نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

توبہ


ساتھ والے کمرے کی دو کھڑکیاں جعفری میں کھلتی تھیں۔ یہاں دونوں دلہنیں مانجھے بیٹھی تھیں۔ کبھی کبھار ہلکی سی کھسر پھسر یا دبی دبی ہنسی کی آواز اس کمرے سے بلند ہوتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔ میری پائنتی کی طرف میز پر ایک گرامون اور ایک ایمپلی فائر پڑا تھا۔ یہاں سے دو تاریں باہر بانس سے بندھے ہوئے بھونپو کو جاتی تھیں اور سرہانے کی طرف ایک تپائی تھی۔ اس پر ایک پھٹا ہوا رسالہ اور اون کا دو تین گز لمبا الجھا تاگا پڑا تھا۔
تپائی پر سیاہی، جمے ہوئے دودھ اور اکھڑے ہوئے پالش کے نشان تھے۔ دیوار پر تین سال پرانا اصغر علی محمد علی کے سو برس کے راز والا کلینڈر لٹک رہا تھا۔ چارپائی کے نیچے ان گنت پرانے پرانے بوٹ، سلیپر، سینڈل اور پوٹھوہاری جوتے پڑے تھے اور فرش پر گرد کے علاوہ سرخ سرخ بجری کے چھوٹے چھوٹے ذرات جو جوتوں کے ساتھ اندر چلے آتے تھے، غالیچے کی طرح بچھے ہوئے تھے۔ یہ جگہ اچھا خاصا کمرہ ہی تو تھی۔ پھر یہاں بیٹھ کر ہر کوئی ادھر ادھر کی ہر چیز کا جائزہ اچھی طرح سے لے سکتا تھا۔



جب برات شامیانے میں داخل ہوئی تو ہر کوئی نظارہ کرنے دوڑ کر برآمدے میں آ گیا۔ ہم سب نے اچھے اچھے کپڑے پہنے تھے اور گلے میں گیندے کے پھولوں کے ہار ڈال رکھے تھے۔ لیکھا برآمدے میں ننگے پاؤں کھڑی تھی۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی۔ میں نے ہار گلے سے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔ اس پر وہ ہنسنے لگی اور میں نے گھبرا کر اپنا ہار ساجی کے گلے میں ڈال دیا۔ شہ بالا کے جتنے بھی ہار ہوں، کم ہے۔ میں لیکھا سے بہت پہلے کا واقف ہوں۔ جب وہ آٹھویں میں تھی۔ نویں میں ہوئی۔ دسویں پاس کر لی اور جب وہ کالج میں داخل ہونے کے لیے روتی رہی۔ وہ دلہنوں کی سہیلی تھی۔ میں گئی چھٹیوں میں خالہ کے ہاں آٰا کرتا تھا۔ یہیں سے میں اسے جاننے لگا تھا۔ اس کا قد لمبا تھا۔ رنگ سانولا۔ ناک بہت ستواں اور نیم باز لمبی لمبی پلکیں بند ہوتی ہوئی چھوئی موئی کی طرح اتنی پیاری کہ چھو لینے کو جی چاہتا۔ لال قلعہ دہلی کے عجائب گھر میں عین اسی کی شکل کی ایک عرب لڑکی کی تصویر ہے۔ پر دور کیوں جائیے۔ آپ نے کوئی لیکھا نہیں دیکھی۔ لمبے قد کی خوبصورت آںکھوں والی جس کے سر پر ہمیشہ سفید نیناؤں کا منقشین دوپٹہ ہو۔ بس وہی تو ہے لیکھا۔ میری لیکھاً اس میں جب بھی دیکھا، ننگے پاؤں دیکھا۔ جب وہ چلتی تو یوں معلوم ہوتا کہ زمین اس کے ننگے پاؤں چوم رہی ہو اور جب وہ زمین کے سینہ سے چمٹ جاتے تو ایسا لگتا کہ اب نہ اٹھ سکیں گے۔ مگر وہ انہیں ایسے جھٹکے سے اٹحاتی کہ اس کی کمر میں ایک لہر سی پیدا ہو جاتی اور وہ ناچتی ہوئی محسوس ہوتی۔ اس کی چال ایک رقص تھی، ایک ناتمام رقص جو ابھی شروع نہ ہوا ہو مگر جسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ سانچے میں ڈھلے ہوئے پاؤں بیقرار مچھلیوں کی طرح ادھر ادھر تڑپتے رہتے اور ان ساٹن کی شلوار کے بھاری پائنچے بھنور کی طرح گھوما کرتے۔
میں جعفری میں بیٹھا ہوا ممتاز کو خط لکھ رہا تھا۔ تھانیدار صاحب کی وردی کھونٹی پر لٹک رہی تھی اور ان کی پیٹی کا وسل اپنے اڈے سے نکل کر میرے سر پر معماروں کے ساہول کی طرح جھوم رہا تھا۔ پرلے کونے میں گرامون پڑا تھا۔ لاؤڈ سپیکر کا مستری کبھی اندر آتا اور کبھی باہر بھونپو کے پاس جاتا۔ پھر اندر آ کر پیچ کش سے پاس پڑے ہوئے آلے میں کچھ ترمیم شروع کر دیتا۔بھونپو کی آواز ٹھیک نہ تھی۔ بیچارہ مستری صبح سے پنجرے کے شیر کی طرح ادھر ادھر حرکت کر رہا تھا۔ تھک کر اس نے پیچ کش پتلون کی جیب میں ڈال لیا اور ساؤنڈ بکس اٹھا کر پھر ریکارڈ کی شروع کی لکیروں پر رکھ دیا۔ کوٹ سے رومال نکال کر ماتھے پر پھیرا اور آرام کرسی میں لیٹ گیا۔ اچھانک پھر اچھلا اور باہر بھونپو کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اس طرح کے ڈیڑھ دو سو پھیرے مار چکا تھا۔ میل بھر کی مسافت طے کر لی ہو گی۔ میں نے دیکھا وہ بھونپو کے پیچ کھول یا کس رہا تھا۔ میں پھر خط لکھنے لگا۔ وسل اسی حالت میں جھوم رہا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اگر میں نے اسے دیکھا تو وہ بجنا شروع کر دے گا۔
برآمدے کے آخری سرے پر بچے کھیل رہے تھے۔ دو قطاریں تھیں زرق برق لباس تھے اور ننھے ننھے گیت۔ جب وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے رنگ برنگی پریاں جادو بھرے گانے گاتی جھلملاتے ہوئے چراغ لیے پھرتی ہیں۔ لڑکیوں کے بالوں میں ربن بندھے تھے اور آنکھوں میں سرمہ تھا۔ لڑکوں کی جیبوں میں کھانے پینے کی چیزیں ٹھنسی ہوئی تھیں اور ہاتھوں میں ننھی ننھی چھڑیاں تھیں۔ وہ 'ہم ٹھنڈی موسم سے آئے ہیں' کھیل رہے تھے۔ جب ان کا ہنگامہ بہت بڑھ گیا تو بیٹھک کے دروازے سے لیکھا نکلی، ننگے پاؤں اور مجھے جعفری میں بیٹھا ہوا دیکھ کر کھسکتی کھسکتی جعفری سے آ لگی۔ میں نے خط لکھنا بند کر دیا۔ لمحہ بھر کے لیے اسے دیکھ کر میں بچوں کا تماشا کرنے لگا۔ ساجی کی باری تھی۔ وہ ایک قدم آگے بڑھا اور جھوم جھوم کر گانے لگا۔ 'ہم ٹھنڈی کے موسم سے آئے ہیں' اور پھر ساری قطار کا جائزہ لے کر اس نے لیکھا کی چھوٹی بہن کی کلائی پکڑ لی اور کہا، 'ہم اس کو لینے آئے ہیں' اور اپنی قطار کی طرف لے چلا۔ مخالفوں نے شور مچایا کہ 'اس کو' نہیں نام لو۔ ساجی پریشان ہو کر ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔ اس کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ بڑی بھاری کامیابی ایک منٹ میں ذلیل ترین شکست بن گئی۔ وہ گھبرا سا گیا۔ میں نے میز پر پنسل بجا کر لیکھا کو اپنی طرف متوجہ کیا جو کھڑکی سے کمر لگائے انھیں دیکھنے میں حد درجہ مشغول تھی۔ وہ مڑی اور مسکرانے لگی۔



'اس کا نام کیا ہے؟' میں نے پوچھا۔ 'روپا' وہ پھر مسکرائی اور جھک کر اپنی پنڈلی پر پڑی ہوئی ساٹن کی شلوار کھجانے لگی۔ میں جعفری کی دیوار کے پاس آیا۔ سوراخ کے پاس منہ کر کے زور سے بولا، 'ساجی! ساجی! ہم روپا کو لینے آئے ہیں، ہم روپا کو۔۔۔'
اور پھر ایک دم میں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میں کہہ رہا ہوں۔۔۔۔ 'ہم لیکھا کو لینے آئے ہیں'۔ مجھے طرح دیکھ کر وہ ایک دفعہ پھر مسکرائی۔ بچے شور مچانے لگے۔ 'ہم نہیں کھیلتے، ہم نہیں کھیلتے' اور ایک غدر مچ گیا۔ میں اور لیکھا ہنسنے لگے۔ مستری پیچ کش لے کر گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا اور 'آئی سی۔ آئی سی' کہتا ہوا پھر ایمپلی فائر پر ٹوٹ پڑا۔ لیکھا نے قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا اور واپس چلی گئی ننگے پاؤں، اور میں لٹکتے ہوئے وسل کو تکنے لگا۔
-جاری ہے-
اگلا صفحہ ||||||||||||||||||||||||| پچھلا صفحہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

میرا اللہ کہاں ہے؟

مجھ میں یہ کمی ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا۔ ایسی دھوپ نہیں ملتی۔ ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار ہو اور کچھ نہ کچھ اس سے بھی بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر میرا ذکر شروع کرو۔ لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے، پہلو کے بل۔ یعنی یہ بھی اجازت دی کہ جس طرح سے چاہو مرضی کرو۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے ہی، لیکن میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں تو پھر آپ کو ایک آواز سے، ایک وائبریشن سے، جسے بدن کا ارتعاش کہتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں، لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس طرف جا ہی نہیں سکتے اور اللہ نے چاہا تو جوں جوں وقت آگے بڑھتا جائے گا، ہمارے اندر شعور کی لہریں اور بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ ہم پہنچیں گے ضرور، جس طرح سے "کے ٹو" کی برفوں سے بہنے والا ایک چھوٹا سا نالہ دھکے کھاتا ہوا، جغرافیہ جانے بغیر، نقشہ لیے بغیر سمندر کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ایک دن سمندر میں …

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15