نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

توبہ


سامنے دیگیں پک رہی تھیں۔ کھانے پکانے کی چیزیں ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں۔ دن کی روشنی میں آگ کی چمک اور لہسن اور پیاز کی کچی پکی خوشبوئیں کچھ اس طرح سے مل گئی تھیں کہ ساری فضا پلاؤ کی ایک بڑی سی رکابی معلوم ہوتی تھی۔ چاولوں کو دم دے رکھا تھا۔ باورچی ٹین کی کرسی پر بیٹھا ہوا پستے کی ہوائیاں کاٹنے لگا۔ اس کے پاس ایک لڑکا کشمکش صاف کر رہا تھا۔ دو اور لڑکی چینی کی رکابیاں گرم پانی میں کھنگال رہے تھے۔ وہ للچائی ہوئی نظروں سے کشمش کو دیکھتے اور حسرت سے اس لڑکو جو ہر دوسرے منٹ کے بعد دس پندرہ دانے میں ڈال لیتا اور پھر انہیں اس پھرتی سے چباتا کہ دیکھنے والوں کو پتہ نہ چل سکے۔ اس نے اپنے سر کو دونوں گھٹنوں میں دبا رکھا تھا۔ باورچی نے پستے کی تھالی زمین پر رکھ دی اور ٹین کی کرسی کی پشت پر پل پڑا۔ وہ ذرا سی دیر کے لیے کسمسائی، چرچرائی اور پھر خاموش ہو گئی۔ 'اس دفعہ مسلم لیگ جیتے گی' اس نے پھندنا پکڑ کر ٹوپی اپنے سر سے کھینچی اور اسے انگلی پر گھمانے لگا، 'کیا نام ہے لیگ کا سب سے بڑا افسر آیا تھا۔ ہماری تو ساری کی ساری برادری کیا نام ادھر وہ دے گی۔ اپنے باپ دادا تو سالے ساری عمر بکتے ہی رہے ہیں۔ پر ہم سے تو وہ نہیں ہو سکتا کہ اتنے رتبہ کے آدمی وہ نہ مانیں اور دوڑ پلی لے کر بھگت جائیں ادھرے''' اور پھر وہ ٹوپی کو انگلی پر گھماتے گھماتے اونگھنے لگے۔ لڑکے نے دونوں ہاتھوں سے کشمش پر دھاوا بول دیا۔ باورچی نے ایک دم آنکھیں کھول لیں۔ 'کھائے جا! سالے تیرے باپ کی گانٹھ سے تھوڑی جاتا ہے۔ پر مجھے یہ بتا دے کہ میں دیگ میں تیری ماں کا بھیجہ ڈالوں گا؟' لڑکے نے شرمسار ہو کر سارا سر گھٹنوں میں گھسیٹ لیا اور رکابیاں صاف کرنے والے کھلکھلا کر ہنسے اور دیر تک ہنستے رہے۔



ظہیر بھیا جعفری میں آئے۔ مجھے اس طرح بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ 'ارے تم یہاں ہو۔ شادی میں یہ کیا رونکھا چہرہ بنا رکھا ہے' انہوں نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا۔ 'یہاں آئے ہو تو رومانس لڑاؤ۔ ایسے موقعے روز نہیں ملا کرتے۔۔۔ کچھ ہے پریکٹس؟' مجھے کی یہ بے وقت آمد بری معلوم ہوئی۔ ہم 'چھم سے جو آ جائے تو کیا ہو' سوچ رہے تھے اور وہ 'دھم سے' آ گئے۔ 'پریکٹس؟' میں نے دہرایا۔ 'تھوڑی سی ہے۔ ایف-اے کے زمانے میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دفعہ رومانس لڑایا تھا۔ شدت کا ملیریا ہوا اور پھر پائیوریا ہو گیا۔ پھر سے اس کی جرات نہیں کی بلکہ تاب ہی نہیں'
وہ ہنسنے لگے اور سگریٹ طلب کیا۔ بڑے ادب سے وہ سگریٹ چیر انہوں نے تمباکو اپنے پائپ میں رکھا۔ دیا سلائی دکھائی اور چیر یو کہہ کر چلے گئے۔
'لیکھا! لیکھا!' وہ میری جعفری کے آگے سے پھسلی جا رہی تھی۔ میری آواز سن کر ٹھٹھکی اور جعفری کے قریب آ گئی۔ اس دفعہ پیروں پر دھول کی ہلکی سی تہہ تھی۔ اس نے بند ہوتی چھوئی موئی سے مجھ کو دیکھا۔
وہ جانے لگی تو میں بے چین ہو گیا۔ 'بس؟' میں بولا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا۔ وہ ٹھہر گئی۔ 'یہ سلیٹی پنسلیں نہ چھٹ سکیں آپ سے۔۔۔ پتہ نہیں ان میں کیا مزہ ہے' یہ کہہ کر وہ چل دی اور پھر نہ رکی۔ نہ ہی میں نے روکا۔ مزے سے سگریٹ پئیے گیا۔
ایک کھڑکی آدھی کھلی تھی۔ اس میں سے ملی جلی آوازیں آ رہی تھیں۔ میں نے گردن اٹھا کر دیکھا۔ دونوں دلہنیں گٹھڑیاں بنی پڑی تھیں۔ لیکھا زمین پر بیٹھی دو تین لڑکیوں سے مٹھار مٹھار باتیں کر رہی تھی۔ 'چل'، ایک لڑکی نے جواب دیا۔ شاید لیکھا نے کچھ کہا تھا۔ 'دفعان ہو مردار۔۔۔۔' وہ لڑکی پھر چلائی۔ اس دفعہ بھی مجھے لیکھا کے الفاظ سنائی نہ دئیے۔ 'اچھا ری اب ہمیں دفعان ہونے کو کہتی ہے' اب کے اس کی آواز صاف سنائی دی۔ 'لے بھئی، ناراض ہو گئی ہو؟' اس لڑکی نے چہکار کر کہا۔ 'دفعان کے معنے پتہ ہے کیا ہیں؟' سنو اس کا مطلب ہے۔۔۔ خدا کرے تمہارا ویاہ جلدی ہو اور تم اپنے خاوند کے ساتھ فوراً چلی جاؤ'
'واہ ری میری منکو! اپنی اس نئی ڈکشنری کو کب شائع کرو گی' لیکھا نے پوچھا اور وہ ہنستی ہوئی اس کے گلے سے چمٹ گئی۔ میں بھی آج تک دفعان کے معنی غلط ہی سمجھتا رہا تھا۔
اگلے دن بڑی چہل پہل تھی۔ لاؤڈ سپیکر کچھ ٹھیک ہو گیا تھا اور دن بھر گلا پھاڑتا رہا۔ نجوک کا گانا 'اک دل والا، اک دل والی۔۔۔ دونوں یہ مل مل کے گاتے ہیں' اتنی دفعہ بجا لیا گیا کہ جب آخری دفعہ بجا تو پتا ہی نہ چل سکا کہ کون کیا گاتا ہے۔ برآمدے کے ساتھ ساتھ اور سرخ بجری بچھا دی گئی۔ شامیانے کے چاروں طرف ہرے پیلے بلبوں والا ' ویل کم' لٹکا دیا گیا۔ دیگوں کے پاس شاگرد پیشہ لوگوں کا اضافہ ہو گیا اور کرسیاں صوفے منگائے گئے۔ رات کو نکاح تھا۔ دو دل اور دو دل والیاں لائی جا رہی تھیں۔ میں جعفری کے جھروکوں میں سب کچھ دیکھا کیا۔ ریشم میں لپٹی ہوئی ایک مانو بلی سی لڑکی سب کی نگاہوں کا مرکز ہوئی تھی۔
کندھے پر منی بیگ لٹک رہا تھا۔ کلائی پر منی سی گھڑی، ناک پر بغیر فریم کی چوکور شیشوں والی عینک، ناخن خون آلودہ سرخ اور سر کے بال کسی خوفزدہ نیولے کی دم کی طرح اٹھے ہوئے تھے۔ کمرے سے نکل کر برآمدے میں آتی، وہاں سے باہر شامیانے اور برآمدے کی درمیانی جگہ ذرا ٹھہرتی اور واپس اندر چلی جاتی۔ پھر نکلتی اور اس انداز سے کہ پہلی بار باہر آ رہی ہے۔ ذرا رک کر، لچک کر اور منہ بنا کر۔۔۔



جب وہ گیارہویں دفعہ برآمدے میں آئی تو ظہیر بھیا جعفری کی اوٹ میں سے، ارشاد گرم پانی کے حمام کی طرف سے اور منیر برآمدے کے پرلے کونے سے جہاں چق لٹک رہی تھی اس کی طرف ایک دم بڑھے۔ جب ایک دوسرے کے سامنے آئے تو تینوں شرما گئے۔ ذرا کھانسے، پپوٹے جھپکائے اور آپس میں ہاتھ ملا کر ہنسنے لگے۔ وہ ان کے پاس سے گذر کر باہر اپنی جگہ پر ٹہلنے لگی۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کے گذرنے کا احساس نہ ہوا۔ سب نے یہی ظاہر کیا۔
دلہنوں کے کمرے میں دو بنگالی لڑکیاں ایک دم اٹھ کر ناچنے لگیں۔ کھڑکی میں سے ان کے گھنگھرؤں کی جھنکار اور ٹیگور کے گانے 'ایکلا چولا، ایکلا چولا' کی آواز جعفری سے بہہ نکلی۔ اس ادھ کھلی کھڑکی سے موسیقی پرانی چھت کی طرح ٹپک رہی تھی۔
-جاری ہے-
اگلا صفحہ ||||||||||||||||||||||||| پچھلا صفحہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اللہ کے ساتھ دوستی

ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں۔ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی…

محبت اور اداسی

-محبت سے غم اور اداسی ضرور پیدا ہوگی- وہ محبت ہی نہیں جو اداس نہ کر دے۔
-اگر چاہتے ہو کہ محبت ابدی ہو جائے اور پائیدار ہو جائے تو چھڑی محبت ایسا نہ کر سکے گی- اس کو طاقت عطا کرنے کے لیے اس میں عبادت کو شامل کرنا پڑے گا -عبادت کے بغیر محبت اداس رہتی ہے اور محبت ہی عبادت کا رخ بتاتی ہے - محبت ایک ہونے کی آرزو کرتی ہے -اس کی طرف بڑھتی ہے۔


- من تو شدم تو من شدی کا رنگ اپناتی ہے- لیکن یہ ایک مک ہونے کا وعدہ نہیں کرتی۔
-اس آرزو کو مکمل کر کے نہیں دے سکتی ، خواہش پوری نہیں کرتی ، اور یہی اداسی کا سبب بن جاتا ہے
-چندھیانے والی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے - زیادہ شیرینی کڑوی ہو جاتی ہے۔
-محبت دل کو پکڑ لیتی ہے- اداس کر دیتی ہے۔

بندے کا دارو بندہ

ہمارے ہاں آج کل لوگوں کی لوگوں پر توجہ بہت زیادہ ہے اور اس اعتبار سے یہاں اللہ کے فضل سے بہت سارے شفاخانے اور ہسپتال بن رہے ہیں اور جس مخیّر آدمی کے ذہن میں لوگوں کی خدمت کا تصور اٹھتا ہے تو وہ ایک ہسپتال کی داغ بیل ضرور ڈالتا ہے اور پھر اس میں اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ ہسپتال پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے لیکن سارے ہی لوگوں کی کسی نہ کسی جسمانی عارضے میں مبتلا خیال کرنا کچھ ایسی خوش آئیند بات نہیں ہے۔ لوگ جسمانی عوارض کے علاوہ ذہنی، روحانی، نفسیاتی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں یا یوں کہیۓ کہ لوگوں پر کبھی ایسا بوجھ بھی آن پڑتا ہے کہ وہ بلبلاتے ہوۓ ساری دنیا کا چکر کاٹتے ہیں اور کوئی بھی ان کی دستگیری کرنے کے لۓ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ایک یونس مالی تھا۔ وہ بیچارہ بہت پریشان تھا اور وہ یہ سمجھتے ہوۓ کہ کوئی ہسپتال ہی اس کے دکھوں کا مداوا کرے گا وہ ایک بہت بڑے ہسپتال میں چلا گیا اور وہاں جا کر واویلا کرنے لگا کہ مجھے یہاں داخل کر لو کیونکہ علاقے کے تھانیدار نے مجھ پر بڑی زیادتی کی ہے اور میری بڑی بے عزتی کی ہے جس کے باعث میں بیمار ہو گیا ہوں۔ اب ہسپتال والے اسے کیسے داخل کر لی…

میرا اللہ کہاں ہے؟

مجھ میں یہ کمی ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا۔ ایسی دھوپ نہیں ملتی۔ ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار ہو اور کچھ نہ کچھ اس سے بھی بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو تو پھر میرا ذکر شروع کرو۔ لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے، پہلو کے بل۔ یعنی یہ بھی اجازت دی کہ جس طرح سے چاہو مرضی کرو۔ لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے ہی، لیکن میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں تو پھر آپ کو ایک آواز سے، ایک وائبریشن سے، جسے بدن کا ارتعاش کہتے ہیں، اس سے پتا چلتا ہے۔ یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں، لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہم اس طرف جا ہی نہیں سکتے اور اللہ نے چاہا تو جوں جوں وقت آگے بڑھتا جائے گا، ہمارے اندر شعور کی لہریں اور بیدار ہوتی چلی جائیں گی۔ ہم پہنچیں گے ضرور، جس طرح سے "کے ٹو" کی برفوں سے بہنے والا ایک چھوٹا سا نالہ دھکے کھاتا ہوا، جغرافیہ جانے بغیر، نقشہ لیے بغیر سمندر کی طرف جا رہا ہوتا ہے اور ایک دن سمندر میں …

ناشکری کا عارضہ

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔ ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔


اشفاق احمد زاویہ 3 نا شکری کا عارضہ صفحہ 15