نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چیلسی کے باعزت ماجھے گامے

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔



لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو تب بھی سپاہی نے کہا کہ یار پہلے گاڑی والے کو چھوڑ دیا ہے تو اس موٹر سائیکل والے کو بھی جانے دو۔
(اب میں وہاں کھڑا تماشہ دیکھ رہا ہوں) پھر جب تیسرا سکاؤٹ کوئی شکایت لے کر آیا تو میں نے سپاہی سے آ کر کہا یار تُو تو باکمال اور چودھری قسم کا سارجنٹ ہے سب کو چھوڑ رہا ہے اور یہ ساری سکاؤٹ تمہیں سیلوٹ مار رہے ہیں۔
وہ کہنے لگا کہ یہ سارے ایچی سن کالج کے لڑکے ہیں، ان کے گھر والے انہیں گاڑیوں پر چھوڑ گئے ہیں اور لعنت ہے کہ تین دن ہو گۓ ہیں ایک پیسہ کسی سے نہیں لے سکا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس وجہ سے کہ یہ سارے آپ کے سر پر کھڑے ہیں۔ آپ پیسے لیں یہ بھلا آپ کو روکتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ نہیں سر اس وجہ سے نہیں کہ یہ میرے سر پر کھڑے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ آ کر مجھے سیلوٹ کرتے ہیں اور “سر“ کہتے ہیں۔ کہتا ہوں اگر ایک بھی پیسہ لوں تو میں لعنتی ہوں کیونکہ ان کا سیلوٹ مجھے ایک معزز شخص بنا دیتا ہے اور معزز آدمی رشوت نہیں لیتا۔ ان نے کہا کہ اس کی بیوی رشوت کے پیسے نہ لانے کے باعث ناراض ہے اور یہ آٹھ دن سے اس کو سیلوٹ کۓ جا رہے ہیں۔ وہ سپاہی کہنے لگا کہ سر میں سوکھی روٹی کھاؤں گا اور جب تک یہ مجھے سر کہتے ہیں اور سیلوٹ کرتے ہیں رشوت نہیں لوں گا۔

اشفاق احمد باب چیلسی کے باعزت ماجھے گامے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بابا رتن ہندی

ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔ اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے …

توبہ

میرے اس طرح ایک دم سگریٹ چھوڑ دینے پر سبھی حیران ہیں اور جب کوئی مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا ہے تو آپ ہی کہیے میں کیا جواب دوں؟ یہی نا کہ مضر چیز تھی، چھوڑی دی۔ جب میں نے شارع عام میں سگریٹ پینے شروع کر دیے تو امی نے دس دس کے دو نوٹ میرے ہاتھ پر رکھ کر کہا 'لے آج سے توبہ کر کہ آئندہ سگریٹ پیوں تو اپنی امی کا خون پیوں' میں نے نوٹ جیب میں ڈال لیے۔ کان کھجایا۔ ناک صاف کی۔ گلی کی خراش دور کر کے امی کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور توبہ کر لی۔ انہوں نے فرط محبت سے میری پیشانی چوم لی۔ وہ میری صحت کے متعلق ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ دوسرے دن جب وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے میرے کوٹ کی غلط جیب میں ہاتھ ڈال دیا جہاں بجائے فیورلیوبا کے ولز کی ایک ڈبیا پڑی تھی تو میں نے کروٹ بدل کر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔ جسم پر پسینے کی ہلکی سی یورش ہوئی اور دس دس کے دو نوٹ اور ایک بوسہ میرے ماتھے پر 'اینٹی فلو جس ٹین' کے پلستر کی طرح چمٹ گئے۔ امی نے کہا، 'پونے دس!' اور ابا جی لفافے پر پتہ لکھ کر بولے 'لے بھئی ترے ساتھ ایک سودا کرتے ہیں اعجاز۔۔۔۔' کیا؟' میں نے پھر کروٹ بدلی۔ 'تو یہ…

باسی کھانا

اماں کو باسی کھانے، پرانے ساگ، اترے ہوئے اچار اور ادھ کھائی روٹیاں بہت پسند تھیں۔ دراصل وہ رزق کی قدردان تھیں، شاہی دستر خوان کی بھوکی نہیں تھیں۔ میری چھوٹی آپا کئی مرتبہ خوف زدہ ہو کر اونچی آواز میں چیخا کرتیں، " اماں حلیم نہ کھاؤ، پھول گیا ہے. بلبلے اٹھ رہے ہیں۔" "یہ ٹکڑا پھینک دیں اماں، سارا جلا ہوا ہے." "اس سالن کو مت کھائیں، کھٹی بو آرہی ہے۔" "یہ امرود ہم نے پھینک دیے تھے، ان میں سے کیڑا نکلا تھا." " لقمہ زمین سے نہ اٹھائیں، اس سے جراثیم چمٹ گئے ہیں۔" " اس کٹورے میں نہ پیئیں، یہ باہر بھجوایا تھا۔"


لیکن اماں چھوٹی آپا کی خوف ناک للکاریوں کی پرواہ کئے بغیر مزے سے کھاتی چلی جاتیں. چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں اس لئے جراثیموں سے نہیں ڈرتی تھیں، صرف خدا سے ڈرتی تھیں!
از اشفاق احمد ، صبحانے فسانے، اماں سردار بیگم