نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

May, 2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تلاش

ویسے تو یہ دانہ پانی کے اختیار کی بات ہے، لیکن اگر خان کی مدد شامل حال نہ ہوتی تو جیکی ہندوستان ہی رہ جاتا۔ اس بھگدڑ میں لوگ مال و اسباب تو کیا، خویش و اقارب تک کو بھول گئے۔ بھلا ٹھائیں ٹھائیں وغتی بندوقوں میں بیچارے احسان کی طوطی ایسی آواز کہاں پہنچتی جو کسی فوجی کی توجہ سے الجھ کر احسان کی بہتی ہوئی آنکھیں اور ناک دکھا سکتی۔ جب خان نے کیپٹن حق نواز سے ہاتھ باندھ کر کہا کہ یہ اس چھوٹے سے پلے کے لیے جان دے دے گا مگر اسے اپنے ساتھ ضرور لے جائے گا تو کیپٹن صاحب نے اسے جھٹلانے کے لیے طنزیہ مسکرا کر کہا، 'ابھی ٹیسٹ کیے لیتے ہیں' اور پھر انہوں نے نے ٹرک کا انجن چلا کر پورے زور سے ایکسلرٹر دبا دیا۔ ایک ہلڑ مچا اور کندھوں پر چڑھے والدین اور اولادیں ٹپکے کے آموں کی طرح زمین پر آ رہیں اور انہیں اٹھانے والے ٹرک کی طرف ایسے لپکے گویا کسی نے آدمیوں کی باڑھ ماری ہو۔ احسان کا چہرہ ایک دم ہلدی کی طرح ذرد ہو گیا اور وہ بھی اس طرف بھاگا لیکن اس نے جیکی کو بغل سے گرایا نہیں۔ کیپٹن پیار سے ہنسا۔ انجن بند ہو گیا اور سب پھر اپنے اپنے آم چننے لگے۔ احسان کا ے گال اوپر کو ہلے اور ان بھیگے ہوئے پھول…

رات بیت رہی ہے

رات بیت رہی ہے۔۔۔ اور میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ خط لکھوں تو کسے لکھوں؟ آج دن بھر دھند چھائی رہی، ہم اپنے اپنے کیبنوں میں گھسے اخبار اور تصویروں والے رسالے دیکھتے رہے۔ چائے آج معمول سے ایک بار زیادہ تقسیم ہوئی۔ بعض اوقات ایسی بے قاعدگی بڑی اچھی لگتی ہے۔ میں اپنے کمرہ سے خراماں خراماں دو دفعہ کنٹرول گیا، لیکن وہاں کچھ ایسی مصروفیت تھی کہ وہ لوگ ٹھیک سے میری باتوں کا جواب نہیں دے سکے۔ موسم خراب تھا اور لاسلکی پیام اچھی طرح سمجھ میں نہ آتے تھے۔ اتنا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سارے لڑاکا طیارے سلامت ہیں۔ میں نے ایک دفعہ پیٹر کی آواز پہچاننے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہا۔ پھر میں اسی طرح راستہ کی ہرا بھری ہوئی کیل اور بڑھی ہوئی لکڑی کو ٹھوکریں مارتا ہوا واپس آ گیا۔ جیب سے چیونگم کی ایک ٹکیہ نکلی! پتہ نہیں کب سے وہاں پڑی تھی۔ کپڑے کی مسلسل رگڑ سے اس کی کھانڈ اتر چکی تھی۔ میں نے اسے منہ میں ڈالا تو تم یاد آ گئیں۔ اب اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ سمندر بالکل ساکن ہے۔ جہاز میں اب وہ ہلکورے نہیں۔ عرشہ گھرکا صحن لگتا ہے جہاں ہم سب اینٹیں کھڑی کر کے ہاکی سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور تم نے مجھے خاص …

فہیم

2/2
'ایسی ہی سرد رات تھی' نانی اماں نے کہنا شروع کیا، 'جب تمھارا نانا گھر سے نکل کھڑا ہوا اور بہت دور نکل گیا۔ اندھیاری رات، تیز بارش اور قدم قدم پر گہری کھڈیں۔ مگر وہ چلتا رہا اور چلتا رہا۔ اچانک اسے باؤلی لومڑٰ کے چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اس کسمپرسی کی حالت میں نہ پاس لاٹھی تھی، نہ لکڑی۔ توکل کے سر پر چلتا رہا۔ آنکھیں بند کیے، اللہ سے لو لگائے کہ ایک دم باؤلی لومڑی نے پنڈلی پر کاٹ کھایا۔۔۔' 'پھر؟' فہیم نے تڑپ کر پوچھا، 'یار، سنو تو سہی۔۔۔' سلیم نے دوستانہ طور پر کہا، 'خواہ مخواہ بیچ میں اپنی ٹانگ اڑا دیتے ہو' 'ہاں بیٹا تو چپکے رہ کر سنے جا۔ بڑوں کی باتوں کو ٹوکا نہیں کرتے۔۔۔' نانی اماں نے اسے آداب سکھاتے ہوئے کہا۔ 'اچھا پھر نانی اماں؟'سلیم نے پوچھا۔ 'پھر کیا۔۔۔ تمھارے نانا فوج میں صوبیدار رہ چکے تھے۔ لپک کر اسے گردن سے پکڑ لیا۔ کلوں میں انگلیاں ڈال کر جو زور لگایا تو گردن تک چیر کے رکھ دیا۔ پھر ایک جبڑے پر پاؤں رکھ کر تھوتھنی ہاتھ میں پکڑ کر جو ایک جھٹکا دیا تو لومڑی دو حصوں میں چیر کر رکھ دی۔ اندھیرے میں اس کا کلی…

فہیم

باہر بڑے زور کی بارش ہو رہی تھی۔ برساتی نالوں کا شور بڑھ گیا تھا اور سیٹیاں بجاتی ہوئی ہوا چنگھاڑنے لگی تھی۔ بادل شدت سے دھاڑا۔ بجلی کا ایک کوندا تیزی سے لپکا اور پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر چیل کے ایک جھنڈ سے ایسے پٹاخے چھوٹے گویا مشین گن چل گئی ہو۔ پروین نے لحاف اپنے منہ پر کھینچ لیا۔ سلیم اور نعیم جو ایک ہی بستر میں لیٹے ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے، ایک دم خاموش ہو گئے اور شڑاپ شڑاپ کرتی دھاروں کے درمیان عجیب ان ہونی سی چیخیں سننے لگے۔ پھر ایک زور کا دھماکا ہوا اور برستی بوندوں میں بہت سے درخت دھڑام سے گرے۔ 'کیا ہوا باجی؟' فہیم ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔ 'کچھ نہیں، بجلی گری ہے' پروین نے اپنے خوف کو دباتے ہوئے کہا۔ 'بجلی؟ کہاں گری باجی؟' فہیم نے پھر پوچھا۔ 'قریب ہی گری ہے۔۔۔ مگر تم سو رہو یار!' اس دفعہ باجی کے بجائے سلیم نے جواب دیا۔ وہ چپکا ہو کر لیٹ گیا مگر اس کے دل میں خوف ابھی کروٹیں لے رہا تھا۔ بجلی کیوں گرتی ہے؟ کہاں گرتی ہے؟ کیسے گرتی ہے؟ گھروں پر تو نہیں گرتی؟ بہت سے ایسے سوال تھے جن کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ شاید کوئی بتا دے۔ اس کے ننھے سے د…

توبہ

رات چھائی اور شامیانے سے قرات بلند ہوئی۔ دودھ سی چاندنی، اس بے شمار بلب، پھولوں سے لدے، 'دونوں دولہا براتیوں کے درمیان گیندے کے ڈھیر دکھائی دیتے تھے۔ قاضی صاحب سورتوں پر سورتیں پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ میں ابھی اپنی جعفری میں رہا۔ چاند اور بلبوں کی ملی جلی روشنی جعفری میں منعکس تھی۔ نہ بہت اندھیرا تھا نہ چندھیانے والا اجالا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جسے چاند پر سرمئی چادر ڈال کر اس روشنی سے دیواروں پر سفیدی کر دی ہو۔ میں بوٹوں اور کوٹ سمیت چارپائی پر دراز تھا۔ رضائی عرضاً اوڑھ رکھی تھی۔ منہ اور پاؤں ننگے تھے۔





ابھی ایک سگریٹ پیا تھا اور ابھی ایک اور پینے کو جی چاہتا تھا کہ دروازے کے پاس ایک سایہ جھلملایا۔ لیکھا ہی تو تھی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ آہستہ سے اندر داخل ہوئی۔ مجھے لیٹا دیکھ کر گھبرا گئی۔ پھر آگے بڑھی، چارپائی کے قریب آ کر ذرا جھکی اور پھر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ 'دو بھائیوں کا نکاح ہو رہا ہے اور جناب یہاں بوٹ سوٹ پہنے سو رہے ہیں' ہولے سے کھانس کر اس نے منہ ہی منہ میں یہ کہا اور پھر تپائی کی طرف دیکھنے لگی۔ لٹکتے ہوئے دوپٹے کو کندھے پر پھینک کر اس نے سگریٹ کی ڈبیا اور ما…

توبہ

سامنے دیگیں پک رہی تھیں۔ کھانے پکانے کی چیزیں ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں۔ دن کی روشنی میں آگ کی چمک اور لہسن اور پیاز کی کچی پکی خوشبوئیں کچھ اس طرح سے مل گئی تھیں کہ ساری فضا پلاؤ کی ایک بڑی سی رکابی معلوم ہوتی تھی۔ چاولوں کو دم دے رکھا تھا۔ باورچی ٹین کی کرسی پر بیٹھا ہوا پستے کی ہوائیاں کاٹنے لگا۔ اس کے پاس ایک لڑکا کشمکش صاف کر رہا تھا۔ دو اور لڑکی چینی کی رکابیاں گرم پانی میں کھنگال رہے تھے۔ وہ للچائی ہوئی نظروں سے کشمش کو دیکھتے اور حسرت سے اس لڑکو جو ہر دوسرے منٹ کے بعد دس پندرہ دانے میں ڈال لیتا اور پھر انہیں اس پھرتی سے چباتا کہ دیکھنے والوں کو پتہ نہ چل سکے۔ اس نے اپنے سر کو دونوں گھٹنوں میں دبا رکھا تھا۔ باورچی نے پستے کی تھالی زمین پر رکھ دی اور ٹین کی کرسی کی پشت پر پل پڑا۔ وہ ذرا سی دیر کے لیے کسمسائی، چرچرائی اور پھر خاموش ہو گئی۔ 'اس دفعہ مسلم لیگ جیتے گی' اس نے پھندنا پکڑ کر ٹوپی اپنے سر سے کھینچی اور اسے انگلی پر گھمانے لگا، 'کیا نام ہے لیگ کا سب سے بڑا افسر آیا تھا۔ ہماری تو ساری کی ساری برادری کیا نام ادھر وہ دے گی۔ اپنے باپ دادا تو سالے ساری عمر بکتے ہی…

توبہ

ساتھ والے کمرے کی دو کھڑکیاں جعفری میں کھلتی تھیں۔ یہاں دونوں دلہنیں مانجھے بیٹھی تھیں۔ کبھی کبھار ہلکی سی کھسر پھسر یا دبی دبی ہنسی کی آواز اس کمرے سے بلند ہوتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔ میری پائنتی کی طرف میز پر ایک گرامون اور ایک ایمپلی فائر پڑا تھا۔ یہاں سے دو تاریں باہر بانس سے بندھے ہوئے بھونپو کو جاتی تھیں اور سرہانے کی طرف ایک تپائی تھی۔ اس پر ایک پھٹا ہوا رسالہ اور اون کا دو تین گز لمبا الجھا تاگا پڑا تھا۔ تپائی پر سیاہی، جمے ہوئے دودھ اور اکھڑے ہوئے پالش کے نشان تھے۔ دیوار پر تین سال پرانا اصغر علی محمد علی کے سو برس کے راز والا کلینڈر لٹک رہا تھا۔ چارپائی کے نیچے ان گنت پرانے پرانے بوٹ، سلیپر، سینڈل اور پوٹھوہاری جوتے پڑے تھے اور فرش پر گرد کے علاوہ سرخ سرخ بجری کے چھوٹے چھوٹے ذرات جو جوتوں کے ساتھ اندر چلے آتے تھے، غالیچے کی طرح بچھے ہوئے تھے۔ یہ جگہ اچھا خاصا کمرہ ہی تو تھی۔ پھر یہاں بیٹھ کر ہر کوئی ادھر ادھر کی ہر چیز کا جائزہ اچھی طرح سے لے سکتا تھا۔


جب برات شامیانے میں داخل ہوئی تو ہر کوئی نظارہ کرنے دوڑ کر برآمدے میں آ گیا۔ ہم سب نے اچھے اچھے کپڑے پہنے تھے اور گلے می…