نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گڈریا - چھٹا حصہ


میرا امتحان قریب آ رہا تھا اور داؤ جی سخت ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہر فارغ وقت پر کوئی نہ کوئی کام پھیلا دیا تھا۔ ایک مضمون سے عہدہ برا ہوتا تو دوسرے کی کتابیں نکال کر سر پر سوار ہو جاتے تھے۔ پانی پینے اٹھتا تو سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلے آتے اور نہیں تو تاریخ کے سن ہی پوچھتے جاتے۔ شام کے وقت سکول پہنچنے کا انہوں نے وطیرہ بنا لیا تھا۔ ایک دن میں سکول کے بڑے دروازے سے نکلنے کی بجائے بورڈنگ کی راہ پر کھسک لیا تو انہوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ میں چڑچڑا اور ضدی ہونے کے علاوہ بد زبان بھی ہو گیا تھا۔ داؤ جی کے بچے، گویا میرا تکیہ کلام بن گیا تھا اور کبھی کبھی جب ان کی یا ان کے سوالات کی سختی بڑھ جاتی تو میں انہیں کتے کہنے سے بھی نہ چوکتا۔ ناراض ہو جاتے تو بس اس قدر کہتے "دیکھ لے ڈومنی تو کیسی باتیں کر رہا ہے۔ تیری بیوی بیاہ کر لاؤں گا تو پہلے اسے یہی بتاؤں گا کہ جانِ پدر یہ تیرے باپ کو کتا کہتا تھا۔ " میری گالیوں کے بدلے وہ مجھے ڈومنی کہا کرتے تھے۔ اگر انہیں زیادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑی ڈومنی کہتے۔ اس سے زیادہ نہ انہیں غصہ آتا تھا نہ دکھ ہوتا تھا۔ میرے اصلی نام سے انہوں نے کبھی نہیں پکارا میرے بڑے بھائی کا ذکر آتا تو بیٹا آفتاب، برخوردار آفتاب کہہ کر انہیں یاد کرتے تھے لیکن میرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے تھے۔ جن میں گولو انہیں بہت مرغوب تھا۔ طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے اور ڈومنی صرف غصہ کی حالت میں۔ کبھی کبھی میں ان کو بہت دق کرتا۔ وہ اپنی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں، مجھے الجبرے کا ایک سوال دے رکھا ہے اور میں سارے جہان کی ابجد کو ضرب دے دے کر تنگ آ چکا ہوں تو میں کاپیوں اور کتابوں کے ڈھیر کو پاؤں سے پرے دھکیل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔
تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیو دسنا



دا ؤ جی حیرانی سے میری طرف دیکھتے تو میں تالیاں بجانے لگتا اور قوالی شروع کر دیتا۔ نیوں نیوں نیوں دسنا۔ تے دکھ تینوں نیوں دسنادسنا دسنا دسناتینوں تینوں تینوں۔ سارے گاما رونا رونا سارے گاما رونا روناتے دیکھ تینوں نیوں دسنا۔ وہ عینک کے اوپر سے مسکراتے۔ میرے پاس آ کر کاپی اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور تالیوں کے درمیان اپنا بڑا سا ہاتھ کھڑا کر دیتے۔
"سن بیٹا" وہ بڑی محبت سے کہتے "یہ کوئی مشکل سوال ہے! " جونہی وہ سوال سمجھانے کے لئے ہاتھ نیچے کرتے میں پھر تالیاں بجانے لگتا۔ "دیکھ پھر، میں تیرا داؤ نہیں ہو؟" وہ بڑے مان سے پوچھتے۔
"نہیں" میں منہ پھاڑ کر کہتا۔
"تو اور کون ہے ؟" وہ مایوس سے ہو جاتے۔
"وہ سچی سرکار" میں انگلی آسمان کی طرف کر کے شرارت سے کہتا۔ وہ سچی سرکار، وہ سب کا پالنے والابول بکرے سب کا والی کون؟"
وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے لگتے تو میں ان کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا "داؤ جی خفا ہو گئے کیا۔" وہ مسکرانے لگتے۔ "چھوڑ طنبورے! چھوڑ بیٹا! میں تو پانی پینے جا رہا تھامجھے پانی تو پی آنے دے۔
میں جھوٹ موٹ برامان کر کہتا۔ "لوجی جب مجھے سوال سمجھنا ہوا داؤ جی کو پانی یاد آگیا۔"
وہ آرام سے بیٹھ جاتے اور کاپی کھول کر کہتے۔ "اخفش اسکوائر جب تجھے چار ایکس کا مربع نظر آ رہا تھا تو تو نے تیسرا فارمولا کیوں نہ لگایا اور اگر ایسا نہ بھی کرتا تو"اور اس کے بعد پتہ نہیں داؤ جی کتنے دن پانی نہ پیتے۔
فروری کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے۔ امتحان میں کل ڈیڑھ مہینہ رہ گیا تھا اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔ میں نے خود اپنی پڑھائی پہلے سے تیز کر دی تھی اور کافی سنجیدہ ہو گیا تھا لیکن جیومیٹری کے مسائل میری سمجھ میں نہ آتے تھے۔ داؤ جی نے بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔ آخر ایک دن انہوں نے کہا کُل باون پراپوزیشنیں ہیں زبانی یاد کر لے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ میں انہیں رٹنے میں مصروف ہو گیا لیکن جو پراپوزیشن رات کو یاد کرتا صبح کو بھول جاتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ سی بیٹھا۔ ایک رات داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی شکلیں بنوا کر اور مشقیں سن کر اٹھے تو وہ بھی کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ میں بار بار اٹکا تھا اور انہیں بہت کوفت ہوئی تھی۔ مجھے سونے کی تاکید کر کے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں کاپی پینسل لے کر پھر بیٹھ گیا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا مگر جب کتاب بند کر کے لکھنے لگتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا۔ مجھے داؤ جی کا مایوس چہرہ یاد کر کے اور اپنی حالت کا اندازہ کر کے رونا آگیا اور میں باہر صحن میں آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے سچ مچ رونے لگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو میں نے داؤ جی کی عزت بچانے کے لئے یہی ترکیب سوچی کہ ڈیوڑھی کا دروازہ کھول کر چپکے سے نکال جاؤں اور پھر واپس نہ آؤں۔ جب یہ فیصلہ کر چکا اور عملی قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھایا تو داؤ جی کمبل اوڑھے میرے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو سسکیوں کا لامتناہی سلسلہ صحن میں پھیل گیا۔ داؤ جی نے میرا سر چوم کر کہا۔ "لے بھئی طنبورے میں تو یوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت ہی کم ہمت نکلا۔" پھر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل میں لپیٹ لیا اور بیٹھک میں لے آئے۔ بستر میں بٹھا کر انہوں نے میرے چاروں طرف رضائی لپیٹی اور خود پاؤں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھ گئے۔



انہوں نے کہا "اقلیدس چیز ہی ایسی ہے۔ تو اس کے ہاتھوں یوں نالا ں ہے، میں اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا۔ حضرت مولانا کے پاس جبر و مقابلہ اور اقلیدس کی جس قدر کتابیں تھیں انہیں میں اچھی طرح پڑھ کر اپنی کاپیوں پر اتار چکا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے الجھن ہوتی۔ میں نے یہ جانا کہ ریاضی کا ماہر ہو گیا ہوں لیکن ایک رات میں اپنی کھاٹ پر پڑا متساوی الساقلین کے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ بات الجھ گئی۔ میں نے دیا جلا کر شکل بنائی اور اس پر غور کرنے لگا۔ جبر و مقابلہ کی رو سے اس کا جواب ٹھیک آتا تھا لیکن علمِ ہندسہ سے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتا تھا۔ میں ساری رات کاغذ سیاہ کرتا رہا لیکن تیری طرح سے رویا نہیں۔ علی الصبح میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے کاغذ پر شکل کھینچ کر سمجھانا شروع کیا لیکن جہاں مجھے الجھن ہوئی تھی وہیں حضرت مولانا کی طبعِ رسا کو بھی کوفت ہوئی۔ فرمانے لگے۔ "چنت رام اب ہم تم کو نہیں پڑھا سکتے۔ جب استاد اور شاگرد کا علم ایک سا ہو جائے تو شاگرد کو کسی اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ " میں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ حضور اگر کوئی اور یہ جملہ کہتا تو میں اسے کفر کے مترادف سمجھتا لیکن آپ کا ہر حرف اور ہر شوشہ میرے لئے حکمِ ربانی سے کم نہیں۔ اس لئے خاموش ہو ں۔ بھلا آقائے غزنوی کے سامنے ایاز کی مجال! لیکن حضور مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ فرمانے لگے "تم بے حد جذباتی آدمی ہو۔ بات تو سن لی ہوتی، میں نے سر جھکا کر کہا ارشاد! فرمایا "دلی میں حکیم ناصر علی سیستانی علمِ ہندسہ کے بڑے ماہر ہیں اگر تم کو اس کا ایسا ہی شوق ہے تو ان کے پاس چلے جاؤ اور اکتسابِ علم کرو۔ ہم ان کے نام رقعہ لکھ دیں گے۔ میں نے رضا مندی ظاہر کی تو فرمایا اپنی والدہ سے پوچھ لینا اگر وہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آناوالدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق جواب پانا انہونی بات تھی۔ چنانچہ میں نے ان سے نہیں پوچھا۔
حضور پوچھتے تو میں دروغ بیانی سے کام لیتا کہ گھر کی لپائی تپائی کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔"
چند ایام بڑے اضطرار کی حالت میں گزرے۔ میں دن رات اس شکل کو حل کرنے کی کوشش کرتا مگر صحیح جواب برآمد نہ ہوتا۔ اس لا ینحل مسئلہ سے طبیعت میں اور انتشار پیدا ہوا۔ میں دلی جانا چاہتا تھا لیکن حضور سے اجازت مل سکتی تھی نہ رقعہ، وہ والدہ کی رضامندی کے بغیر اجازت دینے والے نہ تھے اور والدہ اس بڑھاپا میں کیسے آمادہ ہو سکتی تھیںایک رات جب سارا گاؤں سو رہا تھا اور میں تیری طرح پریشان تھا تو میں نے اپنی والدہ کی پٹاری سے اس کی کل پونجی دو روپے چرائے اور نصف اس کے لئے چھوڑ کر گاؤں سے نکل گیا۔ خدا مجھے معاف کرے اور میرے دونوں بزرگوں کی روحوں کو مجھ پر مہربان رکھے! واقعی میں نے بڑا گناہ کیا اور ابد تک میرا سر ان دونوں کرم فرماؤں کے سامنے ندامت سے جھکا رہے گاگاؤں سے نکل کر میں حضور کی حویلی کے پیچھے ان کی مسند کے پاس پہنچا جہاں بیٹھ کر آپ پڑھاتے تھے۔ گھٹنوں کے بل ہو کر میں نے زمین کو بوسہ دیا اور دل میں کہا۔ "بد قسمت ہوں، بے اجازت جا رہا ہوں لیکن آپ کی دعاؤں کا عمر بھر محتاج رہوں گا۔ میرا قصور معاف نہ کیا تو آ کے قدموں میں جان دے دوں گا۔ اتنا کہہ کر اٹھا اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر میں وہاں سے چل دیاسن رہا ہے؟" داؤ جی نے میری طرف غور سے دیکھ کر پوچھا۔
رضائی کے بیچ خارپشت بنے، میں نے آنکھیں جھپکائیں اور ہولے سے کہا۔ "جی؟"
داؤ جی نے پھر کہنا شروع کیا "قدرت نے میری کمال مدد کی۔ ان دنوں جاکھل جنید سرسہ حصار والی پٹڑی بن رہی تھی۔ یہی راستہ سیدھا دلی کو جاتا تھا اور یہیں مزدوری ملتی تھی۔ ایک دن میں مزدوری کرتا اور ایک دن چلتا، اس طرح تائیدِ غیبی کے سہارے سولہ دن میں دلی پہنچ گیا۔ منزل مقصود تو ہاتھ آ گئی تھی لیکن گوہرِ مقصود کا سراغ نہ ملتا تھا۔ جس کسی سے پوچھتا حکیم ناصر علی سیستانی کا دولت خانہ کہاں ہے، نفی میں جواب ملتا۔ دو دن ان کی تلاش جاری رہی لیکن پتہ نہ پا سکا۔ قسمت یاور تھی صحت اچھی تھی۔ انگریزوں کے لئے نئی کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ وہاں کام پر جانے لگا۔ شام کو فارغ ہو کر حکیم صاحب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ایک دھرم شالہ میں کھیس پھینک کر گہری نیند سو جاتا۔ مثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ! آخر ایک دن مجھے حکیم صاحب کی جائے رہائش معلوم ہو گئی، وہ پتھر پھوڑوں کے محلہ کی ایک تیرہ و تاریک گلی میں رہتے تھے شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں فروکش تھے اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں جوتے اتار کر دہلیز کے اندر کھڑا ہو گیا۔ ایک صاحب نے پوچھا۔"کون ہے؟" میں نے سلام کر کے کہا۔ "حکیم صاحب سے ملنا ہے۔" حکیم صاحب دوستوں کے حلقہ میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور ان کی پشت میری طرف تھی۔ اسی طرح بیٹھے بولے "اسم گرامی" میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ "پنجاب سے آیا ہوں اور " میں بات پوری بھی نہ کرپا یا تھا کہ زور سے بولے "اوہو! چنت رام ہو؟" میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ فرمانے لگے۔ "مجھے اسماعیل کا خط ملا ہے لکھتا ہے شاید چنت رام تمہارے پاس آئے۔ ہمیں بتائے بغیر گھر سے فرار ہو گیا ہے اس کی مدد کرنا۔ " میں اسی طرح خاموش کھڑا رہا تو پاٹ دار آواز میں بولے "میاں اندر آ جاؤ کیا چپ کا روزہ رکھا ہے؟" میں ذرا آگے بڑھا تو بھی میری طرف نہ دیکھا اور ویسے ہی عروسِ نو کی طرح بیٹھے رہے۔ پھر قدرے تحکمانہ انداز میں کہا۔ "برخوردار بیٹھ جاؤ۔ میں وہیں بیٹھ گیا تو اپنے دوستوں سے فرمایا، بھئی ذرا ٹھہرو مجھے اس سے دو دو ہاتھ کر لینے دو۔ پھر حکم ہوا بتاؤ ہندسہ کا کونسا مسئلہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا تو انہوں نے اسی طرح کندھوں کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور آہستہ آہستہ کُرتا یوں اوپر کھینچ لیا کہ ان کی کمر برہنہ ہو گئی۔ پھر فرمایا۔ "بناؤ اپنی انگلی سے میری کمر پر ایک متساوی الساقین۔" مجھ پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ نہ آگے بڑھنے کی ہمت تھی نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ ایک لمحہ کے بعد بولے، میاں جلدی کرو۔ نابینا ہوں۔ کاغذ قلم کچھ نہیں سمجھتا۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور ان کی چوڑی چکلی کمر پر ہانپتی ہوئی انگلیوں سے متساوی الساقین بنانے لگا۔ جب وہ غیر مرئی شکل بن چکی تو بولے اب اس نقطہ"س" سے خط "ب ج" پر عمود گراؤ۔ ایک تو میں گھبرایا ہوا تھا دوسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا۔ یونہی اٹکل سے میں نے ایک مقام پر انگلی رکھ کر عمود گرانا چاہا تو تیزی سے بولے ہے ہے کیا کرتے ہو یہ نقطہ ہے کیا؟



پھر خود ہی بولے آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گے۔ وہ بول رہے تھے اور میں مبہوت بیٹھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے آخری جملے کے ساتھ نور کی لکیر متساوی الساقین بن کر ان کی کمر پر ابھر آئیں گی۔" پھر داؤ جی دلی کے دنوں میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں وہ میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ "پھر کیا ہوا داؤ جی؟"انہوں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا "رات بہت گزر چکی ہے اب تو سو جا پھر بتاؤں گا۔" میں ضدی بچے کی طرح ان کے پیچھے پڑ گیا تو انہوں نے کہا۔ "پہلے وعدہ کر کہ آئندہ مایوس نہیں ہو گا اور ان چھوٹی چھوٹی پراپوزیشنوں کو پتاشے سمجھے گا" میں نے جواب دیا۔ "حلوہ سمجھوں گا آپ فکر نہ کریں" انہوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپیٹتے ہوئے کہا۔ "بس مختصر یہ کہ میں ایک سال حکیم صاحب کی حضوری میں رہا اور اس بحرِ علم سے چند قطرے حاصل کر کے اپنی کور آنکھوں کو دھویا۔ واپسی پر میں سیدھا اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ فرمانے لگے چنت رام اگر ہم میں قوت ہو تو ان پاؤں کو کھینچ لیں۔ اس پر میں رو دیا تو دستِ مبارک محبت سے میرے سر پر پھیر کر کہنے لگے، ہم تم سے ناراض نہیں ہیں لیکن ایک سال کی فرقت بہت طویل ہے۔ آئندہ کہیں جانا ہو تو ہمیں بھی ساتھ لے جانا، یہ کہتے ہوئے داؤ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ مجھے اسی طرح گم سم چھوڑ کر بیٹھک میں چلے گئے۔"
-جاری ہے-
-ساتواں حصہ-

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعلق کیا شے ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضح نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔


غلط فہمی

ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے ۔ انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اسے ہم بار بار سن رہے تھے ۔ وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی ۔ اس شعر و سخن کے بعد " سیلف " کی باتیں ہونے لگیں ۔ یعنی " انا " کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام حاضرین نے بار بار اقرار و اظہاراورتبادلہ خیال کیا ۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں ۔ کیونکہ جب صبح میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فیض صاحب کو بڑی " سینس آف ہیومر " دی تھی ۔ کہنے لگے بیبی ! یہ تکبر اور انا ہر گز نہیں ، یہ غلط فہمی ہے ۔ ( انہوں نے یہ بات بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بیچاری قہقہے لگا کے ہنسی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ 104


قدرتی طرز زندگی۔۔۔

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہےئ۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے ا…

دال میں کالا۔۔۔

اصل میں بات یہ ہے کہ جب کسی نے یہ کہا کہ یہاں غلط ہے۔ اس جگہ دال میں کچھ کالا ہے تو آپ نے فوراً اسے تسلیم کر لیا - اس کے آگے سر جھکا دیا- جب کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اچھا ہے۔ یہ خوب ہے۔ یہ نیکی ہے۔ تو تم رک جاتے ہو - ماننے سے انکار کر دیتے ہو - خاموش ہو جاتے ہو- برائی پر تم کو پورا یقین ہے - سو فیصد اعتماد ہے- شیطان پر اور ابلیس پر پورا یقین ہے - لیکن خدا پر نہیں۔۔۔۔ ایک محاورہ ہے کہ، 'یہ اتنی اچھی بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی'- یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی کہے کہ یہ اتنی بری بات ہے کہ سچ ہو ہی نہیں سکتی- بہت بری اور بہت خراب بات کبھی بھی غلط نہیں لگتی - ہمیشہ ٹھیک ہی لگتی ہے- تم نے انسانیت پر اس قدر بے اعتباری شروع کر دی ہے، اس قدر بے اعتمادی کا اظہار کر دیا ہے کہ اب تم کو انسانوں کی طرف سے اچھی خبر ٹھیک ہی نہیں لگتی۔ اگر کوئی آکرآپ سے یہ کہے کہ فلاں نے معراج انسانیت حاصل کر لی ہے اور جلوہ حقیقی سے روشناس ہو گیا ہے ، تو تم کبھی یقین نہیں کرو گے۔ سنو گے اور کہو گے یہ سب افسانہ ہے- گپ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کو جلوہ حقیقی نظر آجائے جب کہ ہم کو کبھی نظر نہیں آیا- جس چیز کا تجرب…

خوبی سے تباہی

بڑی دیر سہیل مجھے امریکہ کے متعلق بتاتا رہا۔ "وہ ملک بھی کھوکھلا ہو گیا ہے۔۔۔ انسانوں کی طرح ملک اور قومیں بھی ہمیشہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی خوبیوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہیں۔۔۔" ہمیشہ کی طرح وہ بہت چمکدار اور ذہین تھا اس کے چہرے پر تمام تر امریکی چھاپ تھی۔ "کیسے؟۔۔۔ سر۔" "خوبی وہ چیز ہے جس پر انسان خود اعتماد کرتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ر فتہ رفتہ یہ خوبی اس کی اصلی اچھائیوں کو کھانے لگتی ہے اسی خوبی کی وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسی خوبی کے باعث وہ انسانیت سے گرنے لگتا ہے۔ فرد۔۔۔ قومیں۔۔۔ سب اپنی خوبیوں کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں۔"