نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

June, 2018 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم

غلطی

اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی پکڑنا اور غلطی کی نشاندہی کرنا انسانی فطرت میں شامل ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ہر حال میں یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان غلطی بھی کرتا ہےاورناکام بھی ہوتا ہے ۔ اور اپنی ترقی کے راستے پہ رک بھی جاتا ہے ۔ لیکن اس ساری کائنات میں صرف خدا کی ذات وہ ہستی ہے جو نہ تو کبھی غلطی کرتی ہے اور نہ ہی کبھی ناکام ہوتی ہے ۔ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی غلطیاں پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں یا جو ہر وقت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر افسوس کرتے رہتے ہیں وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ اور جب ان سے خدا نہیں بنا جاتا کہ ایسا ممکن ہی نہیں تو پھر وہ شیطان بننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور اس میں اپنا اور دوسروں کا نقصان کر نا شروع کر دیتے ہیں ۔ اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 417

مشکلات

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔
اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس

بغداد کا نوجوان

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی "جمور" یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟ اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا "یہ تو کوئی اور ہی بات ہے" اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ؟


اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والد…

ملٹی نیشنل خواہشیں

پچھلی گرمیوں کا آخری مہینہ میں نے اپنے بھانجے جاوید کے گھر گزارا- اُس کے گھر میں ایک بڑا اچھا سوئمنگ پول ہے۔اُس کا ایک چھوٹا بیٹا ہے۔اُس کے بیٹے کا ایک چھوٹا کُتّا "جیکی" ہے- میں کُتّوں بارے میں چونکہ زیادہ نہیں جانتا اس لیے اتنا سمجھ سکا ہوں کہ وہ چھوٹے قد کا نہایت محبّت کرنے والا اور تیزی سے دُم ہلانے والا کُتّا ہے-جیکی کی یہ کیفیت ہے کہ وہ سارا دن کھڑکی کی سل پر اپنے دونوں پنجے رکھ کر کھڑکی سے باہر دیکھتا رہتا ہے اور جب آوارہ لڑکے اسے پتھر مار کر گُزرتے ہیں تو وہ بھونکتا ہے- جب آئس کریم کی گاڑی آتی ہے تو اُس کا باجا سُنتے ہی وہ اپنی کٹی ہوئی دُم بھی "گنڈیری“ کی طرح ہلاتا ہے اور ساتھ بھونکنے کے انداز میں " چوس چوس“ بھی کرتا ہے (شاید اُسکی آرزو ہو کہ مجھے اس سے کچھ ملے گا)- پھر جب غبّارے بیچنے والا آتا ہے تو وہ اُس کےلئے بھی ویسا ہی پریشان ہوتا ہے اور وہ منظر نامہ اُس کی نگاہوں کے سامنے سے گُزرتا رہتا ہے- پھر جس وقت سکول سے اُ س کا محبوب مالک توفیق آتا ہے تو پھر وہ سل چھوڑ کر بھاگتا ہےاور جا کر اُس کی ٹانگوں سے چمٹتا ہے۔


شام کے وقت جب وہ سوئمنگ پول میں نہاتے ہیں او…

محبت کی حقیقت

محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں۔ جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔  اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے اور انا کی موت مکمل آزادی ہے۔


پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…

ان سے بھی عید ملیے۔۔۔

تھانے میں جب اندر داخل ہوا تو میں نے کہا جناب اجازت ہے؟ کہنے لگے! فرمائیے جناب عالی ۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں، میں تو آپ سے ملنے آیا ہوں ۔ کہنے لگا جی حکم ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پاؤں اتار دیے میز سے اور بیٹھ گئے۔ تھانے والے جناب عالی یا جنابِ اعلیٰ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ ان کا ایک انداز ہے تو کہنے لگے جنابِ عالی کیا کام ہے ؟ میں نے کہا کوئی کام نہیں ، میں تو ایسے ہی آیا ہوں آپ سے ملنے ۔ کہنے لگا ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی تھانے میں آئے اور اس کا کوئی کام نہ ہو ۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں ، میں اس غرض سے نہیں آیا ۔ آپ ایس ایچ او ہیں ؟ کہنے لگا ! جی ، میں ایس ایچ ہوں ۔۔۔۔ میں نے کہا ، میں آپ سے عید ملنے کے لیے آیا ہوں تو وہ بڑے حیران سے ہوئے اور کہنے لگے ۔۔۔ بڑی مہربانی وعلیکم عید مبارک ۔ میں نے کہا دیکھیے تھانیدار صاحب وعلیکم عید مبارک ایسے تو نہیں ہو جاتی ۔ آپ کو اٹھ کر کھڑا ہونا پڑے گا اور پھر میرے ساتھ عید ملنے پڑے گی یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا عید ملنے کا ۔ میں اتنی دور سے آیا ہوں ۔ ان کو میری بات سمجھ نہیں آئی تو میں نے گستاخی کرتے ہوئے ان کے کندھوں سے پکڑ کر جہاں اسٹارز لگے ہوئے تھے ان…

گدھا وہی لیکن تھڑا نیا ہے۔۔۔

پرانے زمانے میں بچے آزاد کھیلتے تھے اور جب وہ جوان ہوتے تو سردار کی بتائی ہوئی رسم کے مطابق انہیں جنگجو گروہوں مین شامل کر لیا جاتا تھا ۔ اب جب بچہ جوان ہو جاتا ہے تو اس کو ڈگری دے کر اور ملازمت کی رسم ادا کر کے اداروں میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔ پرانے زمانے میں جوان کو شکار مارنے، شکار تلاش کرنے، اور موقع آنے پر دوسرے قبیلے کے لوگوں کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا۔ آج کے زمانے میں اُسے روٹی کما کر لانے، اس کا ذخیرہ جمع کرنے، اور مدِ مقابل کو شکست دے کر اپنے لیے نئی راہیں پیدا کرنے پر متعین کیا جاتا ہے۔

بندہ بچا لو۔۔۔

میں پہلے تو نہیں اب کبھی کبھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ عمر کے اس حصّے میں میری طبیعت پر ایک عجیب طرح کا بوجھ ہے، جو کسی طرح سے جاتا نہیں- میں آپ سے بہت سی باتیں کرتا ہوں- اب میں چاہوں گا کہ میں اپنی شکل آپ کے سامنے بیان کروں اور آپ بھی میری مدد کریں، کیونکہ یہ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ مجھ جیسے پریشان اور درد مند آدمی کا سہارا بن جائیں- ہمارے بابے جنکا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی محفل میں کسی یونیورسٹی، سیمینار، اسمبلی میں، کسی اجتماع میں یا کسی بھی انسانی گروہ میں بیٹھے کوئی موضوع شدّت سے ڈسکس کر رہے ہوں اور اُس پر اپنے جواز اور دلائل پیش کر رہے ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آجائے جو بہت طاقتور ہو اور اُس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا کیونکہ اُس آدمی کے پاس اس دلیل کی کاٹ نہیں ہو گی- شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آ گئی ہے کہ یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا- اس موقع پر”بابے“ کہتے ہیں کہ"اپنی دلیل روک لو، بندہ بچا لو، اسے ذبح نہ ہونے دو، کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے-“

نوٹ: محبوب وہ ہوتا ہے۔۔۔

میری بیوی (بانو قدسیہ) اپنے بیٹے کو، جو سب سے بڑا بیٹا ہے، اس کو غالب پڑھا رہی تھی، وہ سٹوڈنٹ تو سائنس کا تھا، B.Sc کا، اردو اس کا آپشنل مضمون تھا۔ غالب وہ پڑھا رہی تھی تو وہ اوپر بیٹھا کچھ توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نیچے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ہماری ایک میانی سی ہے اس پر بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو میری بیوی نے آواز دے کر شکایت کی کہ دیکھو جی یہ شرارتیں کر رہا ہے، اور کھیل رہا ہے کاغذ کے ساتھ ، اور توجہ نہیں دے رہا۔ میں اس کو پڑھا رہی ہوں۔ تو اس نے کہا، ابو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ امی کا قصور ہے۔ اس سے پوچھ رہا ہوں۔ امی محبوب کیا ہوتا ہے، اور یہ بتا نہیں سکتیں کہ محبوب کیا ہے۔ میں نے کہا، بیٹے میں بتاتا ہوں کہ محبوب وہ ہوتا ہے جس سے محبت کی جائے۔ کہنے لگا، یہ تو آپ نے ٹرانسلیشن کر دی۔ ہم تو سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں ہم اس کی Definition جاننا چاہتے ہیں کہ محبوب کیا ہوتا ہے۔ یہ امی نے بھی نہیں بتایا تھا۔ آپ ایک چھوڑ کر دو ادیب ہیں۔ دونوں ہی ناقص العقل ہیں کہ آپ سمجھا نہیں سکے۔ میں نے کہا، یہ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ یہ تو ہم نے اس کا ٹرانسلیشن کر دیا، لیکن محبوب کی Definition تو نہیں دے سکے …

ڈپریشن کا علاج: بونگیاں

" ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈپریشن کے مرض سے پریشان ہیں کروڑوں روپے کی ادویات سے ڈپریشن ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور یہ مرض ایسا ہے کہ خوفناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اچھوت کی بیماری لگتا ہے ۔ ہمارے بابے جن کا میں ذکر کرتا ہوں۔اور وہ بھی اس Stress یا ڈپریشن کے مرض کا علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں تا کہ لوگوں کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جائے ۔پرسوں ہی جب میں نے باباجی کے سامنے اپنی یہ مشکل پیش کی تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ڈپریشن کے مریض کو اس بات پر مائل کر سکتے ہیں کہ وہ دن میں ایک آدھ دفعہ​ " بونگیاں ' مار لیا کرے ۔ یعنی ایسی بات کریں جس کا مطلب اور معنی کچھ نہ ہو ۔ جب ہم بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے اور جوہڑ کے کنارے جاتے تھے اور اس وقت میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت بھی پاپ میوزک آج کل کے پاپ میوزک سے بہت تیز تھا اور ہم پاپ میوزک یا گانے کے انداز میں یہ تیز تیز گاتے تھے ​ ' مور پاوے پیل​ سپ جاوے کھڈ نوں ​ بگلا بھگت چک لیا وے ڈڈ نوں ​ تے ڈڈاں دیاں لیکھاں نوں کون موڑ دا '​ ( مور ناچتا ہے جبکہ سانپ اپنے سوراخ یا گڑھے میں جاتا ہے ۔ بگلہ مینڈک …

سنگ دل (آخری حصہ)

رات کو امر اپنی چارپائی میرے کمرے میں اٹھا لایا۔ بہت دیر تک باتیں کرتا رہا لیکن میں نے شاید ہی اس کی کسی بات کا جواب دیا ہو۔ پر جب وہ پمی کی کوئی بات کرتا تو میں غور سے سنتا اور شوق سے جواب دیتا۔ سونے سے پہلے اس نے اپنی قمیص اتار کر رکہا، 'آپ کو پمی جتنی اچھی لگتی ہے، مجھے اتنی ہی بری!' اور پھر کروٹ بدل کر خاموش ہو گیا۔ دوسرے دن صبح پمی نے امر کو جھنجھوڑتے ہوئے میرے گال پر بھی ایک ہلکا سا طمانچہ لگا دیا۔ میں نے ویسے ہی آنکھیں بند کیے ہوئے جواب دیا، 'بھئی ہم تو جاگ رہے ہیں، یہ سزا کس جرم کی ہے؟' 'جاگ رہے ہیں تو اٹھیے نا!' اس نے میری ناک اینٹھی، 'جب بڑی ہی دن کے دس بجے تک سویا کریں گے تو چھوٹوں سے کوئی کیا کہے گا؟' جب میں اٹھ کر بیٹھ گیا تو اس نے امر کی الٹی قمیص سیدھی کرتے ہوئے کہا، 'اتنی چھوٹی ریاست سے اتنی بڑی تنخواہ پاتے ہو۔ کچھ کام بھی کر لیا کرو!' میں نے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی فائلوں کا پلندہ اٹھا لیا اور بغیر کچھ بولے کاغذات الٹنے لگا۔ پمی جو کہتی تھی، اس کا جواب دینے کی بجائے اس پر عمل کرنے کا لطف آتا تھا۔ امر سکول چلا گیا تو وہ نمک مر…

سنگ دل (پہلا حصہ)

خداداد چبوترے پر بیٹھا سٹین گن کے دستے سے کوئلے توڑ توڑ کر انگیٹھی میں ڈال رہا تھا۔ ایک کونے میں نون مرچ رگڑنے کا ڈھنڈا کھڑا تھا اور دوسرے میں آنے کا کنستر پڑا تھا جو انڈین پینل کوڈ کی جلد سے ڈھکا تھا۔ چھلنی میں سرخ سرخ مرچیں، نمک کی ڈلیاں اور ہلدی کی گرہیں پڑی تھیں۔ دسترخوان کا ایک کونہ ان پر تھا اور دوسرا گندھے ہوئے آٹے پر۔ سالن کا ایک حصہ پک چکا تھا اور پاقی دیگچیوں میں پڑا تھا۔ کوئلے توڑتے توڑتے خداداد نے سر اٹھا کر اندر بیٹھی ہوئی بازیافتہ لڑکیوں سے پوچھا، 'گوشت بھوننا جانتی ہو؟' ایک نے مدھم آواز میں جواب دیا، 'اوں ہوں!' دوسری نے نفی میں سر ہلا دیا۔ 'ٹماٹر، پیاز اور پودینہ کا کچومر بنا لو گی؟' اس دفعہ دونوں خاموش رہیں۔ 'تو پھر حقہ ہی تازہ کر دو۔' 'اچھا!' وہ دونوں یک زبان ہو کر بولیں اور ایک ساتھ اٹھ کر اندر سے حقہ اور چلم اٹھا لائیں۔ ایک نے ڈرتے ڈرتے سٹین گن کا میگزین پانی کے لوٹے پر سے اٹھایا اور طاق میں رکھ دیا اور آہستہ آہستہ پانی چھوڑ کر حقہ تازہ کرنے لگی۔ دوسری نے طاق میں پڑے ہوئے میگزین کو دور ہی سے دیکھا اور چلم کا چغل سونگھتے ہوئے …