نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اٹھ فریدا ستیا

ہمارے ایک دوست تھے ۔ بہت بڑے طبیب اور بہت بڑے طبیب خانوادے کر فرزند ۔ شاعر بھی تھے اور جوہر شناس بھی ۔ باتیں بہت خوبصورت کرتے تھے ۔ ان میں تجربہ بھی ہوتا اور مطالعہ بھی ۔ منطق بھی اور لوک دانش بھی ۔ ان کا نام جمال سویدا تھا اور میں اکثر ان کی محفل میں شریک ہوتا تھا ۔ 
چونکہ وہ ایک بڑے جوہری تھے اور ہیروں کے اندر باہر ، ذات اور صفات کا علم رکھتے تھے ۔ اور ان کے مزاج اور اثرات سے واقف تھے ۔ اس لیے ان کی باتیں سن کر اور بھی حیرانی ہوتی ۔ 
جمال سویدا صاحب نے بتایا کہ اگر بڑے ہیروں کے ساتھ چھوٹے اور کم قیمت ہیروں کو ایک مخصوص تھیلی میں ڈال کر رکھا جائے تو کم قیمت اور چھوٹے ہیروں میں بھی بڑے ہیروں جیسی صفات پیدا ہو جاتی ہیں ۔ جن کے اندر کوئی رنگ نہیں ہوتا ان میں بڑے ہیروں کی رنگت کا بھی مستقل چلن پیدا ہو جاتا ہے ۔ 
ہمارے گاؤں میں ایک اندھا فقیر صبح سویرے ایک صدا لگاتا ہوا گذرا کرتا تھا ۔ " اٹھ فریدا ستیا تے  اٹھ کے باہر جا ، جے کوئی بخشیا مل گیا تے توں وی بخشیا جا " ۔ 
مجھے اس وقت اس کی بات بڑی بے معنی لگتی تھی ، لیکن جمال سویدا کی گفتگو کی بعد اور ہیروں کی آپس میں صحبت کے بعد یہ راز کھلا کہ قربت انسان کو کس طرح بدل دیتی ہے ۔

اشفاق احمد ذاویہ 3  اٹھ فریدا ستیا تے صفحہ 283 

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15