نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

December, 2012 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سچ

کچھ لوگ ہر وقت اور ہر گھڑی سچ بولنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سچ کو ریزگاری کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں، ایسے لوگ لپاٹئے ہوتے ہیں ۔ سچ تو ایک بہت ہی بڑا دَھن ہے ۔ چھپا کر رکھنے والا ۔ یہ دولت تو سینت کر رکھی جاتی ہے ۔ اور اشد ضرورت کے وقت استعمال میں لائی جاتی ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا 602

صاحبِ حال

ہر شخص کو آج کے اندر داخل ہونے کی دعوت ہے ۔ ہم سب حال کے اندر بیٹھے مزے لے رہے ہیں ۔ نہ ماضی کی یاد ہے نہ مستقبل کا خوف ۔ آج کے اندر رہنا اور آج میں داخل ہونا صاحبِ حال ہونا ہے ۔ ماضی مستقبل کو چھوڑ کا عطا کردہ حال میں رہنا ۔ کچھ لوگ مستقبل کے بارے  میں فکر کر کے اپنے حال کو تباہ کر لیتے ہیں ۔ کچھ ماضی کو یاد کر کے حال سے لطف اندوز نہیں ہوتے ۔ پھر چند سال بعد اسی گذرے حال کو کو یاد کرنے لگ جاتے ہیں  ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 539

گھوڑا

بابا جی نے پوچھا  " ایک تیز رفتار گھوڑا ایک سست رفتار گھوڑے سے دس گنا اچھا کیوں ہوتا ہے "۔  وہ اس لیے سرکار چھوٹے صوفی نے کہا  " اس کی رفتار سست رو گھوڑے سے دس گنی ہوتی ہے " ۔ شاباش ! لیکن اگر وہ اپنی راہ سے بھٹک جائے تو پھر وہ دس گنا تیزی سے بد راہ پر بھی نکل جاتا ہے ۔ بابا جی نے کہا۔   ہاں جی یہ تو ہے سرکار  ۔  لیکن ایک بات نہ بھولنا بچہ کہ جب اس تیز رفتار راہوار کو یہ معلوم ہو گیا کہ وہ غلط رستے پر آگیا ہے تو پھر وہ دس گنا تیزی سے سر پٹ بھاگ کر صحیح منزل کی طرف بھی نکل جائے گا ۔ یہی حال انسان کا ہے ۔ جب ایک پاک دل انسان نادم ہوتا ہے اور اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے تو تو اپنی منزل اس تیزی سے دوبارہ حاصل کر لیتا ہے ۔ لیکن سست رو آدمی سے یوں نہیں ہوتا ۔  جو پاک کا ساتھ دیتا ہے وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 402

صفائی

ہم اپنے گھروں کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ کھڑے ہو کر صفائی کراتے ہیں ۔ کونے کھدرے کرید کرید کر صاف کرواتے ہیں ۔ الماریاں ، ڈبے ، درزیں ، میزیں سب کو جھاڑا تھرکایا جاتا ہے ۔  عین اسی طرح ہم کو اپنے وجود کی صفائی بھی کرنی چاہیے ۔ اس کو کسی دوسرے سے صاف نہیں کرایا جا سکتا ۔ اسے خود ہی جھاڑو دے کر صاف کیا جاتا ہے ۔ اندر کئی ڈبے ایسے ہیں جو ہم نے کبھی کھولے  ہی نہیں ۔ کچھ گمان ایسے ہیں جن کو ویسے کا ویسا ہی بند کر رکھا ہے ۔ ان بند ڈبوں اور گمانوں اور بد گمانیوں کے اندر عجب طرح کی بدبو پیدا ہو گئی ہے ۔ پھر کچھ بولے ہوئے جھوٹوں کے خالی لفافے اور شیشیاں ہیں ۔ ان سے عجیب طرح کی ہمک آرہی ہے ۔ سینے کے بڑے صندوق میں کچھ نفرتیں ہیں جن میں اب پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ ان کا صفایا کرنا یوں مشکل ہے کہ ان میں ٹڈیاں ، جھینگر ، اور پسو پیدا ہو گئے ہیں ۔ اگر آپ یہاں دوائی پمپ کریں گے تو وہ شخصیتیں بھی کیڑے مکوڑوں کے ساتھ مر جائیں گی جن کو آپ نے نفرت کے لیے پالا ہوا ہے ۔ اس لیے بڑا صندوق اوندھا مار کر اسے زور سے تھپتھپانا پڑے گا ۔ پھر اپنی یادوں کی تہیں لگا کر اندر کپڑا پھیر کر صفائی کرنی…

خدمت

لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا ، اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ، اور آپ کی ضرورتیں بھی رُک جائیں گی ۔  صرف منہ سے بات کر کے لوگوں  کی خدمت نہیں ہوتی اس میں عمل بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے ، عملی زندگی بسر کرتے تھے ۔  امام غزالی پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے  لوگوں سے ملے جلے ۔ شیخ اکبر ابنِ عربی ، فرید الدین عطار،رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی ، حضرت بختیار کاکی یہ سب لوگوں کے کام کرتے تھے۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی اور یہ سب لوگ اس سنت پر ہی عمل کر کے آگے بڑھ سکتے تھے ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 401

سیپیاں

انسانی ذہن ہمیشہ بطخ کی طرح تیرتا ہے ۔ نیچے اتھاہ گہرائیوں میں جو سیپیاں موتی ہوتے ہیں ، بطخ کو ان کو علم ہی نہیں ہو پاتا ۔
بانو قدسیہ مردِ ابریشم صفحہ 11

معاشرہ

برِ صغیر میں عموماً چار خوبیاں یکجا ہوں تو راوی چَین ہی چَین لکھتا ہے ۔ ورنہ اپنا آپ منوانے کے لیے تقابل کے بیلنے میں اپنی بانہ ڈال کرمحنت کا رس نکلوانا پڑتا ہے ۔   اگر انسان امیر ہو ، انگریزی کے لہجے پر عبور ہو ، گورا چٹا خوبصورت ، اور اونچی ذات والا کہلوائے تو ان چار خوبیوں کے باعث  ہمارے معاشرے میں وہ اڑتا سانپ بن سکتا ہے ۔ اگر دو ایک کوائف کم ہوں تو گھٹتی لڑتا ہے ۔ اور اپنے  آئی  کیو اور محنت کا سہارا لے کر سیلف میڈ آدمی بن جاتا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ایک مدت سے یہ چار تعویذ کام آتے رہے ہیں۔  جس شخص کے پاس ان کی کمی ہو ہمارے معاشرے میں اس کی عزت بحال نہیں ہو سکتی ۔ فقط متّقی ، پرہیزگار ، بے ضرر انسان ہو تو ہمارے معاشرے میں لوگ اسے ایویں کہویں ہی سمجھیں گے ۔ 
بانو قدسیہ  مردِ ابریشم صفحہ 35

امتحان

برداشت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہم اکثریت میں ہوتے ہیں ۔  اور جرئت کا اس وقت جب ہم اقلیت  میں ہوتے ہیں ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 399

موتیا

جب آپ نا خوش ہوتے ہیں ، ناراض اور ناساز ہوتے ہیں ۔ تو ہر شے دھندلی ہو جاتی ہے ۔ نہ باہر کا حسن نطر آتا ہے نہ اندر کا ۔ آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں ، خوشبوئیں ماند ہو جاتی ہیں ۔ بھوک ختم ہو جاتی ہے ۔ لمس ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ انسان اپنے آپ میں نہیں رہتا اور کا اور ہو جاتا ہے ۔  تم کو پتہ نہیں چلتا کہ خوف اور اکلاپا آپ کی ذات کے اندر آپ کی روح کو کیسے پژمردہ کر دیتے ہیں ۔ اور اس کی بصیرت پر موتیا اتر آتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 519

تضاد

کئی مرتبہ زندگی میں اور زندگی سے زیادہ ایمان کے اندر تضاد نظر آتا ہے ۔۔۔۔ یاد رکھو ایمان ہے ، سائنس نہیں  ۔ ایمان ایک موسم میں آگے بڑھتا ہے  ، دوسرے میں پورے کا پورا پیچھے  چلا جاتا ہے ۔ 
ایک وقت میں تم نمازیں پڑھتے ہو ، عبادت کرتے ہو ، پھر ڈھیلے ہو جاتے ہو ۔  آرام طلبی اختیار کر لیتے ہو ، جھگڑا کرنے لگتے ہو ، منفی ہو جاتے ہو ۔  جس طرح نیگیٹو اور پازیٹو دونوں تاریں مل کر بجلی کا بلب روشن کرتی ہیں ایسے ہی ایمان ہے ۔ اسی طاقت سے رخ موڑے جاتے ہیں ، پہاڑ کاٹے جاتے ہیں ۔ جب تم رکوع میں جاتے ہو ، سجدے میں جاتے ہو  سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہو  اور خدا سے اس علم کی بھیک مانگتے ہو کہ مجھے ایمان کے اندر رہ کر حرکت نصیب ہو تو پھر تمہارے سارے تضاد حق بن جاتے ہیں اور ساری تخریبیں تعمیریں ہو جاتی ہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 524

بڑائی

بڑائی اور برتری کی اپنی اپنی قسمیں ہیں ۔ جب ہم بڑائی کا سوچتے ہیں تو کچھ حاصل کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں۔ جب انبیاء بڑائی  کی سوچتے ہیں تو کچھ عطا کرنے کے حوالے سے سوچتے ہیں ۔ جب میں بڑائی کے حصول کی کوشش کرتا ہوں تو نوکر چاکر ، خدام ادب اور مال و دولت اور محل ماڑی کو حاصل کرنے کی طرف لپکتا ہوں ۔ لیکن جب نبی بڑے ہونے کا اظہار کرتے ہیں تو فرماتے ہیں ! پیاری بیٹی تو نے نوکر چاکر ، غلام اور لونڈی لے کر کیا کرنا ہے ، میں تمہیں ایک ایسا وظیفہ نہ بتا دوں جو تمہیں ہر مشکل پہ آسانیاں عطا کرتا رہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 491

چابی

خیرا گلی میں میرا ایک چھوٹا سا گھر تھا ۔ اس کے دو کمرے تھے ۔ ہم کبھی کبھی وہاں جاتے تھے ۔ جب کبھی وہاں جاتے تو آتے وقت اس کی دیکھ بھال غلام قادر کو سونپ دیتے ۔ وہ وہاں ڈاکخانے میں ملازم بھی تھا ۔ میری بیوی نے چابیاں دیتے ہوئے اسے کہا کہ " غلام قادر سردیاں آنے سے پہلے یا سردیاں آنے کے بعد چیزیں گھر سے باہر نکال کر انہیں دھوپ لگا لینا " ۔ اس نے کہا کہ " بہت اچھا جی "۔  غلام قادر نے وہ چابی لے کر ایک دوسری چابی بانو قدسیہ کو دی تو اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا کہ یہ جی میرے گھر کی چابی ہے جب آپ نے اپنے گھر کی چابی مجھے دی ہے تو میرا فرض بنتا ہے میں اپنے گھر کی چابی آپ کو دے دوں ۔ کوئی فرق نہ رہے ۔ آپ مجھ پر اعتماد کریں اور میں نہ کروں یہ کیسے ممکن ہے۔ میری بیوی اس کی بات سن کر حیران رہ گئی ۔  خواتین و حضرات ! یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اللہ نے ایسی عزت عطا کی ہوتی ہے کہ وہ عزت سے محروم نہیں ہوتے اور کہیں سے چھینا جھپٹی کر کے اکٹھی نہیں کرتے ۔

اشفاق احمد زاویہ 2 چیلسی کے با عزت ماجھے گامے  صفحہ 197

دعا قلندری

دعا قلندری یہ ہے ! یا اللہ شیطان اور شرارت سے محفوظ رکھیو ۔ رحمت سے محروم نہ رکھیو ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 631

رضا و تسلیم

انسان کو چاہیے کہ خود کو مستقل نہ سمجھے بلکہ یہ خیال کرے کہ میں دیارِ غیر میں ہوں ۔ اور یہ بھی بات دل میں نہ لائے کہ فلاں حالت میں ہوتا تو بہتر تھا ۔ اس  کے بر عکس رضا و تسلیم اختیار کرنا چاہیے ۔  ورنہ پریشانی بڑھتی ہے ۔
جیسے  بیل بندھا ہوا ہو ، وہ اپنے آپ کو جس قدر کھینچے گا اور زور لگائے گا ، گلا اور پھنسے گا ۔  اور جس قدر کھونٹے کے قریب ہوگا ، راحت پائے گا ۔ انسان کو بھی یہی خیال کرنا چاہیے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 609

اٹھ فریدا ستیا

ہمارے ایک دوست تھے ۔ بہت بڑے طبیب اور بہت بڑے طبیب خانوادے کر فرزند ۔ شاعر بھی تھے اور جوہر شناس بھی ۔ باتیں بہت خوبصورت کرتے تھے ۔ ان میں تجربہ بھی ہوتا اور مطالعہ بھی ۔ منطق بھی اور لوک دانش بھی ۔ ان کا نام جمال سویدا تھا اور میں اکثر ان کی محفل میں شریک ہوتا تھا ۔  چونکہ وہ ایک بڑے جوہری تھے اور ہیروں کے اندر باہر ، ذات اور صفات کا علم رکھتے تھے ۔ اور ان کے مزاج اور اثرات سے واقف تھے ۔ اس لیے ان کی باتیں سن کر اور بھی حیرانی ہوتی ۔  جمال سویدا صاحب نے بتایا کہ اگر بڑے ہیروں کے ساتھ چھوٹے اور کم قیمت ہیروں کو ایک مخصوص تھیلی میں ڈال کر رکھا جائے تو کم قیمت اور چھوٹے ہیروں میں بھی بڑے ہیروں جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ جن کے اندر کوئی رنگ نہیں ہوتا ان میں بڑے ہیروں کی رنگت کا بھی مستقل چلن پیدا ہو جاتا ہے ۔  ہمارے گاؤں میں ایک اندھا فقیر صبح سویرے ایک صدا لگاتا ہوا گذرا کرتا تھا ۔ " اٹھ فریدا ستیا تے  اٹھ کے باہر جا ، جے کوئی بخشیا مل گیا تے توں وی بخشیا جا " ۔  مجھے اس وقت اس کی بات بڑی بے معنی لگتی تھی ، لیکن جمال سویدا کی گفتگو کی بعد اور ہیروں کی آپس میں صحبت کے بعد یہ…

دیا

انسان کا وجود مٹی کا دیا ہے ، اس میں مٹی بھی ہے اور روشنی بھی ۔ اگر توجہ صرف مٹی پر رہیگی تو زندگی بیکار ہو جائیگی ۔ لازم ہے کہ روشنی پر بھی توجہ رہے ۔ جونہی روشنی کی طرف توجہ ہو گی سب کچھ عیاں ہو جائےگا ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 585

کشادہ دل

ایک بات یاد رکھو امیر ہونا کوئی گناہ نہیں ہے ۔ بالکل نہیں ، ہر گز نہیں ، البتہ کشادہ دل اور فیاض نہ ہونا گناہ ضرور ہے ۔  اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 544

حیوان

انسان کیا ہے ؟ دیکھنے کو تو دوسرے جانوروں جیسا ایک جانور ہے لیکن اس کو ذہن اور شعور کی دولت عطا ہوئی ہے اور اس دولت نے اسے جانوروں سے الگ کر دیا ہے ۔  اب اس کو سچ ، حق ، جمال ، اور خوب کا سامنا ہوتا ہے ۔ اس کا شعور ان کا سامنا کرتا ہے اور اپناتا ہے ۔ وہ اخلاق  کا اور اخلاقی اصولوں کا پابند ہو جاتا ہے اور جب تک انسان ان چیزوں کا پابند ہے، وہ انسان ہے ۔ اور جب ان سے باہر نکل جاتا ہے تو پھر حیوان ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ  543