مابین ہے -  ذہن کو درست کر لو ، پھر سب ٹھیک ہے 
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 550

موت

ایک روز میں جمعہ پڑہنے جا رہا تھا - راستے میں ایک چھوٹا سا کتا ریہڑے کی زد میں آگیا - اور اسے بہت زیادہ چوٹ آگئی وہ جب گھبرا کر گھوما تو تو دوسری طرف سے آنے والی جیپ اس کو لگی ، وہ بالکل مرنے کے قریب پہنچ گیا اسکول کے دو بچے یونیفارم میں آرہے تھے - وہ اس کے پاس بیٹھ گئے - میں بھی ان کے قریب کھڑا ہو گیا - حالانکہ جمعے کا وقت ہو گیا تھا  ان بچوں نے اس زخمی پلے کو اٹھا کر گھاس پر رکھا - اور اس کی طرف دیکھنے لگے - ایک بچے نے جب اس کو تھپتپایا تو اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں وہاں ایک فقیر تھا - اس نے کہا  واہ ، واہ ، واہ ! سارے منظر کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا  ، جب کہ ہم کچھ آبدیدہ اور نم دیدہ تھے اس فقیر نے کہا ، اب یہ اس سرحد کو چھوڑ کر دوسری سرحد کی طرف چلا گیا - وہ کہنے لگا کہ موت یہ نہیں تھی کہ  اس کتے نے آنکھیں  بند کر لیں ، اور یہ مر گیا اس کی موت اس وقت واقع ہوئی تھی جب یہ زخمی ہوا تھا ، اور لوگ اس کے قریب سڑک کراس کر رہے تھے اور کوئی رکا نہیں تھا  - پھر اس نے سندھی کا ایک دوہڑا پڑہا - اس کا مجھے بھی نہیں پتہ  کہ کیا مطلب تھا - اور وہ آگے چلا گیا - وہ کوئی پیسے مانگنے والا  نہ…

شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت

طریقت کی شروعات مادی غرض و غایت سے پاک ہونا ہے - پہلا درجہ شریعت ہے  ، دوسرا طریقت ہے ، تیسرا حقیقت ہے- چوتھا معرفت ہے  شریعت دودھ ہے -  طریقت دہی ہے - حقیقت مکھن ہے - اور معرفت گھی ہے - اگر دودھ نہ ہو تو نہ کچھ بن سکتا ہے نا بنا سکتا ہے

حضرت شیخ مجدد الف ثانی

مجھے یاد آگیا ، حضرت شیخ مجدد الف ثانی - وہ بہت سخت اصولی بزرگ تھے ، لیکن یہ بات میں ان کی کبھی نہین بھولتا - انہوں نے فرمایا ، جو شخص تجھ سے مانگتا ہے اس کو دے ، کیا یہ تیری انا کے لیے کم ہے کہ کسی نے اپنا دست سوال تیرے آگے دراز کیا - بڑے آدمی کی کیا بات ہے - اس سلسلے میں ایک حدیث بھی ہے ، اور وہی سرچشمہ ہے ، پھر فرماتے ہیں ، اور عجیب و غریب انہوں نے یہ بات کی ہے کہ جو حق دار ہے اس کو بھی دے اور جو نا حق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے - تا کہ تجھے جو نا حق کا مل رہا ہے وہ ملنا بند نہ ہو جائے - دیکھیں ناں ، ہم کو کیا ناحق کا مل رہا ہے - اس کی ساری مہربانیاں ہیں کرم ہے ، اور ہمیں اس کا شعور نہیں ہے کہ ہمیں کہاں کہاں نا حق مل رہا ہے 
اشفاق احمد زاویہ 1  دیے سے دیا  صفحہ 51