نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

August, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" حُبِ جاہ "

بابا  جی  نے  فرمایا  کہ  جب الله  کسی بندے  کیساتھ  خیر  چاہتے  ہیں تو ایسے اسباب غیب سے پیدا  فرما دیتے ہیں ۔

جس سے اس کے  امراض  نفسانیہ  مثلاً " حب جاہ " کا علاج ہوتا ہے مثلاً اس پر کوئی مرض مسلط ہو جاتا ہے۔ 

 یا کوئی دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو اسے کوئی بدنامی کی ایذا پہنچاتا ہےاس بدنامی سے وہ شخص رسوا ہوتا 

ہے۔اول اول تو یہ نفس کو نہایت نا خوشگوار گزرتا ہے۔

مگر جب وہ صبر و رضا اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس میں ایسی قوت تحمل پیداہو جاتی ہے کہ بدنامی کو بڑے 

شوق سے برداشت کرنے لگتا ہے۔

 پھر الله تعالیٰ اس کو قبول  عام اور عزت نصیب فرماتے ہیں جس میں اس کو ناز نہیں ہوتا   اب گویا ، جاہ عظیم میسر 

ہوتی ہے اور جاہ پسندی فنا ہو جاتی ہے ۔






 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ  411

" کمال "

انسان کو جس چیز میں کمال حاصل ہوتا ہے - اس پر مرتا ہے  ۔ چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا - اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا۔ ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں۔ حالانکہ انہی بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔ اسی طرح جس کو جس سے محبّت ہوتی ہے ، اسی کے خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبّت میں مرا ۔ مجنوں لیلیٰ کی محبّت میں ۔ اسی طرح طالب خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤٠٩

" معطر "

مجھے  معلوم  ہو  چکا  ہے  کہ  اسلام کا مطلب سلامتی ہے جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے ، وہ سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے  اور جو شخص سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ سلامتی عطا کرتا ہے - اس کے مخالف عمل نہیں کرتا  جس طرح ایک معطر  آدمی اپنے گرد و پیش کو عطر بیز کر دیتا ہے - اسی طرح ایک مسلمان اپنے گرد و پیش کو خیر اور سلامتی سے لبریز کر دیتا ہے  اگر کسی وجہ سے مجھ سے اپنے ماحول کو اور اپنے گرد و پیش کو سلامتی اور خیر عطا نہیں ہو رہی تو مجھے رک کر سوچنا پڑیگا کہ میں اسلام کے اندر ٹھیک سے داخل ہوں کہ نہیں ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤٥٨

" شاہ منصور "

جب شاہ منصور کو سولی پر کھینچ دیا - جسم کو جلا دیا - خاکستر کو دریا ( دجلہ ) میں بہا دیا تو دریا جوش میں آگیا لوگوں نے امام محمد کو خبر دی امام صاحب دجلہ کے کنارے آئے اور کہا !  منصور ہماری بات غور سے سن - ہم جانتے ہیں کہ تو طریقت میں سچا تھا ، لیکن ہمارا قلم بھی اگر خلاف شرع چلا ہو تو شہر غارت کر ورنہ تجھ سے کچھ نہ ہو سکے گا  اسی وقت دریا کا جوش ٹھنڈا ہوگیا ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٥٢٣

" تھر تھری "

لیکن ایک تلاش ایسی ہوتی ہے کہ آدمی کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ تلاش کر رہا ہے یا اس کو کسی چیز کی چنتا ہے یا وہ کوئی راستہ ڈھونڈ رہا ہے یا اسے کسی شے کی تلاش ہے۔پھر بھی یہ عمل جاری رہتا ہے اور مرتے دم تک اس کو اس بات کا سراغ نہیں ملتا کہ وہ اس قدر بے چین کیوں ہے ، خالی کیوں ہے ، اس کی روح کے اندر ایک تھرتھری سی کیوں رہتی ہے۔
 اشفاق احمد سفر در سفر صفحہ نمبر 191

" خوشی "

خوشی ایسے میسر نہیں آتی کہ کسی فقیر کو دوچار آنے دے دیئے ۔ خوشی تب ملتی ہے جب اپ اپنے خوشیوں کے وقت سے وقت نکال کر انہیں دیتے ہیں جو دکھی ہوتے ہیں اور کل کو آپ کو ، ان دکھی لوگوں سے کوئی دنیاوی مطلب بھی نہیں ہوتا۔ آپ اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ کر جب پریشان حالوں کی مدد کرتے ہیں تو خوشی خود بخود آپ کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے ، کوئی چیز آپ کو اتنی خوشی نہیں دے سکتی جو خوشی آپ کو روتے ہوئے کی مسکراہٹ دے سکتی ہے 
 اشفاق احمد زاویہ ۳ ،رویوں کی تبدیلی  صفحہ نمبر 25

" زیادتی "

اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو معاف کرنے کا حکم ہمیں دیا گیا ہے ۔ دوسروں کے ساتھ زیادتی کو معاف کرنے کا حق ہمیں نہیں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 629

" قدر "

کسی نے کہا کہ جناب علماء کی بات میں اختلاف ہےاب کس کی مانیں ۔  فرمایا کہ اختلاف کہاں نہیں ہے ۔ اور کس میں نہیں ۔ وکلا حضرات ایک ہی واقعہ میں ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں ۔ ڈاکٹروں میں اختلاف ہوتا ہے مگر وہان کوئی نہیں کہتا کہ ان میں اختلاف ہے ہم کس سے علاج کروائیں ۔ سو وجہ اس کی یہ ہے کہ جو کام کسی نے کرنا ہونا ہوتا ہے  یا جس چیز کی ضرورت سمجھی جاتی ہے اس میں اختلاف کی پراوہ نہیں ۔ صحت جسمانی کی چونکہ قدر ہے اس لیے اس میں کسی کے اختلاف کی پرواہ نہیں ۔ دین کی قدر نہیں اس لیے حیلے تلاش کرتے ہیں ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ  616

" کھٹائی "

تھوڑی دیر صرف پندرہ منٹ کی تنہائی میں بیٹھ کر اللہ اللہ کر لیا کیجیے ۔ دیکھیے تو سہی کیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ کھٹائی کا نام لینے سے منہ میں پانی بھر آئے اور اللہ کا نام لینے سے قلب پر اثر نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 615

" ڈپارٹمینٹل اسٹور "

وہ طاقت جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے اس سے ہم نے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا - اس سے فائدہ نہ اٹھانے والوں میں ، میں بھی آپ کے ساتھ شامل ہوں باتیں تو آ جاتی ہیں لیکن عملی طور پر ہم کچھ نہیں کر پاتے ہیں جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ زندگی پر کوئی دبائو پڑا ہے ، کوئی پریشانی یا الجھن آن پڑی ہے ، تو اس وقت یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ یہ دبائو جو مجھ پر پڑ رہا ہے اور میرے اندر جو گھٹن پیدا ہو رہی ہے یہ مجھے ایک نئی دنیا ، نیا سبْق ، نیا باب عطا کرنے کے لیے ہو رہی ہے - وگرنہ خدا ظاہر ہے نا انصاف تو نہیں ہے - وہ آپ کو کچھ عطا کرنا چاہتا ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ آپ کو چھوٹے سے امتحان سے گزار کر چیک کر رہا ہے- جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کو تکلیف میں سے گزرنا پڑتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجھے کہیں سے بنا بنایا کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور سے مل جائے اور مجھے تکلیف برداشت نہ کرنی پڑے
از اشفاق احمد زاویہ 3 صفحہ نمبر 165

طالب ، مطلوب

اشفاق احمد صاحب سناتے تھے کے اک بار وہ اپنے بابا جی سے بحث میں الجھ گئے کہتے تھے میں ان سے بہت سوال کرتا تھا . بابا جی بھی ان کو سمجھاتے تھےکہ دنیا کی کوئی بھی چیز ساکت نہیں ، یہ سورج چاند ستارے سب اپنے اپنے محور میں گھوم رہے ہیں اور اشفاق صاحب بضد تھے کے جدید علم کی روشنی میں سورج ساکت ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے، بابا جی نے آخر کہا اشفاق میاں ! صرف مطلوب ساکت ہوتا ہے۔ سب طالب اس کے گرد گھومتے ہیں ، اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ میں جدید دنیا کا رہنے والا پڑھا لکھا انسان تھا ، میں نے بابا جی کی یہ دلیل نہیں مانی جو انہوں نے قرآن اور تصوف کی روشنی میں دی تھی ، مگر طالب اور مطلوب کی نسبت کا یہ جملہ مجھے پسند آیا ۔
 آپا بانو قدسیہ  راہ رواں

" عبادت اور معاملات "

زندگی یوں تو گذر ہی جاتی ہے لیکن اگر ہماری زندگی باہم انسانوں کے درمیان اور ان کی محبت میں گذرے تو وہ زندگی بڑی خوبصورت ہو گی اور یقیناً ہو گی ۔ انسان اللہ کو خوش کرنے کے لیے عبادات کرتا ہے راتوں کو اٹھ اٹھ کر خداوند تعالی کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے تاکہ اس کو خالق اور پالنہار کی خوشنودی حاصل ہو جائے ۔ اگر ہم اللہ کی خوشی کے لیے انسانوں کو محبت کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیں اور سوچ لیں کہ ہم نے کبھی کسی انسان کو حقیر نہیں سمجھنا ، تو آپ یقین کریں کہ یہ سوچ ہی آپ کے دل کو اتنا سکون فراہم کرے گی کہ آپ محسوس کریں گے جیسے خدا اپ کو مسکراہٹ سے دیکھ رہا ہے ۔  آپ عبادات ضرور کریں شوق سے کریں لیکن خدارا انسانوں کو بھی اپنے قریب کر لیں ۔  یہ بھی عظیم عبادت ہے ۔ 


 اشفاق احمد زاویہ 3 صفحہ نمبر 75

" تلاش "

تلاش کا عمل بھی خوب ہے۔ لوگ نیلے آسمان پر عید کا چاند تلاش کرتے ہیں۔  قدموں کا نشان دیکھ کر چور کا کھوج لگاتے ہیں۔  کلائی ہاتھ میں لے کر معدے کے اندر حدت تلاش کرتے ہیں۔ کھنڈرات دیکھ کر پرانے لوگوں کا چلن ڈھونڈتے ہیں۔ شادی کے لئے اچھی نسل تلاش کرتے ہیں۔ جب بچہ گھر نہیں پہنچتا تو ماں اس کو تلاش کرنے کے لئے دیوانہ وار راہوں اور شاہراہوں پر نکل جاتی ہے۔ جب اسی بچے کی شادی ہو جاتی ہے تو وہ اپنی بیوی کے کھانوں میں ماں کے پکوانوں کی بو باس تلاش کرتا ہے۔ جب نوجوان اداس اور تنہا ہوتا ہے ،وہ جیون ساتھی تلاش کرتا ہے۔ اور جب اسے زندگی کا ساتھی مل جاتا ہے تو وہ اسے گھر چھوڑ کر دوسروں کے جیون ساتھیوں کا نظارہ کرنے باہر نکل جاتا ہے۔
از اشفاق احمد، سفر در سفر، صفحہ نمبر 188

"صبر "

صوفی اور درویش صبر اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ کو اپنے ساتھ کر لیں کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اپنا انتقام خود لے لیتا ہے تو حق تعالیٰ سارا معاملہ اس کے سپرد کر دیتے ہیں ۔اور جو صبر کرتا ہے اس کی طرف سےحق تعالیٰ خود انتقام لیتے ہیں ۔
 اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٤١١

" بھائی چارا "

ہمارے بابا جی محبّت کے معاملے پر بہت زور دیتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کا واحد آسان حل یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے سے محبّت کریں ۔ ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کریں ۔ اور باہمی بھائی چارے کی وہ راہ اپنائیں جس کا درس حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مکے سے ہجرت کر کے مدینے میں دیا تھا ۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ ہماری مالی مشکلات حل ہونگی تو نماز بھی پڑہیں گے ۔انسانیت سے محبّت بھی کریں گے ۔ یہ حقیقت میں میرے جیسے لوگوں کا بہانہ ہے - لوگوں کو توقیر بخشنے اور محبّت کرنے میں تو کوئی رسید نہیں دینا پڑتی ۔ نہ کوئی اکاؤنٹ کھلوانا پڑتا ہے ۔ بس آپ نے چند میٹھے الفاظ بولنے ہیں - اور ماتھے سے شکنیں ختم کرنی ہیں ۔
از اشفاق احمد زاویہ ٣ کارڈیک اریسٹ صفحہ ٢٦٠

"جھولی "

کئی دفعہ اللہ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اجاگر ہو جاتی ہے اور اللہ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنا نصیب بنا نے کی لیے ،میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاہیے جب تک ہمارے پاس جھولی نہیں ہو گی تب تک وہ نعمت جو اترنے والی ہے وہ اترے گینہیں ۔ رحمت ہمیشہ وہیں اترتی ہے جہاں جھولی ہو اور جتنی بڑی جھولی ہو گی اتنی بڑی نعمت کا نزول ہو گا ۔



 اشفاق احمد زاویہ 3 بش اور بلیئر  صفحہ  ١٨٧

" اچھی بات "

اچھی بات تو سب کو اچھی لگتی ہے، لیکن جب تمھیں کسی کی بری بات بھی بری نہ لگے تو سمجھ لینا، تمھیں اس سے محبت ہے۔

اشفاق احمد  ایک محبت سو افسانے سے اقتباس

" امداد "

مٹھی کو آپ جتنا کس کر بند کریں اس میں اتنی چیز کم آتی ہے۔ اگر مٹھی ڈھیلی بند کریں گے تو اس میں زیادہ سمائے گا، تو خیرات ( امداد) کا بھی یہی طریقہ ہے کہ آپ جتنا پیسہ کس کر پکڑے رکھیں گے، اللہ میاں اس میں اتنی ہی کمی کر دے گا۔ 

اشفاق احمد  زاویہ  اول  سے اقتباس