نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دیوار

ایک بار کسی نے شیخ اکبر سے درخواست کی کہ  حضور کچھ ایسا کر دیجیے کہ قلب میں گناہ کا خیال ہی نہ آئے ۔  
تو آپ نے فرمایا کہ  دیوار ہونا کس کام کا ۔  یہ بیچاری دیوار کھڑی ہے ، برسوں ہو گئے  ، چوری یہ نہیں کرتی ، زنا اس نے نہیں کیا ،  حق اس نے کسی کا مارا نہیں مگر ثواب اس کو کوئی نہیں مل سکا ۔ ویسے کی ویسی ہی کھڑی ہے ۔ 
انسان کا کمال تو یہی ہے کہ قلب میں گناہ کا تقاضا پیدا ہو  اور گناہ نہ کرے ۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ  بعض اوقات تو رہا نہیں جاتا اور گناہ ہو ہی جاتا ہے ۔ فرمایا خیر اگر گناہ ہو ہی جائے  تو توبہ کر لے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 613