نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

" باوقار لوگ "


مجھے حضرت نظام الدین اولیا رح کے خلیفہ خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی کی وہ بات یاد آتی ہے جب ایک بار قحط پڑ گیا اور دٍلی میں‌بہت “سوکھا“ ہو گیا
تو لوگوں نے کہا کہ یا حضرت ‌(وہ چبوترے پر تشریف فرما تھے) آپ تو چراغٍ دلی ہیں، آپ جا کے نمازٍ استسقاء پڑھائیے اور بارانٍ رحمت کے لئے دعا کیجئے تو وہ کہنے لگے کہ میں کچھ مُتردَّد ہوا، پریشان ہوا کہ میں‌کیسے دعا کروں۔ یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ وہ بارانٍ رحمت کرے یا نہ کرے۔ خیر وہ طے شدہ مقام پر نمازٍ استسقاء پڑھانے چلے گئے۔ وہاں‌جا کر نماز پڑھائی اور دعا کی اور دعا کے بعد دیکھا کہ آسمان پر کچھ بھی نہیں، نہ کوئی ابر کے آثار ہیں نہ بارش کے۔ وہ لوٹ آئے اور کچھ شرمندہ تھے۔ وہاں‌ایک بزرگ یوسف سرہندی تھے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب پہلے بھی ایک ایسا واقعہ پیش آچکا ہے۔ ہم نے بھی ایک بار بارش کے لئے دعا کی تھی لیکن وہ بدترین قحط اور Drought کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا تھا اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ کہنے لگے کہ ہمارے زمانے میں جب ہماری دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو ایک صاحب میرے پاس آئے اور انہوں ‌نے کہا کہ اگر تم بارانٍ رحمت کے لئے دعا کرانا چاہتے ہو تو کسی باوقار Editorialized آدمی سے کرواؤ اور اللہ باوقار اور غیرت مند آدمی پر بڑا اعتماد کرتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ تو میں‌نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہمیں‌اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے تو بتاؤ کہ کس سے دعا کروائیں تو اس شخص نے بتایا کہ سیری دروازے کے پاس ایک بزرگ رہتے ہیں، وہاں چلتے ہیں۔ یوسف سرہندی نے مزید کہا کہ وہ شخص مجھے ان کےپاس لے گیا اور میں دیکھ کر بہت حیران اور شرمندہ بھی ہوا کہ بزرگ جو تھے وہ خواجہ سرا تھے یعنی ہیجڑے (مُخَنَّث تھے اور ان کا نام خواجہ راحت تھا)۔ اب وہ شخص کو مجھے وہاں لے کر گیا تھا، اس نے خواجہ رحمت مخنث سے کہا کہ یہ (یوسف سرہندی) آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ مینہ یا باراں یا Rain Fall کے لئے دعا فرمائیں تو انہوں نے کہا،کیوں کیا ہوگا؟ اس شخص نے کہا یا حضرت (اس ہیجڑے سے کہا، مجھے انہیں ہیجڑا کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے اور یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے ایسی بزرگ شخصیت کے لئے لیکن چونکہ وہ مخنث تھے اور اپنے آپ کو خود بھی کہتے تھے، دیکھئے باوقار لوگ بھی کیا ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی ذات، عورت، مرد یا مخنث سے تعلق نہیں ہوتا۔یہ وقار ایک الگ سی چیز ہے جو انسان کے اندر روح سے داخل ہوتا ہے) دِلّی سوکھا ہے، بارش نہیں ہو رہی۔ ان حضرت نے اپنی خادمہ سے کہا کہ پانی گرم کرو، وضو کیا اور دعا مانگی اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ پھر کہنے لگے کہ اے یوسف سرہندی آپ جائیں‌اور اپنے معروف طریقے سے بارش کے لئے نماز ادا کرو اور خدا سے دعا مانگیں کہ وہ اپنی مخلوق کو بارش عنایت فرمائے لیکن اگر پھر بھی بارش نہ ہو تو (انہوں‌نے اپنی قباسے ایک دھاگہ یا بڑھا ہوا ڈورا کھینچا) اس ڈورے کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر اللہ سے درخواست کرنا کہ یہ خواجہ رحمت مخنث جس نے تیری رضا کا چولا پہن لیا ہے اور اب لوگوں سے نہیں ملتا اور ایک مقام پر ایک وقار کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اس طرح‌ مخلوق میں بھی شامل نہیں‌ہوتا کہ وہ دعائیں منگواتا پھرے، اس نے بارش کے لئے عرض کیا ہے۔ یوسف صاحب کہنے لگے کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ وہاں‌بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ پورا دلی امڈ کے آیا ہوا تھا۔ وہاں نماز استسقا پڑھی لیکن بد قسمتی سے کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر میں‌نے اپنی دستار سے خواجہ رحمت مخنث کی قباء کا وہ ڈورا نکالا اور اسے دائیں‌ہاتھ پر رکھ کر خدا سے دعا کی تو وہاں‌کھڑے کھڑے بادل گھٍر کر آیا اور موسلا دھار بارش ہونے لگی اور اس قدر زور کی بارش شروع ہو گئی کہ لوگ تیزی سے بھاگنے کے باوجود اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے۔

خواتین و حضرات! اب یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم کس وقار کے ساتھ اور اس امّہ سے تعلق رکھتے ہوئے کیسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ خدا ہم کو عزت و وقار سے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینر…

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…