نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فہیم


2/2
'ایسی ہی سرد رات تھی' نانی اماں نے کہنا شروع کیا، 'جب تمھارا نانا گھر سے نکل کھڑا ہوا اور بہت دور نکل گیا۔ اندھیاری رات، تیز بارش اور قدم قدم پر گہری کھڈیں۔ مگر وہ چلتا رہا اور چلتا رہا۔ اچانک اسے باؤلی لومڑٰ کے چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اس کسمپرسی کی حالت میں نہ پاس لاٹھی تھی، نہ لکڑی۔ توکل کے سر پر چلتا رہا۔ آنکھیں بند کیے، اللہ سے لو لگائے کہ ایک دم باؤلی لومڑی نے پنڈلی پر کاٹ کھایا۔۔۔'
'پھر؟' فہیم نے تڑپ کر پوچھا،
'یار، سنو تو سہی۔۔۔' سلیم نے دوستانہ طور پر کہا، 'خواہ مخواہ بیچ میں اپنی ٹانگ اڑا دیتے ہو'
'ہاں بیٹا تو چپکے رہ کر سنے جا۔ بڑوں کی باتوں کو ٹوکا نہیں کرتے۔۔۔' نانی اماں نے اسے آداب سکھاتے ہوئے کہا۔
'اچھا پھر نانی اماں؟'سلیم نے پوچھا۔
'پھر کیا۔۔۔ تمھارے نانا فوج میں صوبیدار رہ چکے تھے۔ لپک کر اسے گردن سے پکڑ لیا۔ کلوں میں انگلیاں ڈال کر جو زور لگایا تو گردن تک چیر کے رکھ دیا۔ پھر ایک جبڑے پر پاؤں رکھ کر تھوتھنی ہاتھ میں پکڑ کر جو ایک جھٹکا دیا تو لومڑی دو حصوں میں چیر کر رکھ دی۔ اندھیرے میں اس کا کلیجہ نکال کر چبا گئے۔'
'کیوں؟' نعیم نے پوچھا۔
'باؤلی لومڑی کاٹ کھائے تو اس کا علاج یہی ہے کہ اس کا کلیجہ کھا جاؤ۔'
'کچا ہی کھا لیا؟' فہیم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،
'ہاں یار، کچا ہی۔۔۔' سلیم نے ترش رو ہو کر جواب دیا، 'میں پوچھتا ہوں تم سوتے کیوں نہیں؟' وہ پھر چپکا ہو گیا تو سلیم نے نعیم سے ملتجیانہ لہجے میں کہا، 'یار، اب تو اٹھا لے اپنا زانو، میری تو ٹانگ بھی جھنانے لگی ہے۔'
'لے بابا لے۔۔۔ بس؟' نعیم نے پوچھا،
'ہاں۔۔۔ بس۔۔۔ مہربانی!'
نانی اماں لومڑیاں یہاں بھی ہوتی ہیں؟' پروین نے خوفزدہ ہو کر پوچھا۔
'نہیں بیٹی! یہاں نہیں ہوتیں۔ یہاں تو صرف بندر ہوتے ہیں' نانی اماں نے تسلی آمیز لہجہ میں جواب دیا۔
'بندر تو ہوتے ہیں پر۔۔۔ اچھا۔۔۔' پروین نے خود ہی فقرہ بیچ میں چھوڑ دیا۔
'پر کیا باجی؟' فہیم نے ہولے سے پوچھا۔
'کچھ نہیں۔' پروین نے جواب دیا۔
'یہ حضرت جی آج نہیں سوئیں گے' نعیم نے طنز کیا۔ فہیم چپکا ہو رہا اور نسرین کو پرے دھکیل کر پہلو کے بل لیٹ گیا۔



'جب تمھارے نانا باہر سے آتے تو کوئی تحفہ ضرور لاتے' نانی اماں کو اچانک پھر خیال آیا، 'کبھی کسی فقیر کو ساتھ لے آتے۔ کبھی کوئی خوبصورت کتا اٹھائے چلے آتے۔ کبھی کسی غریب عورت کو بال بچوں سمیت گھر میں بٹھایا کہ ان کی خدمت کرو۔ میں کما کر لاؤں گا۔ پھر جب تک دعوت رہتی، نوکری ضرور کرتے۔ اس کے بچوں کے لیے کپڑے بنواتے، انہیں پڑھواتے اور جب کوئی اور وسیلہ اپنے سے بہتر ان کے لیے دیکھتے، انہیں وہاں جانے کی تلقین کرتے۔ کشمیر سے ڈھائی تین سو روپیہ کما کر لائے اور راستہ میں ایک گائے خرید لی۔ من موہنی، رنگ برنگی، ننھے ننھے سینگوں والی۔۔۔'
'جیسی کراچی والی خالہ کے پاس ہے؟' فہیم نے خوش ہو کر پوچھا۔
'بھئی فہیم، بات تو سننے دو، یہ کیا بدتمیزی ہے؟' پروین نے جل کر کہا۔
'ہاں ویسی ہی بلکہ اس سے بھی خوبصورت۔۔۔ آتے ہی زنانہ کروایا اور کھونٹے گڑوانے لگے۔ جب گائے بندھ چکی تو ہم سب دیکھنے آئے۔ سنہری جسم کی، اس پر سفید دھبے۔ تمھارا ماموں نذر اس وقت چھوٹ ہی تھا۔ خوش ہو کر بولا، جب مرے گی میں اس کی کھال سے اتنی ساری جوتیاں بنواؤں گا۔ ہنس کر کہنے لگے، دیکھ لو جی اپنے بیٹے کے ڈھنگ، ہماری گائے کی موت کی دعا مانگ رہا ہے۔'
'نانی اماں' فہیم نے اٹک کر پوچھا، 'کتے کے چمڑے سے بوٹ نہیں بنتے؟' اسے جون صاحب کا کتا یاد آ گیا جو کل مرا تھا اور جسے انہوں نے 'بمعہ' کھال کھڈ میں پھینک دیا تھا۔
'یار جنگی! کل فیمو کا بوریا بستر یہاں سے اٹھواؤ' سلیم نے تنک کر کہا۔ فہیم سہم گیا اور اپنی دونوں ٹانگوں کو کھینچ کر پیٹ سے لگا لیا۔
'وہ اتنا عرصہ سرکاری نوکر بھی رہے، تجارت بھی کی۔ دوسری ملازمتیں بھی کیں مگر سوائے فوج کے کبھی بوٹ نہ پہنے۔ میری خواہش تھی کہ وہ بھی دوسرے بھائیوں کی طرح ٹھپ ٹھپ کرتے چلیں۔ آخر کون سی کمی تھی ان میں، مگر وہ نہیں مانے۔ یہی کہتے رہے، بوٹ پہن کر آدمی مغرور ہو جاتا ہے۔ اس کی اونچائی اور آواز انسان کے دل میں تکبر پیدا کر دیتی ہے۔ میں اور سارے کام کرنے کو تیار ہوں، پر بوٹ نہیں پہنوں گا۔۔۔'
فہیم نے سپرنگ دار پلنگ سے لٹک کر اپنے بوٹوں کو نانی اماں کی چارپائی کے نیچے دور دھکیل دیا۔
'اور اس گائے کا کیا بنا نانی اماں؟' پروین نے پوچھا۔
'بننا کیا تھا۔ کاغذ کی مورت سے گھر سجا کر رکھ دیا۔ میں بالٹی لے کر دوہنے لگی تو لات مار کر دور ہٹ گئی۔ بھوکی سمجھ کر چارہ ڈالا۔ وہ اس کے کھانے میں مشغول ہوئی اور میں نے موقع جان کر اسے دوہنا شروع کیا۔ لاکھ تھن دہاتی، پانی لگاتی مگر وہ بند نلکے کی طرح سوں کر کے وہیں رہ جاتے۔ شام کو آئے تو میں نے پوچھا خریدتے وقت دوھ کر نہیں دیکھی تھی۔ منہ ڈھیلا کر کے کہنے لگے۔ دودھ کے لیے تھوڑی خریدی ہے۔ خوبصورتی کے لیے سودا کیا ہے۔ میں خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو رہی۔ انہیں کون سمجھاتا۔۔۔ جب وہ اگلے دورے پر گھر سے نکلے تو میں نے اسے بیس روپیہ میں بیچ دیا۔'
'دوئے صفر بیس' فہیم نے آہستہ سے کہا مگر اب کے کوئی نہیں بولا، شاید کسی نے سنا نہیں۔
'ادھر وہ گھر سے نکلتے، ادھر بابو بھائی روپیہ کے بتیس لفافے لے آتے۔ جس کسی نے پتہ دیا، ادھر ایک لفافہ لکھ دیا اور جب تک جواب نہ آتا ایسے ہی کرتے رہتے اور وہ بھی ایسے تھے، اب انہیں کس منہ سے کوسوں کہ جواب تک نہ دیتے تھے۔ بابو بھائی جب بھی ان سے آنے کی درخواست کرتے، وہی یہی عذر لکھ بھیجتے کیسے آؤں؟ کیونکر آؤں؟ میں بابو بھائی سے ہمیشہ یہی کہتی لکھ دو کہ کیا پاؤں میں مہندی لگی ہے جو آ نہیں سکتے یا ہیجڑے راہ مارتے ہیں؟ اور جب بابو بھائی انہیں یہ لکھتے کہ یہ بھابھی نے لکھوایا ہے تو آنے کی تیاری شروع کر دیتے، گو آ نہ سکتے۔۔۔'
'آ کیوں نہ سکتے نانی اماں؟' فہیم نے پھر پوچھا،



'بابا تمھیں سمجھ تو ہے نہیں، خواہ مخواہ باتیں سن رہے ہو' نعیم نے تنگ آ کر کہا، 'بھلا کس کی باتیں ہو رہی ہیں؟ کچھ خبر بھی ہے یا یونہی رت جگا منائے جاتے ہو؟' جب نانی اماں نے بھی یہ کہا، 'بیٹا تم سو جاؤ، مفت میں نیند خراب کرتے ہو، نہ کچھ تمھارے پلے پڑتا ہے نہ ہمیں بات کرنے دیتے ہو' تو فہیم خاموش ہو گیا۔ اس کے ننھے سے دل کی جھیل میں ہر بات کنکر کی طرح گرتی۔ لہریں پیدا ہوتیں اور پھر بڑھتی جاتیں۔ اتنی دور تک اس کا دل ان حلقوں میں پھنس جاتا، اس بری طرح سے کہ نکالے نکل نہ سکتا۔
'۔۔۔پپ کتا سب سے عزیز تھا اور سچی بات یہی ہے کہ وہ تھا بھی بہت سمجھدار۔ ایک بار ہمارے پڑوس میں چوروں نے سیندھ لگائی اور وہ صندوق اٹھا کر لے گئے۔ پپ چھت کی منڈیر پر کھڑا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جب وہ جانے لگے تو ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ تلار کے جنگل میں جا کر انہوں نے دونوں صندوقوں کو دبا دیا۔ پپ سب کچھ دیکھتا رہا۔ جب وہ چلے گئے تو سیدھا گھر پہنچا اور تمھارے نانا کی چادر پکڑ کر کھینچنے لگا۔ وہ نیند میں تھے، پپ کے زور کا تھپڑ مارا۔۔۔'
'تھپڑ کیوں مارا؟' فہیم نے بالآخر عادت سے مجبور، پوچھ ہی لیا۔
'یار حد ہو گئی' سلیم نے کہا 'کس نے مارا بھلا تھپڑ، پپ کیا ہوتا ہے بھلا؟'
سلیم کو درشتی سے مخاطب دیکھ کر فہیم دبک گیا۔
'وہ چونک کر اتنی دور جا کھڑا ہوا' نانی اماں نے پھر شروع کیا، 'اور ٹوکنے لگا، میں نے انھیں اٹھایا کہ کوئی خاص بات ہے جو چلا رہا ہے۔ وہ اٹھ کر باہر گئے تو گوراندتہ سر پیٹ رہا تھا اور سیندھ لگی دیوار سے چاند کی روشنی اندر جا رہی تھی۔ پپ اب بھی ان کے ساتھ چوئیں چوئیں کرتا بار بار دروازے کی طرف جاتا تھا۔ جب اس کی بے چینی حد سے بڑھ گئی تو تمھارے نانا اس کے ساتھ چلے۔ ان کے ہمراہ گوراندتہ اور گاؤں کے دو تین دوسرے لٹھ بند جوان بھی۔ پپ تلار کے جنگل میں اسی جگہ جا کر زمین کھودنے لگا۔ صندوق برآمد ہو گئے۔ گوراندتہ پھولا نہ سمایا۔ سو روپے تمھارے نانا کو دیے کہ یہ پپ کے دودھ کے لیے ہیں مگر انہوں نے نہ لیے۔۔۔'
'لیے کیوں نہ؟' فہیم سے پھر نہ رہا گیا۔
'بس ایسے ہی' نانی اماں نے جواب دیا۔
'بس نہ لیے سو روپے۔۔۔' نعیم نے فہیم سے کہا۔
'سو روپیہ بھلا کتنا ہوتا ہے؟' پروین بھی چہکی اور فہیم ان کے فضول سوالوں سے تنگ آ کر چپ سادھ گیا۔
'سلیم سو گیا؟' نانی اماں نے پوچھا۔
'ہاں' نعیم نے جواب دیا اور اپنی ٹانگ اس کے پیٹ پر رکھ دی۔
بجلی زور سے چمکی اور سب سے اونچی چوٹی پر چیل کے درخت روشن دانوں کے شیشوں میں منعکس ہوئے۔ جب بجلی چمکتی تو بہت دیر بعد بادل کے گرجنے کی آواز سنائی دیتی۔ بجلی کی روشنی بالکل سفید نہ تھی، نیلگوں سفید تھی جس کے حاشیہ پر قرمزی رنگ جھلکتا اور دونوں سروں پر سمرئی گرد سی اڑتی دکھائی دیتی۔ جب وہ چمک جاتی تو فضا میں دیر تک پیلی سی لہر یا لکیر کانپتی رہتی جس کے چاروں طرف نیلے اور سرخ دھبے سے ناچنے لگتے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ سبز ہو جاتی۔ گہری سبز زمرد کی طرح اور اس رنگ سے زہریلے اور کڑوے سوتے پھوٹتے ہوئے دکھائی دیتے جو ساری فضا کو کسلمند بنا دیتے۔ ایسے لگتا جیسے ساری فضا تلخ ہو گئی ہے اور وہ سب ٹیڑھی میڑھی لکیر کلر کے مردہ سانپ کی طرح زہر اگل رہی ہے۔ بجلی پھر چمکی اور پہلی سبز مردہ لکیر میں جان پڑ گئی۔ اس کا رنگ پھر زرد ہو گیا۔ سرخ اور نیلے دھبے ایک بار پھر اس کے گرد گھومنے لگے۔ رفتہ رفتہ وہ دونوں مخنی خطوط زرد سے سبز ہو کر نیل ملے گلابی ہو گئے۔ ان کے کونے نسواری رنگ اختیار کر گئے اور درمیانی جگہ فالفئی رنگ کی ہو کر دور دور پھیلے ہوئے اندھیرے کی جانب بڑھنے لگی۔ بجلی کی لاش اندھیارے کے چیونٹے گھسیٹے لیے جا رہے تھے۔ کمرے کے اندر کوئلوں پر سفید تہیں بہت دبیز ہو چکی تھیں اور جھنجری کے لیے نیچے کافی راکھ گر چکی تھی۔ کوئلوں کی حدت کمرے میں بڑھتی ہوئی سردی کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھی۔ اندر ہر چیز خاموش تھی مگر باہر بارش کا شور پھر سے بڑھ گیا۔



'ایک ایسی سرد رات پپ بھیگ کر مرا ہو گا' نانی اماں نے پھر کہنا شروع کیا۔
'میں تو گاؤں میں تھی اور تمھارے نانا لورالائی میں پھر نائب تحصیلدار ہو کر آن لگے۔ پپ کو اپنے ساتھ ہی لے گئے تھے، کتے رکھنے کا شوق ضرور تھا مگر ان کی دیکھ بھال نہ کر سکتے تھے۔ سب کام نوکروں پر چھوڑ رکھا تھا۔ ایک ایسی ہی سرد رات غلطی سے پپ باہر رہ گیا، شب بھر مہاوٹ پڑتے رہے۔ بہتیرا چیخا چلایا، دروازوں کو کاٹتا کھرونچا رہا مگر شور میں کسی کو آواز سنائی نہ دی۔ دوسرے سب دروازے بند تھے، صبح جب باورچی دودھ لانے باہر نکلا تو پپ دروازے کی دہلیز پر سر رکھے سو رہا تھا۔ باورچی نے پچکارا مگر وہ خاموش رہا۔ اس نے دودھ کا برتن ایک طرف رکھ کر اس کا سر جو اٹھایا تو وہ اکڑا ہوا تھا۔ کوئی دلاسا یا پچکار یا پپ پپ کی رٹ اس کی آنکھیں نہ کھول سکی۔۔۔ اچانک ہمیں تار ملا کہ نائب تحصیلدار صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ جلد پہنچو، ہم نے تھوڑا سا اسباب درست کیا۔ میاں جی کہنے لگے۔ اس کچر گھان کو کہاں اٹھائے پھرو گے۔ یہیں چھوڑ جاؤ۔ سب سے چھوٹٰ بچی ساتھ لیے چلتے ہیں۔ وہ تمھاری امی تھیں۔ ان کے نوکر ہونے سے پورا ایک مہینہ بعد پیدا ہوئی تھی۔ جب ہم سوار ہوئے تو سب نے تسلی دی اور یہی کہا کہ اب انہیں ساتھ لیتے آنا۔ میری بھی یہی مرضی تھی۔ راستہ بھر میری بوڑھی ساس خدا سے منتیں مانگتی گئی۔ وہ گاڑی میں ہر نئی سوار ہونے والی عورت کے پاس جاتی اور اپنے بیٹے کی صحت اور سلامتی کی دعا کے لیے درخواست کرتی۔۔۔۔ تمھاری امی نے راستہ میں ہمیں بہت تنگ کیا۔ سرد ہوا لگی تو چھینک چھینک کر بے حال ہو گئی اور ہمیں بھی پریشان کر دیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ڈاکٹر دوائی دے کر نکلا تھا۔ میں نے باورچی سے پوچھا کہ بخار کیسے آیا تو وہ رونے لگا اور پپ کے مرنے کی داستان سنائی، جس کا اثر تمھارے نانا کے دل پر بہت گہرا ہوا تھا۔ 'جب وہ کھانا کھانے بیٹھتے' باورچی نے بتلایا، 'تو پپ پاس آ کر کھڑا ہو جاتا اور وہ روٹی کے کچلوندے توڑ توڑ کر اس کے آگے پھینکتے رہتے۔ جس دن پپ مرا اور وہ کھانا کھانا بیٹھے تو دیر تک انتظار کرتے رہے مگر وہ دم ہلاتا ان کے پاس نہ آیا۔ حالانکہ وہ خود ہی اسے دفن کر کے آئے تھے۔ روٹی زہر مار کر جو اٹھے تو زمین پر کچلوندوں کا ڈھیر دیکھ کر بے اختیار رونے لگے۔ اس رات بھی بارش اسی شدت سے ہوئی۔ چند گھنٹے ژالہ باری بھی ہوتی رہی تھی۔ موسم اس قدر خنک تھا کہ رضائی سے دم بھر کو منہ باہر نہ نکلتا تھا مگر تحصیلدار صاحب ساری رات صحن میں گھومتے رہے اور اونچی آواز میں فارسی کے شعر پڑھتے رہے۔ میں نے باورچی خانہ کی کھڑکی میں سے دیکھا۔ ان کے کپڑے بھیگ کر جسم سے چپک گئے تھے۔ ڈاڑھی پر پانی کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور سر کے بالوں سے چھوٹے چھوٹۓ چشمے جاری تھے۔ دوسرے دن آپ بیمار ہو گئے اور میں نے تار دے دیا۔' یہ کہہ کر باورچی پھر سے رونے لگا۔ میں وہاں سے آںسو پونچھ کر ان کے کمرے میں چلی آئی۔ میرے سسر ذرا باہر گئے تھے اور ساس چائے بنانے باورچی خانے جا رہی تھی۔ جب میں ان کے کمرے میں پہنچی تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے، 'یہ بھی اچھا ہوا، تم لوگ یہاں آ پہنچے۔۔۔' پھر تمھاری امی کی طرف اشارہ کر کے بولے، 'یہ رشیدہ ہے؟ اسے میرے پاس لاؤ۔ مجھے اس کی شکل تو دکھاؤ' اور جب میں اسے قریب لے گئی تو بولے، 'لاؤ! لاؤ! اسے میرے سینے پر لٹا دو' مگر میں نے اس ڈر سے کہ مبادا کوئی متعدی مرض میری بچی کو چمٹ جائے، روتے روتے سر ہلا کر انکار کر دیا۔ 'اچھا تمھاری مرضی! تمھاری مرضی! میرا دل اس کو چومنے کو چاہتا تھا۔۔۔ خیر خیر!' وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کرنے لگے تو مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں کمرے سے باہر نکل آئی۔ آدھی رات کو جب ان کے کمرے میں میں تمھاری امی کو دودھ پلا رہی تھی تو میاں جی نے لرزتی اور رندھی ہوئی آواز میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ میں چیخ مار کر اٹھی اور تمھاری امی بھی دودھ کے اس طرح ایک دم چھٹ جانے سے چلانے لگی۔ دوسرے دن جب ہم وہاں سے چلے تو صوبیدار کریم داد خاں نے۔۔۔'
'ہیں نعیم! صوبیدار کریم داد خاں نے۔۔۔ نعیم! نعیم!!'
مگر نعیم اور سلیم کے خراٹے دو زنگ لگی آریوں کی طرح آپس میں رگڑ کھا رہے تھے۔
'پروین! پروین!' نانی اماں نے اسے پکارا، 'سبھی سو گئے! میں یونہی دیوانوں کی طرح بولتی چلی گئی!' انہوں نے رضائی اپنے منہ پر کھینچ کر زور کی جمائی لی اور سدا رہے نام اللہ کا کہہ کر خاموش ہو گئیں۔
فہیم ان کے سرہانے بیٹھا، پھسک پھسک کر روئے جا رہا تھا۔
ختم شد



اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

میرا اللہ کہاں ہے؟

مجھ میں یہ کمی ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا۔ ایسی دھوپ نہیں ملتی۔ ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار ہو اور کچھ نہ کچھ اس سے بھی بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر میرا ذکر شروع کرو۔ لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے، پہلو کے بل۔ یعنی یہ بھی اجازت دی کہ جس طرح سے چاہو مرضی کرو۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے ہی، لیکن میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں تو پھر آپ کو ایک آواز سے، ایک وائبریشن سے، جسے بدن کا ارتعاش کہتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں، لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس طرف جا ہی نہیں سکتے اور اللہ نے چاہا تو جوں جوں وقت آگے بڑھتا جائے گا، ہمارے اندر شعور کی لہریں اور بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ ہم پہنچیں گے ضرور، جس طرح سے "کے ٹو" کی برفوں سے بہنے والا ایک چھوٹا سا نالہ دھکے کھاتا ہوا، جغرافیہ جانے بغیر، نقشہ لیے بغیر سمندر کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ایک دن سمندر میں …

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15