نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

June, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" بیج اور بوٹا "

انسان ہل چلا سکتا ہے ، زمین تیار کر سکتا ہے ، پانی دے سکتا ہے ، بوائی کر سکتا ہے ، لیکن بیج کو پھاڑ کر اس میں سے بوٹا پیدا نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ علم ، علیم مطلق کے پاس ہے اگر اس نے چاہا اور پسند فرمایا تو یہ بوٹا پیدا کرنے کا علم بھی انسان کو عطا کر دے گا ۔ مگر اپنی مرضی سے ، اپنی پسند سے اور اپنے منتخب وقت کے مطابق ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 323

" سچ "

میں سچ بولا کروں گا اور جس سے ملوں گا سچ کا پرچار کروں گا اور پہلے والے لکھاری بڑے جھوٹے رائٹر ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت ماں کے ہاتھ میں پکڑے چمٹے میں روٹی تھی ۔اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی اگر تو نے یہی بننا ہے جو تو کہتا ہے اور تو نے سچ ہی بولنا ہے تو اپنے بارے میں سچ بولنا ۔ لوگوں کے بارے میں سچ بولنا نہ شروع کر دینا ۔ یہ میں آپ کو بالکل ان پڑھ عورت کی بات بتا رہا ہوں ۔ سچ وہ ہوتا ہے جو اپنے بارے میں بولا جائے جو دوسروں کے بارے میں بولتے ہیں وہ سچ نہیں ہوتا ۔

اشفاق احمد زاویہ  2 تائی کا فلسفہ صفحہ 65

" خمیر "

ہم ملک میں جہاں بھی گئے محبت سمیٹتے ہوئے آئے ۔ سرکار امام بری ؒ سے لے کر سخی شہباز قلندر ؒ اور بہاء الدین زکریا کی  نگریوں نے کہیں بھی ہمیں سندھی ، پنجابی ، بلوچی ، پختوں اور سرائیکی ہونے کا تاثر نہیں دیا ۔ وہاں جا کر ایسا ہی لگا کہ ہم کسی ایک ہی خمیر سے اٹھے ہوئے لوگ ہیں جن کی تکمیل میں ایک ہی مٹی اور ایک ہی پانی استعمال ہوا ہے ہم میں کوئی دراڑ نہیں ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 بلیک اینڈ وائٹ صفحہ 85

" کشتی "

ظاہر میں خلق کے ساتھ رہنا چاہیے اور باطن میں حق کے ساتھ ۔ اگر پانی کشتی کے اندر آوے تو غرق ہو جاوے اور باہر رہے  باعثِ نجات کشتی ہو ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 420

' فلاح و بہبود "

جس قدر کوئی شخص اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے سے محروم ہوگا اور خود کو بدلنے سے قاصر ہوگا اس قدر وہ دوسروں کو بدلنے پر زور دے گا ۔ جس قدر وہ خود اپنے اندر تبدیلی لانے سے محروم ہوگا ، اسی قدر وہ انسانی فلاح و بہبود کی انجمنیں بناتا چلا جائے گا ۔ آپ کے ارد گرد ہزاروں ایسے  لوگ موجود ہوں گے جنہوں نے ڈوبتوں کو بچانے کی سوسائٹیاں  بنا رکھی ہیں اور خود تیرنا نہیں جانتے ۔
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 262

" اللہ کا فضل "

میں جو آپ سے عرض کرتا ہوں وہ یہیں کہیں سے اکٹھی کی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ لیکن ہم نے چونکہ ایک سخت قسم کا اور تنگ راستہ بنا لیا ہوا ہے اور ہم سارے سرنگ مین چلنے کے عادی ہیں  کھلے راستوں کے عادی نہیں رہے۔ اس لیے یہ سارے واقعات اور اللہ کے فضل اور رحمتیں ہمیں نظر نہیں آتیں ، ورنہ اللہ کا فضل تو مسلسل جاری ہے  اب یہ بھی اللہ کا فضل ہے کہ ہماری آنکھیں سلامت ہیں اور ہم دیکھ سکتے ہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 1  اللہ کا فضل  صفحہ 292

" اندرونی حسن "

جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا باہر کا جسم خوبصورت ہو جاذبِ نظر ہو ، اس طرح کوشش اس بات کی بھی ہونی چاہیے کہ آپ کا اندر بھی خوبصورت اور اجلا ہو ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  پندرہ روپے کا نوٹ صفحہ 48

" خوش قسمت "

میں نے کہا کہ " تمہاری عمر کافی ہے اور بال بھی سفید ہو چکے ہیں ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم باقی لوگوں کی نسبت خوش خوش ہو تمہارے چہرے سے نہیں لگتا کہ تم زندگی سے مایوس ہو ۔ کیا یہ مصنوعی ہے " ۔  وہ بولا " صاحب جی ! ہنس کر یا رو کر زندگی تو گذارنی ہے اگر روئیں گے تب بھی گذرے گی اور ہنسیں گے تب بھی  اگر اس نے اپنی مرضی سے ہی گذرنا ہے تو رونا کس بات کا " ۔
خواتین و حضرات ! اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ یہ میرے سمیت  ان لاکھوں لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہے جو سب کچھ ملتے ہوئے بھی کچھ نہ ملنے کا روگ لیے بیٹھے ہوتے ہیں ۔
اشفاق احمد زاویہ 3  بابا قطبہ صفحہ 18

" سامان "

مرد کو اپنے ذاتی استعمال کے سامان میں بڑی دلچسپی ہوتی ہے ۔ عورتوں کو دوسروں کو دکھانے کے سامان میں آنند آتا ہے ۔ جب تک عورت مرد کا سامان رہتی ہے وہ اس پر جان چھڑکے جاتا ہے اس کے لئے حلال ہوتا رہتا ہے۔ جب وہ آزاد اور خودمختار ہو جاتی ہے تو مرد اس کی ایک آزاد اور خود مختار فرد کی حیثیت سے عزت کرنے لگتا ہے ۔ اور دونوں کے درمیان اُلفت کے بجائے باہمی تعظیم کا جذبہ کار فرما ہو جاتا ہے ۔

اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ 66

" تھوتھا پن "

میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ کسی کی تھوڑی سی نکتہ چینی بھی آپ کو اپنی بے عزتی محسوس ہوتی ہے ۔ آپ جل بھن جاتے ہیں اور بس کھولنے لگتے ہیں  کہ میرے نام اور میرے کام پر ایسی نکتی چینی ! اگر آپ ایک غبارے پر پاؤں رکھ دیں تو کیا ہوتا ہے ایک زوردار دھماکا ہوتا ہے  اور غبارا پھٹ جاتا ہے ۔ یہی حال خالی خالی اور تھوتھے انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 573

" سہ رنگا پوسٹر "

محبت وہ شخص کر سکتا ہے جو اندر سے خوش ہو ۔ مطمئن ہو اور پر باش ہو ۔ محبت کوئی سہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میں لگا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سونے کا تمغہ نہیں کہ سینے پر سجا لیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طرہ چھورڑ کر ۔ محبت تو روح ہے  ۔ ۔ ۔  آپ کے اندر کا اندر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی جان کی جان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کا دروازہ صرف  ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اپنی ایگو اور اپنے نفس سے جان چھڑا لیتے ہیں ۔
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 283

سانس

اللہ کے فضل کی صورت بھی عجیب ہے ۔ وہ مجھے سخت گرمی میں بھگا کر ، ہنکا کر اور پسینہ پسینہ کر کے اپنا کرم کرتا ہے ۔ سخت سردی میں منجمد کر کے مجھ پر اپنا فضل کرتا ہے ۔ مجھے کھانے کو دے کر بھی مہربانی کرتا ہے اور بھوکا رکھ کر بھی عنایات کرتا ہے ۔ بیماری میں مجھے نحیف و نزار بھی کرتا ہے اور بے زری میں مجھے پریشان بھی رکھتا ہے لیکن ان ساری چیزوں کو اپنا کر میں مسکرا کر اپنا چہرہ اوپر اٹھاتا ہوں تو وہ میری شہہ رگ کے پاس اسی سانس کا حصہ ہوتا ہے جو میں روشنی حاصل کرنے کے لیے اندر کھینچتا ہوں اور اور جو میں زندگی حاصل کرنے کے لیے باہر نکالتا ہوں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 480

" ترشنا "

خدا کی عبادت ، خدا کے بارے میں سوچ اور خدا کے بارے میں مجلس آرائی ہم کو خدا تک نہیں پہنچاتی ۔ خدا تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے خاموشی ۔ جب ہم خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہمارا دل ترشنا سے بھر جاتا ہے پھر اس کے فضل برسنے کا موقعہ ہوتا ہے پھر وجود کے آسمان پر اس کے بادل آتے ہیں اور عطا کی بارش ہوتی ہے ۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اصول اور ضابطے سے بڑھ کر اس کے فضل کا کمال ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 489

" سہارا "

میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں ، وہ بڑے مزے میں رہتے ہیں ۔ اور وہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں ۔ ہم کو انہوں نے بتایا ہوتا ہے ہم ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی رکھیں اور وہ خود بیچ میں سے نکل کر اللہ کو دوست بنا لیتے ہیں ۔ ان کے اوپر کوئی تکلیف ، کوئی بوجھ ، کوئی پہاڑ نہیں گرتا ۔ سارے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے آپ کے ہیں ، لیکن ان لوگوں کو ایک سہارا ہوتا ہے ۔ ایک ایسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ۔ 
اشفاق احمد  زاویہ دوم سلطان سنگھاڑے والا صفحہ 68

آسانی

جسے معاف کیا جائے ، اسے آسانی عطا کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 499

علموں بس کریں او یار

جس کے پاس دولت نہ ہو وہ سخی نہیں ہو سکتا ۔ سخاوت کے لیے اچھے دل کے ساتھ بھرے خزانے کی بھی شرط ہے ۔ جو آدمی تعلیم یافتہ نہیں وہ کبھی بھی نہیں کہہ سکتاکہ علموں بس کریں او یار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   جب علم ہے ہی نہیں تو بس کس بات کی ۔
اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ41

" احتیاج "

اللہ کی  عطا ہر حال میں اور ہر صورت میں علم اور حکمت سے ہوتی ہے ۔ تنگ وہ کرتا ہے جو خود تنگ ہو ۔ جس کی ذات میں یہ حقیقت رچ بس جائے کہ اللہ تعالیٰ احتیاج سے پاک ہے اور اس کی ہر بات میں علم و حکمت ہے اس  کا مخلوق سے جھگڑا ختم ہو جاتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 499

کشف

خواہشات کم ہوں تو انسان میں کشف کی کیفیت  پیدا ہو جاتی ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 467

" قربت "

خواتین و حضرات ! جس کو خدا کی قربت یا ساتھ نصیب ہوتا ہے ۔ وہ چاہے زندگی کے کسی معاملے میں ہی ہو ، صرف "روحانیت یا عبادت " میں  زندگی نہیں ہے ۔ جب چلتے چلتے ، گاتے پھرتے ، یہ احساس ہو کہ خدا میرے ساتھ ہے تو اس کے بڑے فائدے ہیں ۔ مادی بھی نفسیاتی بھی  ۔ بدنی بھی اور روحانی بھی ۔  میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جو خدا کو تھوڑا سا   بھی نیگلیکٹ کر دیتا ہے وہ کمزور ہو جاتا ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3  اللہ میاں کی لالٹین  صفحہ 111

" تھیا تھیا "

جب تک عبادت میں سیلیبریشن نہیں ہوگی ، جشن کا سماں نہیں ہوگا  جیسے وہ بابا کہتا ہے  " تیرے عشق نچایا  کر کے تھیا تھیا "  چاہے سچ مچ نہ ناچیں لیکن اندر سے اس کا وجود اور روح  " تھیا تھیا "   کر رہی ہو ۔ جب تک تھیا تھیا نہیں کرے گا بات نہیں بنے گی ۔ اس طرح سے نہیں کہ نماز کو لپیٹ کر "  " چار سنتاں ، فیر چار فرض ، دو سنتاں ، دو نفل  فیر تین وتر "  چلو جی رات گذری فکر اترا ۔ نہیں جی ! یہ تو عبادت نہیں ۔ ہم تو ایسی ہی عبادت کرتے ہیں اس لیے تال میل نہیں ہوتا ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 2  سلطان سنگھاڑے والا صفحہ 70

قائد

جو امین نہ ہو اس کو کبھی قائد نہ بناؤ ۔   اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 560

محتاجی

ایک چھوٹا بچہ جب رات کو سوتے ہوئے ڈر جاتا ہے اور جب اس کی ماں اسے سینے سے لگاتی ہے تو وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر یوں سکون سے اور ماں کے سینے سے چمٹ کر سوجاتا ہے جیسے ایک فوجی محاذِ جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مورچے میں خود کو محفوظ پاتا ہے ۔ آپ نے نیشنل جیوگرافک چینل پر کینگرو کے بچے کو کسی انجانے ڈر سے بھاگ کر اپنی ماں کی مخصوص تھیلی ، جو قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے، اس میں دبکتے ہوئے دیکھا ہوگا ۔ وہ نظارہ بڑا ہی قابلِ دید ہوتا ہے ۔ بلی جب اپنی معصوم سے ان کھلی آنکھوں والے بچے کو اپنی باچھوں میں اٹھا کر لے جا رہی ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مامتا کیا ہوتی ہے ۔ اس نے اپنے منہ میں اپنے بچے کو گردن سے دبوچا ہوتا ہے لیکن وہ بچہ کوئی پریشانی محسوس نہیں کر رہا ہوتا بلکہ کمفرٹ فیل کر رہا ہوتا ہے ۔ ماں کی اس پناہ گاہ کی تعریف کے لیے زبان ان لفظوں کی محتاج ہے جو  اس کی عکاسی کر پائیں ۔ لیکن یہ ممکن نہیں ۔

اشفاق احمد زاویہ 3 پناہ گاہیں صفحہ 33

کتابی بات

جس بات سے تم کو فائدہ پہنچ رہا ہو وہی دوسروں کو بتاؤ ۔ ( کتابی بات نہ کرو ) اتنا کھاؤ جس سے پیٹ میں ہوا پیدا نہ ہو ۔ اتنا سوؤ جس سے جسمانی اور ذہنی تازگی برقرار رہے ۔ اتنا بولو کہ سامعین اس کو سنبھال سکیں اور گرانے نہ لگیں ۔ کم علموں کے پاس اتنا بیٹھو جتنا وہ آپ کے ساتھ سنجیدہ رہ سکتے ہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 560

مشکل مقام

مشکل مقام پر اپنے ساتھیوں سے آگے رہو ۔ جب انعام تقسیم ہونے لگے تو ان سے پیچھے رہو ۔
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 560

وقت

اسی اثناء میں ، میں نے درس دینے والی خاتون کا عجیب اعلان سنا ۔ وہ بیبی اندر کہہ رہیں تھیں کہ " اے پیاری بچیو اور بہنو ! اگر تم اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہو یا اپنے خاوند سے مخاطب ہو یا اپنی ماں کی بات سن رہی ہو اور ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو ٹیلیفون پر توجہ نہ دو ۔ کیونکہ وہ زیادہ اہم ہے جس کو آپ اپنا وقت دے رہی ہو ۔ چاہے کتنی ہی دیر وہ گھنٹی کیوں نہ بجتی رہے کوئی اور آئے گا اور سن لے گا "۔ یہ بات میرے لیے نئی تھی اور میں نے اپنے حلقہ احباب لوگوں یا دوستوں سے ایسی بات نہیں سنی تھی ۔ اشفاق احمد زاویہ 2وقت ایک تحفہ صفحہ 24

وجود

جب آپ کسی شخص پہ نکتہ چینی کرنا چھوڑ دیتے ہیں ، اس پر تنقید کرنا چھوڑ دیتے ہیں ، اس میں نقص نکالنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ آدمی سارے کا سارا آپ کی سمجھ میں آنے لگتا ہے ۔ اور ایکسرے کی طرح اس کا اندر اور باہر کا وجود  آپ کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے ۔
اشفاق احمد زاویہ 2  تنقید اور تائی کا فلسفہ صفحہ 63

اضطراب

غم و اندوہ ایک ذہنی ویڈیو کیسٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ جو دیکھنے والا مریض بے خیالی میں اور بے احتیاطی میں لگا کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اور تڑپتا رہتا ہے ۔  جہاں ذہنی ویڈیو نہیں وہاں اضطراب نہیں ۔ اس کا تجربہ کر کے دیکھ لو ۔ اگلی مرتبہ جب اضطراب اور بے چینی کا وقت آئے زور لگا کر اس ویڈیو کو آف کر دو ۔ اور اس فلم کو بند کر دو اس میں چاہے آپ کو ایک سیکنڈ کی کامیابی ہو آپ دیکھیں گے کہ وہ سیکنڈ پر سکون گذر گیا ۔ اور فلم کے بند ہوتے ہی مسرت پھیل گئی ۔ خوفناک فلم کے مزے لوٹنا بند کر دیں اور آپ ایک مختلف شخصیت بن جائیں گے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 525