نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سنگ دل (آخری حصہ)


رات کو امر اپنی چارپائی میرے کمرے میں اٹھا لایا۔ بہت دیر تک باتیں کرتا رہا لیکن میں نے شاید ہی اس کی کسی بات کا جواب دیا ہو۔ پر جب وہ پمی کی کوئی بات کرتا تو میں غور سے سنتا اور شوق سے جواب دیتا۔ سونے سے پہلے اس نے اپنی قمیص اتار کر رکہا، 'آپ کو پمی جتنی اچھی لگتی ہے، مجھے اتنی ہی بری!' اور پھر کروٹ بدل کر خاموش ہو گیا۔
دوسرے دن صبح پمی نے امر کو جھنجھوڑتے ہوئے میرے گال پر بھی ایک ہلکا سا طمانچہ لگا دیا۔ میں نے ویسے ہی آنکھیں بند کیے ہوئے جواب دیا، 'بھئی ہم تو جاگ رہے ہیں، یہ سزا کس جرم کی ہے؟'
'جاگ رہے ہیں تو اٹھیے نا!' اس نے میری ناک اینٹھی، 'جب بڑی ہی دن کے دس بجے تک سویا کریں گے تو چھوٹوں سے کوئی کیا کہے گا؟'
جب میں اٹھ کر بیٹھ گیا تو اس نے امر کی الٹی قمیص سیدھی کرتے ہوئے کہا، 'اتنی چھوٹی ریاست سے اتنی بڑی تنخواہ پاتے ہو۔ کچھ کام بھی کر لیا کرو!'
میں نے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی فائلوں کا پلندہ اٹھا لیا اور بغیر کچھ بولے کاغذات الٹنے لگا۔ پمی جو کہتی تھی، اس کا جواب دینے کی بجائے اس پر عمل کرنے کا لطف آتا تھا۔
امر سکول چلا گیا تو وہ نمک مرچ لگے کھیرے کی پھانکیں کھاتے ہوئے کمرے میں آئی۔ ایک پھانک مجھے دے کر کہا، 'اس میں فولاد ہوتا ہے۔ ہر روز نہار منہ کھانے سے آدمی ایسا ہو جاتا ہے۔' اس نے اپنا عنابی دوپٹہ دکھایا۔ میں پھانک کھانے لگا اور اس نے کھونٹی سے میرا ہیٹ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ پھر آئینے میں دیکھ کر بولی، 'میں تم لگتی ہوں نا؟'
میں ہنسا تو اس نے ہیٹ ذرا ٹیڑھا کر کے کہا، 'اب تو لگتی ہوں نا۔ یہ دیکھو تمہارےایسی ٹھوڑی اور یہ ٹھوڑی کا تل۔ ہو بہو تمہاری ناک ہے اور تمہاری چھوٹی چھوٹی آنکھیں۔۔۔ اور یہ دیکھو۔ یہ تمہارے ماتھے کی لمبی لمبی سلوٹیں۔' پھر اس نے اپنی لٹکتی ہوئی چوٹی کا گھچا بنا کر ٹوپ میں رکھ لیا اور بولی، 'اب؟'
میں کچھ جواب بھی نہ دینے پایا تھا کہ وہ کرسی پر ٹانگ رکھ کر بولی، 'تمہیں نجمہ سے محبت تھی؟'
میں بوکھلا گیا، 'محبت؟ لیکن یہ تمہیں کہاں سے یاد آ گیا؟'
'ایسے ہی۔۔۔ جب ہمارے اسکول میں ڈرامہ ہوا تھا تو نجمہ انگینی بنی تھی۔۔۔ بتاؤ نا تمہیں اس سے محبت تھی؟'
میں نے جواب دیا، 'نہیں!'
'لیکن اسے تو تھی۔'
'ہو گی۔۔۔ کون ہے دنیا میں جو یہ حماقت نہیں کرتا؟'
اس کا لہجہ ایک دم بدل گیا۔ گھٹی ہوئی آواز میں اس نے میرے ہی الفاظ دہرائے۔ 'ہاں۔۔۔ کون ہے دنیا میں جو یہ حماقت نہیں کرتا!'
'لیکن پمی!' میں نے اس کا راستہ روک لیا، 'یہ حماقت کوئی بری چیز تو نہیں۔'
'بھئی ہو گا!' اور وہ چلی گئی۔ اتنے میں خداداد آ گیا۔ اس نے بتایا کہ محمد دین ٹرک لے کر آ گیا ہے۔ وہ ان دونوں لڑکیوں کو ہندوستان لے جائے گا کیونکہ اب ان کا زیادہ دیر یہاں رہنا مناسب نہیں۔
میں نے کہا، 'ٹھیک ہے لیکن تم محمد دین کو ابھی نہ جانے دو۔ کھانا وانا کھلاؤ اور دلگن میں گوندنی کے نیچے اس کی چارپائی ڈال دو۔ اتنا لمبا سفر کر کے آیا ہے۔ ذرا آرام تو کرے۔ کل صبح بھیج دینا۔'



خداداد چلا گیا اور میں بغلی غسل خانے میں جا کر کپڑے اتارنے لگا۔ پانی خوب ٹھنڈا تھا ۔دیر تک نہاتا رہا۔ رات کے باسی پانی ننے جسم میں ایک نئی تازگی پھونک دی۔ ٹھنڈے دماغ نے پمی کے بہت سے برفانی مجسمے تراشے اور تصور کی آنکھ کو ترسانے لگا۔ جب میں نہا کر نکلا تو دونوں بازیافتہ لڑکیاں کوٹھڑی کی دہلیز سے لگی بیٹھی تھیں۔ ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ ان کی نگاہیں پھٹی ہوئی تھیں اور وہ اپنے آپ سے بھی پھٹی ہوئی تھیں۔ میں نے انہیں رحم بھری نظروں سے دیکھا، نہ قہر آلود نگاہوں سے۔ یونہی پاس سے گذرتے ہوئے وہ میرے سامنے آ گئی تھیں۔
دوپہر کو میں چارپائی پر لیٹا اخبار پڑھ رہا تھا۔ پمی بریکٹ صاف کر رہی تھی کہ ڈاک کا ہرکارہ آیا۔ ایک رجسٹر لفافہ لایا تھا۔ میں نے لفافہ ہاتھ میں پکڑ کر ادھر ادھر دیکھا تو پمی نے فوراً اپنا ایور شاپ پن نکال کر مجھے دے دیا۔ میں نے دستخط کیے۔ لفافہ کھول کر پڑھا۔ ایک عرضی تھی، ٹائپ کے دو صفحوں پر مشتمل۔ کسی مغویہ لڑکی کی روداد جو اس کے والدین نے پاکستان سے لکھ کر بھیجی تھی۔ میں پہلی چند سطریں پڑھ کر ہی سارا مضمون سمجھ گیا اور اسے تپائی پر رکھ کر پن سے کھیلنے لگا۔ نب میں ایک گہرا نشیب تھا۔ میں نے پمی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ ایک دفعہ امر نے اس میں تختی پر لکھنے والی روشنائی بھر دی تھی اور پمی نے صفائی کے لیے رومال میں نب لپیٹ کر بڑی مشکل سے دانتوں میں پکڑ پن سے باہر کھینچی تھی۔ جہاں رومال کی تہ اکہری تھی، وہاں دانت کا گہرا نشان پڑ گیا تھا۔ یہ داستان سنا کر پمی ادھر ادھر جھاڑن مارنے لگی۔ تپائی کی باری آئی تو عرضی جھٹکے سے نیچے گر گئی۔ میں نے اٹھا کر پن سے اس کے حاشیہ پر ذرا ٹیڑھا کر کے لکھ دیا، 'بہت کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔'
جب وہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ قرینے سے رکھ چکی تو تپائی سے عرضی اٹھا کر پڑھنے لگی۔ پڑھنے کے دوران میں اس نے مجھ سے انگریزی کے دو مشکل الفاظ کے معنی پوچھے۔ جب پڑھ چکی تو کاغذ ٹیڑھا کر کے میرا ریمارک پڑا اور جھنجھلا کر عرضی کو میری گود میں پھینک دیا، 'کتنے سنگ دل ہو تم؟'
میں نے دیکھا، اس کی آنکھوں میں دھند کا ایک ہلکا سا غبار چھا گیا تھا۔ دن بھر وہ میرے کمرے میں نہ آئی۔ امر بھی غائب رہا۔
مجھے سخت افسوس ہوا کہ اس کو میرے سنگدلانہ رویے سے دکھ پہنچا۔ ندامت بھی تھی لیکن احساس ندامت کے ساتھ ساتھ ایک ایسا خلا تھا جس میں ہر جذبہ ہر احساس آن کی آن میں کھو جاتا۔ میں کام کرتا تھا بالکل مشین کی طرح۔ سوچتا بھی مشین ہی کی طرح تھا۔ جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا تھا۔۔۔ اور بہت دیکھا تھا لیکن اس پر باوجود اس کے کہ میری اپنی آنکھوں نے دیکھا تھا، یقین نہیں آتا تھا۔ ٹرک چل رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے نہ چل رہے ہوں۔ مغویہ لڑکیاں برآمد کی جا رہی ہیں۔ شاید نہ کی جا رہی ہوں۔ پاکستان بن گیا ہے، کیا پتہ ہے نہ بنا ہو۔ میں، میں ہوں اور پمی پمی۔۔۔ ممکن ہے غلط ہو۔۔۔ میں سنگ دل نہیں تھا۔ دراصل پتھروں میں گھر کر پتھرا گیا تھا۔ میرا احساس، میرا تخیل، میرا وجدان سب پتھرا گئے تھے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اچانک میری انگلی میں کوئی چیز چبھی۔ چونکا تو معلوم ہوا کہ عرضی پر سے اپنا لکھا ہوا ریمارک بلیڈ سے کھرچ رہا تھا۔ اب کاغذ پر وہ پتھر نہیں تھے۔ 'بہت کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔'
شام مٹیالی سے اندھیری ہو گئی۔ چمگادڑیں گلی میں ادھر ادھر منڈلانے لگیں۔ ابھی چاند طلوع نہیں ہوا تھا۔ خداداد، محمد خان اور محمد دین چبوترے پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ کبھی کبھار کوئی آدمی ان کے پاس سے گذرتا ہوا صاحب سلام کہہ دیتا تو وہ تینوں یک زبان ہو کر اس کا جواب دیتے۔ حقے کی گڑگڑاہٹ جھیل میں ڈوبتی ہوئی گاگروں کی طرح خوفناک آوازیں نکال رہی تھی۔ دونوں بازیافتہ لڑکیاں ابھی سوئی نہیں تھیں لیکن ان کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں ان کی شکستہ قسمت گہری نیند سو رہی تھی۔ کسی نے آہستہ سے آ کر میرا سر چھوا۔ میں چونکا، پمی لبوں پر انگلی رکھے خاموش کھڑی تھی۔ مجھ پر جھک کر بولی، 'آج میری مدد کرو، میں بڑی بپتا میں ہوں۔'



میں نے حیرت سے پوچھا، 'کیا بات ہے؟'
اس نے سنجیدگی سے کہا، 'مجھے ایک لڑکی اغوا کرنے میں مدد دے سکتے ہو؟'
'اغوا؟'
'شی شی۔' اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اور میز پر سے میرے کاغذات اٹھا کر اٹیچی کیس میں ڈالنے لگی۔ بریکٹ سے کنگھی، تیل اور شیو کا سامان اٹھا کر رکھا، کونے سے سلیپر اٹھا اور ان کو ٹھونسا۔ کھونٹی سے ٹائیاں اتار کر ایک کونے میں گھسیٹ دیں۔ یہ سب کچھ ہو گیا تو مجھ سے مخاطب ہوئی، 'اور کچھ؟'
'اور تو کچھ نہیں۔'
'تو جلدی کرو۔ خداداد سے کہو، برتن سمیٹ کر ٹرک میں رکھے، لڑکیوں کو بٹھائے۔'
میں کچھ سمجھ نہ سکا، 'لیکن تم کیا کر رہی ہو؟'
'ذرا صبر کرو! ذرا صبر کرو!'
اٹیچی کیس اٹھا کر وہ باہر نکل گئی اور اسے محمد دین کے ہاتھوں میں دے کر بولی ، 'اسے لے جا کر ٹرک میں ڈال دو اور یہ سارے برتن بھی اور ان لڑکیوں کو بھی وہیں لے جاؤ!'
محمد دین مجھ سے مخاطب ہوا، 'کیوں صاحب؟'
میں صرف اس قدر کہہ سکا، 'ہاں! ہاں!'
محمد دین جانے لگا تو پمی نے مدھم آواز میں کہا، 'اور دیکھو ٹرکن دلگن سے نکال کر گلی میں لے جانا' پھر خداداد اور محمد خان سے مخاطب ہو کر بولی، 'جاؤ! تم بھی ٹرک میں جاؤ!' خداداد سٹپٹایا ضرور لیکن بڑبڑایا نہیں۔
جب ہم اصطبل کے پہلو سے گذرنے والی اندھیری گلی میں جا رہے تھے تو پمی نے کہنا شروع کیا، 'سجن سنگھ بہت برا آدمی ہے۔ میں نے عرضی میں آج اس کا نام پڑھ کر ہی حسنا کی حالت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ گو وہ پتا جی کا دوست ہے اور میں اسے چاچا کہتی ہوں، پر وہ چاچا کہلانے کا مستحق نہیں۔۔۔ کاش تم نے حسنا کے باپ کی عرضی شروع سے آخر تک پڑھی ہوتی!'
'میں بہت نادم ہوں پمی، مجھے معاف کر دو۔ دراصل۔۔۔' اور میں اسے ساری ٹریجڈی کا نقشہ کھینچ کر اسے اپنے دل کی حالت بیان کرنے ہی والا تھا کہ اس نے جلدی سے کہا، 'ہاں ہاں! میں معاف کر دوں گی۔ ضرور معاف کر دوں گی ۔'ایک دم اس کی آنکھیں اندھیرے میں جگنوؤں کی طرح چمکیں اور اس نے گھبرا کر کہا، 'ذرا تیز قدم اٹھاؤ، چاند نکلنے ہی والا ہے۔'
مجھے سجن سنگھ کے مکان کے پچھواڑے کھڑا کر کے وہ اندر چلی گئی اور دس پندرہ منٹ تک وہاں باتیں کرتی رہی۔ کبھی کبھی مجھے اس کے مصنوعی قہقہے سنائی دیتے جس میں سجن سنگھ اور اس کی بیوی کی کھوکھلی ہنسی بھی شامل ہوتی۔ جب وہ باہر نکلی تو اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ وہ جو کچھ کہتی، سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ بے چین ہرنی کی طرح وہ کبھی ادھر جاتی اور کبھی ادھر۔ تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے دیوار کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کہا۔ میں نے تعمیل حکم کی۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں اور ڈگمگاتی ہوئی ٹانگوں سے وہ میرے کندھوں پر چڑھ کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اس کے بوجھ سے شانوں پر لگے ہوئے میرے سٹار جسم میں کھب گئے۔ زخم خوردہ ٹھوڑی میں نے اس کی گندھی ہوئی چپل کے ریشمی پھول پر رکھ دی۔ ایک یہی علاج تھا۔ جب وہ اترنے لگی تو پیچھے کو ڈول گئی۔ توازن قائم رکھنے کے لیے اس نے میرے بالوں کو اس مضبوطی سے پکڑا کہ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ جب وہ اتر چکی تو چھت سے ایک اور ٹانگ لٹکی، حسنا اتر رہی تھی۔ چوروں کی طرح قدم اٹھاتے ہم ٹرک تک پہنچے۔ محمد خان تختہ گرائے کھڑا تھا۔ جب حسنا بیٹھ گئی تو پمی نے خداداد اور محمد خان سے کہا، 'اپنی سٹین گن میں میگزین چڑھاؤ۔ سجن سنگھ بہت کڑا آدمی ہے۔'



'لیکن تم۔۔۔ تم پمی۔۔۔' میرا گلا رندھ گیا۔
'ہاں میں۔۔۔ تم میری فکر نہ کرو۔ اب یہاں سے چل دو۔ دیکھو چاند نکل آیا ہے۔'
اور ہم چل پڑے۔
'حسنا خاموش تھی لیکن اس کا سینہ دھڑک رہا تھا۔ پمی خاموش تھی۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے ان کی طرف غور سے دیکھا۔ کتنی اداس چمک تھی۔ بالکل غالب کے شعروں جیسی۔ دونوں بازیافتہ لڑکیاں بھی خاموش تھیں۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے وہ سامنے نیم تاریک سڑک کی طرف دیکھ رہی تھیں جس کو ٹرک چاٹتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔
خداداد اور محمد خان خدا معلوم کیا سوچ رہے تھے۔ پھیکی پھیکی سوگوار چاندنی پھیل رہی تھی۔ پمی میرے پاس بیٹھی دی۔ میں نے جانے اس سے کیوں پوچھا، 'پاکستان سے تمہارے لیے کیا بھیجوں پمی؟'



ٌھر جانے خود ہی کیوں کہا، 'تمہارے مطلب کی چیز وہاں کیا ہو گی؟'
'کیوں نہیں۔' پمی کے لہجے میں کامل وثوق تھا۔ اس کی آنکھوں میں غالب کے اداس شعر چمکے، 'مجھے پھولوں سے بہت پیار ہے۔ میں ان پر جان دیتی ہوں۔ ہو سکے تو وہاں سے۔۔۔'
حسنا اور دو باز یافتہ لڑکیوں کی طرف اشارہ کر کے، 'ایسے پھول بھیجتے رہنا۔ میں تمہیں بہت یاد کیا کروں گی۔۔۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ اچھا اب تم جاؤ۔ دیکھو کتنی روشنی پھیل گئی ہے۔'
جہاں پمی کو اترنا تھا، وہاں ٹرک رکا۔ پمی نیچے اتری۔ حسنا کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ میں نے ہولے سے کہا، 'پمی!' وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ میری آنکھیں دھندلا گئیں۔ پھیکی پھیکی سوگوار چاندنی میں اس نے اپنا ہاتھ ہلایا۔ پھر اس کے ہونٹوں میں جنبش پیدا ہوئی۔ 'الوداع۔۔۔'
میرا سارا وجود کھوکھلا ہو گیا۔ 'الوداع، پمی۔۔۔'
وہ مسکرائی۔ 'مجھے غالب کا دیوان انعام میں ملا لیکن افسوس کہ میں غالب کو سمجھ نہ سکی۔ ایک شعر ہے اس کا۔۔۔ موت کی راہ نہ دیکھوں کہ بن آئے نہ رہے۔ تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے۔۔۔ جانے کیا مطلب ہے اس کا؟' اور یہ کہہ کر چلی گئی۔ ایک بار بھی اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ انجن سٹارٹ ہوا اور ٹرک سڑک کے پتھروں پر رینگنے لگا۔
-ختم شد-

اشفاق احمد کے دوسرے افسانے