نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

یومِ آخرت

انسان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے ۔ اور بے شک وہ خود بھی اس بات کو خوب جانتا ہے ۔ اور بلاشبہ وہ مال سے سخت محبت کرنے والا ہے ۔  کیا نہیں جانتے اس وقت کو جب قبروں سے مردے اٹھائے جائیں گے ۔ اور سینوں کو سب راز ظاہر کر دیے جائیں گے ۔  بے شک ان کا رب اس دن ان کے حال سے خوب واقف ہوگا ۔ 
آخری آیت پر نوجوان سمندر خان نیازی کی آنکھوں سے آنسو جھرنوں کی طرح بہنے لگے ۔ حالانکہ نہ وہ مال سے محبت کرتا تھا نہ اس کے پاس مال تھا ۔ اور نہ ہی اس کے سینے میں کوئی مخفی راز تھا ۔ وہ بس اپنے خدا کی بات سے اور اللہ کے خوف سے روتا تھا ۔ اور اپنی چھوٹی سی سیاہ داڑھی کو آنسوؤں سے بھگوتا تھا ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ39

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین Connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔  اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔ تو اس صورت میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔  اسی لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں اور ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا…

دال میں کالا۔۔۔

اصل میں بات یہ ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ یہاں غلط ہے۔ اس جگہ دال میں کچھ کالا ہے تو آپ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا - اس کے آگے سر جھکا دیا- جب کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اچھا ہے۔ یہ خوب ہے۔ یہ نیکی ہے۔ تو تم رک جاتے ہو - ماننے سے انکار کر دیتے ہو - خاموش ہو جاتے ہو- برائی پر تم کو پورا یقین ہے - سو فیصد اعتماد ہے- شیطان پر اور ابلیس پر پورا یقین ہے - لیکن خدا پر نہیں۔۔۔۔ ایک محاورہ ہے کہ، 'یہ اتنی اچھی بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی'- یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی کہے کہ یہ اتنی بری بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی- بہت بری اور بہت خراب بات کبھی بھی غلط نہیں لگتی - ہمیشہ ٹھیک ہی لگتی ہے- تم نے انسانیت پر اس قدر بے اعتباری شروع کر دی ہے، اس قدر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا ہے کہ اب تم کو انسانوں کی طرف سے اچھی خبر ٹھیک ہی نہیں لگتی۔ اگر کوئی آکرآپ سے یہ کہے کہ فلاں نے معراج انسانیت حاصل کر لی ہے اور جلوہ حقیقی سے روشناس ہو گیا ہے ، تو تم کبھی یقین نہیں کرو گے۔ سنو گے اور کہو گے یہ سب افسانہ ہے- گپ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو جلوہ حقیقی نظر آجائے جب کہ ہم کو کبھی نظر نہیں آیا- جس چیز کا تجرب…

سکون کی تلاش

مجھے معلوم ہے آپ کو مسرت اور سکون کی تلاش ہے لیکن سکون تلاش سے کس طرح مل سکتا ہے - سکون اور آسانی تو صرف ان کو ملتی ہے جو آسانیاں تقسیم کرتے ہیں، جو مسرتیں بکھیرتے پھرتے ہیں  اگر آپ کو سکون کی تلاش ہے تو لوگوں میں سکون تقسیم کرو تمہارے بورے بھرنے لگیں گے۔ طلب بند کردو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ دولت صرف دینے سے بڑھتی ہے- احمقوں کی طرح بکھیرنے پھرنے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
اللہ سائیں کے طریق نرالے ہیں - سکون کے دروازے پر بھکاری کی طرح کبھی نہ جانا ، بادشاہ کی طرح جانا ، جھومتے جھامتے ، دیتے بکھیرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم کو معلوم نہیں کہ بھکاریوں پر ہر دروازہ بند ہو جاتا ہے اور بھکاری کون ہوتا ہے وہ جو مانگے ، جو صدا دے ، جو تقاضا کر ے ، اور شہنشاہ کون ہوتا ہے جو دے عطا کرے ، لٹاتا جائے - پس جس راہ سے بھی گذرو بادشاہوں کی طرح گذرو ، شہنشاہوں کی طرح گذرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیتے جاؤ دیتے جاؤ - غرض و غایت کے بغیر - شرط شرائط کے بغیر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 محبت کی حقیقت صفحہ 242


محبت اور انا؟

محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے۔ انا کی موت مکمل آزادی ہے۔


انا دنیا پر قبضہ جمانے کا پروگرام بناتی ہے۔ یہ موت سے غایت درجہ خوف کھاتی ہے۔ اس لیے زندگی پر پورا پورا قبضہ حاصل کرنے کا پلان وضع کرتی ہے۔ انا دنیاوی اشیاء کے اندر پرورش پاتی ہے اور مزید زندہ رہنے کے لیے روحانی برتری میں نشوونما حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس دنیا کی غلامی اور چاکری کی ڈور انا کے ساتھ بندھی ہے۔ انا خود غلامی ہے، خود محکومی ہے۔ انا کو آزاد کرانا اور اسے غلامی سے نجات دلانا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام تو خود کو انا کی غلامی اور محکومی سے آزاد کرانا ہے۔ یاد رکھئے انا کبھی بھی اپنایت سے، قربانی سے…

ضمیر

قدرت نے انسان کو ایک ایسی بڑی نعمت سے نوازا ہے جسے ہم ضمیر کہتے ہیں ۔ جب بھی ہم سے کوئی اچھائی یا برائی سرزد ہو تو یہ اپنے خصوصی سگنل جاری کرتا ہے ۔ ان سگنلز میں کبھی شرمندگی کا احساس نمایاں ہوتا ہے تو کبھی کبھی ضمیر سے آپ کو "ویری گڈ " کی آواز آتی ہے ۔ آپ کسی یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھتے ہیں یا کسی نابینا کو اپنا ضروری کام چھوڑ کر سڑک پار کرواتے ہیں تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ضمیر نے آپ کو شاباش دی ہے ۔ پیار سے تھپکی دی ہے ۔ انسان خود میں عجیب طرح کی تازگی اور انرجی محسوس کرتا ہے۔ جب ہم اپنے کسی نوکر کو جھڑکیاں دیتے ہیں ، کسی فقیر کو کوستے ہیں یا کوئی بھی ایسا عمل کرتے ہیں جس کی ہمیں ممانعت کی گئی ہے تو یہ ضمیر تنگی محسوس کرتا ہے ۔ ایک ایسا سگنل بھیجتا ہے جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہ کام کچھ درست نہیں ہوا۔