نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ٹیچر ان دی کورٹ

اگر آپ کو روم جانے کا اتفاق ہوا ہو  تو " پالاس آف دی جستی "  (پیلس آف دی جسٹس) وہ رومن زمانے کا  بہت بڑا وسیع و عریض ہے اسے تلاش کرتے کرتے ہم اپنے جج صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہ وہاں تشریف فرما تھے ۔ مجھے ترتیب کے ساتھ بلایا گیا تو میں چلا گیا ۔ اب بالکل میرے بدن میں روح نہیں ہے ، اور میں خوفزدہ ہوں ، اور کانپنے کی بھی مجھ میں جرئت نہیں ۔ اس لیے کہ تشنج جیسے کیفیت ہو گئی تھی ۔ انہوں نے حکم دیا ، آپ کھڑے ہوں اس کٹہرے کے اندر ۔ اب عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا چالان ہوا تھا ، اور آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ یہ بارہ آنے ڈاک خانے میں جمع کروائیں ، کیوں نہیں کروائے ؟ میں نے کہا جی ، مجھ سے کوتاہی ہوئی ، مجھے کروانے چاہیے تھے ، لیکن میں ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا ، کتنا وقت عملے کا ضائع ہوا ۔ کتنا پولیس کا ہوا ، اب کتنا " جستیک کا " ( جسٹس عدالت کا ہو رہا ہے ) اور آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا ۔ ہم اس  کے بارے میں آپ کو کڑی سزا دیں گے ۔ میں نے کہا ِ میں یہاں پر ایک فارینر ہوں ۔ پردیسی ہوں ۔ جیسا ہمارا  بہانہ ہوتا ہے ، میں کچھ زیادہ آداب نہیں سمجھتا ۔ قانون سے میں واقف نہیں ہوں تو میرے پر مہربانی فرمائیں۔ انہوں نے کہا ، آپ زبان تو ٹھیک ٹھاک بولتے ہیں ۔ وضاحت کر رہے ہیں ۔ آپ کیا کرتےہیں ۔ تو میں چپ کر کے کھڑا رہا ۔
پھر انہوں نے پوچھا کہ عدالت آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ کون ہیں اور آپ کا کیا پیشہ ہے ؟  میں نے کہا، میں ایک ٹیچر ہوں ۔پروفیسر ہوں ۔ روم یونیورسٹی میں ۔  تو وہ جج صاحب کرسی کو سائیڈ پر کر کے کھڑا ہوگیا اور اس نے اعلان کیا کہ " ٹیچران دی کورٹ ۔ ٹیچر ان دی کورٹ " جیسے اعلان کیا جاتا ہے اور وہ سارے اٹھ کر کھڑے ہو گئے ، منشی ، تھانیدار ، عمل دار  جتنے بھی تھے اور اس نے حکم دیا کہ  " چیئر شڈ بی براٹ فار دی ٹیچر ۔ اے ٹیچر ہیز کم ٹو دی کورٹ "۔
اب وہ کٹہرا چھوٹا سا ، میں اس کو پکڑ کر کھڑا ہوں ۔  وہ کرسی لے آئے ۔  حکم ہوا کہ تو ٹیچر ہے ، کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ تو پھر اس نے ایک بانی پڑھنی شروع کی ۔ 
جج نے کہا ، اے معزز استاد !  اے دنیا کو علم عطا کرنے والے استاد ! اے محترم ترین انسان ! اے محترمِ انسانیت ! آپ نے ہی ہم کو عدالت کا ، اور عدل کا حکم دیا ہے ، اور آپ ہی نے ہم کو یہ علم پڑھایا ہے ، اور آپ ہی کی بدولت ہم اس جگہ پر براجمان ہیں ۔ اس لیے ہم آپ کے فرمان کے مطابق مجبور ہیں ۔ عدالت نے جو ضابطہ قائم کیا ہے ، اس کے تحت آپ کو چیک کریں ، باوجود اس کے کہ ہمیں اس بات پر شرمندگی ہے ، اور ہم بے حدافسردہ ہیں کہ ہم ایک استاد کو ، جس سے محترم ، اور کوئی نہیں ہوتا ، اپنی عدالت میں ٹرائل کر رہے ہیں ۔ اور یہ کسی بھی جج کے لیے انتہائی تکلیف دہ موقع ہے کہ کورٹ میں ، کٹہرے میں ایک استادِ مکرم ہو ، اور اس سے ٹرائل کیا جائے ۔ 
اب میں شرمندہ اپنی جگہ پر ، یا اللہ یہ کیا شروع ہو رہا ہے ۔ میں نے کہا حضور  جو بھی آپ کا قانون ہے ، علم یا جیسے کیسے بھی آپ کا ضابطہ ہے ، اس کے مطابق کریں ، میں حاضر ہوں ۔ تو انہوں نے کہا ِ ہم نہایت شرمندگی کے ساتھ ، اور نہایت دکھ کے ساتھ ، اور گہرے الم کے ساتھ آپ کو ڈبل جرمانہ کرتے ہیں ۔ ڈیڑھ روپیہ ہو گیا۔ 
اب جب میں اٹھ کے اس کرسی میں سے ، اس کٹہرے سے نکل کر شرمندہ ، باہر نکلنے کی کوششیں  کر رہا تھا ، وہ جو جج تھا ، اس کا عملہ تھا ، اس کے منشی تھے ، وہ سارے جناب میرے پیچھے پیچھے ۔ 
ایک ٹیچر جا رہے تھے تو ہم احترامِ فائقہ کے ساتھ آپ کو رخصت کرتے ہیں ۔ میں کہوں ، میری جان چھوڑیں ۔ یہ باہر نکل کر میرے ساتھ کیا کریں گے ۔ آگے تک میری موٹر تک مجھ کو چھوڑ کے آئے۔  جب تک میں وہاں سے روانہ نہیں ہو گیا ، وہ عملہ وہاں پر ایسے ہی کھڑا تھا ۔ 
اب میں لوٹ کے آیا تو میں  سمجھا یا اللہ میں بڑا معزز آدمی ہوں ۔  اور محلے والوں کو بھی آ کر بتایا کہ میں ایسے گیا تھا ، اور وہاں پر یہ  یہ ہوا۔  وہ بھی جناب  اور جو میری لینڈ لیڈی تھی ، وہ بھی بڑی خوشی کے ساتھ محلے میں چوڑی ہو کے گھوم رہی تھی کہ  دیکھو ہمارا یہ ٹیچر گیا ، اور کورٹ نے اتنی عزت کی ۔ 

اشفاق احمد زاویہ  ایک استاد عدالت کے کٹہرے میں صفحہ 45  

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15