نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

May, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہدف

سوال : کیا دعائیں سنی بھی جاتی ہیں ؟
جواب : اس کا دارومدار تمہارے ایمان پر ہے ۔ جن دعاؤں کو کمزور ایمان کے ساتھ کیا جائےگا وہ منمنی سی ہو کر ادہر ہی رہ جاتی ہیں ۔ جیسے بھٹکی ہوئی آتشبازی چلتی ہے ۔ اور جو دعائیں یقینِ محکم اور کامل ایمان کی ساتھ کی جاتی ہیں وہ سیدھی ساتویں آسمان تک پہنچ کر اپنے ہدف سے جا ٹکراتی ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ522

طاقت آزمائی

میری تائی کہا کرتی تھیں کہ تم لوگوں کی منہ بند نہیں کر سکتے وہ جو چاہیں گے کہیں گے ۔ پھر لوگوں کے ذہنوں پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا صرف اپنے ذہن پر ہوتا ہے اور بے وقوف لوگ اپنے ذہن پر کنٹرول کرنے کے بجائے دوسروں کے ذہنوں پر طاقت آزمائی شروع کر دیتے ہیں
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 514

چرچا

مجھے کسی کے بتانے پر اللہ کا یہ پیغام ضرور مل گیا تھا کہ خدا کہتا ہے " تم میرا ذکر کرو ، میں تمہارا ذکر کروں گا "۔ چنانچہ میں جب تخلیے کے عالم میں ذکر میں مشغول ہوتا تو مجھے صاف پتہ چل جاتا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے میرا ذکر کر رہا ہے ۔ اور میرے بابت کچھ ضروری باتیں کر رہا ہے ۔ اور میرے ذکر کی وجہ سے عرشِ معلیٰ پہ میرا چرچا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 375

علم اور وجدان

سوچ دو طرح کی ہوتی ہے ۔ ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے ۔ اور دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ میں جا کر سوکھتی ہے ۔ ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے ۔ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے ، اس میں چاقو ، چھری ، مقدمہ ، بحث  مباحثے ، کس بل ، حق حقوق، چھینا جھپٹی کرودھ سب ہوتا ہے ۔  دوسرا رہنا سہنا ایک اور طرح کی سوچ سے جنم لیتا ہے اس میں وجدان ، شانتی ، امن ، پرائسچت، پریم کی وجہ سے ہمیشہ ہجرت کا سماں رہتا ہے ۔ اسی وجدان کی وجہ سے ایسی سوچ والے لوگ غریبی میں بھی امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں ۔ 
بانو قدسیہ  راجہ گدھ

میلے ہاتھ

مومن وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میلے اور گندے ہوں اور اس کا دل صاف اور شفاف ہو ۔ اور وہ ہر حال میں اللہ کا تہہ دل سے شکر گذار ہو ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  ناشکری کا عارضی صفحہ15

علم اور شفقت

پرانے زمانے میں جب علم اتنا عام نہیں تھا تو جس بابے کے پاس علم ہوتا تھا تو اس کے پاس شفقت بھی ہوتی تھی۔ محبت بھی ہوتی تھی ، آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی ہوتے تھے ۔ اور اگر جواب نہیں آتا تھا تو اس کے پاس وہ تھپکی ہوتی تھی جس سے سارے دکھ اور درد دور ہو جاتے تھے ۔ لیکن اب اس طرح سے نہیں ہوتا ۔ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس جواز یہ ہے ہم اس علم کو جانتے ہیں جس کی آپ کے بدن کو ضرورت ہے جس علم کی آپ کی روح اور جذبات و احساسات  کو ضرورت ہے وہ ہمارے پاس نہیں ۔
اشفاق احمد  سیلیوٹ تو نان ڈگری ٹیکنالوجسٹس صفحہ212

بھیڑ بکریاں

اگلے زمانے میں سکے کی جگہ بھیڑ بکریاں اور مویشی  دولت کی نشانی تھے ۔ جس کے پاس زیادہ مال ہوتا وہی مالدار کہلاتا تھا ۔ مگر اس میں ایک بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کسی بھی شخص کے ڈھور ڈنگر اور مال مویشی سردار کے مال سے زیادہ نہ ہوں ۔ آج کے دور میں تجارتی ادارے مال مویشی کی جگہ سکے سے کام لیتے ہیں ۔ ادارے کے کارندوں کو اچھے اچھے القاب اور ڈیزگنیشن دی جاتی ہیں ۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ان کو سکوں کی صورت میں زیادہ معاوضہ نہ دیا جائے کیونکہ زیادہ معاوضہ صرف مالکان ادارہ کا حق ہے اور ان کے کوئی کام نہ کرنے کے باوجود ہوتا ہے۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 کارپوریٹ سوسائٹی صفحہ 298

محسن

میں مکھی مارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس لیے مجھے بابا جی کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ اچانک ان کی آواز سنائی دی ۔وہ کہنے لگے ، یہ اللہ نے آپ کے ذوقِ کشتن کے لیے پیدا کی ہے ۔ میں نے کہا جی یہ مکھی گند پھیلاتی ہے اس لیے مار رہا تھا ۔ کہنے لگے یہ انسان کی سب سے بڑی محسن ہے اور تم اسے مار رہے ہو ۔ میں نے کہا جی یہ مکھی کیسے محسن ہے ؟ کہنے لگے ، یہ بغیر کوئی کرایہ لیے بغیر کوئی ٹیکس لیے انسان کو یہ بتانی آتی ہے کہ یہاں پر گند ہے اس کو صاف کر لو تو میں چلی جاؤں گی اور آپ اسے مار رہے ہیں ۔ آپ پہلے جگہ کی صفائی کر کے دیکھیں یہ خودبخود چلی جائی گی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز صفحہ 36

خوشی کا راز

اگر آپ معمولی باتوں کی طرف دھیان دیں گے ، اگر آپ اپنی " کنکری " کو بہت دور تک جھیل میں پھینکیں گے، تو بہت بڑا دائرہ پیدا ہوگا ۔ لیکن آپ کی آرزو یہ ہے کہ آپ کو بنا بنایا بڑا دائرہ کہیں سے مل جائے ۔ اور وہ آپ کی زندگی میں داخل ہو جائے ۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے ۔  قدرت کا ایک قانون ہے جب تک آپ چھوٹی چیزوں پر ، معمولی باتوں پر ، جو آپ کی توجہ میں کبھی نہیں آئیں، اپنے بچے پر ، اپنے بھانجے  پر ، اور اپنے بھتیجے پر آپ جب تک اس کی چھوٹی سی حرکت پر خوش نہیں ہونگے تو آپ کو دنیا کی کوئی چیز یا دولت خوشی عطا نہیں کر سکے گی ۔ روپے ، پیسے سے آپ کوئی کیمرہ خرید لیں ، خواتین کپڑا خرید لیں اور وہ یہ چیزیں خریدتی چلی جاتی ہیں کہ یہ ہمیں خوشی عطا کریں گی ۔ لیکن جب وہ چیز گھر میں آ جاتی ہے تو اس کی قدر و قیمت گھٹنا شروع ہو جاتی ہے ۔
خوشی تو ایسی چڑیا ہے جو آپ کی کوشش کے بغیر آپ کے دامن پر اتر آتی ہے ۔ اس کے لیے آپ نے کوشش بھی نہیں کی ہوتی ۔ تیار بھی نہیں ہوئے ہوتے ، لیکن وہ آجاتی ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز صفحہ 36

خدا کی صفات

طاقت، فراوانی ، عظمت اور شان و شوکت خدا کی صفات ہیں ۔ بندے کو ان کے حصول کی تمنا نہیں کرنی چاہییے ۔ اشفاق احمد زاویہ 3 روح کی سرگوشی  صفحہ 306

معاشرتی بگاڑ

جو قومیں تباہ و برباد ہوئیں وہ متکبر تھیں ۔ اپنی اچھائیوں پر بھی اتراتی تھیں اور برائیوں پر بھی فخر کرتی تھیں ۔ خدا کی نعمتوں کو اپنی محنت کا صلہ قرار دیتی تھیں ۔ یہ بات کرنے کا مقصد کسی کو ڈرانا مقصود نہیں بلکہ آپ کو ، اپنے آپ کو تنبیہ کرنا مقصد ہے ۔  آپ نہ صرف اللہ کی مہربانیوں کا شکر ادا کیا کریں بلکہ جو کوئی آپ پر احسان کرے اس کا شکریہ ادا کریں ۔ اس سے معاشرے کی کئی بگاڑ ختم ہو سکتے ہیں ۔  
اشفاق احمد زاویہ 3  ناشکری کا عارضہ  صفحہ 14

عقیدے کے پھول

سب سے زیادہ بد بو دل کے ارد گرد کے درازوں میں ہوتی ہے ۔ ان درازوں میں ہم اپنے عقیدے کے پھول اور گلدستے سجاتے ہیں ۔ اور ان کو بند کر کے رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ سوکھنے سڑنے اور گلنے والے گلدستے ایسی خوفناک بو دیتے ہیں کہ اگر ان کو نکال کر انہیں صاف کر کے دھو کر کے نہ رکھا جائے تو اس بدبو کے آگے کوئی ٹھہر نہیں سکتا ۔  عقیدے کے پھول اور گلدستے ماننے کی شبنم سے تر و تازہ رہتے ہیں ۔ اور کرنے کی ہوا سے نشو نما پاتے ہیں ۔ اگر ایسا نہیں ہوگا  تو بہت جلد گل سڑ کر سارے وجود کو بدبو دار بنا دیتے ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 512

پھل

میرا پوتا کہتا ہے کہ " دادا! ہو سکتا ہے درخت ہماری طرح ہی روتا ہو ، کیونکہ اس کی باتیں اخبار نہیں چھاپتا " ۔ میں نے کہا کہ وہ پریشان نہیں ہوتا نہ ہی روتا ہے ، وہ خوش ہے اور ہوا میں جھومتا ہے ۔ کہنے لگا کہ آپ کو کیسے پتہ کہ وہ خوش ہے ؟ میں نے کہا کہ وہ خوش ایسے ہے کہ ہم کو باقاعدگی سے پھل دیتا ہے ۔ جو ناراض ہوگا تو وہ پھل نہیں دے گا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ 44

بڑا آدمی

نیک شریف، انصاف پسند اور با اخلاق بڑا آدمی  کسی کام کا نہیں ہوتا ۔ اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا ۔ مسجد کے مولوی ، اسٹیج کے اسپیکر اور اخلاقیات کے پروفیسر  بھی اس کی دوستی کے خواہشمند نہیں ہوتے ۔ وہ اکیلا ہی اس دنیا میں آتا ہے اور اکیلا ہی چلا جاتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 271

دروازہ

دروازہ اس لیے بند نہیں کرایا جاتا کہ ٹھنڈی ہوا نہ آجائے ۔ یا دروازہ کھلا رہ گیا تو کوئی جانور اندر آجائے گا ۔ بلکہ اس کا فلسفہ بالکل مختلف ہے اور وہ یہ کہ اپنا دروازہ ، اپنا وجود ماضی کے اوپر بند کر دو۔ آپ ماضی سے نکل آئے ہیں اور اس جگہ حال میں داخل ہو گئے ہیں ۔ ماضی سے ہر قسم کا تعلق کاٹ دو ، بھول جاؤ کہ تم نے ماضی کیسا گذارا ہے ۔ اب تم ایک نئے مستقبل میں داخل ہو گئے ہو ۔ ایک نیا دروازہ تمہارے آگے کھلنے والا ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2 ماضی کا البم صفحہ39

ساحل

زندگی ساحل کی سیر ہے ۔   کچھ لوگ گھونگھے چننے کی آرزو میں ساحل پہ جاتے ہیں ، اور صبح کے وقت عین آفتاب نکلنے سے پہلے انہیں سوئی ہوئی ریت پہ ہر طرف موتی بکھرے ہوئے ملتے ہیں ۔   کچھ لوگ موتیوں کی تلاش میں جاتے ہیں کئی بار وہ اسکن ڈرائیورز کی طرح کئی کئی فیتھم نیچے جاتے ہیں اور ہر سیپی خالی نکلتی ہے ۔ زندگی اور سمندر بڑے پر اسرار ہیں ، وہ انسان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہیں ۔
بانو قدسیہ پیا نام کا دیا صفحہ 21  بشکریہ : اینجل فاری

آرزو

بابا جی یہ آپ کے بیٹے صاحب شکوہ کناں ہیں کہ آپ انہیں وہ مراعات نہیں دیتے جو دی جانی چاہئیں ۔ اس پر بابا جی کہنے لگے میری آرزو ہے  کہ اسے انسان کی مدد اور سہارے کی عادت نہ رہے اور یہ بلا واسطہ طور پر خدا سے مدد طلب کرے اگر یہ انسان سے کوئی آرزو وابستہ کرے گا تو یہ خدا سے اتنا ہی دور ہوتا چلا جائے گا ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 پتنگ باز سجناں  صفحہ 76