نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تلاش


ویسے تو یہ دانہ پانی کے اختیار کی بات ہے، لیکن اگر خان کی مدد شامل حال نہ ہوتی تو جیکی ہندوستان ہی رہ جاتا۔ اس بھگدڑ میں لوگ مال و اسباب تو کیا، خویش و اقارب تک کو بھول گئے۔ بھلا ٹھائیں ٹھائیں وغتی بندوقوں میں بیچارے احسان کی طوطی ایسی آواز کہاں پہنچتی جو کسی فوجی کی توجہ سے الجھ کر احسان کی بہتی ہوئی آنکھیں اور ناک دکھا سکتی۔
جب خان نے کیپٹن حق نواز سے ہاتھ باندھ کر کہا کہ یہ اس چھوٹے سے پلے کے لیے جان دے دے گا مگر اسے اپنے ساتھ ضرور لے جائے گا تو کیپٹن صاحب نے اسے جھٹلانے کے لیے طنزیہ مسکرا کر کہا، 'ابھی ٹیسٹ کیے لیتے ہیں' اور پھر انہوں نے نے ٹرک کا انجن چلا کر پورے زور سے ایکسلرٹر دبا دیا۔ ایک ہلڑ مچا اور کندھوں پر چڑھے والدین اور اولادیں ٹپکے کے آموں کی طرح زمین پر آ رہیں اور انہیں اٹھانے والے ٹرک کی طرف ایسے لپکے گویا کسی نے آدمیوں کی باڑھ ماری ہو۔ احسان کا چہرہ ایک دم ہلدی کی طرح ذرد ہو گیا اور وہ بھی اس طرف بھاگا لیکن اس نے جیکی کو بغل سے گرایا نہیں۔ کیپٹن پیار سے ہنسا۔ انجن بند ہو گیا اور سب پھر اپنے اپنے آم چننے لگے۔ احسان کا ے گال اوپر کو ہلے اور ان بھیگے ہوئے پھولوں سے جیسے دو شہابی تتلیاں آ کر چپک گئیں۔ کیپٹن نے ٹرک سے اتر کر اسے جیکی سمیت گود میں اٹھا لیا۔ فوجیوں کے ذہن پر جب رحم و کرم کے بادل چھاتے ہیں تو نوازش ہائے بے جا کی بارش چھاجوں برسنے لگتی ہے۔
اپنے بیٹے کی یہ عزت دیکھ کر اس کے ابا آگے بڑھے اور بولے، 'یہ آپ نے کیا کیا کہ اسے گود میں اٹھا لیا۔ ہمیشہ ڈرٹی رہتا ہے۔ کتوں سے کھیلتا ہے اور۔۔۔۔ اور' پھر احسان سے مخاطب ہو کر بولے، 'اترو بیٹا، انکل کی وردی خراب ہو جائے گی۔'
'کوئی مضائقہ نہیں۔' کیپٹن نے کہا، 'یہ ہمارا دوست ہے۔۔۔ دوست ہو نا؟'
احسان نے کوئی جواب نہ دیا تو ا س کے ابا نے کہا، 'اگر مستورات ابھی سے ٹرک میں بیٹھ جائیں۔۔۔'
'ضرور ضرور!' کیپٹن نے احسان کو ٹرک میں اتارتے ہوئے کہا اور پاس کھڑے سپاہیوں کو ان کا سامان لادنے کے لیے بھیج دیا۔
جب کانوائے تیار ہو گیا تو کیپٹن بجائے آگے بیٹھنے کے پیچھے چلا آیا اور احسان کو ٹرنک سے اٹھا کر اس کے ابا جی کے ساتھ بیٹھ گیا۔



دور دور تک آگ ہی آگ دکھائی دیتی تھی اور اس کے پیچھے مرنے والوں کا شور و غل ایسے لگتا تھا جیسے آسمانوں پر جہنم مکمل ہو چکا اور اب زمین پر اس کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہو۔ احسان پلے کو چھاتی سے لگائے کھڑا تھا۔ اس کی بہنیں کانپ رہی تھیں اور اس کے ابا ٹوپی گود میں دھرے وہ تمام سورتیں دہرانے کی کوشش کر رہے تھے جو انہیں بچپن میں یاد کرائی گئی تھیں۔ گڈی بغیر آواز کے روئے جا رہی تھی اور ٹینم اپنے بوٹ ہاتھوں میں پکڑے امی کی گود میں چھپی ہوئی تھی۔ خان ابا جی کے پاوَں میں بیٹھا ایک دیہاتی سے کلمہ پڑھنے کی تلقین کر رہا تھا۔
جب ٹرک چلا اور احسان نے بیٹھنے کے لیے ادھر ادھر دیکھا تو کیپٹن نے کہا، 'آپ بیٹھ نہیں سکتے ۔ آپ کو پلا لے جانے کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا' احسان کو یہ جرمانہ بہت پسند آیا۔ اس نے خوش ہو کر خان کی طرف دیکھا اور پھر جیکی کے نتھنوں میں پھونکیں مارنے لگا۔
'اس میں کیا وصف ہے؟' کیپٹن نے پلے کو چھو کر پوچھا،
'جی یہ جیکی ہے۔'
'جیکی تو ہے، پر اس کی صفت کیا ہے؟'
'جی یہ بھونکتا ہے۔'
'سبھی کتے بھونکتے ہیں۔۔۔ میں پوچھتا ہوں تم نے اس کے بجائے کوئی کتا اور کیوں نہ پال لیا؟'
'یہ دیکھیے۔۔۔' احسان نے آگے بڑھ کر کہا، 'اس کے بیس ناخن ہیں۔ دوسرے کتوں کے صرف اٹھارہ ہوتے ہیں۔ پانچ پانچ آگے اور چار پیچھے۔ وہ اتنے طاقتور نہیں ہوتے۔ جیکی بہت طاقتور ہے۔ اس کا سر دیکھیے۔ نور دین کہتا تھا کہ جب یہ بڑا ہو جائے گا تو ریچھ کا شکار کرے گا۔ بیس ناخنوں والے کتے اپنے پنجے ریچھ کی آنکھوں میں گاڑ کر اس کی تھوتھنی چبا جاتے ہیں۔'
باجی ہنسی تو اس کی امی نے کہا، 'مجھے اس کی یہی باتیں زہر لگتی ہیں۔ صدقے کروں اس جیکی کو، یہ کم بخت تو اس کے لیے سڑی ہو گیا ہے۔'
جب اڑمڑ ٹانڈہ قریب آ گیا تو احسان ذرا جھکا، لیکن اس نے جیکی کو یونہی چھوڑنا مناسب نہ سمجھا۔ اسے کیپٹن صاحب کی طرف بڑھا کر بولا، 'ذرا اسے پکڑئیے!'
'کیوں؟'
'مجھے پاوَں کھجانا ہے۔ بڑے زور کی کھجلی ہو رہی ہے۔'
کیپٹن صاحب نے پی کیپ اپنی گود سے اٹھا کر احسان کے سر پر ڈال دی اور جیکی کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔ جب وہ پاوَں کھجا کر اٹھا تو ٹینم ننھے سے کپتان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ ہاتھ میں پکڑے بوٹ پھینک کر بولی، 'سانوں بھائی، تم نے یہ ٹوپ کہاں سے لیا؟' مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ یہ وضعداری کے منافی تھا۔ پھر حق نواز نے جیکی لوٹا کر اس کے مالک کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔
راستہ میں احسان نے اسے بتایا کہ اس کے ابا جان دلی میں سپرنٹنڈنٹ تھے اور ان دنوں وہ باجی اور آپی کی شادی کرنے میانی آئے ہوئے تھے جو فسادات کی وجہ سے رک گئی۔ ان دونوں کے منگیتروں میں سے وہ آپی کے منگیتر کو زیادہ پسند کرتا تھا کیونکہ ایک دفعہ انہوں نے جیکی کو گود میں اٹھا لیا تھا اور ویسے بھی وہ ہر کتے سے بہت پیار کرتے تھے۔ اس کے علاوہ نسیم بھائی یوں تو اس کے ماموں زاد تھے، پر اسے اپنے بھائیوں سے بھی زیادہ عزیز تھے کیونکہ وہ جب دفتر سے لوٹتے جیکی کو تالی پیٹ کر اور سیٹی بجا کر پاس بلاتے۔ اکثر اوقات وہ پوری پوری ٹافی جیکی کے آگے ڈال دیا کرتے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنی عینک جیکی کو منہ میں دبائے دیکھ کر صرف رومال کا ایک گولا مارا تھا۔ بھلا یہ بھی کوئی سزا تھی۔ احسان کا دل چاہا کہ کاش نسیم بھائی اس دن ٹرک میں ہوتے تا کہ وہ انہیں کیپٹن صاحب سے ملوا سکتا اور جب امی جان کا ذکر آیا تو احسان نے گفتگو ذرا آہستہ کر دی کیونکہ ان کا رویہ جیکی کے متعلق کچھ اتنا اچھا نہ تھا۔
امی کی طبیعت میں ایک عجیب قسم کا تلون تھا ۔ کبھی تو جیکی کو وہ خود راتب ڈالتیں اور کبھی مارے ٹھوکروں کے بے حال کر دیتیں۔ ہر و گالی جو اس کو دی جاتی، احسان کے دل میں تیر کی طرح اترتی اور تپے ہوئے لوہے کی طرح پھول کر جیسے پانی میں ڈوب جاتی۔ اس وقت اس کا بس چلتا تو ایک چھوٹا سا گھر لے کر الگ ہو جاتا جس میں وہ اور اس کا محبوب کتا مزے کی زندگی گزارتے۔ باجی اور آپی جیکی کو اتنا اچھا نہ جانتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اس کی برائی میں امی کا ساتھ دیتیں، لیکن اس کے اوصاف گنوانے میں نے کبھی زبان نہ کھولی تھی۔ منی آپا جیکی کو اس قدر برا نہ سمجھتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے اور چیزیں گھر میں یونہی پڑی رہتی ہیں، ایک یہ بھی سہی۔ ناک میں انگلی پھیرتے ہوئے کبھی کبھار وہ جیکی کے پاس سے گزرتیں تو اپنے ننگے پاوَں سے اس کی پوستین سہلانے لگتیں اور وہ پیٹھ کے بل لیٹ کر اپنی چاروں ٹانگیں اوپر اٹھا لیتا۔ دراصل انہیں جیکی سے پیار نہیں تھا۔ احسان سے تھا۔ وہ اسے خوش کرنے کے لیے ایسا کرتیں اور اگر وہ موجود نہ ہوتا تو بھی انہیں اس کے کتے سے محبت جتانے میں بڑا مزا آتا۔
کراچی پہنچ کر خان اکثر احسان سے پاسنگ شو کی سگرٹیں منگوایا کرتا اور اگر کبھی احسان موڈ میں نہ ہوتا تو پیسے نکالنے سے پہلے تمہید باندھنی شروع کر دیتا، 'دیکھو یار اگر ہم نہ ہوتے تو تیرا جیکی ہندوستان میں ہی رہ جاتا۔ رہ جاتا کہ نہیں؟ اور پھر دیکھ کہاں میانی اور کہاں کراچی؟ وہاں تو ایسے ایسے آدمی رہ گئے جنہیں یاد کر کر کے آج کئی گھر راتیں رو رو کر گذارتے ہیں۔۔۔ میں مر تو جاتا پر تیرے جیکی کو ادھر نہیں چھوڑتا تھا۔' خان کو اس پلے سے نفرت تھی اور نہ ہی لگا۔ وہ تو صرف اپنے فن سے محبت کرتا تھا۔ باتیں بنانے کا اسے ایک خاص سلیقہ تھا۔ ایسا سلیقہ جس سے بڑے بڑے سنگ دل منٹوں میں پسیج جائیں۔ جیکی کو سوار کرانے کے لیے جو کچھ کیا صرف اپنی تسکین اور فن کے مظاہرے کے لیے تھا۔ عملی قدم تو احسان نے اٹھایا۔
جس دن لمبے لمبے کرتے والی دو سندھنیں کوارٹر کے سامنے سےگذرتے ہوئے برآمدے میں آکر ٹینم کا فراک کھسکا کر لے جانے لگیں تو جیکی جاگ اٹھا۔ اپنی لچکیلی ہڈیوں میں ننھے ننھے پھیپھڑوں کو پورے زور سے پھلا کر اس نے دو دفعہ پخ پخ کی اور پھر دم ٹانگوں میں دبا کر لرزنے لگا۔ امی آواز سن کر باہر نکلیں۔ اس دوران وہ فراک وہیں چھوڑ کر بھاگ چکی تھیں۔ امی نے جیکی کا یہ کارنامہ سب کو سنایا۔ احسان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ جیکی کو گود میں اٹھا کر ایک بار تو بس چوم لیا۔
امی نے کہا، 'کتا تو چہرے مہرے جھٹ پہچانا جاتا ہے۔ یہ نسل ریوڑوں کی رکھوالی کرتی ہے۔ کیا مجال جو موئے دم بھر کو سو جائیں۔ ساری ساری رات آنکھوں میں کاٹ دیتے ہیں۔ جبھی تو کہتے ہیں کہ گڈریا اپنی بیٹی کا ڈولا دے دیتا ہے پر کتا نہیں دیتا۔ یہ کم بخت تو ہے ہی ہڈیوں کا مٹھا۔۔۔ ذرا ٹھیک سے خوراک ملے تو دنوں میں شیر کا جھبرا ہو جائے۔ پر ہمارے یہاں پابندی کہاں؟ میاں صاحبزادے سارا دن خاک اڑاتے ہشت ہڈو کرتے پھرتے ہیں۔ مجال ہے جو اس کے تسلے میں جھانک کر دیکھیں۔ پچھلے دنوں اچھا خاصا بیمار رہا۔ میں جنم جلی اس جوگی کہاں کہ اس کی خبر بھی رکھوں۔ خود ہی لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑا ہوا۔'
احسان نے کہا، 'امی میں تو۔۔۔'
'بس اب رہنے دے!' امی تنک کر بولیں، 'میں تم سب کے لچھنوں سے واقف ہوں۔ یہاں سب ہی یادب گزر کے ہیں۔ میں کس کس کو پیٹوں؟'
احسان خاموش ہو گیا۔ واقعی وہ اس کی خوراک کے متعلق محتاط نہ تھا۔ اس نے سوچا، چلو آج اگلی پچھلی ساری کسر نکل جائے گی۔ منی آپا کی بائیں آنکھ پر جو گومڑی چند دن ہوئے نمودار ہوئی تھی، اب سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی تھی اور امی انہیں ڈاکٹر کے یہاں لے کر گئی تھیں۔ ان کی غیر موجودگی میں جیکی کو مکھن لگے نوالے کھلانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ پر ڈاکٹر بھی پتہ نہیں کتنا بے حس آدمی نکلا کہ بغیر نشتر زنی کے مرہم لگا کر لوٹا دیا۔ احسان ابھی تک گلی میں کھڑا اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہ امی جان واپس آ گئیں اور جیکی ضیافت منسوخ ہو گئی۔



مگر جس دن بڑی ماں کا چالیسواں تھا، اس دن سب کی شامت آ گئی۔ امی نہا رہی تھیں اور باقی سب بڑے کمرے میں مزے سے لیٹے تھے۔ جیکی کو پتہ نہیں کہاں سے آزادی نصیب ہوئی کہ پہلے تو رات کی باسی ہنڈیا میں ننھے ننھے پنجوں سے قیمہ کھرچ کھرچ کر چاٹا۔ پھر دودھ کی ناند میں تھوتھنی ڈبو کر منہ کے راستے پیتا رہا اور بلبلے سے بناتا رہا۔ امی باہر نکلیں تو گویا قیامت آ گئی۔ جیکی تو خیر دو تین چیخیں مار کر کوئلوں کی بوریوں کے پیچھے جا چھپا، لیکن دوسرے سب کہاں چھپتے۔ وہ منہ بھر کر گالیاں دیں کہ سب اپنی جگہ بت بن گئے۔ 'کہاں گیا احسان کا بچہ؟' انہوں نے کڑک کر پوچھا، 'منہ جھلس دوں تیرا پاجی، بڑی سوغات اٹھا کے لایا تھا۔ اپنی اور کوئی چیز تو نہ لا سکے یہ طباقی اٹھا لایا۔ قربان کروں بجو کو۔۔۔ جھاڑو پھرے موئے کی صورت پر، نہ شکل نہ عقل، کیا مجال جو کبھی آنکھ کھولی ہو۔ جب دیکھو موا پڑا ہے۔۔۔ اور یہ سب اسی حرام زادے خان کی کرتوت ہے۔ بڑھ بڑھ کے باتیں بناتا تھا۔ پتہ نہیں کیا حرام حلال کھاتے ہیں سارا دن۔۔۔ میں پوچھتی ہوں حرام ہی کھانا تھا تو موئے فرنگیوں سے حکومت ہی کیوں لے لی تھی؟ آج یہاں یا تو جیکی رہا یا میں۔۔۔' وہ تیز تیز سانس لیتی ہوئی بولیں، 'بھرا بھرایا دیگچہ، کوئی آٹھ سیر پختہ دودھ۔ غضب خدا کا، سب کے دیدوں کا پانی ڈھل گیا۔ دیکھو کس مزے سے لینے ہیں جیسے دودھ نہیں نالی کا پانی پیا ہو۔ اور سن، خان یا تو پھینک اس کو سمندر میں، نہیں تو باندھ اپنا بوریا بستر۔۔۔'
خان ہنسنے لگا۔ اس نے لجاجت آمیز لہجے میں کہا، 'امی جہاں مجھے پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے، یوں سمجھو کہ میں اکیلا آپ کے گھر میں نہیں آیا۔ میرے ساتھ میرا چھوٹا بھائی بھی ہے۔'
سب ہنسنے لگے اور امی کے ہونٹ بھی پھیل گئے لیکن شام کو جیکی کے خلاف یہ تادیبی کاروائی عمل میں لائی گئی کہ اسے رات کا راشن نہ ملا اور وہ بھوک سے بیتاب ہو کر تمام رات جاگتا رہا۔ گڈریوں کا کتا!
امتحان کے دن قریب تھے۔ منی آپا ڈھیر ساری کتابیں اپنے آگے ڈالے ناک کرید کرید کر تاریخ یاد کیا کرتیں۔ انہیں اب نہ احسان سے انس رہا تھا نہ جیکی سے! جوں جوں امتحان قریب آتا جاتا، ان کی بیگانگی بڑھتی جاتی۔ امی صبح صبح اخبار پڑھنے بیٹھتیں تو دوپہر تک مشکل سے دوسرے صفحے پر پہنچ سکتیں۔ اس کے بعد ہوا کے جھونکے نیند کے بھبکے لاتے اور وہ قالین پر گاوَ تکیہ کے سہارے لیٹ جاتیں۔ باجی اور آپی اپنے جہیز کی کشیدہ کاری میں مصروف ہو جاتیں کیونکہ پہلی کاڑھی چادریں اور غلاف میانی رہ گئے تھے۔خان نوکری پر بحال ہو گیا تھا۔ صبح کے دس بجے جاتا اور رات کے نو دس بجے صاحب کے بنگلے سے واپس آتا۔ احسان کے سکول میں پڑھائی اب پہلے سے دو چند ہو گئی تھی۔ مشرقی پنجاب میں اتنا سارا وقت ضائع کر دینے کا تریاق انہوں نے یہی سوچا کہ کراچی میں تعلیم کے اوقات بڑھا دیے جائیں۔ وہ سورج چھپے گھر واپس آتا۔ اس دوران میں جیکی لاکھ چیختا، چلاتا، اپنی زنجیر دانتوں سے کاٹتا، پنجوں سے زمین کھرچتا لیکن کچھ بن نہ پڑتی۔ اس کے گلے میں پڑا ہوا چمڑے کا پٹہ زنجیر سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ پہلے تو امی ہر صبح یاد سے اسے کھلا چھوڑ دیا کرتی تھیں لیکن اب وہ نئے سرے سے گھر بسانے میں اس بری طرح سے الجھ گئی تھیں کہ انہیں تن بدن کا ہوش نہ تھا۔ باقی لوگ جیکی میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ ایک احسان تھا جو ہر شام اسے گھمانے باہر لے جاتا۔
پھر یوں ہوا کہ وہ متواتر دو دن تک ایک ہی جگہ بندھا رہا۔ رضیہ روٹیوں کے ٹکڑے، باسی سالن اور چچوڑی ہوئی ہڈیاں ا س کے تسلے میں جھاڑ کر چلی آتی رہی۔ احسان کے سکول میں ڈرامے کی ریہرسل تھی۔ وہ ابھی تک نہ لوٹا تھا۔ اندھیرا بڑھتا گیا اور جیکی اپنے مالک کو یاد کر کے چیخنے لگا۔ امی کو جانے کیا رحم آیا۔ جا کے زنجیر کھول دی۔ وہ پہلے تو ان کے قدموں میں لوٹا۔ پھر اندر گھس گیا۔ جب امی کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ قالین کو بالکل خراب کر چکا تھا اور ان کے پان دان سے تھوتھنی لگائے بڑی تیزی سے سونگھ رہا تھا۔
'ہائے رے کم بخت، جھاڑو پھرے، کمینے، گولی لگے، لیکے سارا قالین تباہ کر دیا۔۔۔' اور پھر پٹاخ سے جوتی جیکی کے سر پر پڑی۔ تارے ناچے اور وہ وہاں سے بھاگ کر اندر ٹرنکوں کے پیچھے جا چھپا۔ امی کا غصہ تیز سے تیز تر ہوتا گیا اور احسان سے لے کر اس کے ابا جی تک کو ایک ہی سانس میں اتنے کوسنے ملے کہ سب کا منہ اتر گیا۔ احسان گالیوں کا یہ طومار دیکھ کر سہما سہما اندر داخل ہوا تو امی نے چھوٹتے ہی تھپڑوں کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ ٹھہرا سکول کا لڑکا، ہر بار خالی دیتا رہا۔ جب اس کی امی عاجز آ گئیں تو کان سے پکڑ کر بولیں، 'اب فیصلہ کر، اسی گھر میں رہے گا یا کہیں اور جائے گا؟ سوچ لے جلدی۔ اٹھا لے بستہ اور لے جا اپنے اس ہوتے سوتے کو بھی۔۔۔ یا تو چھوڑ آ اسے یہاں سے بہت دور یا پھر کوئی اور امی ابا تلاش کر لے۔ ہمارے یہاں تیرے لیے کچھ نہیں۔؛
احسان اسی طرح خاموش کھڑا رہا۔ وہ امی کی اس چڑھی ہوئی آندھی سے اچھی طرح واقف تھا، لیکن جب خان اندر داخل ہوا اور اسے بھی ایسی ہی صلواتیں سننا پڑیں تو وہ سیخ پا ہو گیا۔ آج شام اس کی ہیڈ کلرک سے جھڑپ ہو گئی تھی اور وہ کچھ کھا پی کر سو رہنے کی سوچ رہا تھا اور مرے پر سو درے یہ کہ امی نے آتے ہی لتے لیے کہ برہم ہو گیا۔ پھر پٹھان کا پوت، گھری میں اولیا گھڑی میں بھوت، سائیکل باہر نکال کر جیکی کو ٹرنکوں والی کوٹھڑی میں جا دبوچا۔ وہ چلایا تو اس کا گلا دبا کہ خان ہے احسان نہیں۔
ذرا دیر تک تو سائیکل کے پھٹپھٹاتے مڈ گارڈ کی آواز آتی رہی۔ اس کے بعد معدوم ہو گئی۔ منی آپا نے کتابوں سے نگاہ اٹھا کر پوچھا، ' امی! سچ مچ پھینک آئے گا کیا؟' تو امی بھنا کر بولیں، 'کونسی سوغات تھی۔۔۔ ایسا بھی کیا گڈریوں کا کتا تھا۔۔۔'
'پر امی۔۔۔'
'نہیں پھینک کے آتا۔ وہ کوئی سرپھرا تھوڑی ہے۔ یونہی گھوم گھام کے آ جائے گا اور دیکھ احسان کے بچے اب اگر تو نے اس کا خیال نہ رکھا تو سچ مچ پھنکوا دوں گی گندے نالے میں۔۔۔'
احسان خاموش بیٹھا تھا۔ اسے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں سچ مچ خان پھینک ہی نہ آئے لیکن خان اتنا بیوقوف تھوڑی تھا۔ ہندوستان سے اٹھا کر یہاں اس لیے تو نہ لایا تھا کہ کراچی پہنچ کر پھینک دے!
آدھ گھنٹہ بعد خان واپس آ گیا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا اور چہرہ غصہ سے لال انگارہ۔ احسان نے اسے خالی ہاتھ اندر آتے دیکھ کر کہا،
'سچ مچ چھوڑ آئے خان؟'
'سچ مچ! مجھ سے یہ روز روز کا دانتا کل کل برداشت نہیں ہوتی۔ امی کو تو ہر بات میں میرا ہی قصور نظر آتا ہے۔ بھلا جیکی سے میرا کیا تعلق؟ یہی نا کہ اسے فوجیوں کی منت خوشامد کر کے ٹرک میں سوار کرا لیا تھا۔۔۔ ایک دفتر والے جینے نہیں دیتے۔ دوسرے گھر بھی عذاب بن گیا ہے۔۔۔ آخر۔۔۔ آخر۔۔۔' پھر وہ خود ہی رک گیا۔
باجی نے کہا، 'شرم نہیں آتی۔ ایک کھاتے ہو، دوسرے غراتے ہو۔ پتہ ہے کب سے یہاں پڑے ہو؟'
'شرم کہاں؟' آپی روکھی ہو کر بولیں، 'ہر روز دفتر سے جوتے کھا کر آتا ہے اور یہاں سب پر رعب گانٹھتا ہے۔'
منی آپا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا، 'واقعی پھینک آئے خان؟'
'ہاں!' خان نے قاتلانہ اعتراف کیا۔
احسان پہلے تو پھسک پھسک کر رویا۔ پھر اونچے اونچے چلانے لگا، 'خان کا بچہ۔۔۔ الو کا پٹھا۔۔۔ تیرا کیا لیتا تھا۔ میرا جیکی تھا نا، مجھے گالیاں ملی تھیں۔ آیا بڑا معتبر۔۔۔ ذرا سے بچے کو۔۔۔ ذرا سے جیکی کو۔۔۔ بتا بتا۔۔۔ کہاں پھینکا ہے؟۔۔۔۔ کہاں چھوڑا ہے میرا جیکی؟۔۔۔مرجائے اللہ کرے خان کا بچہ۔۔۔ بول کہاں چھوڑا ہے؟ بول۔۔۔ میں ابھی تلاش کر کے لاوَں گا۔۔۔ بتا! بتا!۔۔۔ بتا بھی!'
'ہوتھی مارکیٹ۔۔۔' خان نے گردن جھکائے جواب دیا۔
'ہوتھی مارکیٹ؟'
'ہاں!'
'کہاں ہے ہوتھی مارکیٹ؟'
'لارنس روڈ کے سرے پر۔۔۔'



احسان قالین کے ایک کونے پر بیٹھ کر اپنی چپلی کا لیتہ باندھنے لگا۔ اس کی آنکھیں برس رہی تھیں۔ ہونٹ بلک رہے تھے۔ ہر سانس کئی جھٹکوں سے اندر داخل ہوتا۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی اور وہ غم و غصہ سے کانپ رہا تھا۔ جب وہ چپلی پہن کر اٹھ کھڑا ہوا تو امی نے کہا، 'کہاں جائے گا اس وقت، دیوانی ماں کا خبطی بیٹا۔۔۔ جا سو رہ! صبح خود ہی آ جائے گا پھر پھرا کر۔۔۔ یہ کتے آپ ہی آ جایا کرتے ہیں۔۔۔ پگلا کہیں کا، جا سو رہ!'
احسان یہ سن کر بڑی کربناک آواز سے رونے لگا۔ سب دم بخود کھڑے تھے۔ خان پاوَں کے انگوٹھے سے فرش کریدنے لگا۔ توقیر بھائی نے کہا، 'آوَ ہم بھی چلتے ہیں اس کی تلاش میں۔۔۔'احسان خوش ہو گیا۔ کتنے اچھے ہیں توقیر بھائی۔ واقعی سارے خاندان میں ایک توقیر بھائی ہی تو ہیں، ورنہ دوسرے تو سارے ایسے ہی گویا بلیک مارکیٹ سے خریدے ہوئے بھائی ہوں۔ احسان کی بیتابی کا تماشا کر کے وہ پتلون پہننے لگے اور خان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے، 'کہاں ہے ہوتھی مارکیٹ؟'
'لارنس روڈ کے سرے پر!'
'لیکن وہ تو جونا مارکیٹ ہے۔'
'اس سے ذرا پرے ہے۔۔۔'
'اچھا! اچھا!' انہوں نے کوٹ پہنتے ہوئے کہا، 'آوَ بھئی احسان، دو منٹ ہی کا تو راستہ ہے'
لیکن راستہ دو منٹ کا نہ تھا۔
سائیکل کا مڈ گارڈ پھر پھٹپھٹایا اور اس کی آواز دور ہوتی گئی۔
'بھائی جان، یہ خان بڑا ظالم ہے۔'
'سارے خان ایسے ہی ہوتے ہیں۔'
'لیکن توقیر بھائی، اسے ترس نہ آیا؟۔۔۔وہاں جا کر جب اس نے جیکی کو زمین پر چھوڑا ہو گا تو وہ اس کے پیچھے بھاگا تو ضرور ہو گا۔'
'ضرور!'
'اس کے بیس ناخن تھے توقیر بھائی اور اس کا سر اتنا بڑا تھا۔' احسان نے ہاتھ پھیلا کر کہا، 'اب پتہ نہیں بیچارہ کہاں ہوگا۔ بھائی جان اس نے آج تک ٹریم نہ دیکھی تھی۔ وہ میانی میں پیدا ہوا اور اب تک وہیں رہا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ٹریم کے نیچے نہ آ گیا ہو۔ یہاں کے ڈرائیور چلاتے بھی تو آندھی کی طرح ہیں۔۔۔ جیکی ضرور اس کے نیچے آ گیا ہے۔ وہ اسے دیکھنے کے لیے آگے بڑھا ہو گا۔۔۔ لیکن توقیر بھائی! ہوتھی مارکیٹ ہے کہاں؟ وہاں اور بھی بڑے بڑے کتے ہوں گے۔ وہ اسے مار دیں گے۔ آوارہ کتے پنے والے کتے کو مار دیا کرتے ہیں۔ مار دیتے ہیں نا؟ ان کی دشمنی ہوتی ہے نا؟۔۔۔پر یہ خان بڑا ظالم ہے۔ مزا تو جب تحا جیکی بڑا ہو جاتا۔ پھر یہ اسے پھینک کے آتا'۔۔۔پھر اس نے پلٹ کر توقیر بھائی کو دیکھا جو مزے سے سگریٹ پی رہے تھے۔ بے چین ہو کر بولا، 'توقیر بھائی! آپ کسی سے پوچھتے تو ہیں نہیں۔۔۔ ایسے گھومنے سے ہوتھی مارکیٹ کا کیسے پتہ چلے گا؟'
پھر ایک دم وہ بائیں بریک دبا کر چلایا، 'ذرا ٹھہریے! وہ دیکھیے وہ بھونک رہا ہے۔ یہ اس کی آواز ہے۔ آپ پہچانتے نہیں۔ جیکی! جیکی! پچ! پچ!' اھسان بے قرار ہو کر ٹانگیں مارنے لگا۔ 'ادھر موڑئیے بھائی جان۔ اس طرف! یہاں سے آواز آتی ہے۔ ہائے صاف جیکی بول رہا ہے۔ آپ پہچانتے نہیں اس کی آواز! اس کو یہاں آئے اتنے دن ہو گئے اور آپ ابھی تک جیکی کی آواز نہیں پہچان سکے۔ ذرا تیز چلائیے توقیر بھائی۔۔۔ دیکھئے، سنیے! بالکل جیکی بول رہا ہے۔ ہائے میرا جیکی۔۔۔ جیکی، جیکی!' آواز گلی کی دونوں دیواروں سے ٹکرائی اور کتا خاموش ہو گیا۔ 'دیکھا، توقیر بھائی۔۔۔' احسان نے خوش ہو کر کہا، 'میری آواز پہچانتا ہے۔ جیکی ہے نا!'
لیکن جب توقیر بھائی نے سائیکل اس کے پاس لے جا کر روکی تو سفید رنگ کا ایک غلیظ سا پلا انہیں دیکھ کر غرانے لگا۔ سائیکل سے اتر کر احسان نے کہا، 'بالکل ویسی ہی آواز نکال رہا تھا۔' اور مایوس ہو کر آہستہ آہستہ چلنے لگا۔ گلی کے موڑ پر دودھ کا گرم گرم گلاس اٹھائے ایک آدمی سے اس نے پوچھا، 'ہوتھی مارکیٹ کہاں ہے؟' تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ احسان پھر خاموش ہو کر چلنے لگا۔ توقیر بھائی نے رائے دی کہ سائیکل پر سوار ہو کر چکر لگائے جائیں۔ نہیں تو دیر ہو جائے گی اور پلا کہیں دور نکل جائے گا مگر اس نے سنا نہیں۔ ایسے ہی چلتا رہا۔ بہت سے کتے ادھر ادھر کھیل رہے تھے مگر ان میں جیکی نہیں تھا۔ کوئی بہت بڑا تھا، کوئی بہت چھوٹا۔ جیکی کے جسم کا ایک بھی کتا نہ تھا۔ کھمبے کے نیچے کھڑے ہو کر ایک داڑھی والے آدمی سے اس نے پوچھا، 'ہوتھی مارکیٹ کہاں ہے؟'
'چو؟'
'میں ہوتھی مارکیٹ کا راستہ پوچھتا ہوں۔ ہمارا کتا گم ہو گیا ہے۔ اس کا نام جیکی تھا۔ یہ میرے بھائی ہیں۔ ہم اپنے کتے کو تلاش کر رہے ہیں۔ خان اسے ہوتھی مارکیٹ پھینک آیا ہے اور ہمیں مارکیٹ کا پتہ نہیں۔۔۔'
'ھوتھی مارکیٹ ژا نھن اھی رستو و جیئی'
احسان پھر چلنے لگا تو توقیر بھائی نے اس کا کندھا ہلا کر سائیکل پر بیٹھنے کو کہا اور جب وہ سوار ہو گئے تو وہ آدمی انہیں دیر تک دیکھتا رہا۔
لارنس روڈ سے حاجی کیمپ کو مڑتے ہوئے احسان سائیکل سے ایک دم پھسل پڑا اور چلا، 'وہ رہا سامنے توقیر بھائی، وہ!' اور واقعی جیکی سامنے کھڑا تھا۔ بھورا رنگ، دبلا جسم اور پتلی قلم سی دم! سائیکل کو اپنے قریب آتے دیکھ کر وہ خوف سے ایک طرف بھاگا۔ احسان چلایا، 'جیکی! جیکی!' مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی اور جب وہ بجلی کے ایک بلب کی روشنی تلے سے گذرا تو احسان رک گیا۔ وہ جیکی نہیں تھا۔ سیاہ بالوں والا کوئی آوارہ پلا تھا۔ اس کے گلے میں کوئی پٹہ نہ تھا اور اس کی چال وحشت ناک تھی۔ دیوار سے اُلے اتارتی ہوئی ایک عورت سے اس نے پوچھا، 'مائی ہوتھی مارکیٹ کدھر ہے؟' تو ہ نہایت نرم لہجے میں بولی، 'پتہ نہیں بیرا، اسی تاں پنائی آں!' وہ پھر اپلے اتارنے لگی۔ احسان مایوس ہو کر رک گیا۔ خان بہت برا آدمی ہے، اس نے سوچا۔ اسے ایسی جگہ لے جا کر پھینکا جس کا کسی کو علم ہی نہیں۔ پھر وہ ہر راہگیر کو روک کر پوچھتا رہا مگر کسی نے تسلی بخش جواب نہ دیا۔ سائیکل کے پاس آ کر اس نے توقیر بھائی سے کہا، 'اگر ہوتھی مارکیٹ میں بڑے کتے نہیں ہیں تو وہ زندہ ہے اور جا کر چھوٹے کتوں کا سردار بن گیا ہے کیونکہ اس کا سر بہت بڑا ہے۔ نور دین نے مجھے بتایا تھا۔ ایسے کتے ریچھ کا شکار کیا کرتے ہیں لیکن اگر۔۔۔ پر بڑے کتے تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔' پھر وہ خود ہی خاموش ہو گیا اور آہستہ سے اچک کر سائیکل کے ڈنڈے پر بیٹھ گیا۔
سڑکیں سنسان ہوتی گئیں اور پھٹپھٹاتی ہوئی سائیکل ادھر ادھر گھومتی رہی۔ لارنس روڈ، لالو ککو روڈ، نسرواں جی سٹریٹ، آدم جی لین، گاڑی کھاتہ اور راما سوامی بہت سے پلے جیکی طرح بھونک رہے تھے۔ بہت سوں کا رنگ اس جیسا تھا۔ اکثر اس جیسے نحیف اور کمزور تھے۔ کوئی کوئی شاید بڑے سر والا بھی تھا۔ کسی کی چال ایسی تھی، کوئی بھاگتا اسی انداز سے تھا لیکن جیکی کوئی نہیں تھا۔
اسی طرح گھومتے گھومتے بارہ بج گئے۔ لارنس روڈ ویران ہو گئی۔ سینما کے تماشائی گذر گئے۔ سپاہی گھومنے لگے اور کتے اپنی کمین گاہوں میں دبک کر سو گئے۔
'چلیے اب واپس چلیں۔' احسان نے پیچھے مڑ کر توقیر سے کہا، 'بہت رات ہو گئی۔۔۔ اب جیکی نہیں ملے گا۔ مجھے پتہ ہے یا تو اسے بڑے کتے پھاڑ دیں گے یا وہ خود ٹریم کے نیچے آ کر کچلا جائے گا۔ ہم اسے نہیں ڈھونڈ سکتے۔۔۔ امی کہتی تھیں، پھر پھرا کر خود ہی آ جائے گا لیکن وہ کیوں آئے۔ ہمارے یہاں کون اس سے پیار کرتا تھا۔۔۔ لیکن جیکی زندہ نہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ مر گیا ہے ورنہ اتنی تلاش ضرور اس کا پتہ بتا دیتی۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو ضرور میری آواز سنتا لیکن وہ زندہ نہیں۔۔۔ کوئی گلی کے کتے کو کب پالتا ہے اور کسی کو کیا خبر کہ وہ آوارہ کتا نہیں ہے۔ خان کا بھی اس میں کیا قصور ہے۔ جب اللہ میاں مارنے والا ہو تو ہم خان کو برا کیوں کہیں؟ امی!۔۔۔ لیکن اس نے اگر قالین پر پیشاب کر دیا تھا تو کیا ہوا۔ میں خود دھو دیتا۔' پھر اس کے آنسو ڈھلکنے لگے۔ 'پر جیکی! وہ زندہ نہیں۔ اگر وہ زندہ ہوتا تو میری آواز سن کر بھاگا آتا۔ آپ کو پہچان لیتا۔ کتے تو بو سونگھ کر میلوں دور چلے جایا کرتے ہیں۔۔۔ یہ دیکھئے توقیر بھائی! یہ وہ جگہ ہے جہاں ہماری بڑی ماں ٹریم سے ٹکر کر مری تھیں، وہ یہاں اللہ دین نائی سے پھوڑے پر مرہم لگوانے آئی تھیں اور ایک گھنٹے میں ان کی لاش ہمارے گھر پہنچ گئی تھی۔ بڑی اماں نے بھی ٹریم پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ مرہم لگوانے ہر روز وکٹوریہ پر جایا کرتی تھیں۔ پر اس دن پتہ نہیں ان کے جی میں کیا آئی کہ ہماری طرح بھاگ کر چڑھنے لگیں۔ پاؤں پھسلا اور گرتے ہی بس ختم ہو گئیں اور جیکی تو کئی گھنٹوں سے گم ہے لیکن مجھے پتہ ہے وہ گم نہیں۔۔۔ مجھے پتہ ہے وہ گم نہیں۔!'
پیر بخاری کے مزار سے گذرتے ہوئے احسان نے کہا، 'ذرا رکیے بھائی جان۔ ذرا سی دیر کے لیے۔' اور جب سائیکل رکی تو درگاہ کی چھوٹی سی دیوار پھاند کر اندر چلا گیا اور اپنی جیب کچھ نکال کر اور قبر پر رکھ کر دعا مانگنے لگا۔ دیر تک وہ اسی طرح لب ہلاتا رہا۔ اس کے ریشمی گھنگھریالے بال چوراہے کی بجلی میں پیچ در پیچ سنہری آرزؤں کی طرح جلتے بجھتے معلوم ہوتے تھے۔ پھڑپھڑاتی ہوئی چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور تیزی سے ہونکتے ہوئے نتھنے اس کی ضبط کی غمازی کر رہے تھے اور جب وہ دیوار پھاند کر باہر آنے لگا تو بولا، 'توقیر بھائی، پیر بخاری کرے اگر وہ زندہ ہے تو آرام سے رہے۔ اسے کوئی صاحب پال لے یا وہ کتوں کا سردار بن جائے۔۔۔ قران شریف کی قسم! میں نے پانچ پیسے اس لیے نہیں چڑھائے کہ وہ مجھے واپس مل جائے بلکہ اس لیے چڑھائے ہیں کہ جیکی زندہ رہے اور کوئی اسے تکلیف نہ پہنچے۔ پیر بخاری سب کی بات پوری کر دیتے ہیں۔ شاید میری۔۔۔ میری بھی۔۔۔' پھر اس کی آواز بھرا گئی اور اس کی آنکھوں میں پانی جھلملانے لگا۔ باہر آنے سے پہلے اس نے اپنی جیب میں پھر ہاتھ ڈالا اور بولا، 'ایک پیسہ رہ گیا ہے۔ اسے بھی چڑھائے دیتا ہوں۔ شاید جیکی زندہ۔ شاید وہ زندہ رہے۔۔۔!'
اور جب وہ باہر آیا تو پھر رونے لگا، اسی شدت سے جب وہ گھر سے نکلتے وقت رویا تھا۔ اس کی سانس پھر ہچکولے لینے لگی اور وہ سسکیاں بھرتا سائیکل پر بیٹھ گیا۔
ایک بج چکا تھا۔ ساری کالونی سو چکی تھی۔ صرف باجی لالٹین سیڑھیوں پر رکھے برآمدے کے ستون سے لگی بیٹھی تھی۔ جب وہ دونوں سامنے سے آتے دکھائی دیے تو اس نے اطمینان کا سانس لیا اور لالٹین اٹھا کر اندر چلی گئی۔ برآمدے میں ابا جی، انوار بھائی، خان اور انصار بھائی خراٹے لے رہے تھے۔ اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے توقیر نے احسان کو دیکھا۔ وہ چادر کندھوں پر ڈالے چارپائی پر بیٹھا تھا۔ 'اب سو رہو احسان!' انہوں نے کمبل لپیٹ کر کہا، 'کل پھر کوشش کریں گے۔' احسان نے کوئی جواب نہیں دیا اور چپ چاپ ویسے ہی لیٹ گیا۔
یہ شب ماہ نہ تھی۔ اس وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا لیکن سمندر کے کنارے گھٹا ٹوپ اندھیرا کبھی نہیں چھاتا۔ ستاروں کی روشنی سمندر میں منعکس ہو کر تاریکی کو سرمئی بنا دیتی ہے یا وہ اجالا ہی مٹیالا سا ہوتا ہے۔
توقیر سو گیا!
کوارٹر کے باہر بندھی ہوئی بھینس جگالی کر رہی تھی۔ اس کی کٹیا لکڑی کے ڈبے پر تھوتھنی ٹکائے سو رہی تھی۔ خان کے خراٹوں میں چاقو تیز کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ انوار بھائی سوتے میں انگریزی بولنے لگے اور دیر تک بولتے رہے۔ ہوا کی تیزی سے برآمدے کے پردے پھڑپھڑا رہے تھے۔ ایک عجیب طرح کا بے چین سا سکوت تھا۔ ہر ایک کی سانس آواز دے رہے تھی اور ہر ایک چپ چاپ سویا ہوا تھا۔ احسان نے دو چار کروٹیں بدلیں اور پھر اٹھ کر بیٹھ گیا اور جیکی کے متعلق سوچنے لگا۔ اس کی پیدائش، پرورش، اس کی طویل بیماری، اس کے معرکے، اس کی سمجھ داری، بہادری، جانثاری، فرض کی ادائیگی اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ اس کے ذہن میں کوہ قاف کی پریوں کی طرح تھرکنے لگا۔ اسے جیکی کی زندگی کا ایک ایک دن یاد آ رہا تھا۔ ایک ایک لمحہ، ایک ایک ثانیہ! اس کا دل اونچے اونچے رونے کو چاہ رہا تھا۔ پر سارے سو رہے تھے۔ وہ دل میں جیکی لمبی عمر اور روشن مستقبل کی دعائیں مانگنے لگا۔ ایسی دعائیں جن سے مشیت کو ذرا بھی دلچسپی نہیں۔ سوچتے سوچتے اسے بہت سی ایسی چیزیں یاد آ گئیں جو کعبہ کے قادر نے تلاش کر دی تھیں۔ وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور آنکھیں موند کر وظیفہ کرنے لگا۔
یا کعبے کے قادر!
میرا جیکی کر دے حاضر!



ایک گھنٹہ، دو گھنٹہ! اور پتہ نہیں کتنی دیر تک اور وہ یہی وظیفہ کرتا رہا۔ گلی میں ہلکے ہلکے قدموں کی آہٹ ہوئی اور اسے لگا کہ جیکی بھینس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ احسان چارپائی سے ایک دم اچھلا اور چلایا، 'جیکی!' جی اس کی زقند سے ہڑبڑا کر بھاگا اور وہ اس کے پیچھے جیکی! جیکی! کے نعرے مارتا دوڑا۔ ننگے پاؤں، ننگے سر، وہ جیکی کے پیچھے شور مچاتا بگٹٹ جا رہا تھا۔ توقیر اس کی آواز سن کر اٹھ بیٹھا اور اسی طرح برہنہ پا اس کے پیچھا بھاگا لیکن احسان اور جیکی کالونی کی حدیں پار کر کے ندی کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔ پھر ندی گزر گئی۔ گولی مار گاؤں آ گیا۔ گھنا باغ، عیسائیوں کی قبریں۔ وہ جیکی کے پیچھے دیوانہ وار بڑھتا چلا گیا۔ پہلے پہل توقیر کو اس کی آوازیں سنائی دیتی رہی لیکن پھر آہستہ آہستہ جیسے کنوئیں میں ڈوب گئی۔۔۔ وہ اپنے اندازے لگا کر پیچھا کرتا رہا۔ اونچی نیچی، بھربھری چٹانیں، پیچ کھاتی ہوئی ندی، کوڑے کے ڈھیر، خاردار تھوہر، قبرستان، املی کے درخت، ہڈیوں کا کارخانہ۔۔۔ وہ ان کے گردونواح میں گھومتا رہا مگر بے سود حتیٰ کہ اس کے پاؤں زخمی ہو گئے۔ گلا بیٹھ گیا اور اس کی ہمت نے جواب دیا۔ پو پھٹے توقیر گھر واپس آیا۔ سب برآمدے میں جمع تھے۔ باجی چیخیں مار مار کر رو رہی تھی۔ آپی اور منی آپا کے آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے۔ صرف امی چپ تھیں۔ انوار بھائی سائیکل پر سوار ہو کر کہیں روانہ ہو چکے تھے۔ خان نے لاٹھی ہاتھ میں لے کر دروازے پر ایک الوداعی نگاہ ڈالی اور چل دیا۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ اگر احسان نہ ملا تو گھر واپس نہ آئے گا۔ ابا جی نے وکٹوریہ میں بیٹھے ہوئے کوچوان سے کہا، 'مجھے کچھ خبر نہیں۔ جہاں تمہارا دل چاہے لے چلو!' جب وکٹوریہ چل دی تو باجی کے ساتھ آپی اور منی آپا بھی چیخیں مارنے لگیں۔ امی نے انہیں اس طرح سے چلاتے دیکھ کر سر ہاتھوں میں تھام لیا اور پلنگ پر بیٹھ گئیں۔ سامنے کھڑکی کی سلاخ میں زنجیر اسی طرح لٹک رہی تھی۔ ایلومینیم کا کٹورا فرش پر اوندھا پڑا تھا اور احسان کی چارپائی پر اس کے سر رنگ والی چادر کفن کی طرح پڑی تھی۔ امی نے جھٹ سے وہ چادر اچک کر سر پر ڈال لی اور پھر ایکا ایکی برآمدے سے ننگے پاؤں باہر نکل گئیں۔ انہیں اس طرح جاتے دیکھ کر چیخیں اچانک تھم گئیں لیکن کسی کو انہیں آواز دینے کی ہمت نہ ہوئی۔
پیر بخاری کے سبز غلاف کو بوسہ دے کر امی نے سوا روپیہ وہیں رکھ دیا جہاں پہلے چھ پیسے پڑے تھے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں!
اشفاق احمد کے دوسرے افسانے