نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہمدردی

زندگی میں کبھی ہمدردی کے طلبگار نہ ہونا ۔ خوش رہنا ، کلیلیں بھرنا  اور تم کو محبت ملے گی ۔  ہمدردی کے طالب کو کبھی بھی محبت نہیں ملتی ۔  ہمدردی تمہارے خزانے کو کبھی بھی نہیں بھر سکتی ۔

اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 543

soccor

مجھے یاد ہے جب میں لندن میں تھا ، وہاں ساکر(فٹبال) کے دیوانہ وار مقابلے ہوا  کرتے تھے ۔ تو ایک جادو قدم کھلاڑی نارمن تھا جس کے آگے نہ بال رکتا تھا  نہ کوئی کھلاڑی ٹھرتا تھا ۔  وہ جب بھی کھیلتا اس کا والد ضرور آ کر تماشائیوں میں بیٹھتا اور اپنے بیٹے کا کھیل دیکھتا اور بیٹا بھی اپنے باپ کو کھیل دکھانے کے لیے  سر دھڑ کی بازی لگا دیتا اور پھر یوں ہوا کہ اس کا باپ فوت ہو گیا اور نارمن بجھ گیا ۔ اس کے کھیل مین وہ قوت اور تیزی نہ رہی ۔  ایک روز اس نے کہا کوچ ، باوجود اس کے کہ میرا باپ اس دنیا مین نہیں ہے ، میں اس کے لیئے کھیل کھیلنا چاہتا ہوں ، کوچ نے کہا ، بہت خوب ہم اس کے لیئے مخصوص کرسی خالی رکھیں گے ۔ بس پھر اس روز جو کھیل نارمن کھیلا اس کی مثال سوکر" کی دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔ پانچ ہزار تماشائیوں کی تالیوں کی گونج میں کھیل کا میدان لرزتا رہا ، گونجتا رہا ، پکارتا" رہا ، نعرے مارتا رہا۔  گیم جیت کر جب نارمن ڈریسنگ روم میں گیا تو اس نے کوچ کو بتایا کہ آج کا کھیل میں نے اپنے باپ کے لیے کھیلا ۔ جب تک وہ زندہ رہا اس نے عمر بھر ایک مرتبہ بھی میرے کھیل کو مس نہیں کیا،باقاعدگی سے آ…

تخلیق کار

عورتوں کو واقعات اور حادثات من حیث المجموع یاد رہتے ہیں ۔ اور مرد کو ان کی تفصیلات یاد رہتی ہیں ۔ عورت خالق اورمرد کرافٹس مین ہے ۔ عورت اپنے اندر ہی سے پرانا سرانا خام مواد لے کر ایک جیتا جاگتا برینڈ نیو بچہ تخلیق کر دیتی ہے۔اور مرد بھاگ بھاگ کر اور چار دانگ عالم سے چھوٹی چھوٹی چیزیں اکٹھی کر کے بڑی چابکدستی کے ساتھ  ایک مووی کیمرا،  ایک وی ٹی آر ریکارڈر یا ایک فوٹو اسٹیٹ مشین بنا سکتا ہے ۔ مرد پرفیکشنسٹ ہوتا ہے اس لئیے اس کی نظر ہمیشہ جزئیات پہ رہتی ہے ۔ زندگی اور محبت کے میدان میں وہ چھوٹے چھوٹے پیچ اور ڈھبریاں کستا چلتا ہے اور اس کا ایک پیچ ڈھیلا ہو جانے سے ساری مشین لڑکھڑانے لگتی ہے ۔ عورت کے تانے بانے کا مواد ایک ہی ہوتا ہے کہیں سے ایک تار بھی ٹوٹ جائے تو کپڑے کی مجموعی نوعیت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ 
اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ 100

غفور الرحیم

میرے تایا بیمار تھے اور کوما میں تھے ۔ کبھی وہ کومے ، سے باہر آجاتے اور کبھی ان پر پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔  اور ہم سب بہن بھائی مونڈھے پہ بیٹھے ان کو اٹینڈ کرتے تھے ۔میں اس وقت سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا ۔ ایک دن انہیں اٹینڈ کرنے کی ڈیوٹی میری تھی ۔  وہ مجھ سے کہنے لگے کہ  " یہ جو اللہ ہے کیا وہ انسانوں کے گناہ معاف کر سکتا ہے "۔ میں نے کہا کہ جی اللہ تو کچھ بھی کر سکتا ہے اور گناہوں کو معاف کرنے میں تو وہ بڑا رحیم ہے اور غفورالرحیم ہے۔ وہ تو کہتا ہے کہ انسان اس سے گناہوں کی معافی مانگے ۔ تایا کہنے لگے  یار یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔ جب انہوں نے یہ کہا تو ان کے چہرے پہ کچھ بشاشت سی پیدا ہوئی اور میں نے ان کی خوشنودی  کے لیے مزید کہا کہ تایا آپ نے کونسے ایسے گناہ کیے ہیں  کہ آپ اس قدر پریشانی کے عالم میں ہیں ۔ آپ تو ہمارے ساتھ بڑے چنگے رہے ہیں یہ سن کر انہوں نے کہا کہ  " shut up , its nothing between you and me , its between me and my ALLAH ." شٹ اپ ،  " تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چائیے یہ میرا اور میرے اللہ کا معاملہ ہے "۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 ڈ…

عشقِ حقیقی

ہم نے کئی بیماریوں پر قابو پا لیا ہے ۔ یا کم ازکم انہیں محدود کر کے مقید کردیا ہے  ۔ لیکن اس صدی کی سب سے خطرناک بیماری وہ ہے کہ جب انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو خود کشی  پر مائل ہو جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کی تدبیریں کرنے لگتا ہے ۔ اس بیماری کو کیا نام دوں ۔ کہ اس کو کوئی نام دیا جانا بہت ہی مشکل ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان کے دل کے اندر محبت کی باؤلی سوکھنے لگتی ہے  تو یہ بیماری پیدا ہوتی ہے ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا افلاس محبت کی کمی ہے ۔  جس شخص میں محبت کرنے کی صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوئی وہ اپنے پرائیویٹ دوزخ میں ہر وقت جلتا رہتا ہے ۔  جو محبت کر سکتا ہے وہ جنت کے مزے لوٹتا ہے ۔ لیکن محبت کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اور اپنے نفس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔  اپنی انا کو کسی کے سامنے پامال کر دینا مجازی عشق ہے ۔ اپنی انا کو بہت سوں کے آگے پامال کر دینا عشقِ حقیقی ہے 
اشفاق احمد   زاویہ 3 محبت کی حقیقت صفحہ 239

صبر و سکون

کسان ہل جوتتا ہے ۔ کھاد ملاتا ہے ۔ مٹی نرم کرتا ہے ، بیج ڈالتا ہے ، پانی دیتا ہے اور پھر پودے کے انتظار میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھولوں کو پودوں سے زبردستی کھینچ کر نہیں نکالا جا سکتا ۔ اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاموشی کے ساتھ  اورجرئت کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور محبت کے ساتھ ! ! ۔ اللہ کی محبت کا بیج بھی ایسے ہی بویا جاتا ہے اور پھر اسی طرح روحانی مراد کا بھی انتظار کیا جاتا ہے ۔ خاموشی سے محبت سے ،  جرئت سے ! جو کوئی بھی اس میں بے چینی اور بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے وہ مراد حاصل نہیں کرتا۔ بے صبری بار آوری کے لیے مناسب کھاد نہیں ۔  ابدی پھولوں کے حصول کے لیے ابدی انتظار کی ضرورت ہے اور جو ابدی انتظار کا تہیہ کر لیتا  اس کے لیے فٹ سے بھی دروازہ کھل جایا کرتا ہے ۔ ہمارے اندر ، اندر کی طاقت موجود ہے اور کافی مقدار میں موجود ہے ۔ لیکن ہم بے صبری کے ساتھ اس کو گنوا دیتے ہیں ۔ گدلے جوہڑ کے اندر اپنے چھکڑوں کو تیزے سے ہانکتے ہوئے گذارنا اور بھی گدلاہٹ پیدا کرتا ہے ۔  آرام سے چلو گے تو سب گار بیٹھ جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ہم پر لازم ہے کہ ہم محض شاہد بنیں ۔ دیکھنے والے بنیں ۔ ذہن خودبخود پا…

سلامتی

مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام کا مطلب سلامتی ہے ۔  جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے وہ سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور جو شخص سلامتی میں داخل  ہو جاتا ہے وہ سلامتی ہی عطا کرتا ہے ۔ اس کے مخالف عمل نہیں کرتا۔ جس طرح ایک معطر آدمی اپنے گرد و پیش کو عطربیز کر دیتا ہے ۔ اسی طرح ایک مسلمان اپنے گرد و پیش کو خیر اور سلامتی سے لبریز کر دیتا ہے ۔ اگر کسی وجہ سے مجھ سے اپنے ماحول کو اور اپنے گرد و پیش کو سلامتی اور خیر عطا نہیں ہو رہی تو مجھے رک کر سوچنا پڑے گا کہ میں اسلام کے اندر ٹھیک سے داخل ہوں بھی یا نہیں ۔۔۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 458

بت شکن

فرمایا کہ شبیہ تیار نہ کرنا ۔ صنم نہ بنانا ۔ بت نہ بنانا ۔ کیونکہ اس کا بت بنایا ہی نہیں جا سکتا ۔ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔  اس لیے اس کا بت نہ بنانا ، نہ ہی اس کی پوجا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ بتوں کو توڑنا اور بت خانوں کو تباہ  کرنا ہماری ڈیوٹی ہے ۔  چونکہ وہ شکل و صورت سے مبرا ہے ۔ اس لیے جہاں بھی اس کی شکل و صورت بنائی گئی ہے ۔ اس کو ڈھا دینا چاہیے ، تباہ کر دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا ان کی عقل ملاحظہ فرمائیں ، فرمایا یہ تھا کہ ظاہر پرستی نہ کرنا ، ظاہر کو نہ اپنانا ، اپنے اندر اترنا ، اپنے وجود کی تلاوت کرنا لیکن ہم نے بتوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ لوگ پتھر کو پوجتے ہیں ، کچھ پتھر کو توڑتے ہیں ۔ دونوں ہی پتھر سے وابستہ ہیں ۔ دونوں ہی پتھر کے گرویدہ ہیں ۔ دونوں ہی اس سے بندھے ہوئے ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 441

پانسہ

زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے ، جب آپ اپنا سارا دماغ ساری طاقت ، ساری ترکیبیں اور ساری صلاحیتیں  صرف کر چکے ہوتے ہیں اور پانسہ پھینک چکے ہوتے ہیں ۔  اس وقت سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 434

انسان

یقیناً انسان کو اللہ پر ایمان رکھنا چاہیے ، اس ایمان سے اس کے بہت سے مشکل مسائل کا حل خودبخود نکل آتا ہے، اور وہ قوی تر ہوتا جاتا ہے ۔  لیکن انسان کو اللہ پر یقین رکھنے کے ساتھ ساتھ انسان پر بھی یقین رکھنا چاہیے  ۔ اپنے آپ پر بھی ایمان رکھنا چاہیے  ۔ کیونکہ اگر ہم انسان پر ایمان نہیں رکھیں گے تو اللہ پر بھی ہمارا ایمان مضبوط نہیں ہوگا ۔  انسان خدا کی بہترین مخلوق ہے ۔ انسان کی کمزوریاں اور مجبوریاں بہت ہیں ۔  اس طرح اس کی برتریاں اور اعلیٰ ترینیاں  بھی سب سے زیادہ ہیں ۔ کیا  ہم نے ایٹم بم پھاڑ کر نہیں دکھا دیا  ۔  اگر وہ یہ سب کچھ کر سکتا ہے تو جہالت ، تعصب اور پیکار کا قلع قمع کیوں نہیں کر سکتا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 434

مولوی

انجمن اسلامیہ کا سالانہ  جلسہ جامع مسجد میں ہوتا تھا اس کے لیے دور دراز سے اعلیٰ درجے کے مولوی بلائے جاتے تھے میرے ابا جی اور چاچا ولی محمد اس انجمن کے کرتا دھرتا تھے ۔ وہ ہمارے قصبے کے لوگوں کی فرمائش پر ایسے مولوی  بلانے پر مجبور تھے  جو گلے کے سریلے ، کھانے کے چسکورے ،  بات کے ہٹیلے اور دلیل کے کٹیلے ہوں ۔ دوسرے مسلک کے چھکے چھڑادیں  اور اپنے عقیدے پر آنچ نہ آنے دیں ۔  منظوم لطیفے اور ظریفانہ کہانیاں آسانی سے سنا سکیں ۔  روتوں کو ہنسادیں اور ہنستوں کو رلا دیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی ہاؤ ہو سے جلسے مین مجلس کا سا رنگ پیدا کر دیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ  164

منگتے

ایک روز بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں گدائی کر  کے کچھ رسد لے کر  ڈیرے پر جاؤنگا ۔ اور لنگر  میں شامل کرونگا  تا کہ پرانی رسم کا اعادہ ہو ۔ گھر کے پھاٹک سے باہر نکل کر جب میں نے ادہر ادہر دیکھا تو میرا حوصلہ نہ پڑا ۔ میں اتنا بڑا آدمی ایک معزز اور مشہور ادیب  کس طرح کسی کے گھر کی  بیل بجا کر یہ کہ سکتا ہوں کہ میں مانگنے آیا ہوں ۔ میں چپ چاپ  آ کر واپس اپنی کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا ۔  لیکن  چونکہ یہ خیال میرے ذہن میں جا گزیں ہو چکا تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا " مجھے اللہ کے نام پر کچھ خیرات دو گی " ۔ وہ میری بات نہ سمجھی اور حیرانی سے میرا چہرہ تکنے لگی ۔ میں نے کہا مجھے اللہ کے نام پر کچھ آٹا خیرات دو ۔ اس نے تعجب سے پوچھا تو میں نے کہا کہ بابا جی کے لنگر میں ڈالنا ہے ۔ کہنے لگی ٹھرئیےمیں کوئی مضبوط سا شاپر تلاش کرتی ہوں ۔ میں نے کہا شاپر نہیں میری جھولی میں ڈال دو ۔ کیونکہ ایسے ہی مانگا جاتا ہے ۔  وہ پھر نہیں سمجھی ۔ جب میں نے ضد کی تو وہ آٹے کا بڑا " پیالہ " بھر لائی ۔ میں نے اپنے کرتے کی جھولی اس کے آگے ک…

علم اور عمل

عمل، علم کے لیے ایندھن کا کام دیتا ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ علم کا الاؤ روشن رہے تو اس میں عمل کا تیل ڈالتے رہیں ۔ ایسا نہ ہوا تو اس کی روشنی ماند پڑ جائےگی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی صفحہ 308

روٹی کپڑا اور مکان

عام انسانی زندگی کافی بے مقصد ہوتی ہے ۔  ہر کسی کو تو کوئی لگن ، یا کوئی دھن ، یا کسی قسم کا جنون  یا کوئی ایسا شوق نہیں ہوتا  جس کے لیے  وہ اپنی ساری زندگی وقف کر دے ۔  وہ لوگ تو خال خال ہی ہوتے ہیں ۔  لیکن باقی کے لوگ صرف روٹی کپڑا اور مکان  آسائش اور خوش وقتی کے طلبگار ہوتے ہیں ۔  ان کے بھانویں کوئی مرے کوئی جیے ان کا پیالہ پر رہنا چاہیے ۔  ان کا وقت اچھا گزرنا چاہیے ۔  اور ان کی آسائشوں میں اضافہ ہوتے رہنا چاہیے 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 198

تصورِ خدا

عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ انسان خدا کے تصور کو شعوری طور پرٹھیک طرح سے سمجھ لے ایسا نہ ہوا تو  کوئی اور شے خدا بن کر اپنی پوجا کروانے لگے گی ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 543

اظہارِ علم

لیکن جب کسی آدمی سے علم کے اظہار کو کہا جاتا ہے اور سننے والے نیم دائرے کی شکل میں اس کے سامنے بیٹھ کر علم کی بھیک  مانگنے کو جھولیاں پھیلاتے ہیں ،  تو پھر علم والے سے رہا نہیں جاتا ۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر اظہار کرتا ہے اور پھر کرتا ہی چلا جاتا ہے ۔  کئی مرتبہ یوں بھی ہوا کہ سننے والے اٹھ کر چلے گئے ،   اپنی بیزاری کا اظہار بھی کر گئے لیکن کہنے والا کہتا چلا گیا ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ  شراب کا نشہ چھوٹ جاتا ہے ، ہیروئن کی لت ختم ہو جاتی ہے ۔  چور چوری چھوڑ دیتا ہے ۔ لیکن سنانے والا سنانے سے نہیں رک سکتا ۔  منبر پر ہو ، مشاعرے میں ہو ، اسمبلی میں گھس جائے سلامتی کونسل میں پہنچ جائے  بولنے والا بولے گا اور دبا کے بولے گا ۔  اپنی دانش کا اظہار کرنے والا نہ کبھی تھکتا ہے نہ ہانپتا ہے ، نہ اس کو اونگھ آتی ہے  ، نہ اس کی آواز گرتی ہے  ، نہ تھکاوٹ کے آثار نظر آتے ہیں ۔  بس کہے چلا جاتا ہے ، بتائے جاتا ہے ، بولے جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 20

ادلے کا بدلہ

ایک شخص جو اپنے بوڑھے باپ سے بڑا تنگ تھا  ، ایک دن اسے کمر پر لاد کر اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے اور چلتے چلتے وہ دونوں دریا پر پہنچ جاتے ہیں ۔  وہ شخص پانی میں اترتا ہے اور گہرے پانی میں جانے لگتا ہے ۔  اور ایک مقام پر اس کا  بوڑھا باپ اپنے بیٹے سے پوچھتا ہے کہ   " بیٹا کیا کر رہے ہو " ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیری روز روز کی بڑ بڑ سے تنگ آ کر تجھے دریا برد کرنے آیا ہوں ۔  (یا ہو سکتا ہے اس نے اپنے باپ کو کوئی اور جواب دیا ہو ) اور سوچ رہا ہوں کہ تجھے ذرا گہرے پانی میں پھینکوں  تا کہ تو جلدی ڈوب جائے  تو اس کا بوڑھا باپ جواب دیتا ہے  " بیٹا جس جگہ تو مجھے پھینک رہا ہے یہاں نہ پھینکنا بلکہ  ذرا اور آگے اور گہرے پانی میں پھینکنا " ۔ بیٹا پوچھتا ہے کہ " کیوں ، یہاں کیوں نہ پھینکوں "۔ اس کا باپ کہتا ہے کہ " اس جگہ میں نے تیرے دادا اور اپنے باپ کو پھینکا تھا " ۔ یہ سن کر اس کا بیٹا اپنے باپ کو واپس گھر لے آتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ جب وہ بوڑھا ہوگا تو اس کی منزل اس سے بھی گہرا پانی ہوگا ، جہاں وہ اپنے باپ کو پھینکنے والا تھا ۔ ادلے کا بدلہ تو ہونا …

رکاوٹ

مایوسی کو اپنے وجود میں کوئی مقام نہیں دینا چاہئیے ۔ ہم یقیناً  کامیاب ہو سکتے ہیں اور حالات پر فتح حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہماری پوشیدہ قوت ہماری ظاہری کمزوری سے کہیں زیادہ ہے ۔ صرف ہمیں اس کا احساس نہیں ہے ۔ جلدی سے متاثر ہو جانا زندگی کی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ ایک آزاد اور کھلا ذہن نہ تو اخباری سرخیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی ان سے مجروح ہوتا ہے ۔ ایک ظالم اور خوفناک چہرہ ، منصوبے میں اچانک تبدیلی   ، کوئی نقصان یا دھمکی دینے والا معاشرہ یہ سب بند ذہنوں پر کار گر ہوتے ہیں ۔  عمل میں رکنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان عوامی اعلان کے فریب اور واہموں کو حقیقت سمجھ لیتا ہے ۔ سچ وہ ہے جو "  ہے " وہ نہیں جو کروڑوں عوام  سوچتے ہیں کہ یہ سچ ہے ۔  ۔ ۔ ۔ ۔  الفاظ  اور لیبل اور سلوگن اڑچنیں ضرور نظر آتے ہیں  لیکن وہ بہت ہی کمزور ہوتے ہیں ۔  اپنی ذات سے لیبلوں کو کھرچ کر پرے پھینکو پھر تم آزاد ہو ۔ 
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 527 

طالبِ خدا

حضرت موسیٰ علیہ السلام  نے جناب باری میں عرض کیا کہ تیری بارگاہ میں میرا کونسا فعل پسندیدہ ہے تا کہ اسے میں  زیادہ کروں اور بار بار کروں ۔  حکم ہوا کہ یہ فعل ہمیں پسند آیا ہے کہ  زمانہ طفلی میں جب تمہاری ماں تم کو مارا کرتی تھی تو تم مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑتے تھے اور اسی کی جھولی میں گھستے تھے ۔ پس طالبِ خدا کو بھی یہی لازم ہے کہ گو کیسی بھی سختی ہو ، کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے ، ہر حال میں خدا کی طرف متوجہ رہے اور اس کے فضل کا طلبگار رہے ۔  نہ کوئی ساجد نہ مسجود ، نہ عابد نہ معبود ۔  نہ آدم نہ ابلیس۔  صرف ایک ذات قدیم  ، صفات رنگا رنگ میں جلوہ گر ہے ۔  نہ اس کی ابتدا نہ انتہا ، نہ اس کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا ۔ نہ فہم و  قیاس میں آئے ، نہ وہم و گمان میں سمائے ۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے ۔ اور جیسا ہے ویسا ہی رہیگا ۔ نہ گھٹے نہ بڑہے نہ اترے نہ چڑہے ۔ وہ ایک ہے ۔  لیکن ایک بھی نہیں ، کیونکہ اس کو موجودات سے الگ سمجھنا نادانی اور حد رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگ اشعال موجود ہیں ۔ ایسے ہی خدا جوئی اور خدا شناسی بھی ایک دھندہ ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ۔

اشفا…

خیال

ایک آدمی اپنی خوراک پر توجہ دیتا ہے ، کپڑوں پر دیتا ہے  ۔ میک اپ پر دیتا ہے ۔ لیکن اپنے خیالات کے بارے میں کبھی نہیں سوچتا ۔ نہ ہی ان پر کوئی توجہ دیتا ہے ۔ اور یہ خیالات ہی ہیں جو اچھے کپڑے پہننے اور اچھا کھانا کھانے کے باوصف ہم کو بیچین رکھتے ہیں ۔ ہم کو بیزار رکھتے ہیں ۔ ہمیں کنٹرول کرتے ہیں ۔ انہیں کے مطابق ہم اپنا رویہ طے کرتے ہیں ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 567

دیوار

ایک بار کسی نے شیخ اکبر سے درخواست کی کہ  حضور کچھ ایسا کر دیجیے کہ قلب میں گناہ کا خیال ہی نہ آئے ۔   تو آپ نے فرمایا کہ  دیوار ہونا کس کام کا ۔  یہ بیچاری دیوار کھڑی ہے ، برسوں ہو گئے  ، چوری یہ نہیں کرتی ، زنا اس نے نہیں کیا ،  حق اس نے کسی کا مارا نہیں مگر ثواب اس کو کوئی نہیں مل سکا ۔ ویسے کی ویسی ہی کھڑی ہے ۔  انسان کا کمال تو یہی ہے کہ قلب میں گناہ کا تقاضا پیدا ہو  اور گناہ نہ کرے ۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ  بعض اوقات تو رہا نہیں جاتا اور گناہ ہو ہی جاتا ہے ۔ فرمایا خیر اگر گناہ ہو ہی جائے  تو توبہ کر لے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 613

موٹر اور بھاگتی ہوئی پل

میں ایک مرتبہ لاہور سے قصور جا رہا تھا تو  ایک پلی پر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور اس پلی کو  ڈنڈے سے بجا رہا تھا اور آسمان کو دیکھنے میں محو تھا ۔  مجھے بحیثیت استاد کے اس پر بڑا غصہ آیا کہ دیکھو وقت ضائع کر رہا ہے اس کو تو پڑھنا چاہیے  خیر میں وہاں سے گذر گیا ۔ تھوڑی دور آگے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ جو فائلیں اور کاغذات میرے ہمراہ ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں  لہٰذا مجھے لوٹ کر دفتر جانا پڑا ۔  میں واپس لوٹا  تو لڑکا پھر ڈنڈا بجا رہا تھا ۔ مجھے اس پر اور غصہ آیا ۔  جب میں کاغذات لے کر واپس آرہا تھا تب بھی اس لڑکے کی کیفیت ویسی ہی تھی ۔  میں نے وہاں گاڑی روک دی اور کہا  یار دیکھو تم یہاں بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہو  ، تمہاری عمر کتنی ہے ۔  اس نے کہا تیرہ یا چودہ سال ہے ۔ میں نے کہا تمہیں پڑھنا چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں پڑھنا نہیں جانتا ۔  تب میں نے کہا تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو ۔ میرے خیال میں فضول میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کر رہے ہو ، تمہیں شرم آنی چاہیے ۔ وہ کہنے لگا جی میں تو یہاں بیٹھا بڑا کام کر رہا ہوں  میں نے کہا آپ کیا کام کر رہے ہہیں ۔ کہنے لگا جی میں چڑی کو دیکھ رہا ہوں یہ و…