نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

November, 2013 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

" تصوف ، عمل ، علم "

تصوف اور دوسرے علموں میں ایک بنیادی فرق  یہ ہے کہ اور علم تو پہلے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔ لیکن تصوف میں اس کے الٹ ہے ۔ اس میں پہلے عمل کیا جاتا ہے اور پھر علم حاصل ہونے لگتا ہے ۔ 
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 381

" حقوق "

اکثر لوگوں میں تکبر ہوتا ہے مگر ان کا نفس ان کو پتا نہیں چلنے دیتا ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ان کی مرضی کے مطابق نہ کرے اور اس پر انھیں غصہ آئے ، تو وہ اس کی تاویل یہ پیش کرتے ہیں کہ چونکہ میرا اس شخص پر حق ہے اور اس نے حق ادا نہیں کیا اس لیے مجھے غصہ آگیا ۔اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ جن لوگوں کا آپ پر حق ہے اور آپ ان کے حقوق ادا نہیں کرتے تو پھر آپ کیساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔ الله تعالیٰ جن کا آپ کی ایک ایک سانس پر حق ہے ، ان کے حقوق ادا کرتے وقت آپ کیا کرتے ہیں ؟ 
از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦١١

" سیدھا راستہ "

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور  " اسٹریٹ " آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا- میرے "بابا“ نے کہا یہ بڑی غور طلب بات ہے- جو شخص بھی گول چکروں میں گھومتا ہے اور اپنے ایک ہی خیال کے اندر”وسِ گھولتا“ہے اور جو گول گول چکر لگاتا رہتا ہے، وہ کُفر کرتا ہے، شِرک کرتا ہے کیونکہ وہ اِھدِناالصّراطَ المُستَقیم (دکھا …

" پتنگ "

مجھے یاد ہے وہاں ایک اشرف لغاری آیا کرتا تھا - اسے پتنگ اڑانے کا بڑا شوق تھا اور بڑا ہی پتنگ باز سجنا تھا وہ خوبصورت سی ریشمی چادر باندھتا تھا اور کندھے پر پرنا رکھتا تھااور جوں جوں بسنت قریب آتی جاتی تھی اس کا شوق اور مانگ بڑھتی جاتی تھی۔ میں نے اس سے کہا اشرف تم پتنگ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہو" وہ کہنے لگا " صاحب آپ اگر کبھی پتنگ اڑا کر دیکھیں اور اپ کو بھی اس کی ڈور کا جھٹکا پڑے تو آپ کبھی اسے چھوڑ نہ سکیں  میں نے کہا  تم ڈیرے پر آتے ہو- بابا جی کی باتیں سنتے ہو اور ان کی خدمتیں بھی کرتے ہو  وہ بولا  صاحب یہ سب کچھ میری گڈی (پتنگ) اڑانے کی وجہ سے ہوتا ہے  میں نے کہا یار اس میں کیا راز ہے ، تو وہ کہنے لگا جب میرا پتنگ بہت اونچا چلا جاتا ہے اور "ٹکی" ہو جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور میرے ہاتھ میں صرف اسکی ڈور ہوتی ہے تو اس نہ نظر آنے کی جو کھینچ ہوتی ہے ، اس نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا ہے اور میرے دل پر اللہ کی کھینچ بھی ویسے ہی پڑتی ہے جیسے اس پتنگ کی میرے ہاتھوں پر پڑتی ہے "
از اشفاق احمد ، زاویہ 3 صفحہ نمبر 76

ستم کا پھول

محبت کی امر بیل میں ہمیشہ ستم کے پھول کھلتے ہیں ۔ ستم کا پھول ، جس کی پنکھڑیوں پر تاسف کے آنسو منجمد ہوتے ہیں ۔ اور جس کی مخملیں جلد سے جدائی کی خوشبو آتی ہے ۔ ستم کے پھول کی کہانی  سنی ہے کبھی تم  نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟  یہ تو دکھ کے پھول کی داستان ہے ۔ ایک ایسا پھول جس میں محبت کا مدفن ہوتا ہے ۔  وینس کی قبر پر اپالو کے اتنے آنسو گرے کہ ایک دن اس میں سے ایک پودے نے سر نکالا اور اس میں ایک پھول کھلا ارغوانی رنگ کا ، یہ ستم کا پھول تھا ۔ ستم کا پھول ، پچھتاوے کا پھول ، محبت کا مدفن ۔ اس کی ہر ایک پنکھڑی پر لکھا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ " افسوس صد افسوس " ۔ 
بانو قدسیہ امر بیل سے اقتباس 

"عقیدہ "

مسجد کے قریب چھوٹی نہر بہتی تھی ، اور اسی نہر  پر بنے پُل نے گاؤں اور مسجد کو آپس میں ملا  رکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اسی پل پر سرمد نے دو آدمیوں کو اپنی پستول سے گھائل کر کے نہر میں بہا  دیا تھا ۔
تو فکر نہ کر ماں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ان دونوں کا عقیدہ خراب تھا ۔ میں نے انہیں ٹھکانے لگا دیا ہے ۔۔۔ ۔ ۔
عبدالکریم چارپائی سے لڑکھڑا کر اٹھا ۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ سرمد کو زناٹے کا تھپڑ مارے کہ اسے تسّلی دے۔
تو نے ان کے عقیدے کے متعلق تحقیق کی تھی سرمد؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پوچھ گچھ کر لی تھی ! ؟
تحقیق کی کیا ضرورت ہے ؟ لوگ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔لوگ کچھ غلط تو نہیں کہتے اماں !۔ لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں کی بات کبھی معتبر نہیں ہوتی بیٹا ! اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے غور و خوض کرنا پڑتا ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔اور پھر تجھے کسی کے عقیدے سے کیا ؟
یہ اللہ جانے اور اس کے بندے ۔ ۔ ۔ ۔ کون جانے اللہ اور سچے نبی کو روزِ قیامت کس کا عقیدہ پسند آئے ۔ ۔ ۔ ۔بتول گڑگڑائی ۔
بتول کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اور وہ دیوار سے لگ کر کھڑی ہو گئی ۔
اور جو پولیس کا علم ہو گیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تو ؟ بتول بولی ۔
میں پولیس سے نہیں ڈرتا ما…

" خیانت "

او میرا سوہنا ! سیدھی بات ہے کہ جو شخص جس کام میں ہے وہی اس کی عبادت ہے ۔ لکڑ ہارے کی عبادت لکڑی کاٹنا اور میری عبادت بکریاں چرانا ہے ۔ تیرا کام قلم چلانا ہے اور تیری گھر والی کا روٹی ہانڈی کرنا ہے ۔ یہی ہماری عبادت ہے اور اسی میں ہم خوش ہیں ۔ لیکن جس نے اپنے پیشے میں خیانت کی ، اس نے اپنی عبادت میں ڈنڈی ماری ۔ بس وہ مارا گیا وہ تباہ ہوگیا ۔ اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 65

" بیدار انسان "

کسی مصیبت کے وقت آپ کو کسی حمایتی کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ آپ خود ہی اپنےسب سے بڑے حمایتی ہیں ۔ کوئی  دوسرا آپ کی اتنی مدد نہیں کر سکتا جتنی مدد آپ اپنی  خود کر سکتے ہیں ۔ ہاں اگر آپ کو کوئی بیدار انسان یا گرو مل جائے تو وہ ضرور آپ کی مدد کر سکتا ہے ۔
اشفاق احمد  بابا صاحبا صفحہ 553

" معافی "

خواتین و حضرات ! یہ سوچنے کی بات ہے ہم اتنے متشددکیوں ہیں ۔ ہم انسان ہو کر کسی پولیس والے سے تعلقات بنا کر یا اسے پیسے دے کر کسی انسان کو ہی الٹا لٹکوا دیتے ہیں ۔  ہم نے معاف کرنے کی اپنی عظیم مثالیں کیوں بھلا دی ہیں ۔ ہمیں وہ خداوند کریم کا فرمان کیوں بھول گیا ہے  ترجمہ : " تم میں سے سب سے اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں " ۔
اشفاق احمد رویوں کی تبدیلی زاویہ 3 صفحہ 24

" تقّدس "

اپنے تقّدس اور اپنی بزرگی کا اظہار دولت، طاقت، علمیت اور شجاعت سے بھی قوی تر ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بڑے سے بڑے مرتبے والا انسان بھی پھنس جاتا ہے ۔ اور جب ایک مرتبہ پھنس جاتا ہے تو پھر اس کی رہائی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ۔
تا آنکہ اس پر کوئی خاص فضل ہو ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 328

"کندھا "

ایسی بات ہر گز نہیں ہے کہ کوئی بھوکا مرتا، خود کشی کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ کیسوں میں یہ عنصر ہو لیکن مجموعی طور پر اور غالب عنصر یہی ہوتا ہے کہ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے کوئی موت کو گلے لگاتاہے۔ ہم اپنے اپنے کاموں اور غرض کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں اور ہمارے پاس کسی دوسرےکے لیے وقت نہیں ہے اور لوگ ان کندھوں کو تلاش کرتے پھرتے ہیں جن پر وہ اپنا ماتھا رکھ کے رو سکیں ۔ یہ کوتاہی معاشرے کی ہے۔

اشفاق احمد  زاویہ 3 دو بول محبت کے صفحہ 52

" غلطی "

پیارے بچو ! ٹینشن اس بات کی نہین تھی کہ اس لڑکے کو اس کی مستری استاد نے مرغا کیوں بنایا ہے ۔ ظاہر ہے اس نے کوئی غلطی کی ہوگی یا کام سیکھنے میں کوتاہی ہوئی ہوگی ۔ مجھے یا میرے ذہن میں مسئلہ یہ تھا کہ آخر کوئی بزرگ یا دوسری دوکان کا استاداس کے استاد کو یہ کیوں نہیں آ کر کہتا کہ اسے آج چھوڑ دو ۔ اسے معاف کر دو ۔ یہ آئندہ غلطی نہیں کرے گا ۔ میرا دل کہتا ہے کہ اگر کوئی اسے معافی دلوا دیتا تو وہ لڑکا دوبارہ وہ غلطی نہ کرتا جس پر اسے سزا ملی تھی ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3 رویوں کی تبدیلی صفحہ 23

"مومن، مسلم "

ایک سوال نے مجھے بہت پریشان کیا، مومن اور مسلمان میں کیا فرق ہے؟۔ بہت لوگوں سے پوچھا لیکن کسی کے جواب سے مطمئن نہ ہوا، ایک دفعہ ایک گاؤں سے گذرا۔ دیکھا کہ ایک بابا جی گنے کا رس نکال رہے ہیں۔  دل میں خیال آیا کہ ان سے سوال پوچھوں تو میں نے سلام کیا اور اجازت لے کر سوال بتایا۔ انھوں نے سوچا اور جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان وہ ہے جو اللہ "کو" مانتا ہے، اور مومن وہ ہے جو اللہ "کی" مانتا ہے"۔